1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اندھیروں سے روشنی کا سفر( خوارج کی صف سے تائب ہونے والے کی زبانی)

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو یحییٰ خراسانی, ‏فروری 19، 2013۔

  1. ‏فروری 19، 2013 #1
    ابو یحییٰ خراسانی

    ابو یحییٰ خراسانی مبتدی
    شمولیت:
    ‏فروری 18، 2013
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    بسم اللہ الرحمن الرحیم



    " من الظلمات الی النور"۔۔۔۔۔تاریکی سے روشنی کا سفر


    فیس بک پیج پر تفصیل جانئے
    از
    ابو یحیی الخرسانی


    بچپن ہی سے گھر کے کام کاج کا بوجھ نہ ہونے کی وجہ سے پڑھائی کے بعد فرصت کے لمحات مسلمانوں کی تاریخ اور موجودہ حالات جاننے پر ہی صرف ہوتے ‏تھے۔ہم تین دوست تھے جو ایک ہی محلے میں رہتے تھے،تعلیمی اور تفریحی سرگرمیوں میں ساتھ ساتھ ہوتے تھے۔بچپن سے لے کر مڈل،مڈل سے ‏میٹرک اور میٹرک سے کالج تک ایک ساتھ ہی رہے۔
    کالج کے زمانے میں مسلمانوں پر امریکہ ، اسرائیل اور بھارت سمیت دوسرے کفار کا ظلم دیکھ کرمیرا جہاد کا شوق مزید بڑھ گیا،اور اس سلسلے میں میرا رابطہ ‏کچھ جہادی تنظیموں سے ہوا جن میں حزب المجاہدین ، جیش محمد اور لشکر طیبہ شامل تھیں ۔ جہاد کی تربیت کے لیے جانے کی بہت کوشش کی ،لیکن گھر سے نکلنا ‏ممکن نہ ہو سکا۔ جبکہ میرےدونوں دوست جہاد کی ابتدائی تربیت کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر چکے تھے۔
    اب ہم تینوں دوستوں میں جدائی ایسی ہوئی کہ باقی دو دوستوں نے تواسلام آباد میں ہی اپنی تعلیم جاری رکھی،لیکن میرا لاہور کی ایک معروف یونیورسٹی میں ‏داخلہ ہوگیا۔

    یونیورسٹیوں کے ماحول کے بارے جو کچھ سنا تھا ویسا ہی پایا،لیکن اللہ کے فضل سے یونیورسٹی میں بھی کچھ ایسے دوست میسر آ گئے جو دعوت کے کام کے ساتھ ‏ساتھ جہاد کی دعوت بھی دیتے تھے،ہاسٹل میں ترجمہ کلاس کرواتے،دروس وغیرہ بھی ترتیب دیتے تھے،مجھے وہ ماحول بہت اچھا لگا۔ ۔اسی ماحول میں رہ کر ‏میرے اندر جہاد کا شوق اور بڑھ گیا اور ذہن میں جاب کی بجائے جہاد کے لیے زندگی وقف کرنے کےارادے پختہ ہونے لگے۔
    تیسرے سال کے آخر میں جب یونیورسٹی سے چھٹیاں ہوئیں تو گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت ہونے کی وجہ سےزیادہ تر وقت انٹرنیٹ پر ہی صرف ہونے لگا۔یہ ‏وہ پہلا موقع تھا کہ انٹرنیٹ پر جہاد کے بارے حقائق ،زمینی حقائق سے بہت حد تک مختلف ملنے لگے۔بہرحال میری توجہ انٹرنیٹ کی دنیا میں زیادہ ہونے ‏لگے،اور جہاد کے متعلق ساری معلومات انٹرنیٹ پر موجود مواد سے ہی لینے لگا۔ اور کبھی ذہن میں اس بارے علماء سے ملنے یا استفادہ کرنے کا خیال تک نہ ‏آیا۔ کیوں کہ سب کچھ نیٹ پر با آسانی دستیاب تھا۔ بلکہ علماء کا خیال آتا بھی کیوں ؟
    ان انٹرنیٹ دستاویز کو پڑھنے والا خود کو سب سے بڑا عالم و مفتی شمار کرنے لگتا ہے

    اب میری ڈگری کا چوتھا سال تھا کہ ان دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آیاکہ جس نے میری زندگی بدل کر رکھ دی اور مجھے فیصلہ کن موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا ۔۔۔
    جولائی 2007 میں لال مسجد کا درد ناک سانحہ پیش آیا۔جس میں پاک آرمی نے ہزاروں بچیوں کو فاسفورس پھینک کر جلا دیا‎ )‎جو کہ آج تک‎ ‎چند ٹی ٹی پی ‏ویڈیوز کے علاوہ ثابت نہیں ہو سکے، نہ ہی ان ہزاروں بچیوں کے لواحقین نظر آئے ) ،مسجد پر بمباری کی،عورتوں،بچوں،مردوں ،قرآن پاک،مسجد،حتیٰ ‏کہ کسی کو معاف نہیں کیا،سب کی حرمت کو پامال کر دیا۔جب کہ ان سب کا قصور کیا تھا؟؟؟؟
    یہی کہ انہوں نے شریعت کے نفاذ کا نعرہ لگانا،ملک سے بے حیائی،فحاشی،اور غیر اللہ کے قوانین کے خاتمہ کے لیے آواز اٹھائی تھی اور برائی کو ہاتھ سے روکا تھا۔

    اس دوران میں نے فورا ان بھائیوں سے رابطہ کیا جو ہماری یونیورسٹی میں دعوت و جہاد کا بھرپور کام کرتے تھے۔ میں نے اپنے جذبات بھیگی آنکھوں کے ‏ساتھ انکے سامنے رکھے تو وہ بھی میری طرح اس سانحے پر غمزدہ تھے مگر مجھے اس مسئلے پر صبر کی تلقین کی اور کہا کہ مسلمانوں کی باہمی لڑائیاں تاریخ اسلامی ‏کا جصہ رہی ہیں اور اس سے ہمیشہ مسلمان اور جہاد کمزور اور دشمن مضبوط ہوا ہے لہذا ہمیں حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے باہمی جنگ و جدل سے بچنا چاہیئے ، ‏غلطیاں دونو ں طرف سے ہوئی ہیں ، انکا مطالبہ بے شک درست تھا مگر انکا طریقہ غیر درست تھا کہ جس کی تردید خود غازی صاحب کے ہم مسلک کر رہے ‏ہیں ۔

    یہ نصیحت اس وقت تو میرے جذبات کو ٹھنڈا کر گئی مگر جونہی رات سونے کے لئے میں بستر تیار کر رہا تھا تو ایک دوست جو کہ ہماری کلاس میں ہی تھا اور ‏ہوسٹل کا مقیم تھا اور باشرع اور نماز کی سختی سے پابندی کرنے والا تھا، مگر وہ بھی جہاد کی باتیں کرنے کے باوجود ان بھائیوں سے دور رہتا تھا کہ جنہوں نے مجھے ‏نصیحت کی تھی، میرے پاس آیا اور کہا کہ آپ کے پاس اگر چند منٹ ہیں تو میری بات سن لیں ۔
    میں نے ہاں کر دی۔

    اس کے بعد اس نے مجھے سمجھانا شروع کیا اور ساتھ ساتھ کچھ دل دوز ویڈیوز بھی دکھاتا گیا جن میں کہ لال مسجد سانحے سے متعلق ایک ویڈیو بھی تھی ، کہ ‏جن کی میں تاب نہ سکا اور کئی منٹ تک روتا رہا اور ہچکیاں بندھ گئی ، اور وہ نوجوان ساتھ ساتھ ان ویڈیوز پر تبصرہ بھی کرتا رہا۔ بالاآخر یہ چند منٹ کی ملاقات ‏فجر کی اذان کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔ اور ملاقات کے دوران اس نے مجھے ان مظلوموں کا بدلہ لینے کے لئےتربیت پر جانے کی بات کی تو میں نے فوراہاں کر ‏دی۔

    یہ وہ باتیں تھیں جو اس وقت کے" علماء"،"مجاہدین "اور" امت کے خیر خواہوں" سے پتہ چلیں،اور انہی باتوں اور پیش کردہ واقعات نے مجھے مجبور کر دیا کہ ‏اب مزید یونیورسٹی میں دو وقت کی روٹی کے لیے نہیں رہ سکتا۔اب میں نے گھر والوں کو بتائے بغیر ہی ان ساتھیوں کے ساتھ جانے کا پختہ ارادہ کیا جو روزانہ ‏مجھے ملتے اور شریعت کے نفاذ اور کفار کے مظالم کے بارےآ گہی دیتے تھے۔

    اسی دوران میں نے اپنے ان دو دوستوں سے بھی رابطہ کیا جو اسلام آباد میں تھے اور ان کو ساری صورت حال بتائی۔انہوں نے مجھے بہت منع کیا۔۔۔لیکن ‏میں ان کو دنیا دار،اور منافقت کی علامات کا حامل قرار دے کر جانے کے فیصلے پر قائم رہا۔آخر کار انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر آپ جانا ہی چاہتے ہیں تو اور ‏بہت سےمحاذ موجود ہیں،پاکستان کی بجائے آپ افغانستان،کشمیر وغیرہ میں چلے جائیں۔لیکن میرے جذبات تھے کہ کسی کی سننے ہی نہیں دیتے تھے اور اس ‏وقت مجھے بھی ان دوستوں کے علاوہ سارے افراد باطل اور ان کے دلائل بے بنیاد لگتے تھے۔


    بہرحال میں اپنے چوتھے سال کے آخر میں ‏‎ ‎ڈگری کو خیر باد کہہ کے اس وقت ان "اہل حق" کے ساتھ وزیرستان روانہ ہوگیا۔
    اب میں نے وہاں پر جہاد کی تربیت حاصل کی۔ میں پہلے خواہش کرتا تھا کہ میں افغانستان میں جاکر امریکہ و اتحادی فوجوں سےلڑوں مگر وزیرستان میں ‏تربیت کے دوران ہمیں یہ سمجھا یااور ذہن نشین کروایا گیا کہ جب کافر گھر میں موجود ہو تو پہلے اس سے جہاد ہوتا ہے اور پاکستان کی وجہ سے امریکہ افغانستان ‏پر مسلط ہوا ہے اس لئے یہ بڑا کافر ہے اور اس سے لڑنا افغانستان کے جہاد سے زیادہ افضل ہے۔ میں ان کے دلائل سے اور ان کی مسحور کن باتوں سے ‏پاکستان میں ہی لڑنے پر تیار ہو گیا ۔ اور پھر 2007-2012 تک ان ہی ساتھ رہا۔

    ‏ ہمیں غزوہ ہند کے نام پر پاکستان میں لڑنے پر ابھارا جاتا۔جبکہ میں یہ جان کر تو حیران ہو گیا کہ ہند میں صرف پاکستان انڈیا نہیں آتے اس میں تو نیپال،سری ‏لنکا،بنگلہ دیش،سب آتے ہیں۔اور ان سب سے زیادہ پاکستان میں اسلام پر عمل کرنا آسان ہے۔اور غزوہ ہند تو کفار سے کرنا ہوگا نہ کہ مسلمانوں ‏سے،لیکن ہمیں سب باتیں بالائے طاق رکھ کر پاکستان میں لڑنے پر ہی ابھارا جاتا رہا۔

    اور مجھے ان کے ساتھ رہ کر ایک عجب سی تبدیلی اپنے اندر محسوس ہوئی کہ پوری دنیا میں کوئی مسلمان نہیں بچا، سب مشرک اور کافر ہو گئے ہیں اور جو دینی و ‏جہادی حلقے ہیں اور پاکستان میں پاک فوج کے خلاف نہیں لڑتے تو وہ بھی طاغوت کو سجدہ کرتے ہیں ، طاغوتی نمک خوار ہیں مرتد ہیں۔

    ‏ اسلام سارے کا سارا وزیرستان میں سمٹ آیا ہے اور خون کی حرمت صرف اس مسلمان کی ہو گی جو وزیرستان میں آجائے گا۔ باقی سب کا خون اگر بالفرض ‏کسی خودکش حملے یا کاروائی میں بہہ بھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔
    اس کا آپ اندازہ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کتنی ہی کاروائیاں تھیں کہ جن میں پاکستانی فوج و سیکیورٹی اداروں کے علاوہ عام معصوم مسلمان مومن بھی ‏مارے گئے تھے ، مگر کبھی کسی بھی کمانڈر نے اس ناحق خون کے بہانے پر اپنے جنگجووں سے کوئی مواخذہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی کمانڈر یا جنگجو پر کبھی حد نافذ ‏کرنے کی ویڈیو مارکیٹ میں جاری کی گئی۔۔ اور یہ بات میرے دل آہستہ آہستہ بے چینی کا سبب بننے لگی۔
    کہ ہم اللہ کی شریعت کے نفاذ کا نام تو لے رہے ہیں مگر خود کبھی کسی اپنے ساتھی پر شریعت نافذ نہیں کی۔
    وہاں ٹریننگ کیمپ میں کچھ ایسے واقعات بھی پیش آئے کہ جن پر حد لازم آتی تھی مگر کبھی کسی ساتھی پر حد نہ لگی اور نہ ہی اسکی ویڈیو ریلیز کی گئی۔ ‏

    اب ان ساڑھے پانچ سالوں میں میرے ساتھ کیا گزری،میں نے کیا دیکھا،میں نے کونسا" جہاد" کیا، اور کونسی "شریعت " نافذ کی ،مجھے کن مقاصد کے لیے ‏استعمال کیاگیا۔
    آخر کیا وجہ تھی کہ میں ان کو خوارج سمجھنے لگا،اور ان کو چھوڑ کر واپس پلٹ آیا اور اپنے لاعلمی میں بنائے گئے نظریات سےتائب ہو گیا۔
    پہلے بھی بہت سے واقعات ہوتے رہتے تھے(جن کا ذکر آئندہ ہوتا رہے گا)جن سے میرا ضمیر مجھے ملامت کرتا تھا،لیکن حال ہی میں چند ایسے واقعات ‏ہوئے جن واقعات نے میرے سامنے حقیقت واضح کر دی کہ میرا راستہ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ سب میں گاہے بگاہے بتاتا رہوں گا۔اور خوارج کی غلاظت پر ‏چڑھا ہوا سنہری لبادہ چاک کر کے ہی دم لوں گا۔ان شاء اللہ عزیز

    مثلاُ:‏
    کل تک جن کو ہم مرتد سیاست دان وحکمران کہتے تھے جس فوج کو ہم ناپاک و مرتد فوج کہتے تھے،آج ان کے ساتھ ہی مذاکرات کرنے پر کیوں آمادہ ہو ‏گئے؟

    ٹی ٹی پی کا افغان طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ثبوت میں بہت جلد پیش کروں گا۔

    پشاور ایئر پورٹ پر حملے میں کیا حیرت انگیز حقائق چھپے ہوئے ہیں؟

    ٹی ٹی پی نے پاکستان میں سینکڑوں کاروئیاں کی مگر پاکستان میں کتوں کی طرح دندناتے امریکی اور بلیک واٹر کے بدمعاشوں پر ایک بھی حملہ ‏نہیں کیا حالانکہ وہ آزادانہ پاکستان ہی نہیں قبائلی علاقوں میں پھرتے تھے۔ آخر کیوں؟

    لاہور سے گرفتار ہونے والے بد بخت ریمنڈ ڈیوس کے زیادہ تر رابطے وزیرستان میں نکلے مگر کیوں اور کیسے؟

    یہ تو صرف چند آپ بیتیاں تھیں جن کی جانب صرف اشارہ کیا ، تفصیلا ان شاء اللہ آگے بتاوں گا، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ میری توبہ اپنے حضور قبول فرمائے۔ مجھے وہ مسلمان ابھی تک نہیں بھولتے جنہیں وزیرستان میں خوارج نے محض جاسوسی کے شبہ یا تاوان نہ ملنے پر ذبح کیا، اور اللہ توفیق عطا کرے کہ میں ان بدبختوں کی کالی کرتوتوں آپ کے سامنے پیش کر سکوں ، کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ یہ لوگ مجھ تک پہنچنے کی سر توڑ کوشش کریں گے تاکہ میں انکے راز افشاں کرنے سے پہلے ہی شکار کر لیا جاوں۔
    میرا ایمان ہے کہ مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہے۔ جب تک سانسیں چل رہی ہیں ان خوارج کو مسلمانوں میں ننگا کرتا رہوں گا۔ اللہ مجھے بس معاف فرما کر میری یہ کاوش قبول فرمائے اور نوجوانوں کی اس فتنے سے حفاظت فرمائے۔ آمین
    اخوکم فی الدین :
    ابو یحیی الخرسانی

     
  2. ‏فروری 19، 2013 #2
    باربروسا

    باربروسا مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 15، 2011
    پیغامات:
    311
    موصول شکریہ جات:
    1,016
    تمغے کے پوائنٹ:
    106

    کھاو قسم یہیں پر خدا پاک کی کہ جو بھی لکھا ہے وہ تمہارے ساتھ بیتا ہے واقعی . اور یہ کہ اوپر کا سارا قصہ تم نے کوئی کہانی وغیرہ نہیں گھڑی ہے .

    پھر اتنا بودا طریقہ کہانی گھڑنے کا ..... کسی بڑھک مار خطیب سے سے سیکھ ہی لینا تھا یار !!
     
  3. ‏فروری 19، 2013 #3
    عکرمہ

    عکرمہ مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 27، 2012
    پیغامات:
    658
    موصول شکریہ جات:
    1,835
    تمغے کے پوائنٹ:
    157

    بڑی وڈی گپ ہے،لگتا ہےجب کچھ بن نہ پڑےتواس قسم کی ہفوات کا طومارمیدان میں لےآو،ڈراپ سین جلد ملاحظہ ہو جائے گا،
    کتنی قسطوں پر مشتمل ہےیہ’’تلبیس ابلیس‘‘۔۔۔۔انڈیا کے ڈراموں کی طرح’’کئی سالوں پر محیط‘‘نہ ہو جائے۔۔۔ کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک۔۔۔
     
  4. ‏فروری 19، 2013 #4
    ابو بصیر

    ابو بصیر سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 30، 2012
    پیغامات:
    1,420
    موصول شکریہ جات:
    4,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    239

    جزاک اللہ خیرا بھائی جان
     
  5. ‏فروری 19، 2013 #5
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    معلوم نہیں یہ گپ ہے یا سچ ، مگر میں ایک بات ضرور جانتا ہوں کہ اگر تو یہ گپ ہے تو پھر اس قسم کی گپوں سے باب السلام فورم بھرا پڑا ہے۔ معذرت کے ساتھ :)

    ویسے اگر یہ گپ لشکر طیبہ کے خلاف ہوتی تو اس کا درجہ "وحی" رکھتی۔ ہیں نا؟؟

    عکرمہ صاحب ، آپ لگتا ہے چاند پر رہتے ہیں ، وگر اس قسم کی داستانیں اب تو عام ہو رہی ہیں ، میں کئی لاہور کے نوجوانوں کو جانتا ہوں ، جو وزیرستان سے "شریعت کے نفاذ" کے مشن کو ادھورا چھوڑ کر واپس پلٹ چکے ہیں۔
    وہ علیحدہ بات ہے کہ اگر کی صرف ایک آنکھ بینائی کی حامل ہو۔
     
  6. ‏فروری 19، 2013 #6
    القول السدید

    القول السدید رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 30، 2012
    پیغامات:
    348
    موصول شکریہ جات:
    950
    تمغے کے پوائنٹ:
    91

    جزاک اللہ خیرا ، ابو یحیی خراسانی بھائی ، اہل و سہل مرحبا، اللہ آپ کو صراط مستقیم پر استقامت دے اور شر پسندوں سے محفوظ رکھے۔ آپ سے ملاقات ہو سکتی ہے؟
    پلیز پلیز، مجھے بہت سی معلومات لینی ہیں آپ سے؟؟؟

    یہ جملے بہت ہی شاندار تحریر کئے ہیں آپ نے حقیقت ایسی ہی ہے، میں جس بھی ایسے شخص سے مل چکا ہوں جو وزیرستان سے "بھگوڑا " ہو کر آیا ہے ، وہ اس ہی طرح کی باتیں بیان کرتا ہے۔ مجھے تو ان باتوں کے بعد امام نیشاپوری رحمہ اللہ کے دور کے خوارج یاد آگئے ۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں