1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امت مسلمہ كی فكری بد حالی ، ايك المناك رپورٹ

'تمدن' میں موضوعات آغاز کردہ از قاری مصطفی راسخ, ‏اپریل 25، 2012۔

  1. ‏اپریل 25، 2012 #1
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    713
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    امت مسلمہ كی فكری بد حالی ، ايك المناك رپورٹ

    خدارا اپنے بچوں كو گمراہی كی اتھاہ گہرائیوں میں گرنے سے بچائیے اور ان كو اسلام اور نبی اسلام سے روشناس كروائیے۔
    ايك دوست نے لكھا ہے کہ :

    وہ منظر دیدئہ عبرت سے دیکھنے والا تھا… ہوا یوں کہ میں حسبِ معمول کالج گیا۔ میں نے بی اے کی کلاس میں قدم رکھا… میرے سامنے گریجویشن کے مراحل طے کرنے والے طلباء بیٹھے تھے… میرا آج کا لیکچر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوان پر تھا… میں ان طلباء کے روبرو کھڑا ہو گیا… ارادہ یہ تھا کہ ان کی معلومات کا جائزہ لوں تاکہ میں ان کا علمی معیار جانچ سکوں… میں نے ان سے پوچھا:
    طلبائے عزیز! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی سی چار بیویوں کے نام بتائو… اتنا آسان سوال میں نے شرماتے شرماتے ان کے گوش گزار کیا تھا… مبادا یہ کہیں: بھلا، بی اے کے طلباء سے یہ بھی کوئی پوچھنے والا سوال ہے؟ چالیس طلباء تھے… ان میں سے ایک طالب علم نے ہاتھ اٹھایا اور کہا: ڈاکٹر صاحب!… میں نے کہا: جی، بولیے!
    اس نے کہا: خدیجہr … میں نے انگلیوں پر گننا شروع کیا اور کہا: شاباش! … وہ خاموش ہو گیا… اتنے میں دوسرے طالب علم نے ہاتھ اٹھایا: ڈاکٹر صاحب! عائشہ!… میں نے کہا: واہ، بہت خوب!… اب یہ نوجوان بھی خاموش ہو گیا… باقی سب انگشت بدنداں رہ گئے… چالیس کے چالیس طلبہ بالکل خاموش ہو گئے!!…ہاں! چالیس کے چالیس خاموش ہو گئے!!… میں نے اپنی اشکبار آنکھوں سے انھیں دیکھا… اور اپنے پاش پاش دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے کلماتِ تأسف ان کے سامنے دہراتا رہا… حیف ہے تم پر! کیا تم اپنے رسولصلی اللہ علیہ وسلم سے ناآشنا ہو؟… کیا تم اپنی مقدس مائوں کو بھی نہیں جانتے؟… کیا تم واقعی بے خبر ہو!!… تمھارا کیا بنے گا؟…
    اتنے میں ایک اور طالب علم نے آواز دی: ڈاکٹر صاحب! ڈاکٹر صاحب! مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اور بیوی کا نام یاد آیا ہے۔
    میں نے کہا: بتایئے!
    کہنے لگا: آمنہ!! آمنہ… میں نے نہایت رنج و ملال سے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور اس سے کہا: اے نادان نوجوان! سیدہ آمنہ تو رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی ماں تھیں… اللہ تجھے تیری ماں سے جدا کر دے!… وہ شرم کے مارے خاموش ہو گیا… ان میں سے ایک نوجوان نے سوچا کہ ایسا خوشنما اور حیران کن جواب دوں جس سے ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر چھائی ہوئی رنج و ملال کی گھٹا چھٹ جائے۔
    کہنے لگا: ڈاکٹر صاحب! مجھے ایک بیوی کا نام یاد آگیا ہے… میں نے کہا: بتائو! اُن کا اسم گرامی کیا ہے؟ وہ بولا: فاطمہ!!
    کچھ طلباء ہنس پڑے… کچھ تعجب کے بحرِ بے کراں میں ڈوب گئے… تیسرا گروپ ان طلبا کا تھا جنھیں کچھ پتہ ہی نہ چلا کہ کیا ہوا ہے… کیونکہ وہ اسی جواب کو درست سمجھ رہے تھے… ان کی نظر میں فاطمہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی کا نام تھا… استغفراللہ! میرے رنج و غم میں اور زیادہ اذیت ناک اضافہ ہو گیا… میں نے کہا: اے بے خبر! اللہ تجھے ہدایت دے… فاطمہr تو آپصلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں… اُس پر بھی سکوت طاری ہو گیا… بلکہ سب طلباء بالکل چپ ہوکر بیٹھ گئے…
    میں نے کہا: اچھا تم ایسا کرو مجھے فٹ بال کی کسی ٹیم کے پانچ کھلاڑیوں کے نام بتائو… میں نے کسی قریبی ٹیم کا نام نہیں لیا بلکہ اس ٹیم کا نام لیا جس کے کھلاڑیوں کے نام میرے حاشیۂ خیال میں بھی نہیں تھے۔ میں سمجھتا تھا کہ وہ میرے اس سوال کے جواب میں بھی انگشت بدنداں رہ جائیں گے… میں نے کہا: مجھے برازیل کی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام بتائو…
    بس یہ سوال کرنے کی دیر تھی کہ کلاس روم ’’میں بتاتا ہوں… میں بتاتا ہوں‘‘ کی آوازوں سے گونج اُٹھا… اور پھر کھلاڑیوں کے نام دم بدم میرے دامنِ سماعت سے ٹکرانے لگے… رونا لدو… ٹیٹو… وغیرہ وغیرہ… میں نے ان ناموں کو شمار کرنے کے لیے اپنی انگلیوں پر گنتی شروع کر دی… گنتے گنتے ایک ہاتھ کی انگلیوں کی پوریں ختم ہو گئیں… پھر میں نے دوسرے ہاتھ پر گننا شروع کر دیا… اس ہاتھ کی پوریں بھی مکمل ہو گئیں… میں نے پھر دائیں ہاتھ سے دوبارہ گننا شروع کیا… جب وہ پندرہویں کھلاڑی تک پہنچے تو میں نے کہا: بس کرو! بس کرو! جہاں تک میں جانتا ہوں کسی ٹیم کے کھلاڑی گیارہ سے زیادہ نہیں ہوتے… پھر تم نے پندرہ کھلاڑیوں کے نام کیسے بتا دیے؟ وہ کہنے لگے: ہم نے احتیاطًا پرانے کھلاڑیوں کے نام بھی بتا دیے ہیں…
    ڈوب مرنے کا مقام یہ ہے کہ جب یہ طلباء کھلاڑیوں کے نام بتا رہے تھے اور میں اپنے ہاتھ کی انگلیوں پر گنتا اور ان کا نام زبان پر دہراتا جارہا تھا… اس دوران اگر میں بھول کر کوئی نام غلط لے بیٹھتا تو اس غلطی کو وہ میری جہالت سمجھ کر ہنسنے لگتے تھے کہ اسے تو کھلاڑیوں کا نام لینا بھی نہیں آتا… وہ دوبارہ نام لے کر مجھے بتاتے کہ جس طرح آپ نے نام لیا ہے، وہ غلط ہے… صحیح نام وہ ہے جو ہم بتا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:
    ’’کیا انھوں نے اپنے رسول کو نہیں پہچانا؟ پس وہ اس کا انکار کرنے والے ہیں۔‘‘¡ المؤمنون 69:23۔
    انھیں میرے چہرے پر نمودار ہونے والے غم اور پریشانی کے آثار کا اندازہ ہو چکا تھا، چنانچہ وہ معذرت کرنے لگے: ڈاکٹر صاحب! ہمیں ملامت نہ کیجیے… ہمارا کوئی قصور نہیں… ان کھلاڑیوں کو میڈیا والے مشہور کر دیتے ہیں… اس لیے ہمیں ان کے نام یاد ہوجاتے ہیں… اس میں ہمارا کیا قصور ہے؟ میں نے انھیں کہا: یہ جھوٹے عذر پیش نہ کرو… میڈیا کو کھلی اور چھپی خبریں بتانے اورمنظر عام پر لانے کا اختیار حاصل ہے… مگر اسے یہ قدرت ہرگز حاصل نہیں کہ وہ تمھیں غیر مسلم کھلاڑیوں جیسی شکل و شباہت بنانے اور ان کے رویے اور رواج اپنانے پر مجبور کرے اور تمھیں حکم دے کہ تم ان کے نقش قدم پر چلو… اخبار کوٹٹول ٹٹول کر ان کی خبریں تلاش کرو… ان کے نام یاد کرو… ان کے قصوں اور واقعات کا بار بار چرچا کرو… ذرائع اطلاعات و نشریات نے ہمیں اس بات پر تو مجبور نہیں کیا کہ ہم ان کھلاڑیوں کو اپنی روز مرہ کی گفتگو کا موضوع بنا لیں، اپنی مجلسوں میں انھی کے تذکرے کریں اپنا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، سونا جاگنا، شکل و صورت، رنگ و ڈھنگ، کپڑوں کے ڈیزائن اور بودوباش حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام] کی مبارک زندگی جیسی بنانے کے بجائے کافر کھلاڑیوں کی طرح بنائیں… کیا تم نے رسو ل اللہصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا:
    ’مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ‘
    ’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انھی میں شمار ہو گا۔‘‘¡ سنن أبي داود، حدیث: 4031۔
    پھر میڈیا کے بہانے تمھارا عذر سراسر بے بنیاد ہے… کیونکہ جہاں کھیلوں، ڈراموں اور فلموں کو فروغ دینے والے عناصر موجود ہیں… وہیں ثقافتی، دینی، ادبی اور علمی تہذیب و تمدن کی نشرو اشاعت کے ذرائع بھی تو موجود ہیں… بلاشبہ عریانی اور فحاشی کے کلچر کے مقابلے میں دینی تہذیب و ثقافت کو فروغ دینے والے ذرائع کم ہیں، مثلاً: اچھے اور معیاری جرائد کی کمی ہے اور انٹرنیٹ کے بہت سے پروگرام گمراہ کن ہیں… مگر اس کے باوجود ہمیں کسی نے مجبور تو نہیں کیا کہ ہم دینی تعلیم و تربیت کو چھوڑ کر ان کے نقش قدم پر چلیں جو خود بھی دین سے بے بہرہ ہیں اور دوسرے لوگوں کے لیے بھی دین سے دوری کا سازو سامان مہیا کر رہے ہیں…
    ایک اور انوکھی بات سنو چند دن ہوئے… میں نے ایک بستی میں لیکچر دیا… میں دوبارہ بتاتا چلوں کہ وہ شہر نہیں بلکہ بستی تھی… لیکچر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر تھا… لیکچر کے اختتام پر میں نے سیرت نبویصلی اللہ علیہ وسلم کو سیکھنے اور اس کی مکمل پیروی کی کوشش کرنے کی اہمیت واضح کی… پھر میں نے انھیں وہی واقعہ سنایا جو میرے اور میرے طلباء کے درمیان گزر چکا ہے… میرے روبرو چند کمسن بچے بیٹھے تھے… ان کی عمریں 10سال سے زیادہ نہیں ہوں گی… وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے میں نے انھیں بتایا کہ میں نے اپنے طلباء سے پوچھا: مجھے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی کوئی سی چار بیویوں کے نام بتائو… پھر میں نے وہ مکمل سرگزشت اسی طرح سنائی جس طرح عموماً ہر شخص بیان کرتا ہے… لیکن جب میں نے انھیں یہ بتایا کہ میں نے اپنے طلباء سے برازیل کے پانچ کھلاڑیوں کے نام پوچھے… تو میرے سامنے بیٹھے ہوئے سب بچوں نے چلا کر کہا: میں بتائوں… میں بتائوں… وہ بے چارے یہ سمجھے کہ میں نے خود انھی سے یہ سوال کر دیا ہے… اس پوزیشن اور صورت حال کو بھی محفوظ کرنے اور لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے میں نے اس موقع کو بھی بطور مثال غنیمت سمجھا… چنانچہ میں ان میں سے ایک بچے کی طرف متوجہ ہوا اور اس سے کہا: ہاں، اُوبدمعاش! چل تو ہی جواب دے… اس نے کہا: رونالدو… اور… وہ مزید نام بھی لینا چاہتا تھا مگر میں نے کہا: بس، اتنا ہی کافی ہے… میں نے اس سے پوچھا: ارے اُو مسخرے! تو کس کلاس میں پڑھتا ہے؟ اس نے بغیر ہچکچاہٹ کے مطمئن ہو کر جواب دیا: چہارم (حصہ ب) میں…!! اب میں دوسرے بچے کی طرف پلٹا اور پوچھا: ہاں تم بتائو، اس نے کہا: ٹیٹو… میں نے پوچھا: تو کس کلاس میں پڑھتا ہے؟ اس نے کہا: پنجم (حصہ ج) میں… قریب تھا کہ میرے آنسو ٹپک پڑتے…اور میںنے کئی لوگوں کودیکھا بھی ہے کہ یہ افسوس ناک واقعہ سن کر ان کی حسرت بھری آنکھیں اشکبار ہو گئیں… حق بھی یہی بنتا ہے کہ جب لوگ اپنے رہبر اعظمصلی اللہ علیہ وسلم کو بھول کر ان لوگوں کی تقلید کرنے لگیں جن کا ہر ہر قول و فعل رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی اور گستاخی پر مبنی ہے… اور جب مسلمانوںکے بچوں کا کردار غیر مسلموں کے کلچر کی عکاسی کرتا ہو… تو پھر آسمان کو پھٹ جانا چاہیے… زمین کو شق ہو جانا چاہیے… اور لوگوں کی آنکھوں سے آنسوں کے بجائے قُلزم خون بہنا چاہیے… جب میں نے مسلمانوں کے بچوں کو جناب رسولصلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر ناآشنا اور بے گانہ دیکھا تو میرے ضمیر نے مجھے ملامت کی کہ سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ آج ہمیں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اپنے پیارے رسولصلی اللہ علیہ وسلم کے اسوئہ حسنہ کوپوری کائنات میں عام کر دیں…، پھر گلی گلی اور کوچے کوچے میں اگر صدا بلند ہو واقعات سنائے جائیں… کسی کو آئیڈیل بنایا جائے… اپنے معاشرے کی تطہیر اور تہذیب و تمدن کے لیے کسی کو نمونہ بنایا جائے تو صرف محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو بنایا جائے… انھی کے نام کی محفلیں اور مجلسیں منعقد کی جائیں… اور اپنی ہر کمی کوتاہی کو ان کے ارشاد و عمل کی روشنی میں دور کیا جائے… ہر بچے کی زبان پر کھلاڑیوں کے بجائے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ہو… کیونکہ وہ ہمیں اپنے ماں باپ، بیوی بچوں اور پوری انسانیت بلکہ اپنی روحوں سے بھی زیادہ محبوب ہیں
     
  2. ‏اپریل 25، 2012 #2
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    وہ دوبارہ نام لے کر مجھے بتاتے کہ جس طرح آپ نے نام لیا ہے، وہ غلط ہے… صحیح نام وہ ہے جو ہم بتا رہے ہیں۔!!!!!!!!!!

    انا للہ و انا الیہ راجعون۔۔۔

    بہت ہی عمدہ اور عبرت گیر واقعہ سنایا ہے آپ نے۔۔۔۔۔



    اب ہم اپنے سینے میں جھانک کر دیکھیں آخر ہماری میڈیا(مولوی حضرات کی دنیا) میں کیا کمی ہے جو لوگ مولوی کے نام سے مدرسے کے نام سے ڈرتے ہیں اور مسجد کو بھی فقط نماز والی ہی عبادت سے مخصوص سمجھتے ہیں؟!!!!

    وہ اس لیے کہ شاید ہمارے ہاں طرز اور روش تبلیغ، جدید نہیں ہے جب کہ اسلام، جدید زمانے کے لیے بھی ہے۔۔۔۔۔ ہماری میڈیا دنیا سے ہٹ کر ہے گویا کہ دین، دنیادار لوگوں کے لیے نہیں ہے! اور ہم، لوگوں کو گنہگار سمجھ کر ان سے نزدیکی کی بجائے دوری اور لاتعلقی کا اظہار کرتے ہیں!!!! ہمیں ان سے مل جل کر ہی اسلام سکھانا ہوگا اور ان کو یہ باور کروانا ہوگا کہ انسان گنہگار ہے تو کیا ہوا پر ہمارا رب رحیم کے ساتھ رحمن بھی اور ہمارے گناہ جتنے بھی ہوں پر اللہ پاک کی رحمت اس سے بھی وسیع ہے۔۔۔۔۔ اللہ پاک نے ہی تو کہا ہے لاتقنطوا من رحمۃ اللہ۔۔۔۔۔۔ اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔

    جزاک اللہ خیرا

    ارسلان بھائی کی طرح آپ نے بھی بہت ہی لرزانے والی تحریر لکھی ہے۔
     
  3. ‏اپریل 25، 2012 #3
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    بےشک ، استاذ محترم کی باتیں بجا ہیں کہ میڈیا نے نوجوان نسل کو براہ راست مجبور نہیں کیا۔ مگر ان ڈائرکٹلی میڈیا برین واش کر رہا ہے ۔۔۔ نوجوانوں کی بےچارگی کا خیال کرنے کے بجائے میڈیا کو یکسر بری کر دینا درست نہیں۔ سوال تو یہ ہے کہ عصر حاضر کے میڈیا کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟
    کون سا ٹی وی چینل ہے ، کون سی ویب سائیٹس ہیں اور وہ کون سے جدید ذرائع ابلاغ ہیں جن کے سہارے آپ دین کی اخلاقیات کی ، عقیدہ و تاریخ کی اور سیرت مبارکہ کی بنیادی تعلیمات جدید اسلوب میں فراہم کر رہے ہیں؟ جب آپ میڈیا کو blame نہیں کرتے تو اس کے بالمقابل ایسے مفید و مقبول ذرائع بھی لائیں جو نوجوانوں کی دلچسپی کا محور بننے کے ساتھ ساتھ دین و مذہب سے ان کے تعلق کی مضبوطی کی بنیاد بن سکیں ۔۔۔ اگر اس کے بعد بھی نوجوانوں کی کم علمی یا بےعلمی نظر آئے تو پھر آپ کا شکوہ بجا ہوگا۔
     
  4. ‏اپریل 25، 2012 #4
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    جزاک اللہ برادر۔ اس معاملے میں آپ کی اور میری سوچ میں یکسانیت لگتی ہے :)
    کیونکہ جس وقت آپ یہ پوسٹ تحریر کر رہے تھے بالکل اسی وقت میں بھی تقریبا آپ ہی کی سوچ کو اپنے انداز میں لکھ رہا تھا ۔۔۔۔
     
  5. ‏اپریل 25، 2012 #5
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں