1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام دارقطنی رحمہ اللہ ۔ اثری صاحب کی پہلی تصنیف

'فرمائشِ کتاب' میں موضوعات آغاز کردہ از خضر حیات, ‏اپریل 18، 2012۔

  1. ‏اپریل 18، 2012 #1
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    امام دارقطنی رحمہ اللہ کی جلالت شان اور علمی مرتبے کو علوم حدیث سے شغف رکھنے والا طالب علم جانتا ہے ۔ امام دارقطنی رحمہ اللہ حدیث کے ساتھ ساتھ ادب ، قراءت اور نحو کے بھی امام تھے ۔
    امام شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن عثمان الذہبی رحمہ اللہ تذکرۃ الحفاظ میں لکھتے ہیں :
    الدَّارَقُطْنِي الإمام شيخ الإسلام حافظ الزمان, أبو الحسن علي بن عمر بن أحمد بن مهدي البغدادي الحافظ الشهير, صاحب السنن ( ج ٣ ص ١٣٢ )ان کی ’’ کتاب العلل ‘‘ ان کی قوت حافظہ اور کثرت اطلاع پر واضح دلیل ہے ، حتی کہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ (جو بذات خود اپنی مثال آپ ہیںاور علم علل حدیث کی پیچیدگیوں اور صعوبتوں سے خوب واقف ہیں ) نے جب خطیب بغدادی کے استاذ ابو بکر البرقانی سے یہ نقل کیا کہ دارقطنی نے کتاب العلل اپنے حافظے سے املاء کروائی ہے ۔ تو یہ کہے بغیر نہ رہ سکے :

    إن كان كتاب "العلل" الموجود قد أملاه الدارقطني من حفظه -كما دلت عليه هذه الحكاية, فهذا أمر عظيم يقضى به للدارقطني أنه أحفظ أهل الدنيا . ( سیر أعلام النبلاء ج١٢ ص ٤١٧ ط الحدیث)

    پچھلے سال فضیلۃ الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب حفظہ اللہ عمرہ کے لیے آئےتھے تو ساتھیوں کےساتھ ان سے گفتگو کےدوران میں نےان سے سوال کیا کہ شیخ صاحب آپ نے سب سے پہلے کون سی کتاب لکھی تھی ؟
    تو شیخ صاحب نے جو جواب دیا وہ اس جلیل القدر عظیم النفع امام ابو الحسن علی بن عمر الدارقطنی رحمہ اللہ کے متعلق تھا ۔ شیخ صاحب نے فرمایا میں نے سب سے پہلے ’’ دارقطنی ‘‘ کے نام سے کتاب لکھی تھی جس میں ان کے حالات زندگی اردو پیرائے میں بیان کیے گئے ہیں ۔
    جامعہ رحمانیہ میں دوران دراسہ ایک دفعہ جامعہ کے مکتبہ میں کتابیں الٹ پلٹ کرتےہوئے اس کتاب پر نظر پڑی تھی ۔۔۔۔ اور کچھ پڑہا بھی تھا ۔۔۔ لیکن اس وقت نہ تو امام داقطنی کے حوالے سے کوئی اتنی زیادہ واقفیت تھی اور نہ ہی یہ معلوم تھا کہ کہ یہ اثری صاحب کی تصنیف اول ہے ۔۔۔۔ آج پھر بہت جی چاہ رہا تھا کہ اس کتاب کو دوبارہ پڑھوں ۔۔۔ لیکن یہ کتاب یہاں دستیاب نہیں ہے ۔۔۔ اگر اثری صاحب کی کتب کے ضمن میں یہ کتاب بھی کسی جگہ نیٹ پر دستیاب ہے تو اطلاع فرما کر عند الناس مشکور اور عند اللہ ماجور ہوں ۔۔ جزاکم اللہ ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 21، 2012 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    کوئی سراغ لگا ہے کہ نہیں ؟؟
     
  3. ‏اپریل 18، 2015 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وذکر فان الذکری تنفع المؤمنین
     
  4. ‏اپریل 18، 2015 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ مراسلہ لکھنے سے پہلے میں نے احتیاطا لائبریری میں ’’ دارقطنی ‘‘ نام سے سرچ کی ، لیکن ناکام رہا ۔
    البتہ اس کے بعد میں نے مزید تاکید کے لیے اثری صاحب کے نام سے موجود کتابیں دیکھنا شروع کیں تو الحمدللہ کتاب مل گئی :
    امام دار قطنی
     
  5. ‏اپریل 18، 2015 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    @کلیم حیدر بھائی کی ایک خصوصیت تھی کہ فرمائش کی گئی کتاب جب بھی لائبریری میں پیش کی جاتی ، وہ متعلقہ دھاگے میں اطلاع دے دیا کرتے تھے ۔ جزاہ اللہ خیرا۔
     
  6. ‏اپریل 18، 2015 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بہت شکریہ محترم بھائی !
    آپ کی کھوج کے سبب ہمیں بھی یہ قیمتی کتاب پڑھنے کو ملی ،،اللہ عزوجل مصنف اور محدث انتظامیہ کو اجر عظیم سے نوازے ۔
     
    Last edited: ‏اپریل 18، 2015
  7. ‏اپریل 20، 2015 #7
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام و علیکم و رحمت الله -

    امام دارقطنی رحمہ اللہ کے بارے میں کچھ دن پہلے کہیں پڑھا تھا (یاد نہیں کہاں پر)- کہ انہوں نے صحیح بخاری کی اکثراحادیث پر کلام کیا ہے ۔ اور بخاری کی شرح لکھنے والے علامہ ابن حجر عسقلانی رح نے اپنے مقدمہ میں اس کو خود تسلیم کیا ہے-(اگرچہ کچھ کا جواب بھی دیا ہے)- (واللہ اعلم)-

    اس پر کوئی بھائی اگر روشنی ڈالیں ؟؟ جزاک الله ھوا خیر-
     
  8. ‏اپریل 20، 2015 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ !
    بخاری میں 8 ہزار کے قریب احادیث ہیں ، جبکہ جن پر کلام کیا گیا ہے ان کی تعداد چند سو ہے ، لہذا ’’ اکثر ‘‘ کہنا درست نہیں ہے ، حافظ ابن حجر نے ہدی الساری (مقدمۃ فتح الباری) میں تمام روایات پر مخالفین کا ’’ اجمالی ‘‘ جواب ذکر کرنے کے بعد پھر تفصیل سے ’’ رد ‘‘ کیا ہے ۔
     
  9. ‏اپریل 20، 2015 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ’‘ صحیحین ‘‘ پر جو کلام کیا ہے ،وہ انکی احادیث کو رد کرنے کیلئے ہرگز نہیں کیا ،،بلکہ اسانید و رواۃ کے متعلق محض فنی اعتراضات اور سوالات اٹھائے ہیں ۔
    دوسری بات یہ کہ ’’ اکثر ‘‘ احادیث پر کلام نہیں کیا ،،بلکہ بخاری و مسلم دونوں کی کل دو صد روایات و اسانید کو محل کلام بنایا ہے ،حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :
    فَإِن الْأَحَادِيث الَّتِي انتقدت عَلَيْهِمَا بلغت مِائَتي حَدِيث وَعشرَة أَحَادِيث كَمَا سَيَأْتِي ذكر ذَلِك مفصلا فِي فصل مُفْرد اخْتصَّ البُخَارِيّ مِنْهَا بِأَقَلّ من ثَمَانِينَ وَبَاقِي ذَلِك يخْتَص بِمُسلم ‘‘
    یعنی بخاری اور مسلم دونوں کی جن احادیث پر نقد و کلام کیا گیا ،وہ دونوں کی ملا کر دو سو دس احادیث ہیں ،جن میں سے (80 ) صحیح بخاری میں ہیں ،اور باقی صحیح مسلم میں ہیں ۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
     
    Last edited: ‏اپریل 20، 2015
  10. ‏اپریل 21، 2015 #10
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله -

    میری معلومات کے مطابق صحیح بخاری میں ٩ ہزار سے زیادہ احادیث ہیں -
    دوسرے یہ کہ میں نے یہاں صرف امام دار قطنی رحمہ اللہ کے صحیح بخاری کی (کچھ) احادیث پر کلام کے بارے میں پوچھا ہے؟؟ - اس پر روشنی ڈالیے -
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں