1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام سلیمان بن مہران الاعمش رحمہ اللہ کے حالات اور تدلیس

'ثقہ رواۃ' میں موضوعات آغاز کردہ از رضا میاں, ‏ستمبر 02، 2014۔

  1. ‏جنوری 10، 2018 #21
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,138
    موصول شکریہ جات:
    2,633
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    امام اعمش کی تدلیس سے قطع نظر یعنی کہ امام اعمش کی ابو صالح سے عن سے روایت کو سماع پر محمول کرنے کے باوجود بھی اس روایت کی صحت ثابت نہیں ہوتی!
    جیسا کہ امام ابن حجر العسقلانی نے اس روایت کی سند کو ابو صالح تک صحیح کہا ہے:
    یہاں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ امام ابن حجر العسقلانی نے اعمش کی ابو صالح سے روایت کو سماع پر محمول کیا ہے!
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 10، 2018 #22
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    ٹھیک ھے۔ تو پھر مالک الدار والی روایت میں ضعف کیا ھے۔
    اور کیا کچھ ایسی روایتیں ہیں آپکے پاس۔ جو
    عن الاعمش عن ابی صالح سے ہوں۔ اور باقی سند بھی ٹھیک ہو۔
    لیکن وہ روایتیں اِن کے عقائد ومعاملاے کے خلاف ہوں !!
     
  3. ‏جنوری 10، 2018 #23
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    اور امام الذھبی کا امام اعمش کی روایت کو ابو صالح سے سماع ہر محمول سمجھنا ہی اتنی بڑی دلیل کیوں؟
    جبکہ امام الذھبی تو ناقل ہیں صرف۔ اور امام الذھبی کی سمجھ ناقص بھی تو ھوسکتی ھے کسی معاملے میں؟
     
  4. ‏جنوری 10، 2018 #24
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,138
    موصول شکریہ جات:
    2,633
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اس تھریڈ میں اس پر کافی بحث ہے؛
    وسیلے کے بارے مالک الدار والی روایت کی حقیقت

    اوپر امام الذہبی کا نہیں، بلکہ ابن حجر العسقلانی کا مؤقف ذکر ہوا ہے!
    اور امام ذہبی ہوں یا ابن حجر العسقلانی بلکل کسی کی بات بھی غلط ہو سکتی ہے! لیکن اسے دلائل و قرائین سے غلط ثابت کیا جائے گا!
     
    Last edited: ‏جنوری 10، 2018
  5. ‏جنوری 10، 2018 #25
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    اور اس مضمون سے تو ایسا ہی لگتا ھے۔ جیسے امام اعمش مدلس ھوں ہی نہ۔ بلکہ اُن ہر تدلیس کا الزام لگایا گیا ہو۔
    کیونکہ اگر تو وہ مدلس تھے۔ وہ پھر کسی بھی روایت میں اُن سے تدلیس کی توقع تو کی جاسکتی ہے نہ؟ الا یہ کہ وہ خود کہہ دیں کہ میں فلاں سے تدلیس نہیں کرتا۔
    لیکن اسکی بھی مجھے سمجھ نہیں آرہی۔کیونکہ

    أخبرناعمروا بن الهيثم أبوقطن قال: حدثنا شعبة عن الأعمش قال: قلت: لإبراهيم: إذا حدثتني عن عبد الله فأسند، قال: إذا قلت: قال عبد الله، فقد سمعته من غير واحد من أصحابه، وإذا قلت: حدثني فلان، فحدثني فلان»
    تو یہاں ابراھیم نخعی کی اس بات کو بھی کوئی نہیں مانتا۔ پھر اگر اعمش بھی ایسا کہہ دیتے۔ تو کیوں مانا جاتا؟ جبکہ خود امام اعمش نے ابو صالح سے روایت پر ایسا کچھ کہا بھی نہیں ہے !!
     
  6. ‏جنوری 10، 2018 #26
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    جی وہ تھریڈ میں پڑھ چکی ہوں۔ لیکن تشفی نہیں ھورہی بلکل بھی۔
    اور میں نے کچھ روایتیں مانگی ہیں آپ سے۔ جو اعمش عن ابی صالح سے بسند صحیح ہوں۔
    لیکن اِن کے عقائد ومعاملات کے خلاف ہوں۔
     
  7. ‏جنوری 10، 2018 #27
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

    السلا عليكم ورحمة الله وبركاته
    کسی مدلس کا اپنے خاص شیخ سے تدلیس نہ کرنے والا اصول عموم پر مبنی ہے۔ یعنی ان مدلسین کی روایات ان خاص شیوخ سے عام حالات میں سماع پر محمول سمجھی جائیں گی الا یہ کہ صراحتا تدلیس ثابت ہو جائے یا متن یا سند میں نکارت پائی جائے۔
    یہ روایت منکر جدا ہے بلکہ موضوع کے قریب ہے اور دین کے اصولوں، نبی کی تعلیم اور تمام صحابہ کے عمل کے بھی خلاف ہے۔ لہذا اس بنیاد پر اعمش کے عنعنہ پر شک کیا جائے گا۔
    اس کے متن میں کئی خرابیاں ہیں جن میں سب سے بڑی یہی ہے کہ کوئی غیر مرد ام المؤمنین عائشہ کے حجرے میں داخل ہونے کی گستاخی کر جائے ایسا ممکن نہیں۔ اور قبر پرست حضرات اپنے مقصد کے لئے اپنی ماں کے بارے میں بھی ایسی بات حضم کر جائیں تو ان پر افسوس ہے۔
    اور اگر اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو متن میں دوسری کمزوری یہ ہے کہ قحط جب پڑ رہا تھا تو صحابہ میں سے کسی کو نبی کے پاس جا کر فریاد کرنے کی نہ سوجھی اور ایک مجہول شخص کو ہی یہ بات یاد آئی۔ کیا صحابہ کو ایسا کرنا پہلے یاد نہ رہا جبکہ وہ نبی کے سب سے زیادہ قریب تھے؟
    عمر کے زمانے میں جو قحط پڑا تھا اس پر عمر نے ابن عباس سے وسیلہ کروایا، اور یہ روایت اس صحیح روایت کے بھی خلاف ہے کیونکہ اس میں ایسا کوئی ذکر نہیں کہ قحط کے موقع پر کسی شخص نے نبی سے وسیلہ کروایا ہو۔
    اور بھی کئی کمزوریاں ہیں اس متن میں۔ لہذا اسے حجت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
    ایک اور بات یہ کہ سند کے لحاظ سے اس میں ایک اور کمزوری یہ ہے کہ یہ منقطع ہے اور اس کا متصل ہونا ثابت نہیں کیونکہ ابو صالح کی مالک الدار سے کوئی روایت ثابت نہیں ہے اور خلیلی نے بھی اس کے اتصال پر شک کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیگر راویوں نے اسے ارسال کے ساتھ روایت کیا ہے۔
    اتنی کمزوریوں کے باوجود بھی اگر کوئی اسے صحیح کہتا ہے تو وہ محض ہٹ دھرمی اور تعصب کی بنیاد پر ہے۔
    اللہ اعلم



    Sent from my iPhone using Tapatalk
     
    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 10، 2018 #28
    بنت عبد السمیع

    بنت عبد السمیع رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جون 06، 2017
    پیغامات:
    240
    موصول شکریہ جات:
    26
    تمغے کے پوائنٹ:
    40

    کیا آپ اپنی فیسبک آئی ڈی دے سکتے ہیں
    @رضا میاں
     
  9. ‏جنوری 10، 2018 #29
    رضا میاں

    رضا میاں سینئر رکن
    جگہ:
    Virginia, USA
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    1,557
    موصول شکریہ جات:
    3,508
    تمغے کے پوائنٹ:
    384

  10. ‏جنوری 11، 2018 #30
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,662
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ماشاءاللہ ، بہترین علمی و تحقیقی مضمون ہے ۔ فرصت ملنے پر مکمل پڑھتا ہوں ۔ إن شاءاللہ ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں