1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انبیاء علیہ السلام کے اجسام کے بارے میں صحیح عقیدہ کیا ہے؟

'مکالمہ' میں موضوعات آغاز کردہ از شاہد نذیر, ‏ستمبر 05، 2011۔

  1. ‏ستمبر 05، 2011 #1
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,932
    موصول شکریہ جات:
    6,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

    سب سے پہلے میں نے یہ بات الحدیث میں پڑھی اور مجھے حیرت ہوئی کہ کوئی عقیدہ بغیر دلیل کے بھی ہوسکتا ہے! ملاحظہ فرمائیں:

    ماہنامہ الحدیث، شمارہ نمبر 14، جولائی 2005، ص6 پر سنن ابی داود کی حدیث کہ انبیاء کے جسم کو کھانا اللہ نے مٹی پر حرام کر دیا ہے کو شیخ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی انوار الصحیفہ کے تحت ضعیف قرار دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے فوراً بعد لکھا ہے: یاد رہے کہ نبی کریم ﷺ کا جسم مبارک بعینہ صحیح سلامت و محفوظ ہے۔

    یہ سوال میں نے شیخ محترم جناب رفیق طاہر حفظہ اللہ کی خدمت میں پیش کیا اور اس بے دلیل دعویٰ کی دلیل طلب کی لیکن جواب سے مجھے تسلی نہیں ہوئی۔ دیکھئے: اس دعوى کی کیا دلیل ہے کہ انبیاء کے جسموں کو مٹی نہیں کھاتی - URDU MAJLIS FORUM

    شیخ محترم نے کہا ہمارے نزدیک سنن ابی داود کی حدیث صحیح مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن چونکہ میں حدیث کی تحقیق نہیں کرسکتا تھا اس لئے مجبورا خاموشی اختیار کی اور سمجھا کہ ہوسکتا ہے کہ حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ سے حدیث کی تحقیق میں غلطی ہوئی ہو اور ایک صحیح حدیث کو ضعیف قرار دے دیا ہو۔واللہ اعلم

    لیکن جب حال ہی میں اہل حدیث کے اکابر محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی ایک تحریر نظر سے گزری جس سے حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کے موقف کی تائید ہوتی ہے۔ تو پرانا سوال دوبارہ ذہن میں ابھر آیا۔ اسماعیل سلفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اپنی گزارشات میں عرض کیا تھا کہ حیات انبیاءعلیہم السلام پر اجماع امت ہے گو احادیث کی صحت محل نظر ہے تاہم ان کا مفاد یہ ہےکہ انبیا علیہم السلام کے اجسام مبارکہ کو مٹی نہیں کھاتی۔ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء (مسئلہ حیات النبی از مولانا اسماعیل سلفی، ص52)

    حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ اور مولانا اسماعیل سلفی رحمہ اللہ کی بات میں زرہ برابر بھی کوئی فرق نہیں دونوں کے نزدیک انبیاء علیہ السلام کے اجسام کو مٹی نہ کھانے والی حدیث ضعیف ہے لیکن عقیدہ یہی ہے جو کہ ضعیف حدیث میں ذکر ہوا ہے۔ میرا اہل علم سے سوال ہے کہ انبیاء علیہ السلام کے اجسام کے بارے میں صحیح عقیدہ کیا ہے جو نص سے ثابت ہو؟

    محمد اسماعیل سلفی رحمہ اللہ نے انبیاء علیہ السلام کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی، حدیث کے ضعف پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے تفصیل کے لئے مذکورہ کتاب کا مطالعہ کریں یہ رسالہ کتاب تحریک آزادی فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی میں شامل ہے۔
    تحریک آزادی فکر اور حضرت شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی - اہل حدیث - کتاب و سنت کی روشنی میں لکھی جانے والی اردو اسلامی کتب کا سب سے بڑا مفت مرکز
    مولانا حدیث کے ضعف کے بارے میں لکھتے ہیں: جہاں تک ان اللہ حرم علی الارض ان تاکل اجساد الانبیاء ٹکڑے کا تعلق ہے وہ صرف تین سندوں سے مروی ہے اور تینوں مخدوش ہیں۔(حاشیہ مسئلہ حیات النبی از مولانا اسماعیل سلفی، ص37)

    مزید فرماتے ہیں: حافظ ابن القیم نے بھی جلاء الافہام میں ابن حاتم کی جرح کے جواب میں کوشش فرمائی ہے جس کی بنیاد عبدالرحمنٰ بن یزید بن جابر اور عبدالرحمن بن یزید بن تمیم کے اسشتباہ پر رکھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جلاء الافہام کی ساری بحث پڑھنے کے بعد بھی ذہن صاف نہیں ہوتا۔اجلہ محدثین رحمہم اللہ کی تنقید ایسی نہیں جو مناظرانہ احتمالات کی نذر کر دی جائے۔( مسئلہ حیات النبی از مولانا اسماعیل سلفی، ص38)

    انبیاء علیہ السلام کے اجسام کو مٹی نہیں کھاتی والی روایت اس صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے جسے حافظ نورالدین ہیثمی نے مجمع الزواید جلد 10 ص170 پر ابویعلی اور طبرانی سے بروایت حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نقل فرما کر صحیح کہا اور جس میں آیا ہے: حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کے ہمراہ رات مصر سے نکلے تو راستہ بھول گئے۔ جب تشویش ہوئی تو علمائے بنی اسرائیل نے فرمایا، یوسف علیہ السلام نے ہم سے پختہ وعدہ لیا تھا کہ جب وہ مصر سے جائیں تو میری ہڈیاں اپنے ہمراہ لیتے جائیں۔چناچہ انہوں نے ہڈیاں نکال لیں اور اپنے ہمراہ لے گئے۔
    اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مٹی انبیاء علیہ السلام کے اجسام کے ساتھ تصرف کرتی ہے۔واللہ اعلم

    میں چاہونگا کہ محترم مجتہد رفیق طاہر حفظہ اللہ بھی اس بارے میں اپنی گزارشات ضرور پیش کریں کیونکہ شیخ ایک اصولی آدمی ہیں اور اکثر ان کی تحقیق پر دل مطمئن ہو جاتا ہے۔
     
  2. ‏ستمبر 05، 2011 #2
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,932
    موصول شکریہ جات:
    6,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    کیپٹن مسعود احمد عثمانی جو برزخی فرقے کا بانی تھا کی ایک کتاب مطالعہ سے گزری تھی جس کا عنوان تھا اسلام اور مسلک پرستی۔ اس کتاب میں پہلی مرتبہ میں نے پڑھا کہ انبیاء علیہ السلام کے اجسام کی حفاظت پر مبنی احادیث ضعیف ہیں۔ لیکن چونکہ وہ خود ایک گمراہ آدمی تھا اس لئے میں اس بات پر کوئی خاص توجہ نہیں دی لیکن اس کی بات میرے لاشعور میں بیٹھ گئی۔ اس سلسلے میں اس کی ایک بات میرے دل کو لگی کہ تاریخ میں کچھ واقعات ایسے ضرور ہوئے ہیں جس میں صحابہ اور صلحاء کے اجسام ان کی وفات کے بہت عرصے بعد بھی بالکل صحیح سلامت تھے لیکن بعض صحابہ اور صلحاء وغیرہ جو ان سے بعد میں وفات پائے ان کے جسم محفوظ نہ رہے اس کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتا ہے اصل میں اس کا سبب مختلف جگہوں کی مٹی کی مختلف خصوصیات پر ہے بعض جگہوں کی مٹی ایسی ہوتی ہے کہ قدرتی طور پر وہاں دفن ہونے والا جسم کافی عرصے تک محفوظ رہتا ہے۔ اور بعض جگہوں پر اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔

    اہل علم سے درخواست ہے کہ یہ بات کہاں تک درست ہے اس پر بھی روشنی ڈالیں۔
     
  3. ‏ستمبر 05، 2011 #3
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    حافظ‌ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ کے دعوی کے دلیل کے سلسلے میں عرض ہے کہ حافظ موصوف نے اپنی کتابوں‌ میں اس دعوے کی دلیل بھی ذکر کردی ہے :

    ملاحظہ ہوحافظ زبیرعلی زئی حفظہ اللہ کے دعوی کی دلیل:
    امام ابن ابی شیبہ کہتے ہیں:
    حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ أَنَسٍ: أَنَّهُمْ لَمَّا فَتَحُوا تُسْتَرَ قَالَ: فَوَجَدَ رَجُلًا أَنْفُهُ ذِرَاعٌ فِي التَّابُوتِ , كَانُوا يَسْتَظْهِرُونَ وَيَسْتَمْطِرُونَ بِهِ , فَكَتَبَ أَبُو مُوسَى إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِذَلِكَ , فَكَتَبَ عُمَرُ: «إِنَّ هَذَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالنَّارُ لَا تَأْكُلُ الْأَنْبِيَاءَ , وَالْأَرْضُ لَا تَأْكُلُ الْأَنْبِيَاءَ , فَكَتَبَ أَنِ انْظُرْ أَنْتَ وَأَصْحَابُكَ يَعْنِي أَصْحَابَ أَبِي مُوسَى فَادْفِنُوهُ فِي مَكَانٍ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُكُمَا» قَالَ: فَذَهَبْتُ أَنَا وَأَبُو مُوسَى فَدَفَنَّاهُ [مصنف ابن أبي شيبة 7/ 4 واسنادہ صحیح]۔

    اس روایت کی سند بالکل صحیح ہے ، اوریہ مرفوع حکمی ہے۔

    حافظ موصوف نے اس دلیل کو اپنی تحقیق کردہ کتاب فضائل درود وسلام کے صفحہ 66 پر ذکر کیا ہے۔
     
  4. ‏ستمبر 05، 2011 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    السلام علیکم
    یار آپ کا یہ تھریڈ تو سوال و جواب والے سیکشن میں تھا اور یہاں ابو الحسن علوی بھائی نے بھی جواب دیا تھا۔وہ کہاں گیا؟
     
  5. ‏ستمبر 06، 2011 #5
    طالب نور

    طالب نور رکن مجلس شوریٰ
    جگہ:
    سیالکوٹ، پاکستان۔
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2011
    پیغامات:
    361
    موصول شکریہ جات:
    2,303
    تمغے کے پوائنٹ:
    220

    محترم شاہد نزیر بھائی نے لکھا:
    شیخ محترم حافظ زبیر علی زئی حفظہ اللہ اپنی کتاب "فضائل درود و سلام" میں اپنے اس نقطہ کی وضاحت با دلیل پہلے ہی پیش کر چکے ہیں۔ اپنی طرف سے کچھ کہنے کی بجائے میں متعلقہ صفحہ کا اسکین پیش کر رہا ہوں۔ والسلام
    [​IMG]
    محترم کفایت اللہ بھائی مجھ سے پہلے ہی شیخ زبیر علی زئی حفظہ اللہ کی دلیل پیش کر چکے ہیں (اللہ جزائے خیر عطا فرمائے) جسے میں پیش نطر نہیں رکھ سکا۔ اس لئے یہ پوسٹ لکھی تھی۔ بہرحال اسکین کے اضافہ کے ساتھ ان شاء اللہ یہ پوسٹ بھی مفید رہے گی، والسلام۔
     
  6. ‏ستمبر 06، 2011 #6
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,975
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    مذکورہ حدیث کی سند میں اختلاف صرف ایک راوی پر ہے ، ابن ابی حاتم نے یہ کہا ہے کہ " جعفی نے ابن تمیم سے روایت کی ہے ابن جابر سے نہیں " جبکہ دوسری طرف ایک ثقہ محدث جعفی از ابن جابر کی سند سے روایت بیان کر رہا ہے ۔ تو اس بارہ میں زیادہ گہرائی میں جائے بغیر بھی یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ انکار کرنے والا ، لاعلمی کی بنا پر ہی انکار کرتا ہے ۔ اور جب اثبات سامنے آجائے تو اثبات کو انکار پر مقدم کیا جاتاہے یہی علم اصول کا معروف قاعدہ ہے کہ " المثبت مقدم على النافی " ، لہذا یہ جرح مردود ہے ۔
    نیز اسکے علاوہ بھی مصنف ابن ابی شیبہ میں ایک باسند صحیح مرفوع روایت موجود ہے کہ وَالْأَرْضُ لَا تَأْكُلُ الْأَنْبِيَاءَ جلد ۷ ص ۴ ح ۳۳۸۲۰
    یعنی "زمین انبیاء کو نہیں کھاتی" ۔
    یہ روایت بھی سابقہ روایت کی تائیید کرتی ہے ۔
    لہذا یہی درست موقف ہے کہ زمین انبیاء (کے اجساد) کو نہیں کھاتی ۔
     
  7. ‏ستمبر 07، 2011 #7
    رفیق طاھر

    رفیق طاھر رکن مجلس شوریٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    ارض اللہ
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2011
    پیغامات:
    790
    موصول شکریہ جات:
    3,975
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    انبیاء کے اجساد کے حوالے سے تو مسئلہ واضح کیا جاچکا رہی کیپٹن ڈاکٹر صاحب کی یہ بات تو یہ بھی بالکل بے بنیاد اور باطل ہے ۔
    کیونکہ
    ہم اخبارات میں متعدد بار ایسا پڑھ چکے ہیں کہ فلاں علاقہ سے لاشیں نکالی گئیی اور ان میں سے ایک لاش بالکل صحیح وسالم تھی ۔
    یعنی سب لاشوں کے بارہ میں نہیں صرف ایک کے بارہ میں صحیح وسالم یا تازہ ہونے کی خبر کا آنا اس نظریہ کی نفی کرتا ہے جو موصوف نے پیش کیا ہے
     
  8. ‏ستمبر 10، 2011 #8
    شاہد نذیر

    شاہد نذیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2011
    پیغامات:
    1,932
    موصول شکریہ جات:
    6,201
    تمغے کے پوائنٹ:
    412

    جزاک اللہ خیر کفایت اللہ بھائی، طالب نور بھائی اور شیخ محترم رفیق طاہر بھائی مجھے تمام باتوں کا تسلی بخش جواب مل گیا سوائے ایک بات کہ جو میں نے اپنی پہلی پوسٹ میں درج کی تھی۔ میں نے ابو یعلی سے ایک صحیح حدیث پیش کی تھی کہ انبیاء علیہ السلام کے اجسام کے ساتھ مٹی تصرف کرتی ہے اگر یہ حدیث صحیح ہے تو مخالف مفہوم کی حدیث کے درمیان تطبیق بیان فرما دیں۔ شکریہ
     
  9. ‏ستمبر 10، 2011 #9
    کفایت اللہ

    کفایت اللہ عام رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 14، 2011
    پیغامات:
    4,770
    موصول شکریہ جات:
    9,777
    تمغے کے پوائنٹ:
    722

    اس کاجواب علامہ البانی رحمہ اللہ کے الفاظ میں ملاحظہ ہو:

    كنت استشكلت قديما قوله في هذا الحديث " عظام يوسف " لأنه يتعارض بظاهره مع الحديث الصحيح: " إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء " حتى وقفت على حديث ابن عمر رضي الله عنهما. " أن النبي صلى الله عليه وسلم لما بدن، قال له تميم الداري: ألا أتخذ لك منبرا يا رسول الله يجمع أو يحمل عظامك؟ قال: بلى فاتخذ له منبرا مرقاتين ". أخرجه أبو داود (1081) بإسناد جيد على شرط مسلم. فعلمت منه أنهم كانوا يطلقون " العظام "، ويريدون البدن كله، من باب إطلاق الجزء وإرادة الكل، كقوله تعالى * (وقرآن الفجر) * أي: صلاة الفجر.
    فزال الإشكال والحمد لله، فكتبت هذا لبيانه.
    [سلسلة الأحاديث الصحيحة وشيء من فقهها وفوائدها 1/ 624]۔
     
  10. ‏ستمبر 11، 2011 #10
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,176
    موصول شکریہ جات:
    15,223
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    جزاکم اللہ خیرا کفایت اللہ بھائی!
    اللہ تعالیٰ ہمارے علم وعمل میں اضافہ فرمائیں! آمین!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں