1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام مسلمہ بن قاسم کی توثیق وتضعیف پر بحث

'اسماء ورجال' میں موضوعات آغاز کردہ از انور شاہ راشدی, ‏اکتوبر 06، 2017۔

  1. ‏اکتوبر 06، 2017 #1
    انور شاہ راشدی

    انور شاہ راشدی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 01، 2014
    پیغامات:
    257
    موصول شکریہ جات:
    67
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    بسم الله الرحمن الرحيم

    الامام ابو القاسم مسلمة بن القاسم في ميزان الجرح والتعديل

    ۰۰۰( ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی)
    نحمدہ ونصلي علي رسوله الكريم، امابعد.
    چوتھی صدی کے اندلس کے امام، امام مسلمہ بن القاسم کوعام طور پر ضعیف سمجھاجاتا ہے، اسی لیے مناسب سمجھاکہ اس پر کچھ تفصیل سے لکھاجائے، سو یہ چند سطور نذر قارئین کررہاہوں.ان سطور میں امام صاحب کی توثیق کوہی راجح قرار دیاگیا ہے.اللہ تعالی اپنی بارگاہ عالیہ میں انہیں شرف قبولیت بخشے.

    ((آپکا تعارف))
    (۱)نسب نامہ اور کنیت)
    الامام، المحدث، الرحال، المصنف، القاسم بن ابراهيم بن عبدالله بن حاتم،ابوالقاسم الاندلسي،القرطبی
    (۲)آپکے اساتذہ کرام):

    محمد بن عمر بن لبابة ، ابوحفص بن ابی تمام، احمد بن خالد، محمد بن قاسم، محمد بن عبداللہ بن قاسم، عبداللہ بن يوسف، محمد بن زكرياء، قاسم بن اصبغ، ابن العاصي المرادي، الاشبيلي.احمد بن موسي المعروف بــ ابن التمار،عبدالله بن محمد بن فطيس،، عبدالله بن مسرور، صالح بن احمد بن صالح،العجلي، الكوفي، احمد بن محمد بن خلف، يحيي بن عثمان الاندلسي، ابن ابي مطر، محمد بن زبان الحضرمي، امام ابوجعفر الطحاوي، ابوالطاهر العلاف، محمد بن عبدالله البهراني، محمد بن احمد القاضي، محمد بن عبدالله المعروف بغسان، محمد بن عبدالله بن القلزمي، سليمان بن محمد بن دوس المالكي، عبدالله بن احمد بن حمويه الجنابي، محمد بن ابراهيم الديبلي، عبدالرحمن بن محمد بن عبدالله المقرئ، ابوجعفر العقيلي، ابوسعيد بن العربي، محمد بن المؤمل العدوي، ابوورق الهزاني، ابوعلي اللؤلؤي محمد بن احمد، محمد بن علي الزعفراني، احمد بن محمد بن سالم التستري علي بن عبدالله بن مبشر، يحيي بن موسي، الحسين بن اسماعيل القاضي المحاملي، محمد بن احمد بن الجهم القاضي المالكي،عبدالله بن محمد بن زياد النيسابوري، جعفر بن محمد بن الحسن الصبهاني، سهل بن ابراهيم بن سهل القاضي، يحيي بن عبدالله بن كليب قاضي صنعاء،عبدالاعلي بن محمد بن الحسين البوسي خطيب صنعاء، هارون بن احمد بن محمد، ابوسليمان ربيع بن سليمان صاحب الجند، يعقوب بن حجرالعسقلاني، ابن ابي قرصافة،
    (۳) آپکے تلامذہ.
    عبدالوارث بن سفیان بن جبرون.
    آپ سے ایک کثیر جماعت نے سماع کیا ہے، امام ابن الفرضی کہتے ہیں: وقد جمع كثيرا۰۰۰وسمع الناس منہ کثیرا .اھ یہی بات حافظ ذہبی نے "تاریخ الاسلام " میں فرمائی ہے، فی الوقت مصادر کی قلت کی وجہ سے مجھے صرف مذکورہ ایک ہی شاگرد کا نام ملا ہے، جسے صاحب "جذوة المقتبس " امام ابوعبداللہ محمد بن ابی نصر حمیدی نے ذکر کیا ہے، گویا جس طرح آپ کثیرالشیوخ وکثیرالسماع ہیں، اسی طرح آپ کےتلامذہ بھی وافر مقدار میں تھے،
    (۴) آپ نے علم حدیث اور اپنے ہم عصر شیوخ سے سماع کے لیے مشرق ومغرب کے بے شمار شہر اور ممالک کا رخت سفر باندھا، اور کثرت رحلہ اور کثرت شیوخ کی وجہ سے آپ کثیرالروایہ اور کثیر الحدیث سے متصف کیے گئے،آپ نے اپنے دور کے اکابر سے استفادہ کیا، امام المغرب ابن حزم اندلسی کہتے ہیں:(( يكني اباالقاسم، كان احد المكثرين من الرواية والحديث، سمع الكثير بقرطبة، ثم رحل الي المشرق والمغرب قبل العشرين وثلاث مائة، فسمع بالقيروان ـ وطرابلس ـ والاسكندرية ـ واقريطش(1) ـ ومصر ـ والقلزم ـ وجدة ـ ومكة ـ واليمن ـ والبصرة ـ وواسط ـ والايلة ـ وبغداد ـ والمداين ـوبلاد الشام ـ وجمع علما كثيرا ثم رجع الي الاندلس، فكف بصره.( اللسان: ۶/۳۵)
    یہ کثرت سماع، کثرت اسفار، کثرت شیوخ اس پر دلالت کرتا ہے کہ آپ علم حدیث سے بیحد شغف رکھتے تھے، ظاہر بات ہے اس طرح وہ اپنے دور میں جانی پہچانی شخصیت بن گئے، اور ہم عصروں میں انہیں اچھی نگاہ سے دیکھاجانے لگا اور انہیں عزتوں سے نوازا گیا،، اور انکی یہ شہرت اور تقدم فی ھذاالشان کچھ لوگوں کے لیے عصری رقابت اور حسد کی راہ ہموار کرگیا، اس لیے وہ لوگ ان سے ناخوش ہوگئے، اور ان پر کلام کرتے رہے،،
    (۵) آپ نے اصول وعلم الرجال پر کتب تصنیف کیں،
    حافظ ابن حجر کہتے ہیں: ولہ تصانیف فی الفن، وکانت لہ رحلة، لقي فيها الاكابر "
    ( اللسان)

    * کتاب الصلة یا "التاریخ الکبیر "
    * الحلیہ
    * ماروی الکبار عن الصغار
    * کتاب الخط فی التراب
    آپکی پہلی كتاب معروف ہے، اور اس سے محدثین کرام نے استفادہ کیا ہے، خصوصاامام مزی، ابن حجر اور امام مغلطاء الحنفی نے اپنی کتب میں روات کے باب میں جرحاوتعدیلا کافی نقولات نقل کرکے ان پر اعتمادکیا ہے، اس کتاب میں مؤلف نے ان روات کو جمع کیا ہے، جو امام بخاری کی "التاریخ الکبیر " کی شرط پر تھے، اور انہیں امام بخاری نے اپنی کتاب میں ذکرنہیں کیا،یہ کتاب ایک جلد میں ہے اور بہت سےعمدہ فوائد پر مشتمل ہے .امام ابوجعفر المالقی کہتے ہیں: جمع تاریخا فی الرجال، شرط فیہ ان لایذکر الامن اغفلہ البخاری فی تاریخہ، وھو کثیرالفوائد، فی مجلد واحد ( اللسان)
    فی الوقت یہ کتاب مفقود ہے، ہوسکتا ہے مستقبل میں یہ کتاب منطر عام پر آجائے، جن سے شائقین علم استفادہ کرکے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈک پنہچائیں.وماذالک علیہ بعزیز.
    (۶) وفات
    آپ اندلس میں سنــــــہ ۳۵۳ ھ میں فوت ہوئے
    (۷) تعریف وتوصیف
    * ـ جیسا پہلے گذرا امام ابن حزم نے آپکو کثیرالروایہ وکثیرالحدیث والرحلہ قرار دیا ہے،
    * ـ امام حمیدی کہتے ہیں: محدث من اھل الاندلس .
    * ـ امام ابن الفرضی کہتے ہیں:کان صاحب رأی وسر وکتاب..... وکان مسلمة صاحب رقي، ونيرنجات.
    ( تاريخ علماءالاندلس)
    * ـ حافظ ذہبی کہتے ہیں: مسلمة بن القاسم ابن ابراهيم المحدث، المحدث، الرحال،
    * ـ حافظ ابن حجر کہتے ہیں: ھذارجل کبیرالقدر، کہ یہ شخص بہت بڑا مقام رکھتا ہے،
    (۸) جرحا وتعدیلا کلام.
    اولا: تعدیل:
    سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ ائمہ نقد کے ہاں روات کی تعدیل وتوثیق مختلف انداز اورمختلف طریقوں سے کی جاتی ہے، مثلا:
    استفاضہ سے، یعنی راوی اس قدر مشہور ہوکہ اسکی تعدیل وتوثیق کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو، اور اسکی عدالت اور ضبط سب کے یہاں مسلم ہو.
    ائمہ نقد، نصا یعنی صریح الفاظ وانداز میں کسی کی توثیق کردیں.مثلا یہ کہیں، فلان ثقة، ثبت، حجة، حافظ، صدوق، عدل..وغيره.
    ضمنا توثیق.
    یعنی ائمہ نقد ایسا انداز یا الفاظ استعمال کریں جو راوی کی توثیق کو مستلزم ہو، اور اس قسم کی توثیق اپنت اندر بہت وسعت رکھتی ہے "مثلا:
    ۱* ـ صحیحین میں اسے اصول میں ذکر کیاگیا ہو،ایک قول یہ بھی ہے کہ شواہد میں ذکر کرنے کابھی ہے.
    ۲* ـ صحیحیں کے طرز پرلکھی گئی کتب میں روات آگئے ہوں، یعنی جس میں صحت کاالتزام کیا گیا ہو، مثلا، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان، صحیح ابن السکن، مستدرک حاکم، المختارہ، للضیاء المقدسی،
    ۳* ـ مستخرجات ہوں، مثلا: مسند ابی عوانہ، مستخرج ابی نعیم الاصبہانی، وغیرہ.ملاحظہ ہو، علوم الحدیث، لابن الصلاح، النکت.،لابن حجر، الاقتراح، لابن دقیق العید،
    ۴* ـ کتب واسانید کے روات ہوں، ان پر ائمہ نقد نے اعتماد کیاہو، ملاحظہ ہو، "السیر "
    (۱۶/ ) للذہبی.
    ۵* ـ جرح وتعدیل کے باب میں اسکے اقوال پر اعتماد کیا ہو، کیونکہ مُعدِّل( تعدیل کرنے والا) کے لیے یہ شرط رکھی گئی ہے کہ وہ خود عادل ہو، اگر وہ مجروح وضعیف ہے، تو وہ قابل اعتماد نہیں رہتا،
    * ـ راوی کثیرالروایہ ہو، اور اسکے حالات سے باخبر ہونے کے بعد اسے تعریفی وتوصیفی کلمات سے متصف کیا گیا ہو.

    امام مسلمہ بن قاسم کے لیے تعریفی وتوصیفی کلمات استعمال کیے گئے ہیں، مثلا:
    محدث
    رحال
    کثیرالروایہ
    کثیر السماع
    کثیر الشیوخ
    کثیر التلامذہ
    کبیرالقدر
    صاحب سر،
    صاحب رای،
    صاحب کتاب
    یہ وہ اوصاف اور تعریفی کلمات ہیں جو امام مسلمہ بن قاسم کو ایک قوت دیتے ہیں، اور انکو جو محدث کہاگیا ہے، ان اوصاف سے انکا پوری طرح محدث ہونا ظاہر ہورہا ہے،، یہاں قلیل الروایہ اور کثیرالروایہ کے مابین فرق ہونا چاہیے، اگر اول کے لیے تعریفی کلمات بولے گئے ہیں تو اس سے اسکے لیے توثیق ثابت نہین ہوسکتی،بلکہ یہ اسکے حالات کی درستگی کی گواہی ہے،یعنی محض اسکی عدالت کا اثبات ہے، ضبط کے لیے نہین، مگر ثانی الذکر یعنی کثیر الروایہ ایسا نہیں، بلکہ اسکا معاملہ اسکےبرعکس ہے، کیونکہ وہ طلاب علم وائمہ نقد کے ہاں اپنے کثیرالروایہ والسماع کی بناء پرمشہور ومعروف ہوچکا ہے، اور وہ اسکی بیان کردہ احادیث و روایات پر مطلع ہوچکے ہوتے ہیں.ایسی صورت میں اگر اسکی عدالت یا ضبط میں کہیں خلل ہوتو تو وہ ضرور اسکی نشاندہی وآگاہی کردینگے،اور طلاب علم وائمہ نقد سے ایسے راوی کے ضبط میں خلل چھپ بھی نہیں سکتا، کمالایخفی.اور پھر چونکہ اگر ایسا راوی بالفرض ضعیف ہوتو طلاب علم وائمہ نقد اسکی ضرور نشاندہی کرینگے، لہذا اگر مسلمہ بن قاسم میں ایسا کچھ ہوتا تو ائمہ نقد ضرور اس سے آگاہی کرتے، انکا اس بات ذکر نہ کرنا اس بات پردلالت کرتا ہے کہ مسلمہ میں ایسا کچھ نہیں تھا جس سے وہ مجروح وضعیف قرار دیے جاسکیں.ہاں کچھ لوگوں نے امام صاحب پرمعاصرتی چپقلش کی وجہ سے جھوٹ کی تہمت بھی لگائی ہے، اور گمراہ فرقہ مشبہ کے ساتھ بھی جوڑا ہے، لیکن یہ محض انکا امام صاحب پر اتہام ہے، اور اگر واقعی امام صاحب ضبط کے اعتبارسے ضعیف ہوتے تو وہ قطعا اس کے بیان کرنے سے خاموش نہ رہتے، کیونکہ جو چیز امام صاحب میں نہیں ہے اس سے بھی یہ لوگ نہ رک سکے، تو جوچیز ان میں حقیقتا ہو اس سے وہ کیسے توقف کرسکتے ہیں. مزید امام صاحب کو محدث بھی کہاگیا ہے، اور محدث کے لیے دوسری شرائط کے ساتھ ساتھ یہ شرط بھی رکھی گئی ہے کہ اسے متون الاحادیث کا اچھاخاصہ ذخیرہ حفظ ہو، گویا امام صاحب کو بھی وافر مقدار میں احادیث یاد تھیں، اور یہ اسکے حافظہ کے قوی ہونے پر دال ہے، ویسے بھی "محدث " کادرجہ "حافظ " کے بعد کا ہے، اور "حافظ " کے اطلاق سے راوی کی توثیق ثابت ہوتی ہے، اگر وہ مجروح وضعیف نہ ہو،
    ( الموقظہ للحافظ الذہبی، وغیرہ)لہذا امام صاحب پر اگر وارد شدہ جروح رد ہوجائیں تو گویا انکی توثیق ثابت ہوجاتی ہے، جدامجد رح نے "محدث " کے اطلاق کو توثیق وتعدیل شمار کیا ہے،
    آگے چلئے؛ امام صاحب کی ضمنی توثیق بھی ثابت ہے، ائمہ نقد نے انکے جرح وتعدیل کے اقوال کو اپنی کتب میں نقل کرکے ان پر اعتماد کیا ہے، مثلا، امام مزی، امام ابن حجر، مغلطای حنفی وغیرہ، امام سخاوی نے تو باقاعدہ انہیں اپنی کتاب "الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ " میں ان ائمہ میں ذکرکیا ہے، جن پر جرح وتعدیل کے باب میں اعتماد کیاجاتا ہے، گویاان ائمہ کرام نے انہیں جرح وتعدیل کا امام تسلیم کیا ہے.، اور جرح وتعدیل کے لیے امام کا ثقہ ہونا ضروری ہے، ضعیف جارح ومُعَدِّل ضعف کی وجہ سے قابل اعتماد نہیں رہتا، لہذااگر امام صاحب واقعتا ضعیف ہوتے تو وہ قطعا اس باب میں ان پر اعتماد نہ کرتے اور نہ ہی انہیں اس فن کا امام تسلیم کرتے، جس طرح وہ دوسرے جارحین پر وہ جرح کرتے ہیں، مثلا امام ازدی وغیرہ،انکا انہیں اس فن کا امام تسلیم کرنا اس بات کی گواہی ہے کہ انکے نزدیک وہ ثقہ ہے، بلکہ انکا مقام ثقہ سے بھی بڑھ جاتا ہے، کیونکہ ہر ثقہ اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ جرح یاتعدیل کرسکے، کیونکہ لکل فن رجال،، لہذا امام صاحب کا اس قدر مقام ہو کہ انہیں جرح وتعدیل کا امام تسلیم کیاگیا ہو تو، یہ بات اسکی توثیق کے لیے لازمی طور پر مستلزم ہے،
    امام صاحب کتاب کی اسناد کے بھی راوی ہیں، ملتقی اہل الحدیث فورم پر کسی عربی نے کہاہے کہ: لو نظرت إلى رواة كتاب المصنف لابن أبي شيبة تجد أن النسخ الخطية التي وصلتنا من هذا الكتاب من رواية بقي بن مخلد عن ابن أبي شيبة ، عدا كتاب الأوائل من مصنف ابن أبي شيبة فإنه من رواية : مسلمة بن القاسم ، عن محمد بن أحمد بن الجهم ، المعروف بـ ((ابن الوراق)) ، عن محمد بن عبدوس السراج ، عن ابن أبي شيبة ، وفي آخر كتاب الأوائل من مصنف ابن أبي شيبة يوجد زيادات من رواية مسلمة بن القاسم زادها على ابن أبي شيبة ، فلعل هذا من ذاك ، وهي موجودة في المجلد الثاني عشر من طبعة دار الفاروق . والله أعلم .
    یعنی ہم تک مصنف ابن ابی شیبہ بقی بن مخلد کے طریق سے پہنچی ہے، مگر اسکا کچھ حصہ صرف امام مسلمہ کے ذریعہ سے ہی ہم تک پہنچا ہے، لہذا ائمہ نقد کے ہاں امام صاحب ضعیف ہوتے تو ضرور اسکی نشاندہی کرتے، انکا سکوت اور انکے روایت کردہ حصہ پر اعتماد کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انکے نزدیک ثقہ تھے،
    "مسند أبي داود الطيالسي " یہ کتاب بھی امام صاحب کے سماع میں تھی، اور ان کے سماع والے طریق سے امام ابن عبدالبر نے اپنی کتاب "التمہید " میں ان سے ایک نص نقل کی ہے، ملاحظہ فرمائیں. أحمد بن سعيد بن بشر حدثنا مسلمة بن قاسم حدثنا جعفر بن محمد الأصبهاني حدثنا يونس بن حبيب .اھ.
    گویاامام صاحب، امام ابن عبدالبر کے نزدیک بھی قابل اعتماد تھے.
    .
    مغلطای الحنفی کہتے ہیں : (۳/ ۳۱۸ ـ ۳۱۹ ) فإن قيل : ابن يونس أقعد بالمصريين ،
    قيل له : ومسلمة أيضا له قعدد فيهم ، فيما قاله غير واحد من الأئمة .... اهـ .
    القعدد ، نسابين کی اصطلاحات میں سے ہے، جسکا مطلب ہے کہ مسلمہ بھی محدثین کرام کے ہاں قابل اعتماد ہیں.
    ابن حجر "تہذیب التہذیب میں" کہتے ہیں: وقال مسلمة في " الصلة " كان( ای البخاری) ثقة جليل القدر عالما بالحديث و كان يقول بخلق القرآن فأنكر ذلك عليه علماء خراسان فهرب و مات و هو مستخف
    قال : و سمعت بعض أصحابنا يقول سمعت العقيلي لما ألف البخاري كتابه الصحيح عرضه على بن المديني و يحيى بن معين و أحمد بن حنبل و غيرهم فامتحنوه و كلهم قال كتابك صحيح إلا أربعة أحاديث قال العقيلي و القول فيها قول البخاري وهي صحيحة
    قال مسلمة : و ألف علي بن المديني كتاب العلل وكان ضنينا به فغاب يوما في بعض ضياعه فجاء البخاري إلى بعض بنية و رغبه بالمال على أن يرى الكتاب يوما واحدا فأعطاه له فدفعه إلى النساخ فكتبوه له و رده إليه فلما حضر على تكلم بشيء فأجابه البخاري بنص كلامه مرارا ففهم القضيه و اغتم لذلك فلم يزل مغموما حتى مات بعد يسير و استغني البخاري عنه بذلك الكتاب و خرج إلى خراسان و وضع كتابه الصحيح فعظم شأنه و علا ذكره و هو أول من وضع في الإسلام كتابا صحيح فصار الناس له تبعا بعد ذلك .
    قلت ( القائل ابن حجر ) : إنما أوردت كلام مسلمة هذا لأبين فساده فمن ذلك إطلاقه بأن البخاري كان يقول بخلق القرآن و هو شيء لم يسبقه إليه أحد و قد قدمنا ما يدل على بطلان ذلك وأما القصة التي حكاها فيما يتعلق بالعلل لابن المديني فإنها غنية عن الرد لظهور فسادها و حسبك أنها بلا إسناد و أن البخاري لما مات علي كان مقيما ببلاده وأن العلل لابن المديني قد سمعها منه غير واحد غير البخاري فلو كان ضنينا بها لم يخرجها إلى غير ذلك من وجوه البطلان لهذه الأخلوقه و الله الموفق .( ۹/ ۴۶ ـ ۴۷، ترجمة الامام البخاري.
    محترم قارئین: مذکورہ سطور میں دو باتیں ہیں.
    ۱ ـ امام مسلمہ نے امام بخاری پر خلق قرآن کا قائل بتلایا ہے،
    ۲ ـ امام علی بن المدینی کی کتاب "العلل " کے سرقہ کاالزام لگایا ہے.
    اول، کے جواب میں ابن حجر نے امام مسلمہ کی غلطی کی نشاندہی کی ہے، کہ وہ اس دعوی میں منفرد ہیں، لہذا انکی یہ بات بدیہا غلط اور مردود ہے.
    ثانی کو عقلی دلیل کے ساتھ رد کرتے ہوئے سند کا بھی مطالبہ کیا ہے، گویا دوسری بات میں ابن حجر قصوروار امام مسلمہ کو نہیں بتلارہے، بلکہ انہیں عادل اور ضابط سمجھ رہے ہیں، کیونکہ اگر وہ عادل اور ضابط نہیں ہوتے، یا کم از کم ضابط نہ ہوتے تو پہلے جرح یہی کرتے کہ مسلمہ ثقہ نہیں، یعنی ہوسکتا ہے اس حکایت میں انہیں وہم ہوگیا ہو، لہذا یہ حکایت انکی وجہ سے مردود ہے، اور اصول حدیث میں یہ طے بھی ہے کہ کسی روایت کی تضعیف میں جو اقرب الی الجرح ہوگا سب سے پہلے اسے ہی مقدم کیاجائیگا،لہذا اگر امام مسلمہ عدالت یا ضبط کے اعتبار سے ابن حجر کے نزدیک ضعیف ہوتے تو حکایت کی تضعیف میں پہلے پہل انہیں ہی مقدم رکھتے، لیکن ایسا نہیں ہے، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ابن حجر اس حکایت کورد کرنے کے لیے انقطاع کو سبب بنارہے ہیں، گویا انکے نزدیک یہ سارا قصور اور غلط بیانی سند میں موجود کسی راوی کی ہے، نہ کہ اسکی وجہ مسلمہ ہیں..الغرض: ابن حجر کے اس تعامل سے امام صاحب کی عدالت اور ضبط دونوں کااثبات ہورہا ہے، وھو المطلوب.والحمدللہ علی ذالک.

    خلاصہ کلام! کہ مذکورہ تحریر سے امام مسلمہ بن قاسم ثقہ اور قابل اعتماد ثابت ہورہے ہیں، لیکن ان ہر جروح بھی کی گئی ہیں، لہذا انکوذکر کرکے انکاجواب دیاجارہا ہے،
    ثانیا: جرح
    امام صاحب پر درج ذیل جروح کی گئی ہیں، لیکن یہ جروح تعدیل کے مقابلہ میں غیر مفسر ہونے کی وجہ سے غیر معتبر ہیں،
    (۱) امام ابن الفرضي کہتے ہیں: سمعت من ينسبہ إلى الكذب ..مزید کہاکہ:
    (۲) امام محمد بن احمد بن يحيى بن مفرج نے لم يكن كذابابل كان ضعيف العقل قال وحفظ عليه كلام سوء في التشبيه
    (۳) امام ابوجعفر المالقي کہتے ہیں: فیہ نظر.
    (۴)امام ابن حزم کہتے ہیں: اخبرني يحيي بن الهيثم ــ رجل صالح ــ...وكان قوم بالاندلس يتحاملون عليه، وربما كذبوه( اللسان)
    (۵)حافظ ذہبی کہتے ہیں: لم يكن بثقة،
    ميزان (۴/ ۱۱۲) میں ذکر کرکے کہتے ہیں.
    مسلمة بن القاسم القرطبي كان في أيام المستنصر الأموي ضعيف، وقيل: كان من المشبهة.روى عن أبي جعفر الطحاوي، وأحمد بن خالد بن الحباب.
    المغني (۶۲۳۷) میں ذکرکے کہتے ہیں ((ضعيف وقيل: كان مشبهًا)).
    اب ان تمام جروح کے جوابات ملاحظہ فرمائیں.
    پہلی جرح کا جواب یہ کہ انہیں جھوٹا کہنے والا نامعلوم ومجہول ہے، لہذا اسکا کوئی اعتبار نہیں، مزید امام ابن المفرج نے بھی کذب والی جرح کو رد کردیاکہ وہ کذاب نہیں تھے.لہذا یہ جرح مردود ہوئی.
    دوسری جرح کہ وہ ضعیف العقل تھے، تو یہ جرح بھی غیر مفسر ہونے کی وجہ سےغیر معتبر ہے، کیونکہ امام ابن المفرج نے وہ وجہ بیان نہیں کہ کہ وہ کس وجہ سے ضعیف العقل ہے، ہوسکتا ہے جس بات کی وجہ سے وہ امام صاحب کو ضعیف العقل سمجھ رہا ہے، وہ درحقیقت انکے ضعیف عقلی پر نہ دلالت کرتی ہو، مزید سماع حدیث کے لیے اس قدر سفر کرنے والا کہ مشرق ومغرب کے بے شمار ممالک گھومے پھرے وہ آخر کیسے ضعیف العقل ہوسکتا ہے،، !!! یہ کام تو صاحب عقل ہی کرسکتا ہے،، ضعیف العقل ہو اور کثرت کے ساتھ سماع حدیث، علمی اسفار اور عمدہ تصانیف،، تسلیم ہی نہیں ہوتا.
    تیسری جرح ابوجعفر المالقی کی "فیہ نظر " بھی غیر مفسر ہونے کی وجہ سے غیر معتبر ہے.
    چوتھی جرح میں یحیی بن الھیثم نے ذکرکیا کہ اندلس کی ایک قوم ان پر زیادتی کرتے ہوئے انہیں جھوٹا کہتی تھی،، گویا اسی میں ہی اسی جرح کارد موجود ہے، مزید یہ جھوٹا کہنے والے مجہول ہیں.
    پانچوی جرح کے جارح امام ذہبی ہیں، لم یکن بثقة، ضعيف.تو "لم یکن بثقة " جرح کے سخت الفاظ ہیں، ظاہر ہے حافظ ذہبی کا اس جرح میں اعتماد سابقہ جارحین کی جرحوں پر ہے، اور وہ ہیں
    ۱ ـ جھوٹ کی تہمت
    ۲ ـ ابن المفرج کا قول "ضعیف العقل.
    چونکہ ضعیف العقل " جرح شدید نہیں، لہذا ذہبی نے جرح میں اسے مدنظر رکھ کر امام.صاحب پر جرح نہیں کی ہوگی، بلکہ "جھوٹ "والی جرح پر اعتماد کرکے امام مسلمہ پر جرح کی ہے، لیکن جیسا پہلے ذکر ہوا یہ جروح سرے سے ثابت ہی نہیں، تو ان پر اعتماد کرکے کسے جرح کی جاسکتی ہے،، لہذا حافظ ذہبی کی یہ جرح بھی غیر معتبر ٹھیہری.یاد رہے مذکورہ جھوٹ والی جروح ان لوگوں نے امام صاحب پر کی ہیں جو ان سے معاصرتی چپقلش رکھتے تھے، اور یہ تو واضح ہے کہ معاصرتی چپقلش کی وجہ سے کی گئی جروح قابل قبول نہیں ہوتیں.لہذا اس اعتبار سے بھی یہ جروح "جھوٹ کی تہمت والی " رد ہوجاتی ہیں.
    امام صاحب پر تشبیہ کا الزام بھی عائد کیاگیا ہے، لیکن ابن حجر نے اس کو رد کردیا ہے، اور کہا کہ "مانسبہ الی التشبیہ، الامن عاداہ ".
    مولانا ابوالقاسم بنارسی رح نے امام صاحب کو "زندیق " کہا ہے، ( دفاع صحیح بخاری: ۷۶)
    لیکن میرے سامنے جتنے مصادر ہیں کسی میں بھی یہ نہیں کہ انہیں زندیق کہاگیا ہو، ہوسکتا ہے انہوں نے "تشبیہ " والی غلط نسبت سے انہیں زندیق کہا ہو، لیکن یہ نسبت مردود ہے..ان کے دشمنوں نے ان پر یہ الزام عائدکیا ہے.جیساکہ ابن حجر کے کلام.میں ابھی گذرا.
    اسی طرح مولانابنارسی نے امام صاحب پر یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ "محدثین کے یہاں یہ مشہور ہے کہ مسلمہ بازاری قصہ گھڑا کرتا تھا، ( دفاع صحیح بخاری: ۷۶)
    محترم قارئین: یہ بات بھی مجھے کسی مصدر میں نہ مل سکی، ہوسکتا ہے انہوں نے یہ بات انہوں مذکورہ دونوں باتوں سے اخذ کرکے کہی ہوں..لیکن ـ جیسا پہلے گذرا ـ پہلی بات انکی غلطی تھی، دوسری کے قصوروار وہ نہیں بلکہ کوئی اور ہے.
    خلاصہ کلام: امامسلمہ بن القاسم ایک ثقہ محدث، مصنف اور کثیر الترحال، وکثیر السماع ہیں، ائمہ نقد کے ہاں معتمد اور قابل تعریف ہیں..اور ان پر لگائی گئی جروح مردود ہیں..
    مصادر: تاريخ علماء الاندلس: ص۳۹۳) لابن الفرضی
    جذوة المقتبس: ص ۳۴۶) لمحمد بن ابی نصر الحمیدی الازدی
    سیر اعلام النبلاء: ۱۶/۱۱۰)
    تاریخ الاسلام ۲۶/ ۹۸)
    میزان الاعتدال: ۴/۱۱۲) للذہبی
    لسان المیزان (۳۵) لابن حجر
    الاعلان بالتوبیخ لمن ذم التاریخ

    ھذاماعندي، والله اعلم بالصواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں