1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام زہری اور تدلیس

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از آزاد, ‏اکتوبر 14، 2013۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏اکتوبر 14، 2013 #1
    آزاد

    آزاد مشہور رکن
    جگہ:
    فی ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    363
    موصول شکریہ جات:
    915
    تمغے کے پوائنٹ:
    125

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    کفایت اللہ بھائی، آپ نے اپنے کتابچے ”چار دن قربانی کی مشروعیت“ کے صفحہ نمبر ۳۰ پر لکھا ہے کہ امام محمد بن شہاب زہری رحمہ اللہ پر تدلیس کا الزام باطل ہے، اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہے۔
    جبکہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں طبقات المدلسین میں تیسرے مرتبے میں جگہ دی ہے۔
    حافظ صاحب کے الفاظ:
    (102) ع محمد بن مسلم بن عبيد الله بن شهاب الزهري الفقيه المدني نزيل الشام مشهور بالامامة والجلالة من التابعين وصفه الشافعي والدارقطني وغير واحد بالتدليس
    براہ مہربانی اپنی بات کی وضاحت دلائل کے ساتھ فرما دیں۔
    جزاک اللہ خیرا
     
  2. ‏اکتوبر 14، 2013 #2
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    جی بھائی اس موضوع پر مستقل مقالہ پیش کرنے کا ارادہ ہے ۔
    رہے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اوربھی کئی رواۃ کو مدلس بتایا ہے جو تحقیق کی روشنی میں مدلس نہیں ہے۔
    حافظ زبیرعلی زئی کی تحقیق فتح المبین دیکھ لیں کتنی جگہ موصوف نے ایسے رواۃ کو تدلیس سے بری قرار دیا ہے جنہیں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مدلس کہاہے۔
    مزید یہ کہ کیا آپ کوئی ایک مثال پیش کرسکتے ہیں جس میں خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے زہری کی تدلیس کی وجہ سے کسی روایت کو ضعیف کہا ہے۔
    اس کے برعکس ایسی مثالیں موجود ہیں کہ زہری کے عنعنہ والی سند کو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے خود صحیح قرار دیا ہے۔

    اوربعض نے انہیں مدلس ماننے کے ساتھ ساتھ انہیں قلیل التدلیس مانا ہے یعنی ان کاعنعنہ مضر نہیں ہے ۔
    بہرحال انہیں مدلس مانیں یہ نہ مانیں ان کا عنعنہ بہر صورت مقبول ہے۔
    میرے سامنے کوئی ایک بھی ایسی صحیح مثال موجود نہیں ہے جس میں امام زہری کی تدلیس ثابت ہو اگرکسی کے پاس کوئی ایک ہی ایسی صحیح مثال ہو جس میں امام زہری نے تدلیس کی ہو تو پیش فرمائے ۔
    صرف ایک مثال ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 14، 2013 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    منهج المتقدمين في التدليس کے مؤلف لکھتے ہیں:
    ويعسر إثبات تدليس الزهري ( التدلس الخاص ) فضلاً عن أن يشتهر به ، وأما رد حديثه إلا عند ذكر السماع فلا أظنك تجد ذلك عند أحد من الأئمة المتقدمين .
    بل إن ابن حجر رحمه الله خالف في ذلك المتأخرين أيضاً ، فإن العلائي وسبط ابن العجمي أيضاً في ( التبيين في أسماء المدلسين ) قد ذكرا أن الأئمة قبلوا قوله ( عن )
    [منهج المتقدمين في التدليس 1/ 48]
     
  4. ‏اکتوبر 15، 2013 #4
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    امام ابو القاسم بغوي رحمه الله (المتوفى317)نے کہا:
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، قَثَنَا مُعَاذٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ الْحَدِيثِ إِلا يُدَلِّسُ، إِلا عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ، وَابْنَ عَوْنٍ
    امیرالمؤمنین فی الحدیث امام شعبہ رحمہ اللہ نے کہا: میں نے محدثین میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو تدلیس نہیں کرتاہو سوائے عمروبن مروہ اور ابن عون کے[حكايات شعبة بن الحجاج (مخطوط) ص: 16 ترقیم جوامع الکلم واسنادہ صحیح واخرجہ ایضا علي بن الجَعْد فی مسندہ ص: 24 وابن عساکر فی تاريخ دمشق : 31/ 345]۔

    کیا خیال ہے؟
    اگر محض کسی کے مدلس کہہ دینے سے ہی کوئی مدلس ہوجائے گا تو کیا آپ امیرالمؤمنین فی الحدیث امام شعبہ رحمہ اللہ کا یہ فیصلہ ماننے کے لئے تیار ہیں کہ گنتی کے صرف دو حضرات کو چھوڑ کر باقی سارے محدثین مدلس تھے ؟؟؟
     
  5. ‏اکتوبر 15، 2013 #5
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    آپ نے تدلیس کے متعلق اپنا موقف بدل دیا یا شیخ؟ ہمیں مکمل اور تسلی بخش تحقیق کا انتظار رہے گا۔ کیونکہ فی الحال تو شیخ زبیر کا موقف ہی زیادہ مضبوط لگتا ہے، واللہ اعلم۔
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 15، 2013 #6
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    تدلیس سے متعلق ہمارا موقف یہی ہے کہ قلیل التدلیس اور کثیرالتدلیس میں فرق کیا جائے ۔
    کثیر التدلیس مدلس رواۃ کا عنعنہ دیگر طرق میں عدم صراحت اور عدم شواہد ومتابعات کی صورت میں رد ہوگا۔
    لیکن قلیل التدلیس مدلس کا عنعنہ عام حالات میں قبول ہوگا الا یہ کہ کسی خاص روایت میں عنعنہ کے ساتھ ساتھ تدلیس کا بھی ثبوت مل جائے یا تدلیس پرقرائن مل جائیں۔

    یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ہم کثراالخطاء اور قلیل الخطاء راوی میں فرق کرتے ہیں اور یوں موقف اپناتے ہیں کہ:
    کثیر الخطاء راوی کی مرویات عدم شواہد ومتابعات کی صورت میں رد ہوں گی ۔
    اور قلیل الخطاء یعنی صدوق راوی کی روایات عام حالات میں مقبول و حسن ہوں گی الا یہ کہ کسی خاص روایت میں اس کی غلطی صراحتا ثابت ہوجائے یا اس کی غلطی پر قرائن مل جائیں ۔

    جہاں تک شیخ زبیرعلی زئی کی بات ہے تو شیخ کے پیش کردہ حوالہ جات کو اصل مراجع سے دیکھنے کے بعد میں اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قلیل وکثیر تدلیس میں عدم فرق والا موقف جمہور کا موقف ہرگز نہیں ہے ، شیخ صاحب کے پیش کردہ بیشتر حوالہ جات یا تو موضوع سے غیر متعلق ہیں مثلا امام احمد وغیرہ کی محض کتاب کی پسند سے یہ نتیجہ نکالنا کہ وہ کتاب کے تمام مندرجات سے بھی متفق ہیں۔
    یا پھر اصل مدعاء پر دلالت ہی نہیں کرتے کیونکہ ابن حجر کے مطابق دوسرے طبقہ کے مدلس کے عنعنہ کو کسی نے رد کیا تو اس کا یہ لازمی مطلب نہیں کہ وہ طبقاتی تقسیم کا قائل نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کے نزدیک یہ راوی یا تو کثیر التدلیس ہے یا خاص اس روایت میں اس کی تدلیس ثابت ہے یا تدلیس پر دیگرقرائن دلالت کرتے ہیں۔
    یہ بہت عجلت میں انتہائی مختصر وضاحت ہے ظاہر ہے کہ اس مسئلہ پر ہم بھی مفصل رسالہ لکھنے کا عزم رکھتے ہیں ان شاء اللہ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں