1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

امی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اپنے چہرے پر ہاتھ مارنا

'تحقیق حدیث سے متعلق سوالات وجوابات' میں موضوعات آغاز کردہ از زیشان علی, ‏ستمبر 12، 2019۔

  1. ‏ستمبر 12، 2019 #1
    زیشان علی

    زیشان علی رکن
    جگہ:
    ملتان، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2017
    پیغامات:
    26
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    30

    السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
    حدثنا يعقوب قال حدثنا أبي عن ابن إسحاق قال حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير عن أبيه عباد قال سمعت عائشة تقول مات رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري ونحري وفي دولتي لم أظلم فيه أحدا فمن سفهي وحداثة سني أن رسول الله قبض وهو في حجري ثم وضعت رأسه على وسادة وقمت ألتدم مع النسا وأضرب وجهي ۔
    (مسند احمد:جلد نہم:حدیث نمبر 6258 – إسناده حسن)
    ترجمہ : ام المومنین حضرت سیّدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات میری گردن اور سینہ کے درمیان اور میری باری کے دن میں ہوئی تھی ، اس میں میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا، لیکن یہ میری ناسمجھی اور نوعمری تھی کہ میری گود میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتقال ہوا اور پھر میں نے ان کا سر اٹھا کر تکیہ پر رکھ دیا اور خود عورتوں کے ساتھ مل کر رونے اور اپنے چہرے پر ہاتھ مارنے لگی ۔
    اس روایت کی سند درکار ہے
     
    Last edited by a moderator: ‏ستمبر 14، 2019
  2. ‏ستمبر 14، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یہ حدیث مسند امام احمد اور مسند ابویعلیٰ میں مروی ہے :
    الحديث رواه الإمام أحمد وأبو يَعلَى بِلفظ (حدثنا يعقوب، قال: حدثنا أبي، عن ابن إسحاق، قال: حدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه عباد، قال: سمعت عائشة، تقول: " مات رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري، ونحري وفي دولتي، لم أظلم فيه أحدا، فمن سفهي وحداثة سني أن رسول الله قبض وهو في حجري، ثم وضعت رأسه على وسادة، وقمت ألتدم مع النساء، وأضرب وجهي "(مسند الامام احمد 26348)طبع الرسالۃ (الفتح الربانی )
    قال الشيخ شعيب الارناؤط واصحابه : إسناده حسن من أجل ابن إسحاق: وهو محمد، وقد صرح بالتحديث هنا، فانتفت شبهة تدليسه. وبقية رجاله ثقات رجال الشيخين غير يحيى بن عباد بن عبد الله بن الزبير أخرج له أصحاب السنن، وهو ثقة، يعقوب: هو ابن إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف.
    وأخرجه أبو يعلى (4586) ، والبيهقي في "الدلائل" 7/213 من طريقين عن ابن إسحاق، بهذا الإسناد.
    ، وإسناده حَسَن .

    اس حدیث میں عیاں ہے کہ جناب رسول مکرم ﷺ کی موت ثابت شدہ حقیقت ہے ،(مات رسول الله صلى الله عليه وسلم بين سحري، ونحري )
    اوراس حدیث ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبردست فضیلت و منقبت ثابت ہوتی ہے کہ رحمۃ للعالمین کی وفات ان کے سینہ اقدس پر ہوئی ،
    اور ان کےاس شرف کیلئے پیغمبر اکرم ﷺ وفات چند روز پہلے پوچھتے رہتے تھے کہ میں کب سیدہ عائشہ کے گھر جاؤں گا ،
    رسول اکرم ﷺ کی وفات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سینے پر ہوئی اس کا ثبوت صحیح بخاری(1389) اور صحیح مسلم (باب فضل عائشۃ ) میں موجود یہ حدیث بھی ہے : عن عروة، عن عائشة، قالت: إن كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليتعذر في مرضه: «أين أنا اليوم، أين أنا غدا» استبطاء ليوم عائشة، فلما كان يومي، قبضه الله بين سحري ونحري ودفن في بيتي "
    ترجمہ : جناب عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نقل کرتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات کے ایام میں دریافت فرماتے آج میری باری کن کے یہاں ہے۔ کل کن کے یہاں ہوگی؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن کے متعلق خیال فرماتے تھے کہ بہت دن بعد آئے گی۔ چنانچہ جب میری باری آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح اس حال میں قبض کی کہ آپ میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور میرے ہی گھر میں آپ دفن کئے گئے۔"

    اور صحیح بخاری میں یہی حدیث دوسری اسناد سے اس طرح منقول ہے :
    قالت عائشة رضي الله عنها: توفي النبي صلى الله عليه وسلم في بيتي، وفي نوبتي، وبين سحري ونحري، وجمع الله بين ريقي وريقه "، قالت: دخل عبد الرحمن بسواك «فضعف النبي صلى الله عليه وسلم عنه، فأخذته، فمضغته، ثم سننته به»
    ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر ‘ میری باری کے دن ‘ میرے حلق اور سینے کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے وفات پائی ‘ اللہ تعالیٰ نے ( وفات کے وقت ) میرے تھوک اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک کو ایک ساتھ جمع کر دیا تھا ‘ ( وہ اس طرح کہ ) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے بھائی ) مسواک لئے ہوئے اندر آئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چبا نہ سکے ۔ اس لئے میں نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور میں نے اسے چبانے کے بعد وہ مسواک آپ کے دانتوں پر ملی ۔"

    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اٹھارہ سال کی تھی کہ آنحضرت ﷺ نے آخرت کا سفر اختیار کیا۔
    سیدہ اپنی اس کم عمری کو نبی مکرم ﷺ کی وفات کے وقت اپنے طرز عمل کا عذر بتایا ہے ،کہ میں اس وقت کم عمر ی کے سبب اتنے بڑے حادثہ کو دیکھ کر گھبرا گئی تھی ،یہ میری ناسمجھی تھی ،میرا یہ طرز عمل اس موقع کی مناسبت سے درست نہیں تھا ، اسی لئے وہ اسے اپنی نوعمری کی نا سمجھی قرار دے رہی ہیں " فَمِنْ سَفَهِي وَحَدَاثَةِ سِنِّي "
    اس لئے اس حدیث میں اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مذکورہ عمل میں مروجہ ماتم ،اور پیٹنے کی ہرگز کوئی دلیل نہیں بلکہ وہ خود اس عمل کو "ناسمجھی " قرار دیتی ہیں ،
    کیونکہ شریعت اسلامیہ میں میت پر آہ و بکا کرنا، چیخنا چلانا اور نوحہ کرنا ناجائز ہے۔ اسی طرح کپڑے پھاڑنا، رخسار پیٹنا وغیرہ بھی ناجائز ہے۔ جس طرح کہ صحیحین میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشار مروی ہے :
    ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية [صحيح البخارى وصحيح مسلم ]
    ”جو شخص (بوقت مصیبت) رخسار پیٹتا، گریبان پھاڑتا اور جاہلانہ انداز میں چیختا چلاتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔“

    سیدنا ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ " ’’ لوگوں میں دو باتیں ہیں ، وہ دونوں ان میں کفر (کی بقیہ عادتیں ) ہیں : ( کسی کے ) نسب پر طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا ۔ ‘‘ (مسلم حدیث 67، کتاب الایمان)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 14، 2019
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 14، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,368
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ماتم کے بارے میں شیعہ مذہب کی معتبر کتب کیا کہتی ہیں ؟؟؟
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حضرت ابو مالک اشعری رضی ﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    میری امت میں زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ہیں جن کو لوگ نہیں چھوڑیں گے، حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسرے شخص کو نسب کا طعنہ دینا، ستاروں کو بارش کا سبب جاننا اور نوحہ کرنا اور نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو اسے قیامت کے دن گندھک اور جرب کی قمیض پہنائی جائے گی۔
    (حیات القلوب، ملا باقر مجلسی جلد 2، ص 677)

    شفیع بن صالح شیعی عالم لکھتے ہیں کہ شیطان کو بہشت سے نکالا گیا تو اس نے نوحہ (ماتم) کیا۔ حدیث پاک میں ہے کہ غناء ابلیس کا نوحہ ہے۔ یہ ماتم اس نے بہشت کی جدائی میں کیا۔ اور رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ماتم کرنے والا کل قیامت کے دن کتے کی طرح آئے گا اور آپ نے یہ بھی فرمایا: کہ ماتم اور مرثیہ خوانی زنا کا منتر ہے۔
    (شیعہ کی معتبر کتاب مجمع المعارف حاشیہ حلیۃ المتقین، ص 142 و 162)

    حضرت جعفر صادق فرماتے ہیں:
    لیس لاحد ان یعداً اکثر من ثلاثۃ ایام الا المراۃ علی زوجہا حتی تنقضی عدتہا
    کسی مسلمان کو کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا سوائے عورت کے کہ وہ عدت کے ختم ہونے تک اپنے خاوند کی موت پر سوگ کرسکتی ہے۔
    (من لایحضرہ الفقیہ ج 1)

    حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے فرمایا:
    ینزل الصبر علی قدر المصیبۃ ومن ضرب یدہ علی فخذیہ عند مصیبۃ حبط عملہ
    صبر کا نزول مصیبت کی مقدار پر ہوتا ہے (یعنی جتنی بڑی مصیبت اتنا بڑا صبر درکار ہوتا ہے) جس نے بوقت مصیبت اپنے رانوں پر ہاتھ مارے تو اس کے تمام اچھے اعمال ضائع ہو گئے۔
    (شیعہ کی معتبر کتاب نہج البلاغہ، ص 495، باب المختار من حکم امیر المومنین حکم 144، شرح نہج البلاغہ لابن میثم ج 5، ص 588)

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر حضرت علی رضی ﷲ عنہ نے عرض کیا:
    لولا انک امرت بالصبر ونہیت عن الجزع لانفدنا علیک ماء الشئون
    یارسول ﷲ! اگر آپ نے ہمیں صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور ماتم کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آپ کا ماتم کر کے آنکھوں اور دماغ کا پانی خشک کر دیتے۔
    (شرح نہج البلاغہ لابن میثم شیعہ، ج 4، ص 409)

    کربلا میں حضرت حسین رضی ﷲ عنہ کی اپنی بہن کو وصیت:
    یااختاہ اتقی ﷲ وتعزی بعزاء ﷲ واعلمی ان اہل الارض یموتون واہل السماء لایبقون جدی خیر منی وابی خیر منی وامی خیر منی واخی خیر منی ولی ولکل مسلم برسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اسوۃ فعزاً مابہذا ونحوہ وقال لہا یا اخیۃ انی اقسمت علیک فابری قسمی لاتشقی علی جیباً ولا تخمشی علی وجہا ولاتدعی علی بالویل والثبور اذا انا ہلکت۔

    سیدنا حسین رضی ﷲ عنہ نے کربلا میں اپنی بہن سیدہ زینب کو وصیت کی، فرمایا:
    اے پیاری بہن! ﷲ سے ڈرنا اور ﷲ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق تعزیت کرنا، خوب سمجھ لو۔ تمام اہل زمین مر جائیں گے اہل آسمان باقی نہ رہیں گے، میرے نانا، میرے بابا، میری والدہ اور میرے بھائی سب مجھ سے بہتر تھے۔ میرے اور ہر مسلمان کے لئے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ کی ہدایات بہترین نمونہ ہیں۔ تو انہی کے طریقہ کے مطابق تعزیت کرنا اور فرمایا: اے ماں جائی میں تجھے قسم دلاتا ہوں۔ میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔ میرے مرنے پر اپنا گریبان نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرہ کو نہ خراشنا اور نہ ہی ہلاکت اور بربادی کے الفاظ بولنا۔
    (الارشاد للشیخ مفید ص 232، فی مکالمۃ الحسین مع اختہ زینب، اعلام الوریٰ ص 236 امرالامام اختہ زینب بالصبر، جلاء العیون جلد 2، ص 553، اخبار ماتم ص 399)

    رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ غنا کرنے والا اور مرثیہ خواں کو قبر سے زانی کی طرح اندھا اور گونگا کر کے اٹھایا جائے گا۔ اور کوئی گانے والا جب مرثیہ خوانی کے لئے آواز بلند کرتا ہے تو ﷲ تعالیٰ دو شیطان اس کی طرف بھیج دیتا ہے جو اس کے کندھے پر سوار ہو جاتے ہیں۔ وہ دونوں اپنے پاوں کی ایڑھیاں اس کی چھاتی اور پشت پر اس وقت تک مارتے رہتے ہیں جب تک وہ نوحہ خوانی ترک نہ کرے۔
    (شیعہ کی معتبر کتاب مجمع المعارف حاشیہ برحلیۃ المتقین ص 163)

    حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    میں نے ایک عورت کتے کی شکل میں دیکھی۔ کہ فرشتے اس کو آگ میں جلا رہے ہیں اس منہ سے آگ باہر آرہی ہے۔ اور فرشتے گرزوں کے ساتھ اس کے سر اور بدن کو مارتے ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی ﷲ عنہا نے پوچھا۔ میرے بزرگوار ابا جان مجھے بتلایئے کہ ان عورتوں کا دنیا میں کیا عمل اور عادت تھی کہ ﷲ تعالیٰ نے ان پر اس قسم کا عذاب مسلط کردیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ وہ عورت جو کتے کی شکل میں تھی اور فرشتے اس کو آگ جھونک رہے تھے۔ وہ مرثیہ خواں، نوحہ کرنے والی اور حسد کرنے والی تھی۔
    (شیعہ کی معتبر کتاب حیات القلوب جلد 2، ص 543، عیون اخبار الرضا جلد 2، ص 11)
     
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں