1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

" انسانوں کے رنگ مٹی کی نوعیت کے مطابق ہیں " ڈاروینین فطری انتخاب نہیں "

'ذات باری تعالیٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالسلام فیصل گوجرانوالہ, ‏اگست 02، 2016۔

  1. ‏اگست 02، 2016 #1
    عبدالسلام فیصل گوجرانوالہ

    عبدالسلام فیصل گوجرانوالہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 02، 2016
    پیغامات:
    8
    موصول شکریہ جات:
    2
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔
    کیا واقعی " فطری انتخاب " اصل حقیقت ہے ۔
    ((دھریوں کے لیے Darwinism کے تابوت میں ایک اور کیل ))
    جب اسلام نے ہمیں " فلسفہ نقطہ آغاز " Philosophy of Beginning Point" میں علمی حوالہ سے " لاوارث " نہیں چھوڑا تو ہمارا بھی فرض ہے کہ " رسول اللہ ﷺ " کے فرامین پر غور و فکر کریں ۔ تاکہ سائنس کے ان باطل نظریات کا رد کیا جا سکے جس کی وجہ سے آج ہم " لا دینیت و دھریت " کا شکار مسلمانوں کو دیکھ رہے ہیں ۔
    نظریہ ارتقاء کی بنیاد Natural Selection کی سب سے بڑی حامی ایک Penn State University کی ایک خاتون جس کا نام Dr. Nina Jablonski ہے اس نے فطری انتخاب کے حوالہ سے ڈارون کی حمایت پر تقریبا 110 کے قریب مقالات ترتیب دے دئیے ہیں ۔ جس میں اس نے انسانی سکن Human skin کے اختلافات ، متضادات پر تحقیق کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ " چارلس ڈارون " کی تھیوری بالکل صحیح اور درست ہے۔ آئیں ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے یہ نظریات کس طرح صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ۔
    #####
    ‫#‏کیلیفورنیا‬
    یونیورسٹی " میں لیکچر کے دوران Dr. Nina Jablonski نے یہ بتایا ۔ کہ جب سے کائنات " ارتقاء پذیر " ہے ۔ انسان کے ارتقاء کے دوران انسانی جلد میں بھی ارتقائی تبدیلیاں رونما ہوئیں ۔
    1: انسان پر " سورج کی روشنی " کی " Ultraviolet Rays " اثر انداز ہوئیں ۔
    2: جس کی سے " میلونینز " انسانی جلد کی رنگت اور ساخت میں تبدیلی لاتے رہے ۔
    3: علاقائی تبدل کی وجہ سے بھی مختلف آبادیاں 'جلد کے رنگ ' میں مختلف پائی گئیں ۔
    4: جس آبادی میں Ultraviolet Rays کا اثر زیادہ تھا وہاں پر لوگ زیادہ کالے ہوئے۔ جہاں پر بتدریج کم تھا تو لوگ کم کالے ہوئے ۔ جس وجہ سے آج دنیا میں " انسانی جلد کے رنگوں " کے اعتبار سے مختلف بنے اور پیدا ہوئے ۔ یہی وجہ ہے کہ انسانی جلد رنگوں اور بناوٹ کے اعتبار سے آج تک " ارتقاء پذیر " ہے ۔
    اب جواب ملاحظہ فرمائیں ۔
    1801ء وہ سال تھا جس میں Johann Ritter نامی شخص نے Ultraviolet Rays دریافت کیں ۔
    1859ء میں Charles Darwin نے Theory of Evolution پیش کی جس کا ایک ماخذ Natural Selection تھا ۔۔
    سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ " ڈارون " کے پاس کونسا ایسا ہتھیار یا آلہ تھا جس نے Ozone layer کی اربوں یا لاکھوں سالوں پہلے کی thickness کو جان لیا تھا ؟ جبکہ تب نہ ہی کوئی " satellite " تھی اور نہ ہی NASAجیسا ترقی یافتہ آلات کا حامل ادارہ جو " اس ارتقاء پذیر انسان " کی بیالوجی کو سمجھ پاتا اور ارضیاتی تبدیلیوں میں یہ سمجھ پاتا کہ انسان کی جلد پر ان Radiations کا اثر انداز ہونا جس سے نواں اقسام کی جلد کی رنگوں کی تبدیلیوں کو سمجھا جا سکتا ہو ؟؟؟؟؟
    آپ اندازہ کریں ۔ آج پوری دنیا میں Ozone layers کو بچانے کی مہمات چالئی جا رہی ہیں اور بتایا یہ جاتا ہے کہUltraviolet Rays کی Radiations سے اس layer میں ہول بن رہے ہیں ۔ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جتنا وقت گزر چکا ہے اربوں سال قبل تو یہ Layers اتنی طاقتور مضبوط اور موٹی ہوں گی کہ دنیا کا ماحول انتہائی ٹھنڈا ہوتا اور انسانوں کی جلد میں کوئی بھی کالے رنگ کا نہ پایا جاتا ؟؟؟
    صرف دنیا میں گورے ہی گورے ہوتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان علاقوں میں جہاں اوزون لئیر کا اثر کم ہے کوئی گورا پیدا نہ ہوتا ؟ جہاں زیادہ ہے وہاں کوئی کالا نہ ہوتا ؟؟؟؟ اس طرح کے بے شمار سوالات ہے جو اس تھیوری کو پڑھ کر ذہن میں آتے ہیں ۔ لیکن دھریئے اپنے ابآئو اجداد کے حتمی علم کے معاملے میں لا وارث ہیں ۔
    اب آپ The Islamic Theory of Natural Selectionپر ایک اور حدیث ملاحظہ کریں۔
    سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :
    بے شک اللہ تعالی نے ساری زمین سے ایک مٹھی بھری اور اس سے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ، یہی وجہ ہے کہ اولاد آدم زمین کی مٹی کی نوعیت کے مطابق پیدا ہوئے ہیں ۔ یعنی کوئی سرخ ہے ، کوئی سفید ہے ، کوئی سیاہ ہے اور کسی کی رنگت ان کے درمیان درمیان ہے ۔اور کوئی نرم ہے تو کوئی سخت ہے ، اور کوئی خبیث ہے توکوئی طیب۔
    (مسند احمد 402/4، ابو دائود 4693، ترمذی 3955) نیز سلسلہ صحیحہ للا لبانی 3105)
    اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا آدم علیہ السلام کی ساری اولاد کے رنگت میں تبدیلیاں Genetic Transformation کے باعث ہوئی ہے ۔ مخلتف قسم کی رنگت رکھنے والے انسانوں کی جلد میں موجود DNA cells کی نسل در نسل افزائش بھی رنگوں کی تبدیلی کا کوڈ دیتی رہی ہے ۔ اگر موسمیاتی تبدیلیاں ہی اس ارتقاء پذیری پر اثر انداز ہوتیں ۔ تو شاید انسان کے خون ، دماغ اور ہڈیوں کا رنگ بھی تبدیل ہوتا رہتا
    :)

    عبدالسلام فیصل
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں