1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انسانی زندگی پر گناہوں کے اثرات

'مامورات وممنوعات شرعیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از قاری مصطفی راسخ, ‏مئی 02، 2012۔

  1. ‏مئی 02، 2012 #1
    قاری مصطفی راسخ

    قاری مصطفی راسخ علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    lahore
    شمولیت:
    ‏مارچ 07، 2012
    پیغامات:
    664
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    301

    انسانی زندگی پر گناہوں کے اثرات


    تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو مطیع اور فرمانبردار بندے کو عزت دینے والا جبکہ باغی اور سرکش کو ذلیل کر نے والا ہے۔ تقوی یقینا ہر نعمت کی بنیاد اور معصیت ہر آفت وبلا کا سبب ہے۔انسان پر آنے والی ہر مصیبت اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتی ہے۔جو وہ اللہ کے حق میں کوتاہی کرتا ہے ،اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور محرمات میں گھس جاتا ہے۔جس طرح نفس ترغیب کا محتاج ہے اسی طرح ترہیب کا بھی محتاج ہے۔امام ابن قیم ؒ نے اپنی کتاب ’’الداء والدواء‘‘ میں ’’انسانی زندگی پر گناہوں کے اثرات ‘‘تفصیلا بیان کئے ہیں ۔جن کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش خدمت ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو گناہوں سے محفوظ فرمائے۔آمین
    گناہوں کے نقصانات
    ۱۔علم سے محرومی:
    کیونکہ علم ایک روشنی ہے جس کو اللہ انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے جبکہ گناہ اس روشنی کو بجھا دیتا ہے۔
    ۲۔رزق سے محرومی:
    جیسا کہ مرفوع حدیث میں وارد ہے:((ان العبد لیحرم الرزق بالذنب یصیبہ))[مسندأحمد]
    ۳۔
    ۔٣وحشت کا احساس:
    وہ خوف خدا جو گناہ گار آدمی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے،جس سے دراصل اس کی تمام لذتیں ختم ہو جاتی ہیں۔
    ۴۔خوف کا احساس:
    وہ خوف جو گناہ گار شخص لوگوں سے محسوس کرتا ہے’’خصوصا نیک لوگوں سے‘‘جب یہ خوف قوی ہو جاتا ہے تو مذکور شخص ان نیک لوگوں سے ،اور ان کی مجالس سے دور بھاگتاہے اور ان سے نفع اٹھانے کی برکت سے محروم ہو جاتا ہے۔اور شیطانی گروہ کے اتنا ہی قریب ہوجاتا ہے جتناکہ رحمانی گروہ سے دور ہوتا ہے۔
    ۵۔معاملات میں تنگی:
    گناہ گار شخص اپنے سامنے معاملات کی تنگی اور خیر کے ہر دروازے کو بند محسوس کرتا ہے،جیسا کہ متقی اور پرہیز گار شخص کے لئے اللہ تعالیٰ اس کے تمام معاملات کو آسان کر دیتا ہے۔
    ۶۔اندھیرے کا احساس:
    گناہ گار شخص حقیقتااپنے دل میں اندھیرا محسوس کرتا ہے ۔حتی کہ وہ رات کو اکیلے چلنے والے اندھے کی مانند گمراہی اور ہلاکتوں میں جا پڑتا ہے لیکن اس کو احساس تک نہیں ہوتا۔
    ۷۔دل وبدن کی کمزوری:
    گناہ انسان کے دل اوربدن کوکمزور کر دیتا ہے۔دل اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ اس کی روحانی موت واقع ہو جاتی ہے۔جبکہ بدن کی کمزوری دراصل دل کی کمزوری ہے کیونکہ مومن کی ساری قوت اس کے دل میں ہوتی ہے۔فاجر شخص اگرچہ دیکھنے میں مضبوط ہو مگر ضرورت کے وقت وہ کمزور ہی ثابت ہو گا۔
    ۸۔اطاعت سے محرومی :
    گناہ انسان کو اطاعت اور فرمانبرداری سے روکتا ہے جس سے انسان مزید گناہوں میں پڑ جاتا ہے۔
    ۹۔عمر میں کمی:

    گناہوں سے عمر کم ہو جاتی ہے اور عمر کی برکت ختم ہو جاتی ہے جبکہ نیکی کرنے سے عمر میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔
    ۱۰۔گناہ کی طرف رجحان:
    کیونکہ گناہ سے گناہ ہی نکلتا اور پیدا ہوتا ہے۔ایک گناہ دوسرے گناہ کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔
    ۱۱۔ارادہ معصیت کی مضبوطی:
    گناہ کرنے کا سب سے خطرناک نقصان یہ ہے کہ گناہ کرنے کا ارادہ مضبوط ہو جاتا ہے اور توبہ کرنے کا ارادہ کمزور پڑ جاتا ہے۔حتی کہ آہستہ آہستہ انسان کے دل سے توبہ کرنے کا ارادہ کلیۃً ہی ختم ہو جاتا ہے۔
    ۱۲۔گناہ کی قباحت کا دل سے محو ہو جانا:
    جب انسان کثرت سے گناہ کرتا ہے تو اس کے دل سے گناہ کی قباحت ختم ہو جاتی ہے اور گناہ کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے۔حتی کہ لوگوں کے دیکھ لینے یا برا بھلا کہنے کو بھی قبیح نہیں جانتا ۔بلکہ اگر اس نے گناہ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا تو یہ بد بخت خود لوگوں میں اپنے گناہ کی تشہیر کرتا پھرتا ہے اور اس پر فخر کا اظہار کرتا ہے۔اس قسم کے لوگوں کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ان پر توبہ کا دروازہ بند ہے ۔جیسا کہ حدیث میں موجود ہے:
    ((کل أمتی معافی الا المجاھرین))
    ۱۳۔مجرموں کی وراثت:
    گناہ مجرموں کی وراثت ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک وبرباد کر دیا ۔مثلا لواطت قوم لوط کی وراثت اور زمین میں تکبر کرتے ہوئے فساد برپا کرنا قوم فرعون کی وراثت ہے،علی ہذا القیاس گناہگار شخص ان مجرموں کا لباس پہن کر وہی گناہ کرتا ہے جو ان لوگوں نے کیا۔اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:((من تشبہ بقوم فھو منھم))’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے‘‘
    ۱۴۔ذلت ورسوائی کا سبب:
    گناہ کرنا اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلت ورسوائی اور آنکھوں سے گر جانے کا سبب ہے۔اور جو شخص اللہ کے سامنے ذلیل ہو جائے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔اگرچہ ظاہرا لوگ اس سے ڈرتے ہوئے یا لالچ میں اس کی عزت کرتے ہی ہوں۔لیکن انہی لوگوں کے دلوں میں وہ حقیر ترین شخص ہوگا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ((وَمَنْ یُھِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ))[الحج:۱۸]’٠
    ۱۵۔گناہ کی حقارت:
    گناہ پر مداومت اور ہمیشگی کرنے سے انسان کے دل میں گناہ کرنا حقیر بن جاتا ہے۔اور یہی ہلاکت کی علامت ہے۔
    حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں:
    ((ان المؤمن یری ذنوبہ کأنہ فی أصل الجبال یخاف أن یقع علیہ ،وان الفاجر یری ذنوبہ کذباب وقع علی أنفہ فقال بہ ھکذا فطار))
    ۱۶۔نحوست:
    انسان اور جانور گناہ گار شخص کو نحوست کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔امام مجاہد ؒ فرماتے ہیں!جب قحط سالی پڑتی ہے اور بارش رک جاتی ہے تو چوپائے گناہگار اور نافرمان بنی آدم پر لعنت کرتی ہوئے کہتے ہیں:
    ((ھذا بشؤم معصیۃ ابن آدم ))
    یہ ابن آدم کی نافرمانی کی نحوست ہے۔
    ۱۷۔عزت وآبرو کا خاتمہ:
    گناہ انسان کو ذلت ورسوائی سے دوچار کر دیتا ہے اور عزت وآبرو کو برباد کر دیتا ہے کیونکہ ساری کی ساری عزت اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت میں مضمر ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
    ((مَنْ کَانَ یُرِیْدُالْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعاً))[فاطر:۱۰]
    ۱۸۔عقل میں فتور:
    عقل اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ نور اور روشنی ہے ،جبکہ گناہ اس نور اور روشنی کو بجھا دیتا ہے۔ جب یہ نو راور روشنی ہی بجھ جائے تو عقل وشعور میں فتور واقع ہو جاتا ہے۔اور انسان آداب انسانیت بھول جاتا ہے۔
    ۱۹۔غفلت کا سبب :
    کثرت سے گناہ کرنے کی وجہ سے انسان کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے اور اس کو غافلین میں سے لکھ دیا جاتا ہے۔جیسا کہ بعض مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان
    سے گناہ کے بعد پے در پے گناہ مراد لیا ہے۔
    ۲۰۔لعنت کا سبب:
    جیسا کہ أحادیث میں وارد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مختلف گناہ کرنے والوں پر لعنت فرمائی ۔مثلا آپ نے فرمایا کہ چور،سود خور،تصاویر بنانے والے اور قوم لوط کا فعل کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے۔وغیرہ
    ۲۱۔نبی کریم ﷺ اور فرشتوں کی دعاؤں سے محرومی:
    کیونکہ اللہ رب العزت نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ مومن مرد اور مومن عورتوں کے لئے بخشش کی دعا کریں۔اور فرشتوں کے بارے میں فرمایا:
    ((الَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا۔۔۔۔))[المومن:۷]
    ۲۲۔فساد فی الارض کا سبب:
    گناہ زمین میں فساد کا سبب ہے کیونکہ گناہوں کے سبب ہی زمین پر پانی،اناج اور پھلوں میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ((ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْ النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ))[الروم:۴۱]
    ۲۳۔خسف ومسخ کا سبب:
    گناہوں کے سبب ہی زمین پر زلزلہ آتا ہے یا زمین دھنس جاتی ہے یا زمین کی برکات ختم ہو جاتی ہیں۔
    ۲۴۔غیرت کا فقدان:
    گناہ گار شخص کے دل سے غیرت ختم ہو جاتی ہے اور وہ بے غیرت ہو جاتا ہے۔حتی کہ وہ گناہ کرنے کو بھی قبیح نہیں سمجھتا خواہ وہ خود گناہ کررہا ہو یا اس کے اہل عیال گناہ کر رہے ہوں۔
    ۲۵۔شرم وحیا کا خاتمہ:
    گناہ کرنے سے انسان کے دل میں موجود شرم و حیا ختم ہو جاتا ہے۔جو کہ دل کی حقیقی زندگی اور ہر خیر کی بنیاد ہے۔جب حیا ہی نہ رہے تو خیر بھی باقی نہیں رہتی ۔جیسا کہ حدیث میں ہے!’’جب تو حیا نہیں کرتا تو جو مرضی کر!‘‘
    ۲۶۔اللہ کی تعظیم میں کمی:
    گناہ گار شخص کے دل میں اللہ کی تعظیم کمزور پڑ جاتی ہے۔کیونکہ اگر اس کے دل میں اللہ کی عظمت ہوتی تو وہ یہ گناہ کبھی نہ کرتااور اس کے اندر گناہ کی جرأت کبھی پیدانہ ہوتی۔
    ۲۷۔اللہ کی رحمت سے محرومی:
    اللہ رب العزت نافرمان اور باغی شخص کو بھلا دیتے ہیں اور اس کو اس کی حالت پر تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ کس وادی میں جاکر ہلاک وبرباد ہو جائے۔
    ۲۸۔نیکی سے بغاوت:
    گناہگا ر اور نافرمان شخص کو نیکی کی توفیق ہی نہیں ملتی اور وہ اپنے گناہوں میں ہی لتھڑا رہتا ہے ۔
    ۲۹۔خیر سے محرومی:
    گناہ گا رشخص ان بھلائیوں سے محروم جا تاہے جو اہل ایمان وتقوی کو اللہ تعالیٰ عنایت فرماتے ہیں:جس میں أجر عظیم کا ملنا
    ((وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ أَجْراً عَظِیْماً))
    [النسائ:۱۴۶]
    دنیا وآخرت میں شر کا دور ہو جانا
    ((اِنَّ اللّٰہَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِیْنَ آمَنُوْا))[الحج:۳۸]
    اور درجات کی بلندی شامل ہے
    ((یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوْتُوْا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ))[المجادلۃ:۱۱]
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں