1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اماںعائشہ رضی اللہ عنہاکے چھ برس کی عمر میں نکاح اور نو برس کی عمر میں رخصتی اور مصنف کی گستاخی

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از اسلام ڈیفینڈر, ‏نومبر 23، 2013۔

  1. ‏نومبر 23، 2013 #1
    اسلام ڈیفینڈر

    اسلام ڈیفینڈر رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    368
    موصول شکریہ جات:
    1,003
    تمغے کے پوائنٹ:
    97

    [​IMG]
    مصنف نے اپنی کتاب کے صفحہ 57،58پراماںعائشہ رضی اللہ عنہاکے چھ برس کی عمر میں نکاح اور نو برس کی عمر میں رخصتی کوغلط ثابت کرنے کی کوشش کی اور وہ لکھتا ہے :

    قرآن کریم میں نکاح (شادی) کے لئے بلوغت کو شرط رکھا گیا ہے ''حتی اذا بلغوا النکاح'' کی نص خود اللہ کے رسول ﷺ پر نازل ہوئی ۔۔۔لیکن بخاری صاحب اپنی روایت کے ذریعے آپ ﷺ کا نابالغ لڑکیوں کے ساتھ جنسی کھیل کھیلنا ثابت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں :''ان النبی ﷺ تزوجھا وھی بنت ست سنین وبنٰی بھا وھی بنت تسع'' ''حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کیساتھ آپ ﷺ کی شادی ہوئی تو ان کی عمرچھ سال تھی جب بنا فرمایا تو نو سال کی تھی۔'' (771/2)
    جواب :۔

    مصنف نے پھر وہی لغو اور رنگ آمیزشیطانی ترجمہ کیاہے آخر نازیباالفاظ ''جنسی کھیل وغیرہ مصنف اپنی تحریر میں کہاں سے لایا ۔سیدھے سادھے ترجمہ کو اتنا رنگ آمیز بنایا کہ بات کہاں سے کہاںنکل گئی۔مصنف دراصل جس گھٹیااور بازاری سوچ کا حامل ہے مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ کوئی جنسی باوا ہے سیدھی سادھی بات کو زبردستی جنسی جامہ پہناکر اسے عوام کے سامنے پیش کرکے اسے مسرت ہوتی ہے ۔مصنف نے حدیث تو دور کی بات کبھی قرآن بھی آنکھ کھول کر نہیں پڑھا ہوگا اگر پڑھا ہوتا تو اسے یہ آیت ضرور معلوم ہوجاتی ۔اللہ تعالی فرماتا ہے :
    ''وَاللَّائِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَائِکُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلَاثَۃُ أَشْہُرٍ وَّاللَّائِیْ لَمْ یَحِضْنَ '' (الطلاق 65/4)
    ''اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اگر تمہیں کچھ شبہ ہوتو انکی عدت تین ماہ ہے اور انکی بھی جنہیں حیض شروع نہ ہوا ہو ۔
    اس آیت مبارکہ میں ان عورتوں کی عدت جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں اور وہ عورتیں جنہیں ابھی حیض آیا ہی نہیں ہے تین ماہ ہے قابل غور ہے وہ عورتیں جنہیں حیض ابھی شروع ہی نہیں ہوا۔
    نکاح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طلاق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عدت۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عورت کا پہلے نکاح ہوا بعد میں طلاق ہوئی اسکے بعد عدت تین ماہ۔۔۔اللہ تعالیٰ تو اس عورت کی بھی عدت کا ذکر فرماتا ہے جو ابھی نابالغہ ہے اب مصنف اس آیت کی کیا تاویل پیش کرے گا ؟دراصل مصنف وہم اور پاگل پن کا شکار ہوگیا ہے مصنف نے بلوغت کی عمر ہی کو نکاح کے لئے شرط ٹہرایا دراصل نکاح کی کئی وجوہات ہوتی ہیں ایک تو آدمی نکاح کرتا ہے اپنے دامن کو پاک وصاف رکھنے کے لئے دوسرے حصول اولاد کے لئے عرب معاشرے میں لڑکی جلدبالغ ہوجایا کرتی ہے جیساکہ امام دارقطنی ؒاپنی سنن میں ذکر فرماتے ہیں کہ :
    ''عباد بن عبادمہلبی کہتے ہیں میں نے اپنی قوم میں ایک عورت کو پایا جو اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی اس نے ایک بیٹی کو جنم دیا نو سال کی عمر میں اور اس بیٹی نے بھی نوسال کی عمر میں جنم دیا اس طرح وہ اٹھارہ سال کی عمر میں نانی بن گئی'' ۔ (دارقطنی کتاب النکاح رقم الحدیث 3836)
    اس کے علاوہ بھی بے شمار واقعات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ عورت نو سال کی عمر میں بالغ ہوجاتی ہے۔جیساکہ موجودہ دور میں اس کی مثال ہے روزنامہ(the dawn) 29مارچ 1966 میں خبر شائع ہوئی کہ افریقہ میں ایک 8سالہ بچی حاملہ ہوئی اور نو سال کی عمر میں اس نے بچہ جنم دیا ۔
    ایسے بے شمار شواہد موجود ہیں جو واقعتا بھی اس بات کی دلیل ہیں (مزید تفصیل کے لئے میری کتاب اسلام کے مجرم کون ؟کا مطالعہ مفید رہے گا )رہا معاملہ حدیث کا تو وہاں ذکر کچھ اور ہے ۔امی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :
    ''میرا نکاح نبی ﷺ سے چھ سال کی عمر میں ہوا تھا۔
    ''وبنٰی بی وأنا بنت تسع سنین ''
    لفظ بنا کا ترجمہ رخصتی ہوتا ہے مصنف نے اس لفظ کا شیطانی ترجمہ کیا ہے کہ' جنسی کھیل تماشہ 'جو کہ سراسر غلط ہے ''حدیث کا صحیح ترجمہ یہ ہے :
    ''میرا نکاح نبی ﷺ سے چھ برس کی عمر میں ہوااور نو برس کی عمر میں رخصتی'' ۔دراصل مختلف ممالک میں بلوغت کی عمر مختلف ہوتی ہے بلکہ ایک ہی ملک میں بلوغت کی عمر میں تفاوت پایا جاتا ہے لہٰذا مصنف کا یہ ثابت کرنا کہ عائشہ رضی اللہ عنھا نابالغ تھیں تو یہ سراسربدنیتی اور خیانت ہے۔
    اور مصنف کا یہ کہنا کہ سورۃ القمر نبوت کے پانچویں سال نازل ہوئی ۔۔۔۔۔۔پھر مکہ میں آپ ﷺ پندرہ سال رہے ۔بالکل بے بنیاد اور بلا دلیل ہے ۔
    مصنف یہ بتائے کہ یہ کہاں ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنھا ابھی بچی ہی تھیں کہ سورۃ القمر کی آیات یاد ہوگئیں تھیں ؟
    عائشہ رضی اللہ عنھافرماتی ہیں کہ محمد ﷺ پر مکہ میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ اور میں بچی تھی کھیلتی کودتی تھی ''بل الساعۃ موعدھم والساعۃ ادھی وأمر ''(صحیح بخاری کتاب التفسیر سورۃ القمر 4876)
    ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کے نزول اور غزوہ بدر کے درمیان سات سال کا عرصہ تھا۔ (الجامع لأ حکام القرآن )
    اور تاریخ کی روایات اس بات پر شاھد ہیں کہ نبی کریم ﷺ مکہ میں تیرہ سال رہے نہ کہ پندرہ سال جیسا مصنف کا کہنا ہے ۔ (البدایہ والنھایہ)
    اور عائشہ رضی اللہ عنھا کی رخصتی سنہ 1ھ میں ہوئی جیساکہ ابن حجر نے فتح الباری میں تحریر کیا ہے ۔ اس اعتبار سے جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کی عمر تین سال تھی۔ اور اس وقت کی خبر دینا کوئی عجیب بات نہیں ۔
    مندرجہ بالا سطور سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں :
    1)ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہاکا سورۃ القمر کی آیات یاد کرنے کا ذکر مصنف کا جھوٹ ہے ۔
    2)نبی کریم ﷺ کی مکہ میں اقا مت بعد از بعثت کا عرصہ تیرہ سال ہے ۔
    3)آیت کے نزول اور غزوہ بدر میں سات سال کا عرصہ ہے اور غزوہ بدر سنہ2ھ میں وقوع پذیر ہوا۔
    4)عائشہ رضی اللہ عنہاکی رخصتی سنہ 1ھ میں 9سال کی عمر میں ہوئی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں