1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

امام سفیان الثوری اور ترك رفع الیدین كا جواب مطلوب ہے

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از نوشیروان, ‏جنوری 16، 2016۔

  1. ‏جنوری 16، 2016 #1
    نوشیروان

    نوشیروان رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 29، 2011
    پیغامات:
    87
    موصول شکریہ جات:
    82
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    یقینا اس فورم پر میرے سوال كا جواب موجود ہوگا اگر مجھے اس كا لنك دے دیں تو مشكور ہونگا۔
    اگر نہیں تو یہیں مل جائے تو كیا ہی بات ہے۔

    جو اہل حدیث علماء امام سفیان الثوری كی معنعن كو ضعیف نہیں مانتے ان كے نزدیك امام سفیان الثوری والی تركِ رفع الدین والی احادیث پیش كی جاتی ہیں ان كا كیا جواب ہے؟

    جزاكم اللہ خیرا
     
  2. ‏جنوری 16، 2016 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,638
    موصول شکریہ جات:
    8,077
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    سفیان ثوری کی روایت کے ضعف کی وجوہات لکھنے بیٹھ جائیں تو ایک مستقل رسالہ تیار ہوجائے گا لہٰذا تفصیل میں نہ جاتے ہوے چند چیزوں کی وضاحت کرتے ہیں:
    (الف)
    ناقدین نے اس روایت پر جرح مفسرکی ہے اورجرح مفسرکے ازالہ میں تعدیل مفسرپیش کرنا لازم ہے وہ بھی جمہورکی۔
    واضح رہے کہ کسی حدیث پر ناقدین اگر جرح کریں تو یہ روایت کے ضعف کی دلیل ہے اوراگرتضعیف کریں تو دلیل سے خالی ایک حکم ہے بس، بہت سارے لوگ ان دونوں میں فرق کو ملحوظ نہیں رکھتے اورجرح کو تضعیف سمجھ کراس کے مقابلے میں تصحیح نقل کرکے بلادلیل جرح کو رد کردیتے ہیں حالانکہ کی جرح کی تردید تعدیل ہی سے ہوسکتی ہے نہ کہ تصحیح سے۔
    اب ذیل میں اس روایت پر ناقدین کی جرح مفسرملاحظہ ہو:
    ابن ابی حاتم فرماتے ہیں:
    وسألتُ أبِي عَن حدِيثٍ ؛ رواهُ الثّورِيُّ ، عن عاصِمِ بنِ كُليبٍ ، عن عَبدِ الرّحمنِ بنِ الأسودِ ، عن علقمة ، عن عَبدِ اللهِ أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم قام فكبّر فرفع يديهِ ، ثُمّ لم يعُد.قال أبِي : هذا خطأٌ ، يُقالُ : وهِم فِيهِ الثّورِيُّ.وروى هذا الحدِيث عن عاصِمٍ جماعةٌ ، فقالُوا كُلُّهُم : أنَّ النّبِيّ صلى الله عليه وسلم افتتح فرفع يديهِ ، ثُمّ ركع فطبّق وجعلها بين رُكبتيهِ ، ولم يقُل أحدٌ ما رواهُ الثّورِيُّ.
    علل الحديث [1 /96 رقم 258]
    یہ جرح مفسر ہے امام ابوحاتم نے خاص اس روایت پر کلام کیا ہے اس کے مقابلہ میں آپ جمہور سے اس جرح کا صراحۃ ازالہ پیش کریں محض تصحیح مبہم کافی نہیں ہے۔
    امام ابوحاتم کے علاوہ دیگرمحدثین نے بھی اس روایت پر جرح مفسرکی ہے، تفصیل کے لئے دیکھیں:نور العینین :ص١٣٠تا ١٣٤۔
    (ب)
    اس روایت کی سند میں سفیان ثوری ہیں جو مشہورمدلس ہیں (عام کتب رجال)۔
    اورانہوں نے عن سے روایت کیا ہے۔
    علامہ عینی فرماتے ہیں:
    وسُفْيَان من المدلسين، والمدلس لَا يحْتَج بعنعنته إِلَّا أَن يثبت سَمَاعه من طَرِيق آخر
    عمدة القاري شرح صحيح البخاري [3 /112]
    تنبیہ :
    سفیان کا عنعنہ مقبول ہے، لیکن ایک روایت جو متواترروایت کے خلاف ہو اس میں ان کے عنعنہ پر اعتراض کیا جاسکتا ہے جب ہم اوثق رواۃ کی مخالفت کرنے والے ثقہ غیرمدلس کی روایت کو رد کردیتے ہیں تو پھر متواتر روایات کی مخالفت میں ایک مدلس کی روایت کیونکر تسلیم کرسکتے ہیں۔
    حوالہ و مزید تفصیل
     
    • علمی علمی x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏اکتوبر 03، 2017 #3
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    252
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    سفیان ثوری کی اس روایت کی تضعیف پر میرا ایک مفصل مقالہ ہے، جس میں تمام اعتراضات کا بالتفصیل اور اصولوں کو مدنظر رکھ کر جواب دیاگیا ہے،، والحمدللہ علی ذالک۔۔۔
     
    • پسند پسند x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  4. ‏اکتوبر 04، 2017 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,919
    موصول شکریہ جات:
    2,538
    تمغے کے پوائنٹ:
    525

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    رسالہ تک رسائی کی کوئی سبیل!
     
  5. ‏اکتوبر 04، 2017 #5
    احمد پربھنوی

    احمد پربھنوی مبتدی
    جگہ:
    پونہ، مہاراشٹر
    شمولیت:
    ‏دسمبر 17، 2016
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    پہلی بات تو یہ کہ اس میں خطا کس سے ہوئی ابو حاتم رح نے یہ نہیں بتلایا آپ تو جانتے ہی ہیں سند میں سے ہی کسی ایک سے غلطی ہوئی ہوگی نا تو امام ابو حاتم رح نے یہ تو نہیں بتلایا تو یہ جرح مفسر کیسے ہوئی؟؟ اسے مبہم ہی کہیں گے ہوسکتا ہے آپ کہیں کے اس کے آگے لکھا تو ہے کہ کہا جاتا ہے سفیان کو اس میں وہم ہوا یعنی "کہا جاتا ہے" کس نے کہا معلوم نہیں اگر خضر حیات صاحب اگر آپ کو معلوم ہوگا تو بتلادیں تاکہ معلوم تو ہو امیر المومنین فی الحدیث پر وہم کی جرح کرنے والا کون بندہ یے؟
    شاید اسی نور العینین میں جس کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اس میں زبیر علی زائ، محمد بن اسماعیل رح پر ابن ابی حاتم کی جرح تکلموا فیہ کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں یہ جرح غیر مفسر ہے اور اس کا جارح نامعلوم ہے ـ کیا احناف کے لیے یہ اصول باقی نہیں رہتے یا صرف احناف کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ہی یہ اصول ہیں کچھ تو انصاف سے کام کیجیے صاحب!
    ابو حاتم رح نے ایک جماعت کا ذکر کیا جو تطبیق والی حدیث نقل کرتے ہیں لیکن جب کتب احادیث میں تلاش کیا گیا تو عاصم بن کلیب سے یہ روایت کرنے والے صرف ابن ادریس ہی ملے پتہ نہیں ابو حاتم رح نے کونسی جماعت کا تذکرہ کیا تو خضر حیات صاحب آپ بتا دیں وہ کونسی جماعت ہے ورنہ ایسی اندھی تقلید کی تو آپ زبردست مخالف ہے یہاں آپ کیوں تقلید کرنے لگ جاتے اللہ اعلم
    آپ جیسے حضرات سے مجھے امید نہیں تھی کہ اس قول کو پیش کرتے ـ
    اب ایک سوال اٹھتا ہے کہ عبداللہ بن ادریس کی روایت کا کیا؟؟
    جسے یحی بن معین رح شعبہ رح ابو عاصم رح وغیرہ نے امیر المومنین فی الحدیث جیسے لقب سے نوازا ان کا مقابلہ ابن ادریس رح سے کیا جاسکتا ہے؟؟
    زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے حافظ ابن حجر رح کے اقوال ملاحضہ کرلیں
    سفيان بن سعيد بن مسروق الثوري أبو عبد الله الكوفي ثقة حافظ فقيه عابد إمام حجة( تقریب التہذیب )

    اور عبداللہ بن ادریس کے بارے میں لکھتے ہیں

    عبد الله بن إدريس بن يزيد بن عبد الرحمن الأودي بسكون الواو أبو محمد الكوفي ثقة فقيه عابد( تقریب التہذیب)

    آپ کے شیخ نذیر حسین دہلوی رح اپنے فتاوی ص 450 میں کہتے ہیں اگر کوئی سفیان کی مخالفت کرے گا تو سفیان کا ہی قول معتبر ہوگاـ

    اب خود فیصلہ کرلیں کس کے قول کا اعتبار کیا جائیگا اور کس کی بیان کردہ حدیث معتبر ہوگی ـ
     
    • پسند پسند x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  6. ‏اکتوبر 04، 2017 #6
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    252
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    سؤ صفحات پر مشتمل غیر مطبوع ہے۔۔میرے مقالات کے ساتھ طبع ہوگا۔۔۔ ان شاء اللہ العزیز
     
  7. ‏اکتوبر 04، 2017 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,043
    موصول شکریہ جات:
    1,039
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    کاش ہند سے بھی طبع ہو
     
  8. ‏اکتوبر 04، 2017 #8
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,282
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    کیا عبدالرحمن کا سماع علقمہ سے ثابت ہے؟

    میں نے یہ سوال ایک تھریڈ میں پہلے بھی پوچھا ہے !!
     
  9. ‏اکتوبر 04، 2017 #9
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,282
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    جناب آپ کو بھی آپ کے گھر سے آئینہ دکھا سکتے ہیں ہم ۔۔۔۔
     
  10. ‏اکتوبر 04، 2017 #10
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,919
    موصول شکریہ جات:
    2,538
    تمغے کے پوائنٹ:
    525

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    عجیب بات ہے! یہ تو علم الحدیث کی بنیادی تعریفات سے ناواقفیت ہے!
    یہ جرح مبہم بھی نہیں بھائی جان!
    یہ علت و شذوذ کا بیان ہے، اسے جرح نہیں کہتے!
    اور اس ثقہ رواة کی متصل سند میں کسی ثقہ کے ہی وہم و خطاء سے ہوتا ہے!
    آپ کو غالباً یہ بات نہیں معلوم ، اسی وجہ سے نے ثقہ راوی سے مضطرب احادیث کی وجود کی بنا ء پر اسے مضطرب الحدیث باور کروانا چاہا تھا!
    ایک بات ذہن نشی کرلیں!
    کہ ثقہ راواة کی متصل سند اس وقت تک مقبول ہے جب تک کہ اس میں علت و شذوذ ثابت نہ ہو!
    اور علت و شذوذ کے ثابت ہونے سے ان ثقہ رواة پر کوئی جرح ثابت نہیں ہوتی!
    کیونکہ کسی کو ثقہ معصوم عن الخطاء کو نہیں کہتے!
    ایک بار پھر عرض کردوں!
    یہاں نہ امام احمد بن حنبل نے، نہ امام بخاری نے، نہ امام ابو حاتم نے، کسی نے بھی امام سفیان ثوری پر وہم کی جرح نہیں کی! نہ مفسر، نہ مبہم!
    بلکہ یہ اس روایت کی علت و شذوذ کا بیان ہے! جو کسی ثقہ رواة کی متصل السند حدیث میں وقوع پذیر ہو سکتا ہے! اور یہ ہوتا انہیں ثقہ رواة کی خطاء و وہم کی بناء پر ہے!
    اس تھریڈ میں مراسلہ نمبر 111 سے روایت پر کافی تفصیلی گفتگو ہوئی ہے!
     
    Last edited: ‏اکتوبر 04، 2017
    • علمی علمی x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں