1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

: امام کے پیچھے نماز میں کمی یا بیشی ہونے کی صورت میں مقتدی کیلیے ممکنہ صورتیں

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از سید طہ عارف, ‏مارچ 29، 2017۔

  1. ‏مارچ 29، 2017 #1
    سید طہ عارف

    سید طہ عارف رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 18، 2016
    پیغامات:
    635
    موصول شکریہ جات:
    119
    تمغے کے پوائنٹ:
    66

    امام کی اقتدا کیلیے اصول کیا ہے؟ اگر امام نماز میں کوئی رکن زیادہ کر دے یا کسی رکن یا واجب کو ترک کر دے یا واجب یا سنت کا اضافہ کر دے یا سنت ترک کر دے تو کیا ایسی صورت میں بھی امام کی اقتدا ہو گا یا مقتدی امام سے الگ ہونے کی نیت کر لے گا؟ میں امید کرتا ہوں کہ مکمل طور پر تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے؛ کیونکہ مذکورہ تمام صورتوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے ، ساتھ میں ان کی مثالیں بھی ذکر کر دیں تو بہتر ہو گا؛ اس لیے کہ لوگوں کو ان چیزوں کے جاننے کی اشد ضرورت ہے اور کم علمی کی بنا پر بڑی کتابوں کو کھنگال کر انہیں نکالنا بھی مشکل ہے۔

    Published Date: 2017-03-11
    الحمد للہ:



    اگر نماز میں امام کی جانب سے کوئی خلل واقع نہ ہو تو مقتدی کیلیے نماز کے تمام افعال میں امام کی اقتدا کرنا واجب ہے؛ کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ صحیح بخاری: (689) اور امام مسلم رحمہ اللہ صحیح مسلم : (411) میں روایت کرتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: (امام کو مقرر ہی اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کی اقتدا کی جائے ، چنانچہ اگر امام کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب رکوع کر لے تو تم بھی رکوع کرو، جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ، جب امام "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" کہے تو تم "رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ" کہو، جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھائے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جس وقت امام بیٹھ کر نماز پڑھائے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو)

    امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اس حدیث میں تکبیر، قیام، قعدہ، رکوع اور سجدے ہر حالت میں مقتدی کیلیے امام کی اقتدا کو واجب قرار دیا گیا ہے، مقتدی یہ سب کام امام کے پیچھے کرے گا چنانچہ تکبیرِ تحریمہ امام کے فارغ ہونے کے بعد کہے گا، اور اگر مقتدی نے امام کے تکبیرِ تحریمہ سے فارغ ہونے سے پہلے تکبیر تحریمہ کہہ دی تو اس کی نماز با جماعت شروع ہی نہیں ہو گی، مقتدی امام کے رکوع شروع کرنے کے بعد اور امام کے رکوع سے اٹھنے سے پہلے رکوع کریگا، اگر امام کے ساتھ ساتھ یہ اعمال کرے یا آگے بڑھے تو یہ برا عمل ہے، بالکل اسی طرح سجدہ کرنا ہے، اور ایسے ہی جب امام نماز کا سلام پھیر کر فارغ ہو جائے تو پھر سلام پھیرےگا ، چنانچہ اگر امام سے پہلے سلام پھیر لیا تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی، البتہ جماعت سے الگ ہونے کیلیے امام سے پہلے سلام پھیر دے تو اس صورت کے متعلق اختلاف مشہور ہے، اور اگر امام کے ساتھ سلام پھیرے، پہلے یا بعد میں نہیں تو یہ برا عمل ہے" انتہی

    دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
    "رکوع، سجدہ کرتے ہوئے اور ان سے اٹھتے ہوئے اور اسی طرح قیام میں مقتدی پر واجب ہے کہ امام کی اقتدا کرے، امام کے رکوع اور سجدہ کرنے کے بعد ہی رکوع اور سجدے میں جائے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کرنے کا حکم دیا ہے اور امام سے آگے بڑھنے یا ساتھ ساتھ نماز کے ارکان ادا کرنے سے منع فرمایا ہے" انتہی
    "فتاوى اللجنة الدائمة" (7 /315)

    اگر امام نماز کا کوئی رکن چھوڑ دے تو اس کی کئی صورتیں ہیں:

    1- اگر امام تکبیرِ تحریمہ جان بوجھ کر ترک کر دے یا بھول جائے تو ایسی صورت میں امام کی اقتدا کرنا درست نہیں ہے ؛ کیونکہ اس کی نماز ہی شروع نہیں ہوئی، اس کی دلیل ابو داود: (61) ترمذی: (3) میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نماز کی کنجی وضو ہے ،علاوہ ازیں حرمت ِنماز تکبیرِ تحریمہ سے شروع ہوتی ہے اور سلام حرمت نماز کی منتہا ہے) اس حدیث کو البانی رحمہ اللہ نے صحیح ابو داود میں صحیح کہا ہے۔

    ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اگر نماز پڑھنے والا شخص عمداً یا سہواً تکبیرِ تحریمہ چھوڑ دے تو اس کی نماز شروع ہی نہیں ہوتی؛ کیونکہ نماز شروع ہونے کیلیے تکبیرِ تحریمہ کا ہونا ضروری ہے" انتہی
    "مجموع فتاوى و رسائل ابن عثیمین" (13 /320)

    2- اگر امام کوئی ایسا رکن ترک کر دے جس کی کمی پوری نہیں ہو سکتی ، مثال کے طور پر: سورہ فاتحہ کی تلاوت میں خلل پیدا ہو ، یا رکوع اور سجدے میں اطمینان مفقود ہو تو مقتدی الگ سے نماز پڑھنے کی نیت کر لے اور اپنی نماز اکیلے ہی ادا کرے۔

    اس بارے میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اگر امام نماز پڑھاتے ہوئے جلد بازی سے کام لے، اطمینان کا فقدان ہو یا اپنے مقتدیوں کو ہی اطمینان سے ارکانِ نماز ادا نہ کرنے دے تو یہاں پر ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، ایسے امام کی اقتدا سے نکلنا واجب ہے اور مقتدی اپنی نماز اکیلے ہی پوری کر لے؛ کیونکہ اگر امام کی نماز اتنی لمبی ہو کہ سنت کی مخالفت لازم آئے تو ایسی صورت میں مقتدی کیلیے اکیلے نماز ادا کرنے کی اجازت ہے ، تو بالکل اسی طرح اگر امام نماز میں اطمینان کے ساتھ جماعت نہیں کروا رہا تو اس سے مقتدی کیلیے الگ نماز پڑھنے کی اجازت نکلتی ہے، چنانچہ اگر امام اتنی جلدی اور تیزی کے ساتھ نماز پڑھائے کہ مقتدی کو اطمینان کا موقعہ ہی نہ ملے اور یہ واجب رہ جائے تو اس حالت میں مقتدی پر لازمی ہے کہ وہ امام کی اقتدا سے نکل جائے اور اکیلے نماز پڑھے؛ کیونکہ نماز میں اطمینان یقینی بنانا نماز کا رکن ہے" انتہی
    "مجموع فتاوى و رسائل ابن عثیمین" (13 /634)

    3- اور اگر امام ایسا رکن بھول کر چھوڑ دیتا ہے جس کا تدارک ممکن ہے ، مثال کے طور پر: رکوع یا سجدہ وغیرہ تو پھر مقتدیوں پر واجب ہے کہ وہ سبحان اللہ کہیں، اور امام کی ذمہ داری ہے کہ چھوٹنے والا رکن ادا کرے، چنانچہ امام کے بھول جانے کی صورت میں مقتدیوں کیلیے امام کی اقتدا چھوڑ دینا جائز نہیں ہے۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے پوچھا گیا:
    "جب امام نماز پڑھاتے ہوئے دو سجدوں کے درمیان جلسہ بھول کر کھڑا ہو جائے اور مقتدی سبحان اللہ کہیں تو ایسی صورت میں امام واپس ہو کر سجدہ کرے گا یا پوری رکعت دوبارہ پڑھے گا؟"
    اس پر انہوں نے جواب دیا:
    "اس شخص نے جلسہ اور دوسرا سجدہ نہیں کیا تو اس پر لازمی ہے کہ واپس ہو اور سجدہ کرے چاہے اگلی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھ چکا ہو، حتی کہ رکوع ہی کیوں نہ کر لیا ہو، یعنی: مقتدیوں نے امام کو اسی وقت متنبہ کیا کہ امام اگلی رکعت کے رکوع سے سر اٹھا رہا ہے تو امام پر واجب ہے کہ واپس جلسہ میں بیٹھے اور سجدہ کرے، پھر کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کرے، لیکن اگر امام اگلی رکعت کے دو سجدوں کے درمیان جلسے تک پہنچ جاتا ہے تو پھر یہ رکعت سابقہ رکعت کا متبادل ہو جائے گی؛ کیونکہ اگر ہم نے اب اسے کہا جلسہ اور سجدہ کرو تو وہ اب جلسہ اور دوسرا سجدہ کر چکا ہے۔
    الغرض یہ اصول اور قاعدہ یاد رکھیں: جب انسان کسی بھی رکعت میں رکن بھول جائے تو یاد آنے پر فوری رکن کو ادا کرنا ضروری ہے، الا کہ آئندہ رکعت میں بھولے ہوئے رکن کی جگہ تک پہنچ جائے؛ ایسی صورت میں پہلی رکعت کالعدم ہو جائے گی اور دوسری رکعت اس کے قائم ہو گی ، لہذا جب بھولے ہوئے رکن کی جگہ تک پہنچے تو پھر نمازی یہ نیت کرے کہ یہ سابقہ رکعت ہے ۔" انتہی
    " لقاء الباب المفتوح" (180 /25)

    4- اگر امام ایسا رکن چھوڑ دے جسے مقتدی رکن سمجھے لیکن امام اسے رکن نہ سمجھے، یا کوئی کام مقتدی کے ہاں حرام ہو امام کے ہاں نہ ہو، تو ایسی صورت میں اس کے پیچھے نماز صحیح ہو گی۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "اگر امام کوئی ایسا رکن چھوڑ دے جو مقتدی کے ہاں رکن ہو امام کے ہاں رکن نہ ہو تو ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا صحیح ہے، یہ امام احمد کے دو موقفوں میں سے ایک ہے یہی امام مالک اور مقدسی رحمہما اللہ کا مذہب ہے۔"

    انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ:
    "اگر امام کوئی ایسا کام کر لے جو مقتدی کے ہاں حرام ہو، امام کے ہاں حرام نہ ہو اور اس کام کے متعلق اجتہادی گنجائش بھی نکلتی ہو تو اس کے پیچھے نماز ادا کرنا صحیح ہے، امام احمد سے یہی موقف مشہور ہے۔" انتہی
    "الاختيارات الفقهية" (70)

    مقتدی کو چاہیے کہ جن امور میں اجتہادی گنجائش نکلتی ہے ان میں اپنے امام کی اقتدا کرے چاہے دونوں کا اس کام کے حکم میں اختلاف ہو، مثلاً: قنوت، سجدہ تلاوت وغیرہ اور اسی طرح اگر بارش کی صورت میں امام نمازیں جمع کر لے اور مقتدی اسے جائز نہ سمجھے ، تو بھی امام کی اقتدا کرے۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "مقتدی کو چاہیے کہ جن امور میں اجتہاد کی گنجائش ہے ان میں امام کی اقتدا کرے، اگر امام قنوت کرے تو مقتدی بھی ساتھ قنوت کرے اور اگر امام قنوت نہ کرے تو مقتدی بھی قنوت نہ کرے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (امام اقتدا کیلیے ہی بنایا جاتا ہے) اور اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ: (اپنے امام کی مخالفت مت کرو) اور اسی طرح صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ تمہیں نمازیں پڑھائیں اور درست انداز میں پڑھائیں تو ان کی بھی ہو جائے گی اور تمہاری بھی اور اگر غلط پڑھائیں تو تمہاری ہو جائے گی ان کی نہیں ہو گی)" انتہی
    " مجموع الفتاوى " ( 23 / 115 ، 116 )

    اس صورت کا بیان کہ جب امام رکن زیادہ کر دیتا ہے تو:

    اگر امام بھول کر کسی رکن کا اضافہ کر دیتا ہے، مثلاً: چار رکعت والی نماز میں پانچویں رکعت کیلیے کھڑا ہو جاتا ہے، یا سجدے کا اضافہ کر دیتا ہے تو مقتدی پر امام کو متنبہ کرنا واجب ہے، اگر امام اضافی عمل سے نہیں ہٹتا تو مقتدی کیلیے اس اضافی عمل میں امام کی اقتدا جائز نہیں ہے، اس لیے مقتدی بیٹھا رہے تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے، لہذا اگر مقتدی کو علم ہو کہ یہ پانچویں رکعت ہے اور وہ امام کی اقتدا جاری رکھے تو مقتدی کی نماز باطل ہو جائے گی، لیکن اگر لا علمی یا بھول جانے کی وجہ سے امام کی اقتدا جاری رکھے تو مقتدی کی نماز صحیح ہو گی۔

    مزید کیلیے آپ سوال نمبر: (87853) کا مطالعہ کریں۔

    - اگر امام نماز کے واجبات میں سے کسی واجب کو بھول کر ترک کر دے ، مثلاً: پہلا تشہد، تکبیرات انتقال، یا "سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ" نہ کہے تو مقتدی کیلیے امام کی اقتدا ترک کرنا جائز نہیں ہے، مقتدی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ امام کو بھول جانے پر سبحان اللہ کہہ کر یاد دلوائے، چنانچہ اگر امام کو واجب عمل کی جگہ سے اگلے عمل کی جگہ تک پہنچنے سے پہلے پہلے یاد آ جائے تو اس واجب عمل کو بجا لائے، اس صورت میں اس پر کچھ نہیں ہو گا۔

    - اگر بھولے ہوئے عمل سے منتقل ہونے کے بعد اور آئندہ عمل کو شروع کرنے سے قبل یاد آ جائے تو واپس لوٹ کر اس واجب کو ادا کرے گا اور آخر میں سجدہ سھو بھی کریگا۔

    - اور اگر آئندہ عمل شروع ہونے کے بعد یاد آئے تو پھر وہ واجب ساقط ہو جائے گا اور امام اپنی نماز جاری رکھے گا، لیکن سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرے گا۔

    سنت ترک کرنے کی صورت میں:

    - اگر امام نماز کی سنتوں میں سے کوئی سنت ترک کر دے ، مثلاً: دعائے استفتاح، تعوذ، رکوع جاتے اور اٹھتے ہوئے رفع الیدین نہ کرے یا کسی اور سنت پر عمل عمداً یا سہواً نہ کرے تو امام پر کچھ نہیں ہے اور نہ ہی مقتدی پر کچھ ہے۔

    - کوئی بھی ایسا عمل جو امام کی مخالفت شمار ہو مقتدی ایسا عمل مت کرے، بشرطیکہ امام کی نماز صحیح ہو۔

    نماز کا وہ مسنون عمل جسے امام بجا نہیں لاتا اور اگر مقتدی وہ عمل بجا لاتا ہے تو اس سے امام کی مخالفت لازم نہیں آتی تو مقتدی کیلیے ایسا عمل کرنا مستحب ہے۔

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "مستحب عمل اگر امام نہ کرے تو وہ ساقط ہو جاتا ہے، مثلاً: جلسہ استراحت کو امام مستحب نہیں سمجھتا تو مقتدی کو بھی چاہیے کہ امام کی اقتدا کرتے ہوئے جلسہ استراحت نہ بیٹھے، چاہے مقتدی جلسہ استراحت کو مستحب سمجھتا ہو۔

    اگر آپ یہ کہیں کہ: کیا یہی حکم رفع الیدین کے بارے میں بھی ہے؟ کہ امام رکوع جاتے ہوئے رکوع سے اٹھتے ہوئے اور پہلے تشہد سے کھڑے ہوتے ہوئے رفع الیدین کا قائل نہیں ہے ، لیکن مقتدی ان کا قائل ہے تو ایسی صورت میں ہم مقتدی کو یہ کہیں گے کہ تم بھی امام کی طرح رفع الیدین مت کرو؟
    تو اس کا جواب ہے کہ: نہیں، بلکہ آپ رفع الیدین کریں؛ کیونکہ رفع الیدین کرنے سے امام کی مخالفت لازم نہیں آتی، آپ امام کے ساتھ ہی اٹھیں گے اور اسی کے ساتھ سجدہ کریں گے اور اس کے ساتھ ہی کھڑے ہوں گے، بخلاف ان امور کے جن میں مخالفت لازم آتی ہے" انتہی
    "مجموع فتاوى و رسائل ابن عثیمین" (13 /632)

    مزید کیلیے آپ سوال نمبر: : (33790) ، (34458) اور (136385) کا مطالعہ کریں۔

    واللہ اعلم .

    اسلام سوال و جواب
    https://islamqa.info/ur/152929
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں