1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امی جوھرہ!

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از اخت ولید, ‏جون 08، 2017۔

  1. ‏جون 08، 2017 #1
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,790
    موصول شکریہ جات:
    1,265
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    بسم اللہ الرحمان الرحیم
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ہم سب کو اپنی مائیں بہت اچھی لگتی ہیں۔لگیں بھی کیوں ناں کہ جو محبت و مودت اللہ نے ماں کے خمیر میں رکھا ہے۔کسی اور ذات میں نہیں رکھا۔بلکہ اپنی محبت سے ماں کو محبت عطا کی۔میں اکثر اپنے آپ سے جھگڑا کرتی تھی۔ایک دو دفعہ امی جان سے بھی جھجھک کر پوچھا کہ یہ ماں کی محبت کیا ہوتی ہے؟اور یکا یک ایک غیر سنجیدہ لڑکی ماں بننے کے بعد کیسے ذمہ دار سی بن جاتی ہے؟امی جان ہنس دیتیں۔۔ماں کی محبت کو ماپنے کا آلہ مجھے آج تک نہیں ملا۔جس دن بدریہ پہلی دفعہ میری گود میں آئی تو مجھے احساس ہوا کہ ماں کی محبت واقعی غیر محدود ہے۔اللہ نے دیگر رشتوں میں ہی اتنی حلاوت رکھ دی ہے تو ماں۔۔ماں تو بس ماں ہے۔اکثر دیگر کو اپنی اپنی امیوں متعلق لکھتے دیکھتی ہوں۔اچھا لگتا ہے۔ ویسے کئی جگہ ذکر کیا ہو گا لیکن مجھ سے باقاعدہ اپنی امی جان متعلق لکھا نہیں جاتا۔لکھوں بھی کیسے کہ مجھ جیسی بیٹی اپنی عظیم ماں کو کس طرح خراج پیش کر سکتی ہے۔قاصر ہوں!!
    ایک دفعہ فارم پر امی جان کے متعلق چند سطریں لکھیں تو ام حماد مجھے کہنے لگیں کہ بہت خوش نصیب ہیں کہ جو آپ کو ایسی ماں ملی۔میں تو ٹھٹھک کر رک گئی۔اللہ جی!!کس کس نعمت کا شکر بجا لاؤں۔میں تو شکر بجا لانے سے قاصر ہوں۔اس دن احساس ہوا کہ دنیا میں بہت سی مائیں ماں بننے کا حقیقی کردار ادا نہیں کیا کرتیں۔انہیں رہنمائی کی ضرورت رہتی ہے۔اور یہ بھی کہ امی جان کے متعلق لکھنا ضروری ہے۔دہرائی سے اپنی ٹیوننگ بھی ہوتی رہتی ہے اور اپنی کمیاں کوتاہیاں بھی اچھے سے نظر آتی ہیں کہ کہاں کیا غلط کر رہے ہیں؟اور جب دنیا میں شر کا بول بالا ہو تو خیر کے دیے جلانے ضروری ہوتے ہیں اور خواتین کے لیے تو بے حد ضروری ہیں۔میں کہہ نہیں رہی،بس کوشش رہے گی کہ جب ہمت بندھے،کچھ لکھ سکوں۔کچھ نہ کچھ۔۔ صرف یہ سوچ کر کے کہ کیا معلوم اپنی لکھی کس بات سے اپنے دل کے اندھیرے اجالالوں میں بدل جائیں۔پڑھ کر کوئی امی جان کو دعا دے تو ان کی بیٹی کو بھی یاد رکھ لے۔رہا خراج تو وہ میں دینے سے قاصر ہوں!!
    بس ایسے ہی کی پیڈ سے لکھ لیا کروں گی۔لکھ کر پال لگانے بیٹھی تو پھر کبھی پوسٹ نہ کر سکوں گی۔دعاؤں کی درخواست کے ساتھ!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 10، 2017 #2
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,790
    موصول شکریہ جات:
    1,265
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    امی جان شادی سے قبل جاب کیا کرتی تھیں۔شادی کے بعد چھوڑ دی۔دیگر عزیزات کرتی رہیں اور اب تک کر رہی ہیں۔جب کبھی اکھٹے ہوتے،باتوں ہی باتوں میں خالائیں کہہ دیتیں کہ باجی!آپ نے جاب چھوڑ کر اچھا نہیں کیا۔زندگی میں سو اونچ نیچ ہوتے ہیں۔اچھا رہتا!
    چھوٹی تھی،مجھے الجھن ہوتی تھی لیکن کیا؟یہ سمجھ نہیں سکتی تھی۔کبھی کبھار امی جان بھی ذکر کرتیں کہ جاب کرتی رہتی۔۔لیو پر رہ لیتی۔میں پوچھتی کہ پھر ہمارا کیا ہوتا؟مسکرا کر کہتیں کہ میں سنبھال لیتی۔اولاد پر کمپرومائز نہیں ہوا کرتا۔میں بھی سوچتی کہ ہاں!امی جیسی منظم خاتون سنبھال لیتی۔لیکن پھر یہ الجھن کیسی؟؟
    عمر کا انیسواں اوربیسواں برس بہت اہم تھا،کئی عقدے کھلے۔امی جان طویل عرصے بعد اپنی خالہ زاد بہنوں سے ملنے جا رہی تھیں۔میں بھی چلی گئی۔امی جان ایک مزیدار کام یہ کیا کرتی تھیں کہ ہم بچوں کو اپنے بچپن تک کے قصے سنایا کرتی تھیں اور اس قدر سحر انگیز کہ تایا اور چچا زاد بہنیں تک بیٹھ کر سنتی رہتیں۔اس طرح ہمیں دور پار تک کےننھیالی ددھیالی سب رشتہ داروں سے نہ صرف غائبانہ تعارف رہتا بلکہ ان کی سوچ،زندگی اور پسند نا پسند سے بھی واقف ہو جاتے۔اب بھی مجھے سب پتا تھا کہ امی جان شادی سے قبل کیسے اپنی خالہ جان کے ہاں رہا کرتی تھیں۔نانو جان کو کیا کچھ پکانے آتا ہے؟ اور امی جان کا اپنے خالہ زاد بہن بھائیوں سے کس قدر پیار ہے؟سب فلم کی صورت میں چلتا۔یونہی لگتا کہ سب کچھ خود دیکھ رہی ہوں بلکہ اس جگہ موجود بھی ہوں۔اسی لیے ولید بھیا جھگڑا کرتے تھے کہ میں امی ابو کی شادی میں بھی موجود تھا بلکہ میں تو ابو جی کی گود میں بیٹھا تھا))کچھ اپنے بچپنے کی باتیں تھیں جو ہم بار بار سنا اور دہرایا کرتے تھے تو ازبر تھیں۔ملنا ملاقات ہوئی۔خلوص،محبت اور چاہت! سب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔سب خالاؤں کا بال بچوں سمیت اجتماع ہو گیا۔مجھ سے پوچھنے لگیں کہ اچھا لگ رہا ہے؟میں نے بتایا کہ بہت!!مجھے تو ابھی تک سب یاد ہے کہ ماموں جان کی شادی پر ان کے کمرے سے کس طرح امی جان نے مجھے دکان بھیجا تھا۔چھوٹے ماموں نے مریضوں کو جو چاکلیٹس لا کر دی تھیں،سارا یاد ہے۔محبتیں روز ملنے سے بڑھتی نہیں ہیں لیکن محبت سے ملنے پر محبت میں اضافہ ضرور ہوتا ہے۔
    باتوں باتوں میں خالہ جان نے ذکر کیا کہ ذاتی گاڑی بھی لے لی۔پھر ایسے ہی کہنے لگیں کہ باجی!آپ جاب نہ چھوڑتیں۔۔اچھا رہتا۔۔بندے کے ہاتھ میں ہونا چاہیے کچھ نہ کچھ۔امی جان کے چہرے پر سایہ سا لہرایا۔اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ مجھے جواب دینا چاہیے،ان سب باتوں کا جن کی مجھے الجھن ہے اور امی جان کو جاب والا کوئی گلہ نہ رہے۔میں نے مسکرا کہ کہا کہ خالہ جان!بالکل غلط!!اگر امی جان آج جاب کر رہی ہوتیں تو ہمارا اس قدر اچھی تربیت نہ ہوتی۔ہم بھی معاشرے کے دوسروں بچوں جیسے بگڑے ہوئے ہوتے۔مجھے فخر ہے کہ امی نے اپنی جاب کے لیے اپنے بچوں پر کمپرومائز نہیں کیا۔میں نے پلٹ کر امی جان کو دیکھا۔جہاں چند لمحوں پہلے ایک سایہ سا لہرایا تھا۔وہاں ایک دلکش اطمینان تھا۔والحمدللہ!
    بات یہ غلط تھی کہ ہم نے کبھی امی جان کو یہ احساس نہیں دلایا تھا کہ آپ نے جاب چھوڑ کر درست فیصلہ کیا تھا۔امی جان خود کہتی تھیں کہ میں نے درست کیا لیکن اولاد اگر اقرار کرے تو ماں کے دلی اطمینان میں اضافہ ہوتا ہے۔امی جان نے ہمارے لیے یہ قربانی دی ورنہ ان کے ارد گرد ایسی ماؤں کی کمی نہ تھی کہ جو خود تو جاب کرتی تھیں اور اولاد اعزا اور نوکرانیاں پالتی تھیں۔آج جب وہ بچے بھی جوان ہو چکے ہیں تو اعلی تعلیم کے حصول کے باجود لڑکیاں شادی کے بعد جاب سے انکار کر کے اولاد سنبھال رہی ہیں اور لڑکے کسی صورت جاب پیشہ بیوی لانے پر رضامند نہیں کہ ہمیں علم ہے کہ جن حالات میں ہم نے بچپن اور پھر جوانی گزاری ہے۔وہ تلخیاں ہم اپنے بچوں میں منتقل نہیں ہونے دیں گے۔یہ بات ان ماؤں کے لیے زہر کا درجہ رکھتی ہے۔زندگی کا سارا حاصل آج کیا کہہ رہا؟اولاد کے لیے ہی سب کچھ کیا اور آج اولاد ہی۔۔۔
    امی جی!آپ کا ہم پر یہ احسان تھا جسے ہم کبھی چکا نہیں سکتے۔امی جی!جاب چھوڑنے کے ساتھ ساتھ آپ نے ہمیں تربیت کر کے جس مقام پر کھڑا کیا کہ کوئی کردار پر حرف نہیں اٹھا سکتا تو امی جی!یہ سب اللہ کے فضل کے بعد آپ کا احسان تھا۔الحمدللہ کہ ہمیں آپ جیسی نعمت ملی باوجود اس کے کہ ہم اس قابل نہ تھے۔
     
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں