1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امریکی جنگ میں پاکستان کی شرکت کی حقیقت۔۔ ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ

'جنگ وجدال' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏نومبر 07، 2012۔

  1. ‏نومبر 07، 2012 #1
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔
    امریکی جنگ میں پاکستان کی شرکت کی حقیقت


    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم​

    نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم امابعد!

    9\11کا حادثہ امریکی تاریخ کا وہ انوکھا واقعہ ہے جس نے امریکی ساکھ اور وقار کو خاک میں ملا کر رکھ دیا اس حادثے نے امریکہ کو بوکھلا دیا اور اس نے اس واقعے کے ملزموں کو سخت سزا دینے کا اعلان کردیا ۔
    بپھرے ہوئے پاگل امریکی ہاتھی نے افغانستان کو تہس نہس کرنے کے لئے یورپی اتحاد (ناٹو)کو ساتھ ملایا اور پاکستان کو دھمکی دی کہ ہمارا ساتھ دو یاپھر ہم تمہیں دشمن کا ساتھی سمجھیں گے اور غار کے تاریک دور میں پہنچادیں گے۔
    ان سخت حالات میں ،کہ جب سب امریکہ سے گریزاں اور خائف تھے پاکستان کے لئے اس جنگ سے غیر جانبدار رہنا بہت مشکل امرتھا جبکہ پاکستان کے دوست ممالک کا مشورہ بھی یہی تھا کہ امریکہ کا مطالبہ مان لینا ہی مناسب ہے اور اس سے ٹکراؤٹھیک نہیں ۔
    پاکستان نے اس جنگ میں ایک بہت مشکل فیصلہ کیا جس سے وہ امریکہ کی مخالفت و تباہی سے بھی بچ سکتا تھا اور اس کو افغانستان کی دلدل میں پھنساکر اس کا غروربھی خاک میں ملا سکتا تھا ۔
    امریکی جنگ میں شرکت،خوف یا حکمت عملی :
    اگر اس شرکت کا سبب امریکہ کا خوف اور ڈر تھا تو شرعا ًاس کی بھی گنجائش اور رخصت ملتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
    لَّا يَتَّخِذِ ٱلۡمُؤۡمِنُونَ ٱلۡكَـافِرِينَ أَوۡلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ‌ۖ وَمَن يَفۡعَلۡ ذَٲلِكَ فَلَيۡسَ مِنَ ٱللَّهِ فِى شَىۡءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُواْ مِنۡهُمۡ تُقَٮٰةً۬‌۔۔۔۔۔
    “ایمان والے مؤمنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بنائیں اور جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی چیز میں نہیں مگریہ کہ تم ان سے بچو،کسی طرح سے بچنا”
    (اٰل عمران:28)​
    اورایک دوسرے مقام پرفرمایا :
    مَن ڪَفَرَ بِٱللَّهِ مِنۢ بَعۡدِ إِيمَـانِهِۦۤ إِلَّا مَنۡ أُڪۡرِهَ وَقَلۡبُهُ ۥ مُطۡمَٮِٕنُّۢ بِٱلۡإِيمَـانِ
    “جو شخص اللہ کو ساتھ کفر کرے اپنے ایمان کے بعد ،سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائےاور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔”
    (النحل :106)​
    اللہ تعالیٰ نے مجبوری اور اکراہ کی صورت میں کفارسے دوستی کا اظہار اور جان بچانے کے لئے کلمہ کفر کہنے یا کفریہ فعل سر انجام دینے کی رخصت دی ہے جبکہ دل ایمان پر مطمئن ہو ۔
    اور اگراس نقطہ پر نظر ڈالیں جو کہ اب وقت کے ساتھ ساتھ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ پاکستان حکمت عملی کے تحت اس جنگ میں شرکت پر آمادہ ہوا تو جنگ میں اس طرح کی حکمت عملی( فرمان رسولﷺ کےمطابق )اختیار کی جاسکتی ہے۔
    آپ ﷺ نے فرمایا:
    "الحرب خدعۃ"
    “ جنگ تو نام ہی دھوکہ دہی کا ہے ۔”(صحیح البخاری )
    ہم دیانتداری سے یہ سمجھتےہیں کہ اس جنگ میں شرکت کے اسباب میں ڈر اور حکمت عملی دونوں ہی شامل ہیں پا کستان کی جغرافیائی صورت حال اس طرح کی ہے کہ ایک طرف بھارت ہے جو کہ پاکستان کا ازلی دشمن ہے اس کے ساتھ پاکستان کی چار جنگیں ہوچکی ہیں 2900 km(تقریباً )بارڈرپر انڈین آرمی بیٹھی ہوئی ہے اوردوسری طرف افغانستان ،کہ جس کے ساتھ پا کستان کا بارڈرتقریباً 2600kmلمبا ہے جہاں انڈیا نوازشمالی اتحادکی حکومت کی صورت میں پاکستان دو پاٹوں کے درمیان پس کررہ جاتا ۔
    اس مشکل صورت حال میں پاکستان نے دوست ممالک کے مشورے سے ایک حکمت عملی اختیار کر کے امریکہ کو افغانستان پر حملہ کرنے کے لئے راستہ اور جگہ فراہم کی اور یوں امریکی بدمعاش اس جال میں ایسے پھنسے کہ اب راہ فرار کے لئے پاکستان اور طالبان کی منتیں کر رہے ہیں اور انہیں اپنی نام نہاد عزت بچانا مشکل ہو رہا ہے ۔
    اب دشمن امریکہ و اتحادی چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ پاکستان نے (امریکہ اور ناٹوکو) دھوکہ دیا ، مروادیا اوراب وہ پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں بلوچستان اور کراچی کے حالات اس بات کے گواہ ہیں لیکن ہمارے چند جذباتی اور ظاہر بین جوشیلے بھائی (جو نہ تو جنگی حربوں کو سمجھتے ہیں اور نہ دینی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں ) اس بات پر ناراض ہیں اور نادانستگی میں امریکی اور بھارتی عزائم کی تکمیل کررہے ہیں ۔
    افغان کوئٹہ شوری ،حقانی گروپ،اور اسامہ بن لادن کی پاکستان کے حساس ترین علاقوں میں موجودگی،کیا یہ بات ثابت کرنے کے لئے کافی نہیں کہ پاکستان کا اس جنگ میں حقیقی کردار کیا رہا ہے ۔۔؟؟
    گوریلا جنگ کو سمجھنے والے لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ گوریلا جنگ کی کامیابی کے لئے ایک بیس کیمپ کی ضرورت ہوتی ہے جہاں یہ گوریلا ٹریننگ لے سکیں ،علاج ومعالجہ کروا سکیں اور آرام کرسکیں ۔اس بیس کیمپ کے بغیر گوریلا وار جیتنا ناممکن ہے ۔
    پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے روس کے خلاف افغان مجاہدین کی سب سے زیادہ مدد کی تھی افغانستان میں طالبان حکومت بنوانے ،اسے سب سے پہلے تسلیم کرنے ،پاکستان میں سفارت خانے بنانے اور دنیا بھر میں رابطہ قائم کرنے کی سہولت پاکستان نے ہی دی تھی ۔اور اب بھی وہ افغان مجاہدین کا خفیہ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
    کفر سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں تعاون یقینا ًایک سنگین جرم ہے اور یہ کام انسان کو کبیرہ گناہ سے کفروارتداد تک لے جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ۲۰۰۱ میں تمام مکاتب فکر کے علماء نے متفقہ طور پر حکومت کو اس مسئلے پر خبردارکرنے اور اس معاملے کی سنگینی سے ڈرانے کی کوشش کی تھا اور اس کے ساتھ ساتھ امریکی خفیہ منصوبوں ( پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اسلامی و جہادی تشخص کو تباہ کرنا ) کے بارے میں خبردار کیا۔
    لیکن ایک طرف تو سہمے اور ڈرے ہوئے بزدل حکمران مجبوری کی گردان کرتے نظر آئے تو دوسری طرف ،ہمارے کچھ نا سمجھ و نادان ، دینی علوم سے بے بہرہ یا سطحی علم رکھنے والے ، زمینی حقائق سے بے خبر افراد، اس کمزوری اور خوف زدہ تعاون کو صرف کفر اکبر اورارتدا د کے زمرے میں ڈالنے پر اصرار کرتےنظر آئے۔ حالانکہ کہ کفر سے تعاون ، کبیرہ گناہ بھی ہےاور کفر اکبر بھی ، جو کہ بہت سے اصول و ضوابط اور حالات کے صحیح علم اور تعاون کرنے والے کی حقیقی کیفیت کے علم کا متقاضی ہے۔
    یہیں پر بس نہیں !
    بلکہ غلو کا شکار یہ لوگ اس نظریہ کی بنیاد پر پاکستان میں باقاعدہ ’’قتال و جہاد‘‘ کا نعرہ لگانے لگے. پاکستان کو دارالحرب قرار دے دیا اور مسلمان معاشرے کو حکمرانوں کی نا اہلی اور جہالت کی سزا دینا شروع کر دی۔ امن تباہ ہوا ،مسجدیں پامال ہوئیں, بچے یتیم ہوئے، عورتیں بیوہ ہوئیں اور لوگ جہاد جیسی عظیم عبادت سے ڈرنے اور گھبرانے لگے (حالانکہ اگر یہ حقیقی جہاد ہوتا تو جو اثرات پاکستانی مسلمانوں پرمرتب ہوئے، یہ مسلمانوں کی بجائے امریکہ و ناٹو اور مشرکین ہند پر نظر آنے چاہئیں تھے)۔
    ذرا سوچئے !
    جو نقشہ اس وقت بن چکا ہے اور حالات دن بدن کھلتے جا رہے ہیں ، ان حالات میں کفروارتداد کے فتوے لگانا ، ملک میں دھماکے اور مسلح کاروائیوں سے اسلامیان پاکستان کو(دانستہ و غیر دانستہ) خون میں نہلانا ،کیسا جہاد اورکہاں کی دینداری ہے ؟
    ان مشکل ترین حالات میں دشمن کو للکارنے کی بجائے اس کے دیرینہ عزائم(پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور اسلامی و جہادی تشخص کو تباہ کرنا) کی تکمیل کا موقع فراہم کرنا کہا ں کی اسلام دوستی اور کیسی دانشمندی ہے ؟
    روس کے خلاف افغان مجاہدین کی جتنی مدد پاکستان نے کی تھی ( اب تک لاکھوں افغان ،پاکستان میں پناہ گزیں ہیں )اس کی مثال موجودہ دور میں کہیں نہیں ملتی ، روس نے بھی اپنا بدلہ اور انتقام لینے کے لئے پاکستان میں تخریب کاری کروائی تھی اور اب امریکہ بھی (اپنے ایجنٹوں کے ہاتھوں ) یہی کام کروارہا ہے لیکن ہمارے بھولے بھالے بھائی ان چالوں اور سازشوں کو سمجھنے سے قاصرہیں ۔اللہ تعالیٰ انہیں درست بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اٰمین
    الشیخ ابو عمیر السلفی حفظہ اللہ تعالیٰ
     
  2. ‏نومبر 07، 2012 #2
    عبداللہ سلفی

    عبداللہ سلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 07، 2012
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    جناب عبداللہ عبدل صاحب! کیا آپ کو غیر اللہ کا حکم نافذ کرنے والی حکومتوں اور ایجنسیئوں کی ایما پر جہاد کرنے والی دھوکے باز تنظیموں کی حمایت کرنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں ہے؟
    میں حیران ہوتا ہوں کہ آپ کے پاس فورم پر اس قسم کی فضول اور مکروہ بحث کرنے کا ٹائم کیسے مل جاتا ہے؟
    کیا آپ کے پاس دوسروں کو تکفیری اور خارجی کہنے کے علاوہ اور ان کے رد میں اس طرح کی فضول بحث لکھنے کے علاوہ اور کوئی بات نہیں؟
    آپ معاشرے میں موجود فحاشی اور بے دینی کا رد کیون نہیں کرتے؟
    آپ نبی کریم علیہ السلام کی گستاخی کرنے والوں کی گرفت کیوں نہیں کرتے؟
    آپ حدیث کا انکار کرنے والوں کا رد کیوں نہیں کرتے؟
    آپ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا رد کیوں نہیں کرتے؟
    کیا آپ کسی خاص ایجینڈے کے تحت کام کررہے ہیں جس میں یہ مقاصد شامل نہیں ہیں؟
     
  3. ‏نومبر 08، 2012 #3
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    و علیکم سلام

    واہ واہ ۔۔۔ ارے عبداللہ سلفی صاحب ، مجھے اندازہ ہے کہ آپ کسی اور جگہ کا غصہ یہاں نکال رہے ہیں ، اور وہ بھی کسی دلیل و برہان کی بجائے ، محض بد گمانی اور بہتانوں کے سہارے۔
    جناب آپ کی تمام ملفوظات کا جواب دینا وقت کا ضیاع ہے کیوں کہ کاش کے آپ نے اس فورم کی سیر کی ہوتی تو معلوم ہوتا کہ میری مختلف موضوعات پر پوسٹوں کی کمی نہیں محض آپ کی بینائی میں کمزوری کا عنصر ہے۔

    بہرحال ، آپ نے جو کہا آپ کا حق تھا۔ مجھے آپ کی تمام باتوں سے کوئی لینا دینا نہیں ۔

    اب آپ گہرے سانس لیں ، ایک گلاس پانی پیجئے اور جب طبیعیت بحال ہو جائے تو جس موضوع پر آکر آپ نے میرا "پول" کھولا ہے اس کے مطابق رائے کا اظہار کیجئے۔ شکریہ
     
  4. ‏نومبر 08، 2012 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    یہ کون سی حکمت عملی ہے کہ اپنے ملک کے اڈے فراہم کر کے اپنے ہی ملک کے شہریوں کو قتل کروایا جائے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حکمت علمی ہوا کرتی تھی اس میں واقعی حکمت ہوتی تھی،لیکن آج یہ کیسے حکمت عملی ہے کہ ملک کا خانہ خراب ہو رہا ہے اور یہ حکمت اور خوف کی وجہ سے ہے اور اوپر سے مستزاد یہ کہ اسے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے ثابت کیا جا رہا ہے۔استغفراللہ
    افغان مجاہدین کی یا امریکہ کی؟جبکہ دیکھا یہ گیا ہے کہ طالبان سے خلاف جتنی امریکہ کی مدد پاکستان نے کی شاید ہی کسی اور نے اتنا امریکہ کا ساتھ دیا ہو۔
    اور تعاون افغان مجاہدین کا یا امریکہ کا؟یہ کیسا تعاون ہے کہ روزانہ ڈرون حملے میں افغانی مررہے ہیں حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امریکی فوجی مرتے اور دنیا والوں کو واقعی پتہ چلتا کہ پاکستان دشمن کے مقابلے میں مجاہدین کی مدد کر رہا ہے۔لیکن حالات سب کے سامنے ہیں،نجانے لوگ کیوں حقائق سے جانتے بوجھتے انجان بنتے ہیں۔
    ڈرون حملوں سے وزیرستان میں پھول کھل رہے ہیں،یا کلیاں مہک رہی ہیں،کیا ہے؟
    یار کچھ اللہ کا خوف کرو

    امریکہ کی چالوں کو آپ سمجھتے نہیں،یا سمجھنا نہیں چاہتے ورنہ یہ بات نہ کہتے،امریکہ پاکستان کو اپنا فرنٹ لائن اتحادی مانتا ہے،اور آپ اسے دشمن قرار دے رہے ہیں۔

    آج کل PTV پر ایڈ نہیں دیکھ رہے۔

    امریکی اور پاکستانی عوام مل کر بنائیں گے ایک روشن پاکستان
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 08، 2012 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    بسم اللہ الرحمن الرحیم​
    پاکستان کی غلط فہمی

    پاکستان کے حکمرانوں کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ وہ کفار کے مطالبات سر بسر تسلیم کرتے چلے جانے سے بچ جائیں گے۔کفار کے مطالبات کا سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا جب تک ان کے منصوبوں کے مطابق پورا عالم اسلام ان کا غلام اور محکوم نہیں بن جاتا اور تمام اسلامی ممالک پر ان پر شیطانی تہذیب اور کلچر مسلط نہیں کر دیا جاتا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ ٱلْيَهُودُ وَلَا ٱلنَّصَٰرَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ
    کفار کے مطالبات کے حوالے سے تاریخ کا یہ عبرت آموز واقعہ بھی پڑھ لیجئے:
    بعثت نبوی ﷺ کے پانچویں سال روم اور ایران میں جنگ شروع ہوئی جس کا ذکر قرآن مجید میں ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا
    غُلِبَتِ ٱلرُّومُ ﴿2﴾فِىٓ أَدْنَى ٱلْأَرْضِ
    رومیوں کی شکست کے بعد یروشلم پر ایرانی جھنڈا لہرانے لگا،عیسائیوں کے سارے عبادت خانے مسمار کر دیے گئے ،ساٹھ ہزار بے گناہ عیسائیوں کا قتل عام ہوا،تیس ہزار مقتولوں کے سر سے شہنشاہ ایران کا محل سجایا گیا،رومیوں نے صلح کی درخواست کی تو شہنشاہ ایران نے پہلے اڑھائی لاکھ پونڈ سونا اور چاندی ، ایک ہزار ریشمی تھان اور ایک ہزار گھوڑے طلب کئے۔یہ مطالبہ پورا کیا گیا تو فاتح نے دوسرا مطالبہ کیا کہ ایک ہزار کنواری لڑکیاں بھی پیش کی جائیں۔یہ مطالبہ بھی پورا کیا گیا تو تیسرا مطالبہ یہ تھا کہ ہرقل زنجیروں میں جکڑا ہوا میرے تخت کے نیچے ہونا چاہیے اور آخری مطالبہ یہ تھا کہ جب تک شہنشاہ روم اپنے مصلوب خدا کو چھوڑ کر سورج دیوتا کے آگے سر نہیں جھکائے گا،میں صلح نہیں کروں گا۔(غزوات مقدس،از محمد عنایت اللہ وارثی،صفحہ258)
    فاعتبرو یا اولی الابصار

    کتاب "دوستی اور دشمنی کتاب و سنت کی روشنی میں" از محمد اقبال کیلانی سے اقتباس​

    پاکستان کی غلط فہمی
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 08، 2012 #6
    ابوالحسن عزیز

    ابوالحسن عزیز رکن
    جگہ:
    Islamabad
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 19، 2011
    پیغامات:
    75
    موصول شکریہ جات:
    403
    تمغے کے پوائنٹ:
    44

    میں اس تجزیے کے ساتھ مکمل طور پر تو نہیں اتفاق کرتا مگر اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان کی اسٹبلشمنٹ اور امریکہ اس جنگ کے حوالے سے ایک صفحے پر نہیں ہیں رونہ یہ سارا معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔ مگر اس میں ہماری اسٹبلشمنٹ کی بغل بچہ چند مذہبی جماعتوں کے خوش ہونے کی کیا بات ہے؟ اگر کسی کی دلچسبی اسلام اور اس کی حاکمیت میں نہیں ھے تو اس کے لئے پاکستان کی موجودہ پالیسی نیشنلسٹ نقطہ نظر سے خوش کن ہوسکتی ہے (مثلا زید حامد وغیرہ) مگر دینی جماعتوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ اسٹبلشمنٹ ہمیشہ انہیں استعمال کرکے ٹشو پیپر کی مانند بہا دیتی ہے اور وقت آنے پر طاقت کے مراکز پر یا تو کسی امپورٹٹڈ معین قریشی کو بٹھا دیا جاتا ہے یا پھر ملک و ملت کو سرعام گالیاں بکنے والے الطاف حسین کے ناز نخرے اٹھا کر مسلط کر دیا جاتا ہے۔ دور نہ جایئے ابھی ماضی قریب میں بینظیر بھٹو کو دبئی جا کر این آر او پر گارانٹیاں دینے والے کوئی اور نہیں ہمارے اپنے جنرل کیانی ہی تو تھے! اسٹبلشمنٹ کی ان حرکتوں کو تو اب بار بار استعمال ہونے کے بعد جماعت اسلامی - کم از کم - منور حسن کی حد تک جان گئی ہے اور اپنے دامن کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ میرا بہر طور اس سے مطلب یہ ہیں ہے کہ ان حرکتوں کی وجہ سے ہم اسٹبلشمنٹ کے خلاف ہتھیار اٹھا لیں اور تکفیری بن کر وہ کر گذریں جس کی اسلام قطعی اجازت نہیں دیتا مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اسٹبلشمنٹ کا ہراول دستہ بن کر انہیں کمک پہنچائی جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاتستانی طالبان اور جماعت الدعوہ دونوں اپنے اپنے نقطئہ نظر پر نظر ثانی کریں (دونوں کا ذکر ایک جگہ کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تعبیر اور حکمت عملی کی غلطی میں دونوں برابر ہیں)
     
  7. ‏نومبر 09، 2012 #7
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔

    میں تمام احباب کا ممنون ہوں انہوں نے اس موضوع کو پڑھا اور کومنٹ کئے ۔
    میرے کچھ سوالات ہیں؟


    پاکستان آرمی کے خلاف انڈیا ، امریکہ ، نیٹو اور ٹی ٹی پی ، بی ایل اے ، میڈیا بلخصوصJEW TVسیاستدانوں وغیرہ وغیرہ کے مسلسل تابڑ توڑ حملے آخر کس بنیاد پر؟؟؟
    اس وقت پاکستان کے آگے ، پیچھے ، اوپر ، نیچے اندر ، باہر سے گھیراو کیوں؟؟؟

    ہاں آرمی نے غلطیاں بھی کیں اور سازشوں کا شکار بھی بنایا گیا۔

    قبائلی پاکستان سے ٹکرائے نہیں بلکہ سازش کے ساتھ لڑوایا گیا۔
    معاہدات کے بعد کس نے ڈرون حملے کر کے معاہدات کو سبوتاژ کس نے کیا پاک آرمی نے یا امریکہ نے؟؟؟
    کس کا اسلحہ و ادویات قبائلی علاقوں میں پہنچایا گیا؟؟؟
    انڈیا کہ گیارہ کونسل کھانے پاکستان کی سرحد پر کس مقصد کے لئے قائم کئے گئے؟؟؟
    پاکستان میں جہاد کے فتوے دارلعلوم دیوبند ہندوستان سے جاری کروا کر قبائلی علاقوں میں کس نے تقسیم کروائے؟؟؟
    ملا فضل اللہ ، ھکیم اللہ، براہمداغ بگٹی اس وقت افغانستان میں کس کے ہاں قیام پزیر ہیں؟؟؟
    کیا کبھی امریکہ نے کسی بھی تحریک طالبان پاکستان ، بے ایل اے کے دہشت گرد کو گرفتار یا قتل کیا؟؟؟
    افغان آرمی کا اہلکار گزشتہ دنوں سوات میں ظالمان کے ساتھ میٹنگ میں کیوں گرفتار ہوا؟؟؟
    افغان آرمی کی تربیت کی ذمہ داری انڈیا کو کیوں دی گئی؟؟؟

    آج تو صف بندی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔۔۔۔

    امریکہ ، انڈیا، نیٹو، ٹی ٹی پی ، بی ایل اے
    بمقابلہ
    پاکستان


    آخر یہ کیوں ہورہا ہے،؟؟؟

    اسامہ کہاں چھپے ہوئے تھے ؟؟؟
    پاکستان آرمی کے کیمپ کے قریب۔
    اسامہ کے بیوی بچوں کے ساتھ کیاہوا؟؟؟
    باعزت گھر پہچایا گیا۔
    کیا اسامہ کی شہادت پر آرمی نے جشن منایا؟؟؟
    نہیں ، بللکہ امریکہ سے طلاق ہوئی۔ اب بس ایام عدت جاری ہیں۔
    اسامہ پر اربوں ڈالر انعام حاصل کرنے کے لئے کیوں امریکہ کے حوالے نہیں کیا؟؟؟
    پاکستان آرمی کا مہمان تھا۔
    کوئٹہ شوری افغان مجاہدین کہاں ہے؟؟؟
    بلوچستان میں
    افغان طالبان کا بیس کیمپ ؟؟؟
    شمالی وزیرستان
    لال مسجد دوبارہ پاکستان نے کھول دی ، جامعہ حفصہ دوبارہ چل پڑا۔ مگر اب "اہل حق" نے کوئی ویڈیو نہیں لانچ کی؟؟؟

    میرا خیال ہے سمجھنے کے لئے یہ کافی ہے کہ ہو کیا رہا ہے چل کیا رہا ہے۔

    فیصلہ آپکا اپنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
    اللہ درست بات کو پانے اور جاننے کی توفیق عطا فرما۔ آمین
     
  8. ‏نومبر 09، 2012 #8
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    سچی بات تو یہ ہے عبداللہ عبدل بھائی کہ معاملات ہی کچھ اس طرح الجھے ہوئے ہیں کہ سمجھ نہیں آتی کون سچا ہے کون جھوٹا؟
    لہذا ہم تو اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ہر قسم کے شرور و فتنوں سے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے آمین
     
  9. ‏نومبر 10، 2012 #9
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    آپ کی بات بحیثیت عام مسلمان و پاکستانی شہری کافی حد ٹھیک ہے۔ مگر جو لوگ ان معاملات سے منسلک ہیں انکو کوئی ابہام اور شبہ نہیں۔
    بے شک بھائی ہمیں اللہ سے فتنہ فساد اور شر سے اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہیئے۔
    اللہ ہمیں صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
     
  10. ‏نومبر 10، 2012 #10
    عبداللہ سلفی

    عبداللہ سلفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 07، 2012
    پیغامات:
    11
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    واہ جی واہ! حضرت صاحب آپ کو یہ ساری باتیں کیسے معلوم ہوجاتی ہیں؟ ان باتوں کا آپ کے پاس کوئی ثبوت بھی ہے یا پھر محض ہوائی فایئر کررہے ہیں؟
    گزارش ہے کہ جو بھونڈی دلیل آپ نے طالبان میں امریکی ایجنٹ کے وجود کو ثابت کرنے کیلئے دی تھی ویسی "دلیل" سے پرہیز ہی کیجئے گا ورنہ جیسے وہ دلیل الٹا آپ اور آپ کی ملالہ اور اسکے والد کو امریکی ایجنٹ ثابت کرگئی تھی کہیں اس بار بھی ایسا نہ ہو جائے۔

    ایک بھائی نے آپ سے بالکل صحیح اور مناسب گزارش کی تھی کہ جو کچھ آپ لکھتے ہیں اس کو خود بھی غور سے پڑھ لیا کریں کیونکہ آپ کو خود سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ آپ کیا لکھے چلے جارہے ہوتے ہیں پھر جب آپ سے آپ کے دعوے کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو آپ بھاگنے کیلئے چور دروازے ڈھونڈتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "یہ سوال طالبان سے کرو، ان کے فورم باب الاسلام سے کرو"۔

    اسی لئے میں آپ سے کہتا ہوں کہ جو کچھ آپ کاپی پیسٹ کرتے ہیں اس کو پہلے خود بھی غور سے پڑھ لیا کریں اور کاپی پیسٹ کرنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیا کریں کہ اس کے اثرات کیا ہونگے۔

    ذرا سوچیے!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں