1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امریکا میں ’انشاءاللہ‘ کہنے پرعراقی طالبعلم کو طیارے سے اتاردیا گیا

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اپریل 19، 2016۔

  1. ‏اپریل 19، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    امریکا میں ’انشاءاللہ‘ کہنے پرعراقی طالبعلم کو طیارے سے اتاردیا گیا

    ویب ڈیسک 2 گھنٹے پہلے
    [​IMG]
    ساؤتھ ویسٹ ایئر لائینز‘ کی انتظامیہ نے خیرالدین سے معافی مانگنے سے انکار کردیا ہے۔ فوٹو: فائل
    کیلیفورنیا: امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک عراقی نوجوان کو اس وقت طیارے سے اتاردیا گیا جب وہ اس نے موبائل فون پر عربی میں گفتگو کرتے ہوئے ’انشاءاللہ‘ کہا۔
    امریکی اخبار کے مطابق خیرالدین مخذومی نامی ایک عراقی شہری ریارست کیلیفورنیا کی ایک یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے۔ خیرالدین مخذومی 9 اپریل کو امریکی فضائی کمپنی ’ساؤتھ ویسٹ ایئر لائینز‘ میں سفر کررہا تھا ۔ پرواز نے ابھی اڑان نہیں بھری تھی ، وہ اس دوران موبائل فون پر اپنے چچا سے عربی میں بات کررہا تھا۔ جیسے ہی اس نے ’انشاءاللہ‘ کہا تو طیارے میں موجود ایک خاتون نے اس کی طرف گھورنا شروع کر دیا اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد عملے میں شامل عربی بولنے والا ایک اہلکار اسے طیارے سے باہر لے آیا۔
    خیرالدین مخذومی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اپنی نشست پربیٹھ کر اپنے چچا سے عربی میں گفتگو کررہا تھا اور بڑے پرجوش اندازمیں انہیں بتا رہا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کی تقریر سننے گیا تھا۔ طیارے سے اتارنے کے بعد اسے عملے نے بتایا کہ وہ واپس طیارے پر سوار نہیں ہوسکتا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اور اس کے گھر والے بہت مصیبتیں برداشت کر چکے ہیں اور جہاز سے اتارے جانے کا واقعہ بھی ایسے ہی تجربات میں سے ایک ہے۔ کسی بھی انسان کے لیے عزت نفس سے اہم ہوتی ہے۔ اس لئے امریکی فضائی کمپنی کو چاہیے کہ وہ اس سے معافی مانگ لے۔

    دوسری جانب ’ساؤتھ ویسٹ ایئر لائینز‘ کی انتظامیہ نے خیرالدین سے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیرالدین مخذومی نے ایسے کلمات کہے تھے جو خطرناک ثابت ہو سکتے تھے اور یہی بات اسے طیارے سے اتارنے کی وجہ بنی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں