1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امریکہ کو امداد کے بدلے جھوٹ اور دھوکہ ملا. ٹرمپ

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از اشماریہ, ‏جنوری 02، 2018۔

  1. ‏جنوری 03، 2018 #11
    محمد المالكي

    محمد المالكي رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 01، 2017
    پیغامات:
    401
    موصول شکریہ جات:
    153
    تمغے کے پوائنٹ:
    47

    ابتسامہ!
     
  2. ‏جنوری 03، 2018 #12
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃا للہ وبرکاتہ!
    ویسے اتنی بات تو سمجھنی چاہیئے کہ؛
    @فواد صاحب امریکہ کی جانب سے ہمیں چونا لگانا چاہتے ہیں، مگر امریکی صدر کو اب یہ سمجھ آگئی ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو چونا لگا دیا ہے!
     
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 03، 2018 #13
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    732
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    فواد صاحب کا اس میں قصور نہیں ہے. وہ تنخواہ اسی بات کی لے رہے ہیں. وہ تو بس مشین کا ایک پرزہ ہیں. انہیں تو میں تھوڑی دل لگی کے لیے ٹیگ کرتا ہوں ورنہ ان کے نزدیک تو وہی درست ہے جو "ڈالر" کہے, چاہے وہ ڈالر وزیر دفاع کی جانب ہو یا صدر کی. ابتسامہ
    اللہ پاک ہدایت عطا فرمائیں. دو دن کی زندگی کو "گزارنے" کے لیے راہ سے ہٹنا کون سی عقلمندی ہے.
     
    • پسند پسند x 1
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 03، 2018 #14
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,683
    موصول شکریہ جات:
    732
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    ویسے @فواد صاحب! امریکی وزیر صاحب پاکستان کی تعریف کر کے گئے ہیں تو یہ کیا ہے؟

    "

    واشنگٹن: امریکا نے پاکستان کی 255 ملین ڈالرز یعنی 28 ارب روپے کی فوجی امداد پر پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

    ترجمان وائٹ ہاؤس سارہ سینڈرز نے الزام عائد کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرسکتا ہے لیکن وہ اپنی ذمے داریاں پوری نہیں کررہا، اسے وعدوں پر عمل کرنا چاہیے۔

    ترجمان کے مطابق پاکستان کی امداد سے متعلق تمام آپشنز کھلے ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔

    سارہ سینڈرز نے کہا کہ پاکستان کے خلاف مخصوص اقدامات کی تفصیلات آئندہ 24 سے 48 گھنٹوں میں سامنے آجائیں گی۔

    پاکستان کی امداد روکنے کا تعلق دہشتگردوں کو پناہ دینے سے ہے، نکی ہیلی"

    اسے تعریف تو نہیں کہتے آپ کے ہاں؟

    اب آپ مجبور کر ہی رہے ہیں تو میں ایک اور دلچسپ آرٹیکل آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں:

    "تھوک بھی امریکہ کا
    ::::::::::::::::::::::::::
    رعایت اللہ فاروقی کے قلم سے۔۔۔۔۔۔۔

    دیکھئے بات ہے بہت سادہ سی۔ نائن الیون ہوا تو امریکہ نے پاکستان کا بازو مروڑ کر مدد مانگی۔ فرعونیت اس عروج پر تھی کہ کہا

    "بتاؤ ہمارا ساتھ دینا ہے یا غاروں کے دور میں پہنچنا ہے ؟"

    ہم نے کہا

    "نہیں سر ! ہمارے انکار کی کیا اوقات ؟ ہم آپ کا ساتھ ہی دیں گے"

    اگر اس سے وہ یہ سمجھا کہ بازو مروڑنے سے "وفاداری" بھی میسر آ گئی تو امریکہ کو "چ" ہم نے نہیں بنایا وہ جنم جنم کا "چ" تھا۔ اس نے اس خیال سے سات مطالبات ہمارے سامنے رکھے کہ پاکستان 3 تو مان ہی جائے گا، ہم نے سات کے سات مان لئے اور وہ چونکنے کے بجائے خوش ہوا تو اس میں بھی ہمارا کوئی قصور نہ تھا، خود امریکہ ہی اپنے "چ" ہونے کے ثبوت در ثبوت دینے پر تلا بیٹھا تھا۔ پھر اس نے کسی نخریلی دوشیزہ کی طرح اٹکتے، مٹکتے، لٹکتے کہا

    "اف اللہ ہمیں آئی ایس آئی کی مدد نہیں چاہئے، اس منحوس کو ہم سے دور رکھئے"

    عاشق مزاج مشرف نے کہا

    "جانو ! ایم آئی کیسی رہے گی ؟ بالکل زیرو میٹر ہے، پہلے کسی سپر طاقت کے زیر استعمال نہیں رہی"

    جواب میں جانو نے ہاں کردی تو اس میں بھی ہمارا کوئی قصور نہ تھا۔ اگر اس دن امریکہ نے یہ سوچ لیا کہ آئی ایس آئی کے اہلکار فرصت کے لمحات میسر آنے پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے لڈو، تاش یا لنگڑی پالا کھیلنے میں مگن ہوجائیں گے تو اتنا بڑا "چ" بننا امریکہ کا ایسا کارنامہ ہے جس پر وہ "ایں سعادت بزورِ بازو نیست" کا دعوی کرنے میں بھی حق بجانب ہوگا۔ مشرف نے ایم آئی کو سیدھا سیدھا حکم دیا تھا کہ سی آئی اے کی پوری دیانتداری سے مدد کرو، اسے شکایت کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔ کسی ٹھنڈی شام ڈی جی آئی ایس آئی نے آ کر پوچھا

    "سر ! ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟"

    مشرف نے کہا

    "امریکہ ہی آپ کی مدد نہیں چاہتا تو ہم کیا کر سکتے ہیں، یوں کیجئے آپ حسبِ سابق پاکستان کی مدد ہی جاری رکھئے، پاکستان اور اس کا مفاد بچانا آپ کی ذمہ داری لیکن اگر پکڑے گئے تو صرف یہ نہیں کہ ریاست آپ کا ساتھ نہ دے گی بلکہ امریکہ کو مطمئن کرنے کے لئے آپ کو بلا تکلف ٹانگ بھی دیا جائے گا"

    یوں شروع ہوا ایک تاریخی میچ۔ فرعون کو 5 سال تک پتہ بھی نہ چلا کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ القاعدہ کے لئے ہماری طرف سے بھی کوئی رو رعایت نہ تھی اور افغان طالبان کو ہم نے بچا کر رکھا۔ کیا ہمیں پاگل کتے نے کاٹا تھا کہ طالبان کو ختم کرکے افغانستان کو امریکہ اور بھارت کا ایسا اڈہ بننے دیتے جہاں سے یہ دونوں مل کر ہمارا جینا حرام کئے رکھتے ؟ ٹرمپ کہتا ہے، پاکستان نے دھوکہ دیا، اس کا یہ بیان آئی ایس آئی کے لئے امریکہ کے پریزیڈنشل میڈل سے کم نہیں۔ ٹرمپ نے تصدیق کردی کہ امریکہ کو پچھلے پندرہ سال کے دوران پاکستان سے "سچا پیار" نہیں ملا۔ ہم پاکستانیوں کے پاس ٹیکنالوجی نہیں ہے لیکن اپنی پر مغز کھوپڑی کی بالادستی تو ہم کے جی بی کے بعد سی آئی اے کے خلاف بھی ثابت کرچکے۔

    ٹرمپ الٹا بھی لٹک جائے اٖفغانستان امریکہ یا بھارت کو نہیں ملنے لگا، یہ ہم طے کرچکے کہ بھاری قیمت ادا کریں گے لیکن دشمن کو افغانستان میں مستحکم نہیں ہونے دیں گے۔ یہ جو آج لاحق ہیں انہیں کون خطرات کہتا ہے، خطرات وہ ہوں گے جو افغانستان میں امریکہ اور بھارت کے قدم مستحکم ہونے کے بعد ہمیں لاحق ہوں گے، سو اس معاملے میں ہم یکسو ہیں کہ اگر ٹرمپ کوئی قدم اٹھاتا بھی ہے وہ اتنا خطرناک نہیں ہوگا جتنے خطرناک وہ قدم ہوں گے جو اس کی خواہش پوری کرنے کے باوجود ہمارے خلاف مستقبل میں اٹھائے جائیں گے۔ یہ بات اچھی طرح ذہن میں بٹھا لیجئے کہ پاکستان آج بھی افغانستان میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور ٹرمپ آپ کو بتا چکا کہ اس جنگ میں "کامیابی" کس کے ہاتھ لگی ہے۔ ٹرمپ کچھ اور نہیں بس یہ کہہ رہا ہے کہ پاکستان نے یو ایس ایس آر کے بعد یو ایس اے کی بھی بجادی اور غضب یہ کیا کہ تھوک بھی امریکہ کا ہی استعمال کیا۔ سوشل میڈیا پر جو لبرل امریکہ کی نمک حلالی کرتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ 33 بلین ڈالر کہاں گئے ؟ ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ وہ امریکہ کی بجانے پر ہی خرچ ہوگئے لبرل بابو !"
     
  5. ‏جنوری 08، 2018 #15
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    413
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ​


    ترجمان امریکی وزارت خارجہ

    "امريکہ پاکستان کے ساتھ ملکر تمام دہشتگردوں کے خلاف بلا تفريق کارروائی کرنے کيلۓ تيار ہے، اور ہم پاکستان کے ساتھ اپنے باہمی سیکورٹی تعلقات کی تجديد اور مضبوطی کے خواہاں ہيں جب پاکستان افغان طالبان، حقانی نيٹ ورک اور ديگر دہشتگرد اور شدت پسند تنظيموں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا عملی مظاہرہ کرے گا جو اس کے ملک کے اندر سے کارروائياں کرتے ہيں"

    https://www.state.gov/r/pa/prs/dpb/2018/01/276852.htm

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ​

    digitaloutreach@state.gov​


     
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • تکرار تکرار x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 10، 2018 #16
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,048
    موصول شکریہ جات:
    311
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    امریکہ کو امداد کے بدلے جھوٹ اور دھوکہ ملا. ٹرمپ

    تو کچھ غلط نہیں فرمایا صدر ٹرمپ نے کیونکہ ” جیسا کرو گے ، ویسا بھروگے !“
     
  7. ‏جنوری 13، 2018 #17
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,061
    موصول شکریہ جات:
    8,172
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  8. ‏جنوری 13، 2018 #18
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,042
    موصول شکریہ جات:
    2,571
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اب اس سے کوئی پوچھے۔ کہ یہ ستر ہزار پاکستانی جو مرے ہیں، ان میں سے کتنے انڈین یا امریکی فوجیوں نے مارے ہیں، اور کتنے ''ہمارے اپنوں'' نے؟
    یہ آرمی پبلک اسکول میں بچّے امریکی سپاہیوں نے آکر مارے تھے، یا انڈین سپاہیوں نے؟
     
  9. ‏جنوری 16، 2018 #19
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    413
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اس ميں کوئ شک نہيں کہ گزشتہ ايک دہائ کے دوران ہزاروں کی تعداد ميں معصوم پاکستانی شہری اور فوجی طالبان، القائدہ اور ان سے منسلک تنظيموں کی کاروائيوں کے سبب لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ہم نے ہر پليٹ فارم پر ان عظيم قربانيوں کو اجاگر بھی کيا ہے اور انھيں تسليم بھی کيا ہے۔

    ہمارے اہم ترين عہديداروں اور سفارت کاروں کے بيانات اس ضمن ميں ريکارڈ کا حصہ ہيں۔ پاکستان کی افواج اور حکومت کے ساتھ ہماری مشترکہ کاوشيں اسی ضرورت اور خواہش کو مدنظر رکھ کر جاری ہيں کہ يہ قربانياں رائيگاں نا جائيں اور ہزاروں بے گناہ شہريوں کو ہلاک کرنے والے ذمہ داروں کو کيفر کردار تک پہنچايا جاۓ۔ يقينی طور پر آپ ہم پر اس بنياد پر تنقيد نہيں کر سکتے کہ ہم انھی مجرموں کا تعاقب کر رہے ہيں جن کی جانب سے پھيلائ جانے والی تبائ کو آپ اجاگر کر رہے ہيں۔

    امريکی حکومت نے کبھی بھی يہ دعوی نہيں کيا کہ ہم ان دہشت گردوں کا تعاقب محض اپنے دفاع کے لیے کر رہے ہیں۔ چاہے وہ لندن کے ٹرين اسٹيشن پر ہونے والا حملہ ہو، بالی میں 200 افراد کی ہلاکت کا المناک سانحہ يا عراق کے بازاروں اور سڑکوں پر ہونے لاتعداد خودکش حملے اور بم دھماکے، دہشت گرد تنظيموں اور ان کی قيادت نے يہ ثابت کر ديا ہے کہ ان کا لائحہ عمل اور طريقہ کار عالمی سطح پر بغير کسی مذہبی اور سياسی تفريق کے ہر اس وجود کو نشانہ بنانا ہے جو ان کے نظريات سے اختلاف کرتا ہے۔ يہ تصور اور تاثر بالکل غلط ہے کہ اگر 911 کے واقعات کے بعد پاکستانی حکومت امريکہ کا ساتھ نہ ديتی تو القائدہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف کوئ کاروائ نہ کی جاتی۔

    القائدہ کی عالمی دسترس اور تمام مہذب دنيا کو لاحق مشترکہ خطرہ ہی وہ وجہ تھی جو ايک مشترکہ عالمی کاوش اور اتفاق راۓ کی وجہ بنی تا کہ دنيا بھر ميں بے گناہ انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کے لیے معاشرے سے اس عفريت اور شيطانيت کو جڑ سے اکھاڑ ديا جاۓ۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
    https://www.instagram.com/doturdu/
     
  10. ‏جنوری 19، 2018 #20
    فواد

    فواد رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 28، 2011
    پیغامات:
    413
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    74


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    کچھ حقائق کی وضاحت ضروری ہے۔

    امريکی حکومت کی جانب سے عسکری امداد کی اس وقت معطلی کا فيصلہ دہشت گردی سے متعلق مخصوص معاملات کے حوالے سے ہے۔ اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں کہ امريکہ اور پاکستان کے تعلقات بھی معطل ہو گۓ ہيں۔

    امريکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی خطير ترقياتی امداد جو کہ زراعت، تعليم، انفراسٹرکچر اور مختلف شعبوں اور اداروں کو مزيد فعال کرنے کے حوالے سے ہے، اس ميں کوئ تبديلی نہيں آئ ہے اور وہ تمام منصوبے معمول کے مطابق جاری ہيں۔

    جہاں تک عسکری امداد کی معطلی کی وجوہات کا تعلق ہے تو پينٹاگان کے ترجمان نے امريکی حکومت کا موقف واضح کر ديا ہے

    "ہماری توقعات بالکل واضح ہیں۔ طالبان، حقانی قيادت اور حملوں کے منصوبہ سازوں کو پاکستانی سرزمين ميں نا تو محفوظ ٹھکانے ملنے چاہيے اور نا ہی وہاں سے کاروائي کرنے کے مواقع"

    علاوہ ازيں، پينٹاگان کے ترجمان نے يہ بھی واضح کيا کہ عسکری امداد کی معطلی کے فيصلے کا يہ مطلب نہيں ہے کہ يہ امداد مستقل طور پر ختم کر دی گئ ہے۔

    "امداد معطل کی گئ ہے، اسے نا تو مستقل طور پر ختم کيا گيا ہے اور نہ ہی کسی اور جگہ صرف کيا جاۓ گا۔ ہم بدستور يہ اميد رکھتے ہيں جن دہشت گردوں اور شدت پسند گروہوں کا ہم تعاقب کر رہے ہيں، پاکستان ان کے خلاف فيصلہ کن کاروائ کرے گا۔"

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov

    www.state.gov

    https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    https://www.instagram.com/doturdu/

    https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں