1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امام مسلم رحمہ اللہ اور مسئلہ تدلیس

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوعمر السلفی, ‏جولائی 19، 2014۔

  1. ‏جولائی 19، 2014 #1
    ابوعمر السلفی

    ابوعمر السلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 21، 2013
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    6
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    امام مسلم رحمہ اللہ اور مسئلہ تدلیس :

    امام مسلم رحمہ اللہ نے تدلیس الاسناد کے بارے میں جو موقف بیان کیا ہے، ابن رجب نے اس میں دو احتمال ظاہر کئے ہیں :

    ۱۔ یا تو امام شافعی کے قول کی طرح ہے۔
    ۲۔ یا دیگر محدثین جس میں امام علی بن المدینی شامل ہیں۔

    امام مسلم رحمہ اللہ اپنے مقدمہ میں مخالف کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
    فيقال له: فإن كانت العلة في تضعيفك الخبر، وتركك الاحتجاج به إمكان الإرسال فيه، لزمك أن لا تثبت إسنادا معنعنا حتى ترى فيه السماع من أوله إلى آخره " وذلك أن الحديث الوارد علينا بإسناد هشام بن عروة، عن أبيه، عن عائشة فبيقين نعلم أن هشاما قد سمع من أبيه، وأن أباه قد سمع من عائشة، كما نعلم أن عائشة قد سمعت من النبي صلى الله عليه وسلم، وقد يجوز إذا لم يقل هشام في رواية يرويها عن أبيه: سمعت، أو أخبرني، أن يكون بينه وبين أبيه في تلك الرواية إنسان آخر، أخبره بها عن أبيه، ولم يسمعها هو من أبيه، لما أحب أن يرويها مرسلا، ولا يسندها إلى من سمعها منه، وكما يمكن ذلك في هشام، عن أبيه، فهو أيضا ممكن في أبيه، عن عائشة، وكذلك كل إسناد لحديث ليس فيه ذكر سماع بعضهم من بعض، وإن كان قد عرف في الجملة أن كل واحد منهم قد سمع من صاحبه سماعا كثيرا، فجائز لكل واحد منهم أن ينزل في بعض الرواية، فيسمع من غيره عنه بعض أحاديثه، ثم يرسله عنه أحيانا، ولا يسمي من سمع منه، وينشط أحيانا فيسمي الذي حمل عنه الحديث ويترك الإرسال (مقدمہ صحیح مسلم ۱/۳۰)

    اس سے کہا جائے گا کہ اگر تیرے نزدیک حدیث کو ضعیف کرنے اور احتجاج ترک کرنے کی علت ارسال کا امکان ہے، تو تجھ پر لازم ہے کہ اسناد معنعن کو نہ تسلیم کر حتی کے اول سے آخر تک سماع کی تصریح ثابت ہوجائے، مثلا جو حدیث ہم کو ھشام بن عروۃ، عن ابیہ، عن عائشہ کی سند سے پہنچی ہے وہ اس یقین کے ساتھ کے ہم جاتنے ہیں ھشام نے اپنے والد عروۃ سے سنا ہے، اور عروۃ نے عائشہ سے، جیسے کہ ہمیں معلوم ہے عائشہ رضی اللہ عنھا نے نبی علیہ سلام نے سنا ہے، اور یہ جائز ہے ھشام کے لئے اس نے جو روایت اپنے والد سے بیان کی ہیں کہ اس میں "سمعت" یا "اخربنی" نہ کہے اور اس کے اور اس کے والد کے درمیان سند میں کوئی دوسرا شخص ہو، جس نے اس کے والد سے سن کر اس کو روایت بیان کی ہو، لکین ھشام نے خود اپنے والد سے یہ روایت نہ سنی ہو، ھشام نے اس میں ارسال کرنا پسند کیا، اور اس تک سند بیان نہیں کی جس سے سنا ہے، جیسے کہ یہ احتمال ھشام عن عورۃ کے درمیان ہے، اور عروۃ اور عائشہ کے درمیان بھی ہے، اسی طرح ہر ایک سند جس میں سماع کی تصریح نہیں اگر چہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ ایک نے دوسرے سے بہت سی روایتیں سنی ہیں مگر ہوسکتا ہے بعض روایتیں اس نے اس سے نہ سنی ہوں بلکہ کسی اور سے سن کر بیان کردی ہوں۔ لیکن جس کے ذریعہ سے سنا اس کا نام نہ لیا اور کبھی اس کا نام لے کر بیان کردیا اور ارسال (یعنی تدلیس الاسناد) ترک کردی۔

    اس قول میں ارسال سے مراد تدلیس الاساند ہے کیونکہ راوی اپنے استاد سے ایسی روایت بیان کرے جو اس سے براہ راست نہ سنی ہو یہی تدلیس ہے، جب کہ ارسال میں تو راوی جس سے بیان کرتا ہے اس سے ملاقات ہی ثابت نہیں ہوتی۔

    نیز حافظ ابن حجر العسقلانی رحمہ اللہ نے "ھشام بن عروۃ" کو پہلے طبقہ کے مدلسین میں شمار کیا ہے، اور اسی طرح الحلبی نے "التبین" میں ان کو مدلسین میں شمار کیا ہے۔

    اسی طرح امام یعقوب بن شیبہ فرماتے ہیں :
    أنه كان لا يحدث عن أبيه إلا بما سمعه منه، فكان تسهله أن أرسل عن أبيه مما كان يسمعه من غير أبيه، عن أبيه

    ھشام بن عروۃ اپنے والد عروۃ سے صرف وہی روایات بیان کرتے تھے جو ان سے سنی ہوتی تھی، اور (کبھی) تساہل کرتے ہوئے اپنے والد سے وہ روایت ارسال کرتے تھے جو ان سے نہیں سنی ہوتی تھی۔

    تاریخ بغداد ج۱۶ ص۵۶ وسندہ صحیح

    معلوم ہوا ھشام بن عروۃ تدلیس کرتے تھے لیکن امام مسلم رحمہ اللہ نے ان کی تدلیس کا اعتبار کیا ہے کوینکہ وہ قلیل التدلیس تھے۔ اور ان کا موقف امام شافعی والا نہیں بلکہ امام علی بن المدینی والا موقف ہے۔

    نیز یہ بھی معلوم ہوا امام مسلم کے نزدیک جو راوی اپنے استاد سے کثیر سماع راوی ہے اور ساتھ مدلس بھی ہے، اگر اس نے بعض روایات میں صراحت سماع نہیں کی تو وہ روایات سماع پر محمول ہوں گی۔
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 19، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جزاکم اللہ خیرا۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں