1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انبیاء اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور نماز پڑھتے ہیں روایت کی تحقیق

'مسائل قبور' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏اپریل 11، 2014۔

  1. ‏جون 09، 2014 #141
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,506
    موصول شکریہ جات:
    393
    تمغے کے پوائنٹ:
    197

    مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۚ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمْ ۖ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ۚ وَأَنتَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ [٥:١١٧]

    میں نے ان سے کچھ نہیں کہا بجز اس کے جس کا تو نے مجھے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم خدا کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پروردگار ہے اور جب تک میں ان میں رہا ان (کے حالات) کی خبر رکھتا رہا جب تو نے مجھے دنیا سے اٹھا لیا تو تو ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے خبردار ہے
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 14، 2014 #142
    احمد ندیم

    احمد ندیم رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 19، 2014
    پیغامات:
    91
    موصول شکریہ جات:
    47
    تمغے کے پوائنٹ:
    83

    م
    مجھے جیسے ملا ہے میں نے آپ تک پہنچا دیا،،،،،،،،،آپ کے کہنے کا مقصد یہ ہے یہ اس میں تحریف کی گئی ہے؟
     
  3. ‏اگست 23، 2014 #143
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    • اس سارے قضیے میں اصل نکتہ جو محل نزاع ہے، پہلے اسے متعین کرنا چاہیے:
    • انبیاے کرام علیہم السلام پر موت وارد ہوئی ،اس پر سب کا اتفاق ہے۔
    • (مولانا قاسم صاحب نانوتوی صاحب نے عجیب و غریب تاویل کی ہے آب حیات میں کہ روح اقدس جسد مطہر سے نکلی ہی نہیں بل کہ قلب میں سمٹ گئی!!)
    • برزخ میں انبیاے کرام علیہم السلام زندہ ہیں ،اس پر بھی سب کا اتفاق ہے۔
    • اختلاف نوعیت و کیفیت میں ہے کہ یہ زندگی کیسی ہے؟دنیوی،حسی یا برزخی،روحانی اور اخروی؟
    • حیاتی دیوبندی اور بریلوی کہتے ہیں کہ وہ زندگی دنیوی،حسی اور جسمانی ہے جب کہ اہل حدیث اور دیوبندیوں کے ایک گروہ کے نزدیک وہ حیات برزخی اور روحانی ہے؛
    • اسے جسمانی،دنیوی یا دنیا کے مماثل کہنا غلط ہے۔
    • اب دیوبندی اور بریلوی احباب فرمائیں کہ کتاب و سنت سے حیات دنیوی ،جسمانی یا حسی کی کیا دلیل ہے؟؟
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏اگست 23، 2014 #144
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    حیات برزخی میں تمام انسان ،مومن ہوں یا کافر،انبیا ہوں یا شہدا،شریک ہیں ،فرق درجات اور مراتب کا ہے۔
    سب سے اعلیٰ زندگی انبیاے کرام علیہم السلام کی ہے۔
    ان کے بعد شہدا کا درجہ ہے۔
    پھر عام مومنین(حسب اعمال) ہیں۔
    پھر کفار ومنافقین ہیں۔
    یہ تمام مراتب برزخ کے ہیں ،دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
    شہدا کے باب میں ایک استثنا یہ ہے کہ انھیں زندہ کہا گیا ہے اور مردہ کہنے سے منع کیا گیا ہے ؛لیکن وہ زندگی دنیوی ہر گز نہیں۔
    باقی تمام لوگوں کو بہ شمول انبیا و رسل علیہم السلام دنیا کے اعتبار سے میت اور برزخ کے اعتبار سے زندہ کہا جائے گا۔واللہ اعلم بالصواب
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  5. ‏اگست 24، 2014 #145
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    150
    موصول شکریہ جات:
    51
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    ارسلان بھائی لنک نہیں کھل رہا. domain expire ہو گئی ہے. براہ مہربانی کوئی اور لنک دیجئے. جزاک الله خیر.
     
  6. ‏اگست 24، 2014 #146
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    رفیق صاحب کی سائٹ کے متعلق @شاکر بھائی نے کچھ وضاحت کی تھی
     
  7. ‏اگست 24، 2014 #147
    ساجد کمبوہ

    ساجد کمبوہ رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 13، 2011
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    172
    تمغے کے پوائنٹ:
    82

    السلام علیکم
    یہ کتاب اس لنک سےحاصل کی جا سکتی ہے
     
  8. ‏اگست 24، 2014 #148
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    150
    موصول شکریہ جات:
    51
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    جزاک الله خیر۔۔۔۔یا اخی.
     
  9. ‏اگست 29، 2014 #149
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    738
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    حافظ طاہر بھائی۔ میرے پاس شاید یہاں مستقل حاضری اور بحث کا وقت نہ ہو۔
    ایک نکتہ عرض کر کے چلا جاتا ہوں۔
    1: حیات میں اصل اس جسم کو حیات حاصل ہونا ہے جو کہ ہمارے پاس ہے۔ کیوں کہ یہ کم از کم دنیا میں مشاہدہ سے ثابت ہے۔ اس لیے جب قبر میں حیات کا کہتے ہیں تو متبادر فی الذہن یہی جسم آتا ہے۔
    دلیل خلاف ظاہر پر ہوتی ہے۔ چناں چہ دلیل اس پر ہونی چاہیے کہ حیات تو ہے لیکن جسم سے اس حیات کا کوئی تعلق نہیں۔ اور اس کے لیے الگ سے جسد مثالی دیا جاتا ہے۔
    یعنی سوال قائلین ممات النبی ﷺ سے ہونا چاہیے دلیل کا نہ کہ قائلین حیات سے۔

    2: حیات انبیاء حیات شہداء کی آیت سے بطریق دلالۃ النص ثابت ہے۔

    ولا تقولو لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون
    یہاں قتل جسم کو کیا جا رہا ہے، اموات جسم کو کہا جا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ احیاء بھی جسم کو ہی کہا جا رہا ہے۔
    اگر احیاء صرف روح کو کہا جا رہا ہے اور اس روح کا جسم سے کوئی تعلق نہیں تو ارواح تو کفار کی بھی زندہ ہوتی ہیں۔ پھر شہداء کی تخصیص کا آخر کیا فائدہ ہے؟؟؟

    یہاں ایک اہم چیز کی وضاحت کر دوں کہ حیات انبیاء یا شہداء سے عموما یہ مراد ہوتا ہے کہ ارواح اپنے مقام پر ہیں جیسی کیفیت میں انہیں اللہ تعالی نے رکھا ہے اور جسم سے ان کا تعلق اور ربط ہے۔
    اس صورت میں وہ روایات بھی منطبق ہو جاتی ہیں جن میں ارواح کو رزق دیے جانے کا ذکر ہے اور وہ آیات بھی جن سے جسم کی زندگی معلوم ہوتی ہے۔ اس حیات کو روح کے لحاظ سے دیکھیں تو یہ حیات برزخی ہے اور جسم کے لحاظ سے دیکھیں تو حیات دنیوی یا حسی ہے۔
    کچھ ایسا ہی مفہوم حسنؒ سے مروی اس روایت سے بھی حاصل ہوتا ہے جو علامہ نسفیؒ نے روایت کی ہے:۔

    عن الحسن رضى الله عنه أن الشهداء أحياء عند الله تعرض أرزاقهم على أرواحهم فيصل إليهم الروح والفرح كما تعرض النار على أرواح آل فرعون غدواً وعشيا فيصل اليهم الوجع
    یعنی رزق ان کی ارواح پر پیش کیا جاتا اور اس کی فرحت ان تک (یعنی اجساد تک) پہنچتی ہے۔

    میری اس موضوع پر زیادہ تحقیق نہیں ہے۔ واللہ اعلم
     
  10. ‏اگست 29، 2014 #150
    محمد باقر

    محمد باقر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2014
    پیغامات:
    297
    موصول شکریہ جات:
    47
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    محترم اشماریہ شاہ صاحب :
    محترم اپنی آخری بات پر توجہ کریں"میری اس موضوع پر زیادہ تحقیق نہیں ہے" محترم جس موضوع پر تحقیق نہ ہو اس پر گفتگو نہیں کرنی چاہئیے؟ جو کچھ جناب نے لکھا اس پر چند باتیں عرض کرتا ہوں آپ کی تھوڑی توجہ درکار ہوگی ۔
    جناب نے لکھا کہ
    "حیات میں اصل اس جسم کو حیات حاصل ہونا ہے جو کہ ہمارے پاس ہے۔ کیوں کہ یہ کم از کم دنیا میں مشاہدہ سے ثابت ہے۔ اس لیے جب قبر میں حیات کا کہتے ہیں تو متبادر فی الذہن یہی جسم آتا ہے۔"
    یہ فرمائیں کہ "قبر" کی جس حیات کے آپ قائل ہیں یہ مشاہدہ والی حیات ہے یا "غیبی پردہ "والی؟اگر"غیبی پردہ والی" ہے تو اسے "مشاہدہ دنیا والی حیات پر قیاس کیوں کرتے ہیں؟انبیا ء کرام علیہم السلام کے علاوہ کسی فرد بشر کے جسم کے محفوظ رہنے کی گارنٹی شریعت نہیں دیتی تو باقی مومنین کی حیات کس جسم کے ساتھ ہوگی؟


    دوسری بات جناب ِ محترم نے یہ لکھی کہ
    دلیل خلاف ظاہر پر ہوتی ہے۔ چناں چہ دلیل اس پر ہونی چاہیے کہ حیات تو ہے لیکن جسم سے اس حیات کا کوئی تعلق نہیں۔ اور اس کے لیے الگ سے جسد مثالی دیا جاتا ہے۔
    یعنی سوال قائلین ممات النبی ﷺ سے ہونا چاہیے دلیل کا نہ کہ قائلین حیات سے۔


    محترم : آپ جس حیات کے قائل ہیں پہلے اُس حیات کے بارے اپنا عقیدہ لکھتے کہ آپ کس حیات کے قائل ہیں ؟ جس حیات کے آپ قائل ہونگے اُس کی دلیل تو جناب کے ذمہ ہو گی نہ کے منکر کے ذمہ؟اپنا عقیدہ مکمل حیات فی القبر اور سماع فی القبر کا لکھ دیں!
    یہاں ایک بات جناب نے یہ بھی لکھی کہ(سوال قائلین ممات النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ہونا چاہئیے) محترم یہ فرمائیں کیا آپ نبی اکرمﷺ کی "موت" کے قائل نہیں ؟ اگر ہیں تو ممات النبیﷺ کے قائل تو آپ بھی ہوئے ؟تو پھر سوال قائلین ممات النبی ﷺ سے ہی کیوں؟

    اب آپ بھی ممات النبیﷺ کے(یعنی موت) قائل اور ہم بھی ۔اختلاف ہے موت کے بعد کی حیات کا ،اس پر میرے چند سوال ہیں ان کے جواب مرحمت فرمائیں تو بعد از وفات والی حیات خود بخود طے ہو جائے گی۔
    (1) آپ ﷺ پر "موت" کا ورُود "خروج"ِ روح سےہوا یا "حبسِ" روح سے؟
    (2) روحِ مبارک جسمِ اقدس سے نکل جانے کے بعد کہاں قیام پزیر ہے(یعنی روح کا مستقر کہاں ہے)
    (3)بعد از وفات آپ ﷺ کا جسدِ اقدس دو دن حجرہ مبارکہ میں رہا ،اس وقت جسدِ اقدس "میت" تھا ،یا زندہ؟(یعنی اس وقت جسدِ اقدس روح سے خالی تھا یا روح جسدِ اقدس میں موجود تھی؟)
    (4) کیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو "میت" سمجھ کر دفنایا تھا؟
    (5) بعد از دفن آپ ﷺ کی روحِ مبارک کس وقت جسم اقدس میں واپس آئی؟یا روح تو اپنے مُستقر میں رہی لیکن اُسکا تعلق جسمِ منور سے قائم کر دیا گیا؟اور اس تعلق کی نوعیت کیا تھی؟
    (6) قرآن مجید میں بیسیوں آیات میں فرمایا گیا ہے کہ" قیامت میں ہم مردوں کو زندہ کریں گے" اگر سب قبروں والوں کی روحیں ان کے جسموں میں واپس کے کے انہیں زندہ کر دیا گیا ہے توکیا اللہ تعالیٰ قیامت میں "زندوں " کو زندہ کریں گے؟
    (7) کیا جسدِ مثالی کی شریعت میں کوئی حثیت نہیں؟ کیا جناب جسدِ مثالی کے قائل نہیں؟ اور جو علماء کبار اس کے قائل ہیں اُن کیا فتویٰ صادر ہوتا ہے؟

    جناب َ محترم نے یہ آیت کریمہ لکھی اور اس پر اپنا قیاس ظاہر کیا کہ جب قتل جسم کو کیا جارہا ہے تو زندہ بھی جسم ہوگا؟
    : حیات انبیاء حیات شہداء کی آیت سے بطریق دلالۃ النص ثابت ہے۔
    ولا تقولو لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون
    یہاں قتل جسم کو کیا جا رہا ہے، اموات جسم کو کہا جا رہا ہے تو ظاہر ہے کہ احیاء بھی جسم کو ہی کہا جا رہا ہے۔
    اگر احیاء صرف روح کو کہا جا رہا ہے اور اس روح کا جسم سے کوئی تعلق نہیں تو ارواح تو کفار کی بھی زندہ ہوتی ہیں۔ پھر شہداء کی تخصیص کا آخر کیا فائدہ ہے؟؟؟


    محترم اپنے اس قیاس پر کوئی کوئی دلیل پیش کریں ؟ یا اس آیت کریمہ کی جو تفسیر رسول اللہ ﷺ نے فرمائی ہے وہ کسی مستند تفسیر میں پڑھ لیں تو ائندہ ایسا قیاس نہیں کریں گے ۔اس آیت کریمہ کی تفسیر سے جو حیات شہداء کی ثابت ہوتی ہے وہی رسول اللہ ﷺ کی مان لیں؟
    جناب نے یہ بھی لکھا کہ
    یہاں ایک اہم چیز کی وضاحت کر دوں کہ حیات انبیاء یا شہداء سے عموما یہ مراد ہوتا ہے کہ ارواح اپنے مقام پر ہیں جیسی کیفیت میں انہیں اللہ تعالی نے رکھا ہے اور جسم سے ان کا تعلق اور ربط ہے۔

    خیر القرون میں ایک صحابی رضی اللہ عنہ یا ایک تابعی یا تبع تابعی رحمہ اللہ تعالیٰ یا صرف ایک فقیہ،ایک مفسر،ایک محدث سے صحیح سند کے ساتھ نقل کر دیں کہ انہوں نے فرمایا ہو کہ " انبیاء کرام یا شھدائے عظام کی اروح اپنے مقام پرہیں اور ان کا تعلق جسم کے قائم کر دیا جاتا ہے؟۔
    امید ہے کہ آپ میری ان معروضات پر غور کریں گے اور جواب بھی مرحمت فرمائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی ناصر ہو
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. مصبور صدیقی
    جوابات:
    13
    مناظر:
    1,492
  2. lovelyalltime
    جوابات:
    5
    مناظر:
    1,188
  3. lovelyalltime
    جوابات:
    0
    مناظر:
    679
  4. lovelyalltime
    جوابات:
    0
    مناظر:
    520
  5. lovelyalltime
    جوابات:
    0
    مناظر:
    564

اس صفحے کو مشتہر کریں