1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امت محمدیہ كے فضائل اور موجودہ حالات سے مایوس نہ ہونے كی تلقین

'خطبات حرمین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 13، 2016۔

  1. ‏فروری 13، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    امت محمدیہ كے فضائل اور موجودہ حالات سے مایوس نہ ہونے كی تلقین

    مورخہ: 03/05/1437ھ مطابق12/02/2016م
    خطبہ : امام كعبہ عالی جناب ڈاكٹر خالد الغامدی / حفظہ اللہ
    اردو ترجمہ: ڈاكٹر ظل الرحمن تیمی

    مسلمانو! آج امت مسلمہ ایك ایسے تاریخی مرحلے سے گذر رہی ہے جس كی مثال نہیں ملتی، جہاں بڑے حادثات اور تیزی سے واقع ہونے والی تبدیلیاں پے درپے پیش آرہی ہیں،جو بردبار شخص كو حیران وپریشان كركے ركھ دیتی ہیں، دشمنوں كا تاك میں لگے رہنا اور ان كی چال بڑھتی جارہی ہے،جس كی وجہ سے امت كے بہت سارے فرزندان كے دلوں میں ناامیدی وكمزوری داخل ہورہی ہے ، اور ان میں سے بعض میں غم اور ناكامی ودرماندگی كا احساس عام ہوتا جارہا ہے، وہ حاقدین كے مكر اور ان كی قوت وطاقت كو دیكھ رہے ہیں ، وہ قتل ، تباہی اور شہر بدر كیے جانے كا مشاہدہ كررہے ہیں، اسی طرح فرزندان امت كا ایك گروہ تكفیر، دھماكے اور خوارج كے افكار كا شكار ہوگئے ہیں،یہاں تك عقلمند جماعت كے پاس امت اسلامیہ كا حال ومستقبل نہایت ہی سخت غمزدہ صورت حال كا مركب بن گئی ہے، انہیں نفسیاتی شكست اور گوناگوں وہم بھرے خیالات نے گھیر لیا ہے، اور اللہ تعالی نے بہت ساری آیتوں میں اس طرح كی كمزوری كی حالت اور ناامیدی وغم كے احساس میں پڑنے سے ڈرایا ہے، اللہ تعالی فرماتے ہیں۔

    "تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو"۔

    ( أل عمران :139)


    اور فرمایا:

    بہت سے نبیوں کے ہم رکاب ہو کر، بہت سے اللہ والے جہاد کر چکے ہیں، انہیں بھی اللہ کی راه میں تکلیفیں پہنچیں لیکن نہ تو انہوں نے ہمت ہاری نہ سست رہے اور نہ دبے، اور اللہ صبر کرنے والوں کو چاہتا ہے"۔

    (أل عمران :146)


    نیز فرمایا۔

    "تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے،یہ تو بہت ہی تھوڑا فائده ہے، اس کے بعد ان کا ٹھکانہ تو جہنم ہے اور وه بری جگہ ہے"۔

    (أل عمران: 196-97)

    نیز فرمایا۔

    "اور اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو"۔

    (يوسف : 87)


    اللہ تعالی نے ہمیں خبر دی ہے كہ اس كی سنت بدلتی نہیں ہے، كسی چیز كے سلسلے میں اس كی عادت تبدیل نہیں ہوتی ،وہ اپنے مؤمن بندوں كوكبھی آزمائش وكمزوری میں مبتلا كرتاہے پھر انہیں عافیت ، فتح اور غلبہ عطا كرتاہے، اور ان كے دشمنوں كواپنے سخت و دردناك عذاب كے ذریعہ ہلاك كرتاہے، كہاں ہیں وہ عاد اولی، ثمود، قوم ابراہیم، قوم لوط، فرعون، اصحاب ایكہ اورقریش میں كفر كے سرداران؟ الله غالب و جبار نے انہیں تباہ كردیا، اور اپنے مؤمن بندوں اور انبیاء ورسل كی مدد كی ۔

    مسلمانو!

    مشرق سے لے كر مغرب تك امت محمد ﷺ كے لیے جائز نہیں ہے كہ وہ ان چیزوں سے ناامید و مایوس ہوں جو مجرم سركش اور چال چلنے والے انجام دے رہے ہیں، اور نہ ہی اس كے لیے مناسب ہےكہ ایسی ناامیدی و مایوسی كا شكار ہو جو اس كی فكر كو مفلوج كردے ، اس كی طاقتوں اور صلاحیتوں كو ناكارہ بنا دے، امید و توقع كا خاتمہ كر دے، وہ اپنے اندر اس وجہ سے ناامیدی و مایوسی نہ پیدا ہونے دے جو وہ ہردن غم والم اور قتل وخونریزی كے مناظر دیكھتی اور سنتی ہے،جسے مختلف قسم كے ذرائع ابلاغ بڑی سرگرمی كے ساتھ پھیلا رہے ہیں تاكہ خوف ، گھبراہٹ اور كمزوری كے ذریعہ مسلمانوں كی مصیبت میں مزید اضافہ كیا جائے۔ ہاں، امت كے لیے جائز نہیں ہے كہ وہ ناامید ی كا احساس كرے حالانكہ اللہ تعالی نے اسے غلبہ و مدد اور قوت عطا فرمائی ہے، اور اسے ایسی بڑی خصوصیتوں اور عظیم فضیلتوں سے نوازا ہے جو كسی بھی امت كے لیے نہیں تھیں، جو اسے اللہ كی نوازشوں پر فخر كرنے كے لائق بناتی ہیں،یہ امت دوسری امتوں پر ناز كرے،اپنا سر اٹھا كر ركھے، یہی وہ امت ہے جسے اللہ تعالی نے چنا ہے اور پسند فرمایا ہے،اسی نے اللہ سبحانہ كے دربار میں عظیم فضیلت اور شرف ومرتبہ حاصل كیا ہے، یہ، بے شك یہ چیز نہایت مفید ہےكہ ان ربانی فضائل اور بلند معزز خصوصیتوں كو عام كیا جائے، ہر اس شخص كے سامنے اس كا اظہار كیا جائے جو اس امت كے لیے اللہ كی مدد كے سلسلے میں شك كرتاہے،یا وہ مایوسی كا شكار ہے اور امید كھو بیٹھا ہے،تاكہ سارے لوگ جان لیں كہ یہی امت محمدیہ وہ امت ہےجسے اللہ تعالی نے پسند فرمایا ہے اور جسكے مرتبہ وشان كو بڑھایا ہے، اور یہی شریعت وتقدیر كے اعتبار سے مدد كی ہوئی امت ہے خواہ وہ جلدی ہو یا دیر سے۔ اور یہ امت جو ابتلاء وآزمائش، دشمنوں كے مسلط ہونے اور اموال اور رزق میں كمی كا شكار ہوئی ہے ، ایسا اس كی تنقیح كرنے ، اسے بلند كرنے اور اس كی تربیت كےلیے كیا گیاہے، تاكہ وہ ان ذمہ داریوں كو ادا كرے جو اللہ تعالی نے اس كے سپرد كی ہیں۔

    ارشاد ربانی ہے۔

    " اگر تم زخمی ہوئے ہو تو تمہارے مخالف لوگ بھی تو ایسے ہی زخمی ہو چکے ہیں، ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ظاہر کردے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے"۔

    ( أل عمران: 140)

    مسلمانو!

    امت محمدیہ كی یہ معزز خصوصیتیں قرآن وسنت كے نصوص سے ثابت ہیں،یہ خصوصیتیں بہت زیادہ اور متنوع ہیں۔ ان تمام خوبیوں میں مرتبہ واثر كے اعتبارسے سب سے عظیم یہ ہے كہ اللہ تعالی نے محمد ﷺ كو اس كا نبی و رسول بنایا، وہ رسولوں میں سب سے عظیم وجلیل ہیں، ان كی امت امتوں میں تعداد و مرتبہ كے اعتبار سے سب سے زیادہ عظیم ہے ۔ وہ گرچہ شمار میں آخری امت ہے لیكن قیامت كے دن پہلی امت كی حیثیت سے آئے گی، وہ اللہ تعالی كے نزدیك تمام امتوں میں سب سے زیادہ بہتر ومعزز ہے جیساكہ احمد وطبرانی كے یہاں ثابت ہے۔

    (تم سترویں امت كی تعداد كو مكمل كرنے والی ہو، تم ان میں سب سےبہتر اور اللہ كے نزدیك سب سے معزز ہو۔)

    یہ امت محمدیہ امت وسط وعدل ہے۔ اللہ تعالی نے اسے تمام امتوں پر شاہد اور فیصل بنایا ہے۔

    ارشاد ربانی ہے۔

    "ہم نے اسی طرح تمہیں عادل امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواه ہوجاؤ"۔

    ( البقرة: 143)



    چنانچہ اس امت نے جس كی اچھی تعریف كی اس كے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس كی برائی بیان كی اس كے لیے جہنم واجب ہوگئی ، وہ زمین پر اللہ كے گواہ ہیں جس طرح فرشتے آسمان پر اللہ كے گواہ ہیں۔ ہر نبی، محمد ﷺ كی امت كے لیے گواہی دیں گے، تاكہ یہ امت گواہی دے كہ انہوں نے پیغام پہنچا دیا، جیسا كہ بخاری كے یہاں ابوسعید كی حدیث میں آیا ہےكہ اللہ تعالی نے اس مبارك امت كے لیے دین اسلام كو پسند فرمایا اور اس كےلیے اس سے راضی ہوا۔وہ خوبیوں اور آسانی كے اعتبار سے تمام ادیان میں سب سے بہتر ہے، اور اس امت سے عبادات ومعاملات میں پریشانی كو دور كردیا۔

    ارشاد ربانی ہے۔

    "اسی نے تمہیں برگزیده بنایا ہے اور تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں ڈالی"۔

    ( حج :78)

    اور اس امت سے شدید رہبانیت ، بوجھ اور مشقت كو دور كردیا جو ہم سے پہلے والی امتوں میں تھیں۔ اس امت كے لیے اللہ كے نزدیك اس كے مقام میں سے یہ ہےكہ اسے گمراہی پر اكٹھا ہونے سے محفوظ فرمایا ،اس كے دین ، قرآن اور اس كے نبی كی سنت كی حفاظت فرمائی ہے،چنانچہ وہ اخلاقی ، ثقافتی اور فكری جنگ كی تمام كوششوں كے سامنے حیرتناك طور پر ثابت قدم رہی،زمانے اور ایام كے گذرنے كے باوجود كسی كو كبھی اس بات كی استطاعت نہیں ہوئی كہ وہ قرآن وسنت میں لفظی یا معنوی تحریف كرسكے، اور جس نے اس كی كوشش كی اللہ تعالی نے اسے بےنقاب كیا اور اسے ناامید ولاچار بنادیا۔ اور اس امت كےلیے اللہ تعالی كی عنایت ونوازش میں سے یہ ہےكہ وہ ہرصدی كے شروع میں حكام ، علماء اور مصلحین میں سے ایسے كو بھیجے گا جو اس كے دین كے نشانات كی تجدید كریں گے، اور ملت وشریعت كے جو اصول مٹ چكے ہوں گے، ان كی اسے یاد دہانی كرائیں گے، لیكن ہمارے علاوہ جو امتیں ہیں اللہ تعالی نے ان كا اس قدر اہتمام نہیں فرمایا، اس لیے وہ تحریف وتبدیلی اور گمراہی میں واقع ہوگئیں۔

    مسلمانو!

    اللہ تعالی نے اس امت كے لیے مقدر كیا ہے كہ وہ عمر اور اس دنیا میں باقی رہنے كے اعتبار سے دوسری امتوں كے مقابلے میں سب سےكم ہو لیكن اپنی عقل، فہم اور تجربے میں بركت كے اعتبار سے سب سے عظیم ہو۔ اللہ تعالی اسے اس دنیا میں زمینی حقائق اور علوم ومعارف كے سلسلے میں مختصر مدت میں اس قدر نوازتاہےجسے دوسری امتیں مدتوں اور زمانوں میں حاصل كرتی ہیں۔ اس لیے اسلامی تہذیب بركت ، فیوض اور زمین كی آبادكاری كے اعتبار سےتہذیبوں میں سب سے عظیم بن گئی۔ روحانی خلا، شہوانیت اور مادیت كی تہذیب كے مقابلہ میں یہ تہذیب پوری انسانیت كےلیے سب سے زیادہ خرچ كرنے والی اور پاكیزہ بن گئی، اس امت كے افراد كی عمروں كے كم ہونےكے سبب ان كی عمریں عام طور پر ساٹھ سے ستر كے مابین ہیں، اللہ تعالی نے ان سے قلیل عمل كو قبول فرمایا اور اللہ تعالی نے اس پر بڑھا ہوا زیادہ ثواب عطا فرمایا، جس كے ذریعہ وہ ہم سے پہلے كی لمبی عمروں والی امتوں پر فائق ہے، جیساكہ صلاۃ، حج، قرآن پڑھنے، لیلۃ القدر، نوافل روزے، حرمین شریفین اور مسجد اقصی میں نماز ادا كرنے وغیرہ پر بڑھا ہوا اجر ملتاہے۔

    اس امت كے لیے اللہ تعالی كی كمال حفاظت اور الہی كرم فرمائی میں سے یہ ہے كہ اللہ تعالی نے اسے غرق ، خشك سالی اور قحط كے ذریعہ عمومی ہلاكت سے محفوظ فرمایا، اغیار میں سےكسی دشمن كو اس پر ہرگز مسلط نہیں فرمائے گا جو اس كی بنیاد اور جماعت پر قبضہ جما لے،گرچہ اس كےملك میں جو لوگ ہیں وہ سب اس كے خلاف جمع ہوجائیں، اللہ تعالی نے اسے صفایا كردینے والے عذاب سے محفوظ فرمایا ہے، آخرت میں اسے عذاب نہیں دیا جائے گا، دنیا میں ہی اسے فتنے، زلزلوں اور مصیبتوں كے ذریعہ عذاب دیا جائےگا، اور اللہ تعالی نے فیصلہ كیاہےكہ بیت الحرام كعبہ لوگوں كی بقاء وامان اورساری كائنات كی ہدایت كےلیے رہے گا، اور اللہ تعالی نے شام اور اس میں رہنے والوں كی ذمہ داری لی ہے، اللہ تعالی نے اس امت كےلیے زمین كے خزانے اور اس كےفیوض كو كھول دیا ہے، اور اسے ایسا بنادیاہےكہ وہ ظاہری وباطنی نعمتوں سے مستفیض كرے، وہ بہت زیادہ نعمتوں والی مبارك امت ہے، وہ بارش كی طرح ہے جس كے متعلق پتہ نہیں ہےكہ اس كی شروعات بہتر ہے یا انتہا۔

    مسلمانو!

    مسند احمد میں ثابت ہےكہ اللہ كے رسول ﷺ نے فرمایا:

    (تم ایسی امت ہو جس كے لیے آسانی فراہم كی گئی ہے)

    اور بخاری میں ہے۔

    (بے شك یہ دین آسان ہے)

    اور طبرانی میں ہے۔

    ( اللہ تعالی اس امت كے لیے آسانی سے راضی ہوا اور اس كےلیے تنگی كو ناپسند فرمایا)

    اس آسانی و فیاضی كے آثار میں سے یہ ہےكہ اللہ تعالی نے اس امت سے ان تمام چیزوں كو درگذر فرمایا ہےجو اس كے نفس میں جنم لیتے ہیں اور جو اس كے دلوں میں وسوسے آتے ہیں، جب تك كہ وہ ظلم نہ كرے یا اس پر عمل نہ كرے، اور اس سے خطا ونسیان كو معاف فرمایا جب تك كہ وہ اسے برا سمجھتی رہے، اللہ تعالی نے اس كی طہارت وعبادت كے معاملے كو آسان فرمایا، اسے تیمم كے ذریعہ فضیلت بخشی، زمین كو اس كے لیے مسجد اور پاك بنایا، صلاۃ كو اس كے لیے كم كردیا، وہ عملا پانچ ہے لیكن اجر كے اعتبار سے پچاس كے برابر ہیں، اور صلاۃ میں اس كی صفوں كو فرشتوں كی صفوں كی طرح بنایا، اسے امام كے پیچھے آمین كہنے، سلام كرنے اور عشا كی نماز كے ذریعہ مخصوص فرمایا اور فضیلت عطا فرمائی، عشا كی نماز ہم سے پہلی امتوں میں سے كوئی نہیں ادا كرتی تھی، اللہ تعالی نے ہمیں جمعہ كے دن كی ہدایت دی اور دوسری امتیں اس سے محروم رہیں، اللہ تعالی نے ہمیں مبارك كھانا سحری سے نوازا جو ہمارے اور اہل كتاب كے صیام كے مابین فصل ہے، ہماری امت كے لیے مال غنیمت كو حلال قرار دیا جو ہم سے پہلی امتوں كےلیے حرام قرار دیا گیاتھا،اس كی اور اس كےنبی ﷺ كی رعب سے مدد كی ، ہمیشہ قومیں امت محمد ﷺ سے ڈرتی رہی ہیں اور اسے عظیم سمجھتی رہی ہیں، اللہ تعالی نے اس كےلیے مخلوق كے دلوں میں مرتبہ وہیبت ركھا ہے، تو اس مبارك امت كی فضیلت كتنی عظیم ہے اور وہ اللہ كےنزدیك كس قدر معزز ہے۔

    اللہ تعالی ہمیں اور آپ كو قرآن عظیم میں بركت عطا فرمائے۔

    خطبہ ثانیہ :

    ہر طرح كی تعریف اللہ تعالی كے لیے ہے جواپنی رحمت سے جسے چاہتاہے مخصوص فرماتاہے، اور انہیں اپنی نعمتوں اور نوازشوں سے برتری عطا فرماتاہے، وہ حكیم وخبیر ہے جو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا ہے منتخب فرماتا ہے اور انہیں چن كر نوازتاہے، اور درود وسلام نازل ہو متقیوں كے امام اور انبیاء میں سب سے بہتر نبی پر، اس كی پسندیدہ وپاكیزہ آل واولاد پر،شریف سردار صحابہ كرام پر،اور حساب وجزاء كے دن تك اچھی طرح ان كی اتباع كرنےوالوں پر۔

    درودوسلام كےبعد! مسلمانو! ان فضائل وخصوصیات كی كثرت سے جن كے ذریعہ اللہ تعالی نے اس مبارك امت پر انعام واكرام كیاہے ، بندہ حیرت زدہ ہوجاتاہے،عبادات ومعاملات اور زندگی كے خاص وعام امور میں اس كی جامعیت وتنوع سے وہ تعجب میں پڑ جاتاہے، یہاں تك جو جمعہ كے دن یا اس كی رات میں انتقال كرتاہےتو اللہ تعالی اسے قبر كے عذاب سے محفوظ كردیتاہے، اور جو اس حال میں مرگیا كہ وہ اللہ كے راستے میں جہاد كررہا تھا تو اللہ تعالی قیامت كے دن تك اسے اس كے اس عمل پر اجر دیتاہے،اسے قبركے فتنے سے محفوظ فرماتا ہے،یہ سرحدوں اور باڈروں كی حفاظت كرنے والے ہمار ے بھائیوں كےلیے بھی بشارت وتسلی ہےاور وہ بڑے جہاد اور عظیم ثواب میں ہیں، اگر اس امت كا كوئی فرد طاعون كے مرض كا شكار ہو، تو اللہ تعالی نے اسے اس كےلیے رحمت وشہادت بنایا ہے،جبكہ یہ مرض ہم سے پہلی امتوں كے لیے عذاب وسزا تھا،جیسا كہ احمد میں ایك روایت آئی ہے۔

    (طاعون عذاب تھا، اللہ تعالی جس پر چاہتا تھا بھیجتا تھا، لیكن اللہ تعالی نے مؤمنوں كے لیے اسے رحمت بنایا)

    اور حاكم میں یہ روایت آئی ہے۔

    ( طاعون جنوں میں سے تمہارے دشمن كا كچوكا ہے، اور وہ تمہارےلیے شہادت ہے۔)

    اللہ تعالی نے شہادت كا اجر صرف ان كے لیے نہیں مقرر فرمایا ہےجو جنگ كے میدان میں اللہ كے راستے میں قتل كیے جاتے ہیں -

    بلكہ محمد ﷺ كی امت كے شہداء بہت ہیں :

    چنانچہ جو غرق ہو كر مر گیا وہ شہیدہے، یا جل كر مر گیا تو وہ شہید ہے، یا دب كر مرگیا تو وہ شہید ہے، یا اگر كسی كو درندے نے كھالیاتو وہ شہید ہے، جو پیٹ كی بیماری ، نمونیہ اور ٹیوبر كلوسس (ٹی بی)سے مرا تو وہ شہید ہے،جو خاتون نفاس كی حالت میں مرگئی وہ شہیدہ ہے، جو اپنی جان، عزت وآبرو یا مال كی حفاظت میں مرا یا اپنی مصیبت میں اللہ تعالی سے شہادت كا اجر مانگا، تو اللہ تعالی اسےشہیدوں كے مرتبے پر پہنچائےگا، گرچہ وہ اپنے بستر پر مرے، اور یہ تمام چیزیں اللہ كے نبی ﷺ سے ثابت ہیں، اور یہ اس امت، امت اسلام كے لیے عظیم نوازش ہے۔

    اس امت كے لیے یہ خصوصیات و فضیلیتں صرف دنیا میں نہیں ہیں بلكہ اسی طرح آخرت میں بھی ہیں، چنانچہ یہ پہلی امت ہے ،اللہ تعالی كے سامنے جس كا حساب شروع ہوگا، ہمارے نبی محمد ﷺ كا حوض تمام انبیاء كے حوضوں میں سب سے عظیم ہوگا، اور سب سے زیادہ لوگ وہاں پہنچیں گے، یہ امت پل صراط پار كرنے والی سب سے پہلی امت ہوگی، جنت میں داخل ہونے میں لوگوں میں سب سے سبقت كرنےوالے وہ مہاجرین فقراء ہوں گے جو مالداروں پر پانچ سو سال سے سبقت كریں گے،ہمار ے نبی ﷺ موقف اكبر میں لوگوں كے لیے شفاعت كبری كریں گے، وہی جنت كے دروازے كو كھولیں گےاو روہ صرف انہیں كے لیے كھلے گا اور جو ان كے ساتھ ہوں گے،

    جنت میں اس امت كے ستر ہزا اشخاص بغیر حساب و عذاب داخل ہوں گے،

    اور ہر ہزار كے ساتھ ستر ہزار ہوں گے، اور ایك صحیح روایت میں ہے كہ ہر ایك كے ساتھ ستر ہزا ر ہوں گے، اہل جنت كی ایك سو بیس صفیں ہوں گی، ان میں اسی(80) صفیں اسی مبارك امت كی ہوں گی اور چالیس صفیں بقیہ امت كی،اہل جنت كے بوڑھوں كے دونوں سردار ابوبكر وعمر رضی اللہ عنہ ہوں گے، اہل جنت كے نوجوانوں كے دونوں سردار حسن وحسین ہوں گے، خواتین جنت كی سردارن فاطمہ رضی اللہ عنہا ہوں گی، شہیدوں كے سردار حمزہ رضی اللہ عنہ ہوں گے، او روہ سب كے سب اس امت سے ہوں گے۔

    اللہ تعالی اس امت كے مسلمانوں كے گناہوں كو بغير واسطہ اور بغیر انسانی قربانیوں كے توبہ واستغفار كے ذریعہ معاف فرماتا ہے، جب مسلمان شہادت توحید پر مرتا ہے تو وہ جنت میں داخل ہوتاہے، اور جب اللہ تعالی سے زمین بھر گناہ لے كر ملتا ہے اور اللہ كے ساتھ كچھ بھی شرك نہیں كیے ہوتاہےتو اللہ تعالی بھی زمین بھر مغفرت لے كر اس سےملاقات كرتے ہیں۔

    مسلمانو!

    امت مسلمہ كی خصوصیات اور اس كی نوازشیں اس سے زیادہ ہیں جنہیں ہم گن سكیں، اور اس سلسلے میں بات كرنا مفید وفائدہ مند ہے، تاكہ ہم اللہ تعالی كا شكر عظیم بجالائیں، اس كی بے پناہ تعریف بیان كریں، ان چیزں پر جو اس نے ہمیں نوازیں اور امت محمد ﷺ میں بنایا، تو یہ اللہ كی قسم ہمارے اوپر ہمارے رب كی ایسی نعمتوں میں سے ہےجو اللہ سبحانہ وتعالی كےلیےدائمی شكر كو واجب قرار دیتی ہیں، اور یہ ایسی نعمت ہےجس كی بڑی ذمہ داریاں ہیں،

    ارشاد ربانی ہے۔

    "تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے ، تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو ۔"

    اس امت كی بھلائی ثابت شدہ حق ہے،اور یہ اس امت كے فرزندوں كی ذمہ داری ہےكہ وہ اللہ تعالی كو اپنے نفس سے خیر دكھلائیں، اور اس ربانی تكریم اور اس بھلائی كا شایان شان مظاہرہ كریں، پوری كائنات میں وسطیت، اعتدال اور رواداری كے ساتھ اس دین پر عمل كریں، اور ان لوگوں كی طرح نہ ہوجائیں كہ جنہیں اللہ تعالی نے چنا ، پھر انہوں نے روگردانی كی، اور ان كے اوپر جو اللہ كی نعمتیں تھیں ان كا انكار كیا،زمین میں فساد پھیلایا، چنانچہ اللہ تعالی ان پر غصہ ہوئے، اور ان میں بندر ، سور اور طاغوت كے بندے بنادیا، اور جائز نہیں ہےكہ بعض لوگ ان فضائل كو جو ذكر كیے گئے، مزید سستی وضعف كا بہانہ نہ بنالیں، اس لیے كہ غلبہ كے كچھ اسباب ہیں،قدرت كے كچھ اسباب ہیں، خوشحالی ورفاہ عام كے كچھ اسباب ہیں،اسی طرح عذاب وسزا نازل ہونے كے كچھ اسباب ہیں، اور یہ اللہ تعالی كی جاری سنت ہے جو بدلتی نہیں ہے

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں