1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام خطیب بغدادی اور نشہ ؟؟

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از بنت عبد السمیع, ‏فروری 17، 2018۔

  1. ‏فروری 17، 2018 #1
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    FB_IMG_1518877857944.jpg قال ومنهم أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب يخطب في بعض قرى بغداذ حافظ فهم ولكنه كان يتهم بشرب النبيذ كنت كلما لقيته بدأني بالسلام فلقيته في بعض الأيام فلم يسلم علي ولقيته شبه المتغير فلما جاز عني لحقني بعض أصحابنا وقال لي لقيت أبا بكر الخطيب سكران فقلت له لقد لقيته متغيرا واستنكرت حاله ولم أعلم أنه سكران".
    [الوافی بالوفیات ، ج7، ص127]


    الكتب ، الوافي بالوفيات
    المؤلف: صلاح الدين خليل بن أيبك بن عبد الله الصفدي (المتوفى: 764هـ)

    اس کا ترجمعہ کردیں۔ اور اس کی حقیقت کیا ھے؟
     
  2. ‏فروری 17، 2018 #2
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    السلام علیکم۔ یاقوت حموی اور صفدی دونوں ے یہ بات ، ابو سعد السمعانی سے نقل کی ھے؟
    ونقلت من خط أبي سعد السمعاني ومنتخبه لمعجم شيوخ عبد العزيز بن محمد النخشبي قال [١] : ومنهم أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب، يخطب في بعض قرى بغداد، حافظ فهم، ولكنه كان يتهم بشرب الخمر، كنت كلما لقيته بدأني
     
  3. ‏فروری 17، 2018 #3
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

  4. ‏فروری 17، 2018 #4
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    FB_IMG_1518886826908.jpg
     
  5. ‏فروری 18، 2018 #5
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,692
    موصول شکریہ جات:
    9,790
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    یہ ساری باتیں مجنون ابی حنفیہ ، اوردشمن محدثین زاہد کوثری نے خطیب بغدادی کے خلاف لکھی گئی اپنی کتاب میں درج کی ہے
    اور ان سب کا جواب علامہ معلمی رحمہ اللہ نے التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل میں دے رکھا ہے۔
    اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ شراب نوشی کی تہمت لگانے والا (بعض اصحاب) مجہول ہے ، لہٰذا یہ الزام ثابت ہی نہیں ۔
    تفصیل کے لئے علامہ معلمی رحمہ اللہ کی یہ عبارت دیکھیں:

    في (معجم الأدباء) لياقوت ج4 ص29 عن ابن السمعاني عن عبد العزيز النخشبي أنه في معجم شيوخه:
    «ومنهم أبو بكر أحمد بن علي بن ثابت الخطيب ... حافظ فهم ولكنه كان يتهم بشرب الخمر، كنت كلما لقيته بدأني بالسلام فلقيته في بعض الأيام فلم يسلم علي ولقيته شبه المتغير، فلما جاز عني لحقني بعض أصحابنا وقال لي لقيت أبا بكر الخطيب سكران! فقلت له قد لقيته متغيرا واستنكرت حاله، ولم أعلم أنه سكران، ولعله قد تاب إن شاء الله تعالى» قال ابن السمعاني:
    «ولم يذكر من الخطيب رحمه الله هذا إلا النخشبي مع أبي لحقت جماعة كثيرة من أصحابه» .
    أقول النخشبي لم يكن من أهل بغداد وإنما دخلها في رحلته وابن السمعاني دخل بغداد نخلاً، وجمع تاريخاً لها ولقي جماعة لا يحصون من موافقي الخطيب ومخالفيه وأصدقائه وأعدائه من المتثبتين والمجازفين، ومعروف في العادة أنه لا يشرب المسكر فيتغير ثم يخرج يجول في الشوارع إلا من صار شرب المسكر عادة له لا يبالي أن يطلع عليها الناس، وإذا صار عادة استمر زماناً، فلو كانت هذه حال الخطيب لما خفيت على جميع أهل بغداد وفيهم من أعداء الخطيب جماعة يراقبون حركاته وسكناته ويطينون عليه باب داره بالليل، ويتعطشون إلى أن يظفروا له بعثرة ليذيعوها فيشتفوا بدلاً مما يسيئون به إلى أنفسهم وإلى من ينتسبون إليه أكثر من إساءتهم إلى الخطيب. وفي ذلك مع ظاهر سياق عبارة النخشعي أنه إنما أخذ التهمة من الفقيه التي حكاها وحاصلها أنه كان يعرف من عادة الخطيب أنه إذا لقيه بدأه بالسلام حتى لقيه مرة فلم يبدأه بالسلام، والظاهر أن النخشبي بدأ هو بالسلام فرد عليه الخطيب ولم ينبسط إليه، فإن النخشبي من أهل العلم فلم يكن ليترك السلام معتذراً أن الخطيب لم يبدأه مع أن الظاهر أن النخشبي أصغر من الخطيب وإن مات قبله، والسنة أن الأصغر أولى أن يبتدئ بالسلام ولو سلم الخطيب فلم يرد عليه لحكى ذلك فأنه أدل على مقصوده، فاستنكر النخشبي من الخطيب أنه لم يبدأه بالسلام ولا أنبسط إليه على أعادته فعد ذلك الشبه تغير، ومعلوم أن الإنسان قد يعرض له ما تضيق به نفسه من هم أو غم أو تفكير في حل مشكل أو تكدر خاطر من سماع مكروه أو إيذاء مؤذ فيقصر عما جرت به عادته من الانبساط وحسن الخلق. والنخشبي يقول «لحقني بعض أصحابنا وقال لي لقيت الخطيب سكران؟» أحسبه يعني بقوله (أصحابنا) الحنابلة فكأنه لقي الخطيب بعض العامة الذين يتعاقبون الخطيب ويأذونه كما سلف وكأنه آذى الخطيب واسمعه المكروه فأعرض الخطيب وتغافل متكدراً وأسرع في المشي فمر بالنخشبي وهو حديث عهد بسماع المكروه من بعض أصحابه فلم ينبسط إليه، وكذلك صنع باللاحق فهذا هو شبه التغيير الذي أراه النخشبي وهو السكر الذي أطلقه ذلك اللاحق (1) هذا كله دفع لاحتمال فامن الثبوت الشرعي فلاحظ لتلك الحكاية فيه بحال (2) .۔۔۔۔

    __________
    (1) هذا إذا كانت كلمتا «لقي» و «الحق» . في عبارة النخشبي على ظاهرهما وإلا فيحتمل أن ذلك اللاحق هو المؤذي نفسه.
    (2) ولا حاجة بنا هنا إلى نحو ما يأتي في ترجمة الحسن بن إبراهيم. (المؤلف) قلت: وذلك لأن الحكاية لم تثبت لأن مدارها على رجل لم يسن وهو بعض أصحاب النخشبي. ن.

    [التنكيل بما في تأنيب الكوثري من الأباطيل 1/ 329، 330]

    یہ امام خطیب بغدادی کی خوبی ہے ، کہ وہ فورا ہر سوال کا جواب نہیں دیتے تھے بلکہ پوری طرح اطمینان کرنے کے بعد دیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اہل علم نے امام خطیب بغدادی کے اس طرزعمل کو ان کی خوبیوں میں گنایا ہے لیکن ترجمہ کرنے والے نے انتہائی مکاری سے کام لیتے ہوئے بات کو بگاڑ دیا ہے اوردن کو رات بنا کر پیش کیا ہے۔
    ترجمہ کرنے والے نے کہا کہ امام خطیب جواب نہیں دے پاتے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امام خطیب عمدا جواب میں جلد بازی نہیں کرتے اور پوری تسلی کرنے کے بعد جواب دیتے یہ قابل ستائش طرز عمل ہے نہ کہ کوئی معیوب بات ۔
    اس کی مزید وضاحت دیگر روایات سے بھی ہوتی ہے مثلا:
    قال الحميدي:ما راجعت الخطيب في شيء إلا وأحالني على الكتاب، وقال:حتى أكشفه
    امام حمیدی فرماتے ہیں کہ میں نے امام خطیب سے کسی بھی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کتاب کا حوالہ دیا اور کہا میں تحقیق کرکے بتاتاہوں ۔[سير أعلام النبلاء للذهبي: 18/ 574]
    قال أبو طاهر السلفي:سألت أبا الغنائم النرسي عن الخطيب، فقال:جبل لا يسأل عن مثله، ما رأينا مثله، وما سألته عن شيء فأجاب في الحال، إلا يرجع إلى كتابه
    ابوالغنائم النرسی فرماتے ہیں کہ خطیب پہاڑ کے مانند ان کے بارے میں کیا پوچھنا ، میں نے ان جیسا نہیں دیکھا ، اور جب میں نے ان سے سوال کیا انہوں نے فورا جواب نہیں دیا جب تک کہ کتاب کا مراجعہ نہیں کرلیا [سير أعلام النبلاء للذهبي: 18/ 575]

    یہ ساری روایات صاف بتلاتی ہیں کہ یہ معاملہ امام خطیب بغادی کی طرف سے از روئے تحقیق و تثبت ہے ۔
    امام ذہبی رحمہ اللہ نے بھی اس طرح اقوال کے تشریح کرتے ہوئے کہا:
    وأما الخطيب ففعله دال على ورعه وتثبته
    جہاں تک خطیب بغدادی کا معاملہ ہے تو ان کا یہ طرزعمل (یعنی کتاب کا مراجعہ کرکے جواب دینا) ان کے ورع اور تثبت پر دلالت کرتا ہے [سير أعلام النبلاء للذهبي: 18/ 575]

    اورسائل کے جلد جواب طلب کرنے پر امام خطیب کا غصہ ہوجانا بھی بجاہے ، ظاہر ہے کہ ایک شخص تحقیق و تثبت کا طرزعمل اختیار کرتا ہے تو اس سے فورا جواب طلب کرنا بجائے خود ایک معیوب بات ہے اور اگرایسے استاذ کے ساتھ کوئی شاگرد اس طرح کا طرزعمل اختیار کرے تو استاذ کا غصہ ہونا بجائے ۔

    رہی بات یہ ہے کہ امام خطیب کا حافظہ ان کی کتاب جیسا نہیں تھا !
    تو عرض ہے کہ دنیائے روایت میں کون سا ایسا محدث ہے جس کا حافظہ اس کی کتاب سے بھی بہتر ہے ؟
    بھلا کتابت کا حفظ سے کیا مقابلہ ہوسکتا ہے ؟
    اسی بنا پر تو محدثین کا اصول ہے کہ دو ثقہ راوی ایک ہی بات روایت کرنے میں اختلاف کریں اور ان میں سے ایک حفظ سے روایت کررہا ہو اور دوسرا کتاب سے تو کتاب سے روایت کرنے والے کی بات کو ترجیح دی جائے گی ۔
    غرض یہ کہ امام خطیب ہی پر کیا موقوف روئے زمین پر آج تک ایسا کوئی شخص پیدا نہیں ہوا جس کا حافظہ اس کی کتاب سے بھی اونچا ہو ۔

    اور امام خطیب رحمہ اللہ کے مذکورہ طرزعمل سے یہ نتیجہ تو نکلتا ہے کہ امام خطیب اپنے حفظ سے زیادہ اپنی کتاب پر اعتماد کرتے تھے اور یہ کوئی معیوب بات نہیں بلکہ مستحسن اور اچھی بات ہے ۔
    لیکن اس طرز عمل سے یہ مطلب نکالنا قطعا درست نہیں کہ خطیب بغدادی کے حافظہ میں کوئی خرابی تھی ۔
    ایک شخص کو قرآن مجید اچھی طرح یا د ہو اور اسے کسی نے مصحف سے تلاوت کرتے ہوئے دیکھ لیا تو کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ اسے قرآن یاد ہی نہیں ؟
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 18، 2018 #6
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    اللہ آپ پر کروڑوں برکتیں نازل فرمائے۔ آپ کے علم میں اضافہ فرمائے۔
    اوپر والی عبارت کا ترجمعہ کردیں آگ آپ کے پاس وقت ہے تو۔ جزاکم اللہ خیرا
     
  7. ‏فروری 18، 2018 #7
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    379
    تمغے کے پوائنٹ:
    161

    جزاک اللہ خیرا محترم شیخ
     
  8. ‏فروری 18، 2018 #8
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    733
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    بس کچھ ایسی ہی باتیں امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں بھی "فرض" کر لیا کریں تو جھگڑا ہی ختم ہو جائے۔
     
  9. ‏فروری 19، 2018 #9
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    FB_IMG_1518985185952.jpg
     
  10. ‏فروری 19، 2018 #10
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    FB_IMG_1518985188974.jpg
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں