1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام دارقطنی کے نزدیک امام ابو حنیفہ کا مقام - اور امام دارقطنی پر بعض الزامات کے جواب

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏مارچ 12، 2015۔

  1. ‏مارچ 12، 2015 #1
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,500
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    اسلام علیکم
    اس مضمون کے لکھنے کا اصل مقصد امام ابو حنیفہ کا حدیث میں مقام پر بحث کی بجائے امام دارقطنی کا دفاع کرنا ہے۔

    یہ معلوم شدہ ہے کہ بعض ہمارے بھائی امام ابو حنیفہ کے بے جا دفاع اور مبالغہ بازی میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ پر کی جانے والی 100 سے زائد جروح میں سے ہر ایک جرح کے لئے یہ لوگ اسے رد کرنے کے نئے نئے بہانے بناتے رہتے ہیں۔ گویا تمام محدثین نے ایک ساتھ مل کر امام ابو حنیفہ کے خلاف سازش کی ہو، اور وہ سب امام ابو حنیفہ سے بغض و نفرت رکھتے تھے۔

    لہٰذا باقی تمام جروح کی طرح، امام دارقطنی کی جرح کو رد کرنے لئے بھی جو بہانہ انہوں نے بنایا ہے وہ یہ ہے کہ امام دارقطنی معتدل نہیں تھے انہیں امام ابو حنیفہ سے بغض ونفرت تھی اسی لئے ان کی جرح قابلِ قبول نہیں ہے۔

    اور عجب کہ بالکل یہی جملہ یہ حضرات ابن عدی، بخاری، نسائی، احمد اور باقی ان تمام محدثین کے بارے میں بھی بولتے ہیں جنہوں نے امام ابو حنیفہ پر ذرا سی بھی نقد کی ہے۔ گویا ان کے پاس یہی ایک جواب ہے دینے کو۔

    اسی لئے امام ابو حنیفہ کے دفاع کے نتیجے میں یہ لوگ محدثین کرام پر طعنہ بازی کرنے لگتے ہیں اور ان کی گستاخی پر اتر آتے ہیں اور انہیں ایسی ایسی چیزوں سے متصف کرتے ہیں جو ان میں بالکل نہیں پائی جاتی۔ جبکہ ان محدثین کرام اور محافظین دین کا جرم صرف اتنا ہے کہ باقی لوگوں کی طرح انہوں نے امام ابو حنیفہ کو بھی جرح و تعدیل سے پرکھنے کی جرات کی تا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی حفاظت کی جا سکے اور ان میں سے ضعیف کو صحیح سے علیحدہ کیا جا سکے۔
    لیکن ان کا یہ جرم اتنا کبیر ہے کہ صرف اسی ایک اکیلے عمل پر مقلدین ابی حنیفہ ان کا متشدد یا ابو حنیفہ سے بغض رکھنے کا فیصلہ سنا دیتے ہیں، پھر چاہے وہ محدث یا امام کتنا ہی بڑا معتدل کیوں نہ ہو اور اس نے اپنے فیصلے کی کتنی ہی دلیلیں اور اسباب کیوں نہ بتائے ہوں، وہ رہتے تو ابو حنیفہ سے بغض رکھنے والے ہی ہیں۔

    اسی لئے ضروری ہے کہ محدثین کرام کے خلاف ان گستاخیوں کا محاکمہ کیا جائے اور ان کا ان لوگوں کے جھوٹ وفریب سے دفاع کیا جائے جس طرح انہوں نے ہمارے دین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا۔

    اور یہ مضمون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ البتہ یہ مضمون انگریزی میں ہے۔ لیکن چونکہ یہاں بھی ہمارے بعض دوست انگریزی جانتے ہیں اس لئے سوچا یہاں پر بھی لگا دوں!

    ڈاؤن لوڈ لنک:
    https://www.mediafire.com/?140d7tpx99b1axs
     
  2. ‏مارچ 12، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,708
    موصول شکریہ جات:
    2,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    جزاک اللہ تعالی احسن الجزاء
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 12، 2015 #3
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436



     
  4. ‏مارچ 14، 2015 #4
    محمد أحمد

    محمد أحمد مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2015
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    21

    اردو میں بھی پیش کردیجے
     
  5. ‏مارچ 15، 2015 #5
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    اہل سنت کی کتب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک

    خيرُ القرونِ قرنيَ الَّذينَ بُعِثتُ فيهم ثمَّ الَّذينَ يلونَهم ثمَّ الَّذينَ يلونَهم
    الراوي : - المحدث : ابن تيمية

    المصدر : مجموع الفتاوى الصفحة أو الرقم: 2/223 خلاصة حكم المحدث : صحيح

    ''سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں ''


    امام ابوحنیفہ سن وفات 150 ھ
    امام دارقطنی سن وفات 385 ھ
     
  6. ‏مارچ 15، 2015 #6
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    حضرت عبداﷲبن مسعود کی تخم ریزی سے یہ مکتب فقہ (حنفی) کاشت ہوا، علقمہ نے آب پاشی کر کے اسے سینچا،ابراہیم نخعی نے اس کی فصل کاٹی، حماد نے چھان پھٹک کر صاف کیا،امام ابوحنیفہ نے چکی میں پیس کر اسے غلہ کی شکل دی،امام ابویوسف نے اس کا آٹا گوندھا اورآخرکار امام محمد نے اس کی روٹی پکائی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی کاشت کردہ فصل سے پکی ہوئی یہی روٹی ہے جو فقہ حنفی کے پیروکار اب تک کھا رہے ہیں۔
    ’’السنن الکبریٰ‘‘ میں بیہقی نے اور ’’تنقیح‘‘ میں ابن عبد الہادی نے حضرت ابن مسعود کے کمزور حافظے کا ذکر کیا ہے۔ اہل حدیث علما نے اس نکتہ کو خوب اٹھایا ہے، ان کا خیال ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود سوء حفظ کی وجہ سے اپنی روایات میں رفع یدین کا ذکر کرنا بھول گئے ہیں۔ ’’فقیہ امت‘‘ پر اس الزام کا غلط ہونا اس قدر واضح ہے کہ کسی تردید کی ضرورت نہیں۔
    لنک
     
  7. ‏مارچ 15، 2015 #7
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,708
    موصول شکریہ جات:
    2,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    پہلی بات کہ سیدنا عبداﷲبن مسعود رضی اللہ عنہ نے حنفی فقہ کے مکتب کی بنیاد رکھی ،،سراسر جھوٹا دعوی ہے ۔جس کا کوئی ثبوت نہیں ’
    یہ محض کسی شوخ نے دل خوش کرنے کےلئے لکھ دیا ،،جسے یاروں نے حنفی مکتب کے طلباء کا سبق بنادیا ؛
    الفقه زرعُ ابن مسعودٍ وعلقمةُ ******** حصَّاده ثمَّ إبراهيم دوَّاس
    نعمان طاحنه يعقوب عاجنه ******** محمدٌ خابــــــزٌ والآكـــل النَّاس


    سیدنا عبداﷲبن مسعود کا علمی منہج احادیث کی مستند کتب میں ان کے اقوال و افعال سے واضح ہے ۔۔۔۔
    بلکہ اب تو ان کے فقہی اقوال و افعال کو یکجا کیا جا چکا ہے ،اور دنیا میں شائع ہے ۔۔۔

    ان کے اقوال دیکھ کر اہل نظر فیصلہ کرسکتے ہیں ۔کہ احناف کا مذکورہ دعوی کس حد تک سچا ہے ۔۔۔۔۔
     
  8. ‏مارچ 15، 2015 #8
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,708
    موصول شکریہ جات:
    2,252
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    جس آدمی کو ۔۔یہ بھی پتا نہ ہو کہ ۔۔سوء حفظ ۔۔اور چیز ہے ۔۔۔اور ۔۔کسی کا ۔۔کوئی ایک آدھ بات بھول جانا ۔۔۔اور معاملہ ہے ،،
    وہ بھلا صحابہ کرام کی عظمت کیا جانے ؟؟؟
    دیکھئے سیدنا آدم علیہ السلام کے متعلق خود اللہ تعالی کا فرماناہے کہ :((وہ بھول گئے )) وَلَقَدْ عَهِدْنَا إِلَى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْمًا؛؛
    لیکن قرآن کریم کے اس بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ۔۔ان کا حافظہ ہی خراب تھا ۔۔ ۔۔بس ایک بات میں نسیان لاحق ہوگیا ،جو انسان ہونے کی دلیل ہے ۔۔

    جبکہ ’‘ سوء حفظ ’‘ اصول حدیث کی خاص اصطلاح ہے ۔۔جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ راوی کا حافظہ بگڑ جائے اور وہ کئی بار غلطی کا شکار ہو ۔
    ۔
    حافظ ابن حجر ؒ نخبہ میں لکھتے ہیں :
    وسيء الحفظ هو من لم يرجح جانب إصابته على جانب خطئه ( شرح النخبة ص104) ، فلا يقال لمن وقع له الخطأ مرة أو مرتين : إنه سيءُ الحفظ ؛ لأن الإنسـان ليس بمعصوم من الخطأ ( شرح شرح النخبة للملا القاري ص160)
    یعنی ایک دو بار بھولنے والے کو ’‘ خراب حافظہ والا ’‘ نہیں کہتے ؛؛؛
    اب رہی بات کہ کچھ محدثین کے بقول سیدنا ابن مسعود ایک مسئلہ میں بھول کا شکار ہوئے،،،،۔۔(جس کا مطلب بہرحال ان کی توہین نہیں )
    اور ساتھ ہی واضح رہے کہ
    یہ تمام اہل حدیث کا اتفاقی قول نہیں؛؛؛؛ جس کی بناء پر ان کو اس کا الزام دیا جائے ،
    بلکہ اکثر محدثین سیدنا ابن مسعود کی عدم رفع الیدین کی روایت کو سنداً ضعیف کہتے ہیں ،،یعنی ان تک یہ بات کسی معتبر ذریعہ سے پہنچتی ہی نہیں ،لہذا ان کی بھول کا سوال ہی نہیں
     
  9. ‏مارچ 15، 2015 #9
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    بہت دیرنہیں ہوگئی اس کام کو انجام دینے میں ؟؟؟
     
  10. ‏مارچ 15، 2015 #10
    بہرام

    بہرام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 09، 2011
    پیغامات:
    1,173
    موصول شکریہ جات:
    434
    تمغے کے پوائنٹ:
    132

    کہا جاتا ہے امام بیہقی نے 389ھ میں کتابت حدیث شروع کرکی جب ان کی عمر 15 سال تھی تو کیا یہ بات کہ حضرت ابن مسعود کوئی ایک آدھ بات بھول جایا کرتے انہیں 350 سال بعد القا ہوئی یا اس بات کا الہام ہوا جو انھوں نے لکھ دیا کہ حضرت ابن مسعود حافظےمیں کمزور تھے ؟؟؟؟؟
    اگر اس طرح کی باتیں کسی صحابی رسول کے بارے کوئی اور کہے تو آپ ان کا رد کرتے ہیں چاہے یہ بات اصح ترین کتاب کے حوالے سے ہی کیوں نہ کی جائے لیکن یہاں میں 350 سال بعد صحابی کےسوء حفظ بارے کہی گئی کسی کی بات دفاع کیا جارہا ہے کہیں اس کے پیچھے بغض امام ابو حنیفہ تو نہیں
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں