1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام سفیان الثوری اور ترك رفع الیدین كا جواب مطلوب ہے

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از نوشیروان, ‏جنوری 16، 2016۔

  1. ‏اکتوبر 05، 2017 #11
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    امام ابوحاتم نے خطا کہ کر غلطی کی نشاندھی کردی۔۔اسے یوں سمجھیں کہ کہیں جرم ہوگیا، ۔۔لیکن مجرم کا پتہ نہیں یااسکی تعیین مین اختلاف ہے۔۔۔ توکیا مجرمین کی تعین میں اختلاف سے جرم کاانکار کیاجاسکتا ہے۔۔؟؟ائمہ نقدنے ثوری کی روایت کو غلط اور وہم قرار دیا ہے۔۔لیکن انکا مخطئ کے تعین میں اختلاف ہے۔۔گویا خطا پر ائمہ نقد متفق ہیں۔۔لیکن خطا کرنے پر اختلاف ہے۔۔لہذا یہ جرح مفسر ہی ہے۔۔اور ابو حاتم کا 'یقال " سے مراد امام بخاری ہیں۔۔کیونکہ ثوری سے وہم کے وہی قائل ہیں۔۔ ان باتوں کو میں نے مقالہ میں تفصیلا بیان کیا ہے
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏اکتوبر 05، 2017 #12
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    کس کی مانیں؟
    ذاتی خیال یہ ہے کہ خضر بھائی کی بات زیادہ قابل اعتبار ہے.
     
  3. ‏اکتوبر 05، 2017 #13
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,027
    موصول شکریہ جات:
    2,568
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    کلام سمجھنے کی صلاحیت پیدا کریں!
    خضر حیات بھائی نے روایت پر جرح کا کہا ہے، راوی پر جرح کا نہیں!
    اور @احمد پربھنوی اور میرے مراسلہ کو غور سے پڑھیں، وہاں راوی پر جرح کی بات ہے!

    مگر مشکل ہی معلوم ہوتا ہے سمجھ آئے!
     
  4. ‏اکتوبر 05، 2017 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,990
    موصول شکریہ جات:
    8,157
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وضاحت :ميری جس پوسٹ پر آپ نے اعتراض کیا ہے ، اس میں میں نے حدیث کے متعلق جرح مفسر و غیر مفسر کی تعبیر استعمال کی ہے ، یہ گرچہ تحریر میری ہے ، لیکن پھر بھی جرح کا مفسر و غیر مفسر ہونا ، اس کا استعمال راویوں کے لیے زیادہ مناسب ہے ۔
    میں نے کہنا یہ چاہا تھا کہ جنہوں نے تضعیف کی ہے ، انہوں نے متعین طور پر اس حدیث کی تضعیف کی ہے ، اس کی خطا بیان کی ہے ، جبکہ جن کی طرف سے تصحیح بیان کی جاتی ہے ، انہوں نے غیر متعین اور مبہم انداز میں اس کی تصحیح کی ہے ، اس پر ہونے والی جرح یا جس وجہ سے اس کی تضعیف کی گئی ہے ، اس کا جواب نہیں دیا ۔
    اس حوالے سے ایک دو نکات عرض کرتا ہوں :
    1۔ امام ابو حاتم ماہر علل حدیث ہیں ، انہوں نے بلا کسی تردد ، اس روایت کو ’ خطا ‘ یعنی ’ غلطی ‘ قرار دیا ہے ۔ لہذا اگر غلطی کے بیان میں ان کی بات میں تصریح نہیں ، تو ان کے خالی حکم کو رد کرنے کے لیے قوی دلیل کی ضرورت ہے ، یا پھر انہیں کے ہم عصر یا انہیں جیسے امام کی ضرورت ہے ، جو صراحتا اس روایت کو درست کہے ، یا پھر ابو حاتم کی تردید کرے ۔
    2۔ وہم ہر کسی سے ہوسکتا ہے ، امام سفیان ثوری کی کسی روایت میں وہم کا ذکر ہے ، تو علل حدیث میں یہ باتیں عام ہیں ، اس میں راوی کی ثقاہت پر فرق نہیں آتا ، بلکہ علت کی بحثیں عموما آتی ہی وہاں ہیں ، جہاں ثقہ راوی ہوں اور سند بظاہر صحیح نظر آرہی ہو ۔
    3۔ زبیر علی زئی صاحب نے ’ تکلموا فیہ ‘ والی جرح پر جو اعتراض کیا ہے ، اسے دیکھنے کی ضرورت ہے ، ممکن ہو ، ان کا اعتراض درست ہو اور ممکن ہے غلط ہو ۔ لیکن اس بات کو اس حدیث کے ساتھ جوڑنا غلط ، یا قیاس مع الفارق کہا جاسکتا ہے ۔
    4۔ آپ نے جس بات کو امام ابو حاتم کی تقلید کہا ہے ، میں عرض کروں گا کہ یہ تقلید ہے ہی نہیں ، بہر صورت اگر آپ کے نزدیک یہ تقلید ہے ، تو آپ مجھے اس معنی میں اندھا مقلد کہہ سکتے ہیں ، مجھے اعتراض نہیں ہوگا ، کیونکہ روایت ، جرح و تعدیل اور ہر وہ چیز جس کا تعلق ’ خبر و اخبار ‘ سے ہے ، اس میں ایک انسان کے لیے سوائے دوسرے پر اعتماد کرنے کے اور کوئی چارہ نہیں ۔
    5۔ ابن ادریس کی روایت کو اس لیے ترجیح دی گئی ہے ، کیونکہ وہ کتاب پر اعتماد کرتا تھا ، جب حفظ اور کتاب آپس میں ٹکرائے تو ائمہ علل نے کتاب والی روایت کو ترجیح دی ہے ، اگر آپ نے اس روایت کے مالہ و ماعلیہ پر پڑھا ہے ، تو یقینا یہ بات آپ کے علم میں ہو گی ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏اکتوبر 05، 2017 #15
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    آپ کی بات سے ذہن اس برف گیا ہے کہ حدیث روات کے لحاظ سے بھی ضعیف ہوتی ہے اور بعض اوقات اس کا متن ضعیف ہوتا ہے روات کے ثقہ ہونے کے باوجود۔
    کیا میں صحیح سمجھ پایا ہوں؟ اگر ہاں تو ٹھیک اور اگر نہ تو وضاحت فرمادیں۔
     
  6. ‏اکتوبر 05، 2017 #16
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    خضر بھائی پھر میرا خیال ہے کہ اگر ہم اس مسئلے میں ہی دیگر فقہاء میں سے کسی کی تقلید کر لیں تو بھی درست ہے کہ آپ نے امام ابو حاتمؒ کی "وہم" کی بات بلا دلیل مان کر اس مسئلے کو اپنے لحاظ سے سمجھنا ہے اور ہم نے ائمہ احناف کی بات کو مان کر۔ ورنہ سچی بات ہے کہ دونوں روایات میں "نماز شروع کرنے اور ہاتھ اٹھانے" تک اتفاق ہے اور اس کے بعد دونوں الگ الگ روایات ہیں۔ ایک روایت کی بنا پر دوسری کو رد نہیں کیا جاتا بلکہ تطبیق کی جاتی ہے جیسے ہاتھ باندھنے کے مسئلے میں ایک روایت میں "وضع علی" کے الفاظ ہیں اور دوسری میں "قبض" کے، اور علماء حدیث نے دونوں میں سے کسی ایک رد نہیں کیا بلکہ تطبیق کی ہے۔ امید ہے آپ بخوبی اس روایت کو جانتے ہوں گے، وہاں بھی تقریباً یہی معاملہ ہے۔
    و اللہ اعلم
     
  7. ‏اکتوبر 05، 2017 #17
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,990
    موصول شکریہ جات:
    8,157
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    سند صحیح اور متن ضعیف ، اس تعبیر پر مجھے تحفظات ہیں ، باقی بات یہی ہے کہ بظاہر صحیح نظر آنے والی حدیث بھی اصل میں ضعیف ہوسکتی ہے ۔
     
    Last edited: ‏اکتوبر 07، 2017
  8. ‏اکتوبر 05، 2017 #18
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    ابن مسعودرضی اللہ عنہ والی یہ روایت کوئی مستقل حدیث نہیں، بلکہ یہ لمبی حدیث،حدیث التطبیق ہے، جس میں اختصار اور روایت بالمعنی کی وجہ سے راوی سے غلطی ہوگئی ہے، امام ابوحاتم، امام ابوداؤد، اور امام حاکم نے یہی صراحت کی ہے، اور محدثین کا متفقہ اصول ہے کہ جب تک کسی حدیث کے طرق جمع نہیں ہونگے، حکم واضح نہیں ہوگا..ان ائمہ کے نزدیک حدیث ابن مسعود لمبی حدیث، حدیث التطبیق کا ہی ایک طریق ہے، اور حدیث تطبیق میں قطعا عدم رفع کا ذکر نہیں،، لہذا یہ طریق روایت بالمعنی اور اختصار کی وجہ سے اصل حدیث کے مخالف ہوگیا، اور اس طرح یہ معلول ہوگیا ...اسکے معلول ہونے کی یہی وجہ ہے...لیکن تعجب کی بات ہے اسے محض محدثین کا ظن کہ کر رد کردیاجاتا ہے.
     
  9. ‏اکتوبر 05، 2017 #19
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,674
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    اس پر تمام طرق تو بتائیے!
     
  10. ‏اکتوبر 07، 2017 #20
    جی مرشد جی

    جی مرشد جی رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2017
    پیغامات:
    454
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    آپ اپنے تحفظات کی کچھ تفصیل بتانا پسند فرمائیں گے؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں