1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام عجلیؒ متساہل تھے یا نہیں؟

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عثمان رشید, ‏اگست 25، 2019۔

  1. ‏اگست 25، 2019 #1
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    السلام علیکم.!
    کوئی بهائی یهاں موجود هے جو هماری مدد کر سکے.؟
     
  2. ‏اگست 25، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,331
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    جی محترم بھائی !
    بندہ حاضر ہے حکم فرمائیں ۔
     
  3. ‏اگست 26، 2019 #3
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    جی سائیں سرکار اسحاق سلفی صاحب کیسے هیں آپ.؟
    محترم مجھ کو چند ایک سوالات کرنے هیں اصول الحدیث کے متعلق کفایت الله سنابلی صاحب سے تو شیخ صاحب نے بولا که محدث فارم پر کر لے.
    میرے بارے آپ جانتے هی هوں گے میرے خیال سے آپ سے میری بات هنید بن القاسم کے بارے هوئی تھی شاید وه نبی علیه السلام کے بول بزار والی روایت کے متعلق.
    تو آپ رهنمائی کرے کے کیسے هم سوال کریں.
     
  4. ‏اگست 26، 2019 #4
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    شیخ الشریف حاتم صاحب کھتے هیں:
    وما یقال من تساهله کابن حبان فهو مردود.
    (الفاظ وعبارات الجرح والتعدیل ص ۲۳۲.)
    یعنی عجلی کے بارے یه کهنا که وه ابن حبان کیطرح متساهل تھے یه مردود هے
     
  5. ‏اگست 27، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,331
    موصول شکریہ جات:
    2,384
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    یہ کتاب "الفاظ وعبارات الجرح والتعدیل " جامعہ ازہر مصر کے شیخ احمد معبد عبدالکریم " کی تصنیف ہے ،
    اور امام عجلیؒ متساہل تھے یا نہیں ،اس سوال کے جواب کیلئے آپ "ملتقی اہل الحدیث " کا تھریڈ
    هل العجلي من المتساهلين في الجرح والتعديل
    پڑھیں ،
    اور اسی ملتقی اہل الحدیث کا تھریڈ " قرأت للمعلمي أن العجلي متساهل فهل سبقه الى هذاالقول "
    بھی پڑھیں ۔
     
    Last edited: ‏اگست 27، 2019
  6. ‏اگست 27، 2019 #6
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    اسحاق سلفی بهائی
    آپکا شکریه لیکن میرا سوال امام عجلی کے تساهل سے هرگز نهیں هے یه میرا سوال جو هے وه ثقه کے تفرد کے متعلق هے جس پر کافی دیکھنے کے بعد کو اشکار ذهن میں آئے خبیب احمد صاحب مقالات اثری سے استفاد کیا الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب سے استفاد کیا.
    پهر بھی کپھ چند اشکال هیں جو ٹهیک سے کلیئر کرنا چاهتا هوں اور تفصیل سے کرنا چاهتا هوں سوال وجواب کی صورت میں.
    شکریه.
     
  7. ‏اگست 27، 2019 #7
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    اسحاق سلفی بهائی
    آپکا شکریه لیکن میرا سوال امام عجلی کے تساهل سے هرگز نهیں هے یه میرا سوال جو هے وه ثقه کے تفرد کے متعلق هے جس پر کافی دیکھنے کے بعد کپھ اشکال ذهن میں آئے خبیب احمد صاحب مقالات اثری سے استفاد کیا الشیخ ارشاد الحق اثری صاحب سے استفاد کیا.
    پهر بھی کپھ چند اشکال هیں جو ٹهیک سے کلیئر کرنا چاهتا هوں اور تفصیل سے کرنا چاهتا هوں سوال وجواب کی صورت میں.
    شکریه.
     
  8. ‏اگست 28، 2019 #8
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,287
    موصول شکریہ جات:
    2,644
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    مفصل بحث تو ان شاء اللہ ہم شیخ @اسحاق سلفی بھائی سے سمجھتے ہیں، میں ایک مختصر سی بات عرض کرتا ہوں کہ ثقہ راوی کے تفرد کا معاملہ عموما درج ذیل امور میں پیش آتا ہے،
    حدیث کے شذوذ میں؛ کہ جس میں ثقہ راوی کا تفرد مقبول نہیں ہوتا، بلکہ حديث شاذ قرار پاتی ہے!
    حدیث کے علل میں؛ کہ ثقہ راوی کا تفرد مسلمہ اور مقبول روایات یا قرآن کے خلاف و منافی ہونے کی صورت میں مقبول نہیں ہوتا، اور حدیث معلول قرار پاتی ہے!
    زیادت ثقات میں؛ کہ ثقہ راوی کا تفرد قرائین کے پیش نظر یا مقبول ہوتا ہے، یا علل و شذوذ کے ضمن میں مردود قرار پاتا ہے!
     
    Last edited: ‏اگست 28، 2019
  9. ‏اگست 28، 2019 #9
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    عقیده الامام الحافظ ابن کثیر من ائمه السلف الصالح فی آیات الصفات
     
  10. ‏اگست 28، 2019 #10
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    شیخ محترم پهلا سوال تو میرا یه هے که خبر واحد کو علماء قبول کرتے هیں جس پر بهت سے علماء نے لکھ هوا هے.
    امام بخاری رحمه الله نے بھی باب قائم کیا خبر الاحاد کو قبول کرنے کے بارے میں.
    تو سوال میرا یه تھا که ثقه کا تفرد کو علماء قبول نهیں کرتے حالانکه یه بھی تو خبر الاحاد هی کی قسم هو گی.
    ایک ثقه کوئی روایت بیان کرتے هے تو علماء اسکو قبول نهیں کرتے آخر وجه کیا هے.؟
    اسکی ایک مثال دیکھیں که حماد بن سلمه ثقه محدث هیں
    ان سے ایک حدیث
    عن حماد بن سلمه عن حماد بن سلیمان عن ابراهیم عن اسود عن عائشه رضی الله عنها..رفع القلم کی مروی هے
    جسکو نسائی وغیره نے نقل کیا هے
    اور یه سند بالکل صحیح اور متصل هے اسکے تمام رواۃ ثقه هیں.
    لیکن اسکے باوجود امام بخاری نے اسکو قبول نهیں کیا وه کھتے هیں که اس میں حماد بن سلمه کی کوئی متابعت نهیں.
    ابن معین رحمه الله نے کیا.
    لیس یروی هذا احد الا حماد بن سلمه عن حماد.
    اور اسکے جگه امام بخاری نے حضرت علی والی روایت جو که متعدد طرق سے مروی هے, کو معلق نقل کیا هے اپنی صحیح میں اور اس روایت کی کوئی سند بھی ضعف سے خالی نهیں هے.
    .
    یه تو هوئی ایک مثال مجھ کو نه امام بخاری پر اعتراض هے نه کسی اور چیز پر بالکل اعتراض یه هے که جب محدثین کا اصول هے که خبر الاحاد قبول هیں تو پهر محدثین ثقه کے تفرد کو قبول کیوں نهیں کرتے. صدوق کی بات هی الگ هے.
    حالانکه حماد بن سلمه کی روایت کا شاهد حضرت علی رضی الله عنه کی روایت هے اگرچه اس میں ضعف هے لیکن شاهد بننے کے لئے صحیح هے.
    حماد کی روایت کیوں قبول نهیں کیا گیا.
    سوال یه هی هے که خبر الاحاد کو قبول کیا جاتا هے تو ثقه کے تفرد کو کیوں قبول نهیں کیا جاتا.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں