1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انسان کب بے نماز شمار ہوتا ہے؟ اور اس کا کیا حکم ہے؟

'ترک نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 18، 2017۔

  1. ‏فروری 18، 2017 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    انسان کب بے نماز شمار ہوتا ہے؟ اور اس کا کیا حکم ہے؟

    اگر کوئی شخص بالکل نماز نہیں پڑھتا تو کیا اسے غیر مسلم شمار کیا جائے گا؟ اور اگر کوئی شخص عید الفطر ، عید الاضحی اور بسا اوقات جمعہ پڑھتا ہے اسی طرح کبھی کبھی پانچوں نمازوں میں سے کوئی ایک نماز بھی پڑھ لیتا ہے تو کیا اس کا حکم بھی ایسے بے نمازی شخص والا ہوگا جو کبھی بھی نماز نہیں پڑھتا؟ اور پھر اسے بھی غیر مسلم شمار کیا جائے گا؟ نیز یہ جملہ کہ "وہ بالکل بے نمازی ہے"اس کی تفصیل کیسے بیان کریں گے؟

    Published Date: 2017-02-17

    الحمد للہ:

    اول:

    جو شخص مطلق طور پر نماز نہیں پڑھتا تو وہ کافر ہے، چاہے وہ سستی کی وجہ سے نماز نہ پڑھے یا فرضیتِ نماز کا انکار کرتے ہوئے نہ پڑھے، علمائے کرام کے دو موقفوں میں سے یہی صحیح ترین موقف ہے، اس کی بہت سی دلیلیں ہیں، جن میں سے کچھ کا ذکر پہلے سوال نمبر: (5208) میں گزر چکا ہے۔

    دوم:

    اگر کوئی شخص مطلق طور پر نماز تو نہیں چھوڑ رہا بلکہ یہ معاملہ ہے کہ کبھی پڑھ لی اور کبھی چھوڑ دی تو ایسے شخص کو نماز چھوڑنے کی وجہ سے کافر قرار دینے میں اختلاف ہے۔

    کچھ اہل علم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر ایک نماز بھی چھوڑ دے اور وقت ختم ہونے تک ادا نہ کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص سورج طلوع ہونے تک فجر کی نماز نہیں پڑھتا تو وہ کافر ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص ظہر کی نماز سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے ادا نہیں کرتا تو وہ کافر ہے؛ کیونکہ ظہر کی نماز عصر کی نماز کے ساتھ جمع کی جاسکتی ہے، لہذا جب عذر ہو تو دونوں نمازوں کا وقت ایک ہو سکتا ہے، اسی طرح مغرب کی نماز کا وقت ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص نماز مغرب اتنی دیر تک ادا نہیں کرتا کہ عشاء کی نماز کا وقت بھی نکل جاتا ہے تو وہ شخص بھی کافر ہے۔

    اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ ایسا شخص کافر نہیں ہے، اسے اسی وقت کافر کہا جائے گا جب وہ مطلق طور پر ساری نمازیں نہ پڑھے، یعنی نماز پڑھنا ہی چھوڑ دے۔

    جیسے کہ امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "میں نے اسحاق رحمہ اللہ کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ: "نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے، یہی رائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر آج تک اہل علم کی رہی ہے کہ اگر کوئی شخص نماز جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر ہے"

    وقت ختم ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ ظہر کو غروب شمس تک مؤخر کر دے اور مغرب کو طلوعِ فجر تک مؤخر کر دے۔

    ہم نے اس انداز سے نماز کا آخری وقت اس لیے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ، مزدلفہ اور سفر وغیرہ میں نمازوں کو جمع کیا ہے اس طور پر کہ آپ صلی اللہ علیہ سلم نے ایک نماز کو دوسری نماز کے وقت میں ادا فرمایا، لہذا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی نماز کو دوسری نماز کے وقت میں ادا کیا اور بسا اوقات دوسری نماز کو پہلی نماز کے وقت میں ادا کیا تو اس سے معلوم ہوا کہ عذر کی حالت میں دو نمازوں کا مجموعی وقت ہر نماز کا وقت ہے، جیسے کہ حائضہ عورت اگر سورج غروب ہونے سے پہلے پاک ہو جائے تو اسے ظہر اور عصر دونوں نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے اور اگر رات کے آخری حصے تک پاک ہو جائے تو مغرب اور عشاء دونوں نمازیں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے" انتہی

    "تعظیم قدر الصلاة " (2/929)

    اسی طرح امام ابن حزم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "ہمیں [درج ذیل جلیل القدر شخصیات سے ]بیان کیا گیا ہے کہ : عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ، معاذ بن جبل ، ابن ‏مسعود ، اور صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت رضی الله عنہم سے ،‎‏ اور اسی طرح ابن مبارک ، احمد بن حنبل ، ‏اسحاق بن راہویہ رحمہم اللہ جمیعاً ، اسی طرح صحابہ کرام میں سے پورے سترہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر یاد ہوتے ہوئے بھی کوئی ایک نماز اتنی دیر تک ادا نہیں کرتا کہ اس کا وقت ہی ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر اور مرتد ہے، یہی موقف عبد الله بن ماجشون امام مالک کے شاگرد کا ہے اور اسی موقف کے قائل ہیں: عبد الملک بن حبيب اندلسی اور دیگر فقہائے کرام" انتہی

    "الفصل في الملل والأهواء والنحل" (3/128)

    اسی طرح ابن حزم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ:

    "سیدنا عمر، عبد الرحمن بن عوف، معاذ بن جبل، ابو ہریرہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہے کہ جو شخص نماز جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر اور مرتد ہے " انتہی

    "المحلى " (2/15 ‏)

    اسی موقف کے مطابق دائمی فتوی کمیٹی نے شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کی صدارت میں فتوی جاری کیا: دیکھیں: "فتاوی دائمی فتوی کمیٹی" (6/40،50)

    البتہ ان علمائے کرام میں شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا نام آتا ہے جو دائمی اور مطلق طور پر نماز چھوڑنے کی وجہ سے ہی تارکِ نماز کو کافر کہتے ہیں، ان سے پوچھا گیا کہ: ایک شخص کبھی نماز پڑھتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے تو کیا وہ کافر ہے؟

    تو انہوں نے جواب دیا:

    "میری رائے ہے کہ کافر وہی شخص ہو گا جو مطلق طور پر نماز نہ پڑھے یعنی بالکل نماز چھوڑ دے، لیکن جو شخص کبھی پڑھ لیتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق کافر نہیں ہو گا، حدیث یہ ہے:"

    ( بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة )

    [آدمی اور شرک و کفر کے درمیان نماز چھوڑنا ہی قدر امتیاز ہے]

    اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " ترك صلاة " [یعنی صلاۃ کا لفظ نکرہ] نہیں بولا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ترك الصلاة " [یعنی: الف لام کے ساتھ معرفہ بولا ہے] اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص مطلق طور پر نمازیں چھوڑ دے اور کبھی بھی نماز نہ پڑھے۔

    اسی طرح دوسری حدیث میں ہے کہ:

    (العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها ـ أي الصلاة ـ فقد كفر)

    [ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز ہے، جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا]

    تو اس بنا پر ہم کہیں گے کہ: جو شخص کبھی نماز پڑھ لیتا ہے اور کبھی نہیں پڑھتا تو وہ کافر نہیں ہے" انتہی

    ماخوذ از: "مجموع فتاوى ابن عثیمین" (12/55)

    لیکن اُن سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو صرف جمعہ کی نماز پڑھتا ہے تو اس کے بارے میں جواب دیا کہ:

    شیخ ابن عثیمین: وہ صرف جمعہ کی نماز کیوں پڑھتا ہے؟

    سائل: اس کی عادت بن چکی ہے۔

    شیخ: عادت بن چکی ہے، تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ اس کی نماز عبادت ہے! یہ تو جمعہ کی نماز بطور عادت پڑھتا ہے کہ نہا دھو کر کپڑے پہنے خوشبو لگائے اور مسجد آ جائے، میں اگرچہ یہ کہتا ہوں کہ صرف وہی شخص کافر ہے جو مکمل طور پر نماز چھوڑ دے لیکن مجھے ایسے شخص کے مسلمان ہونے میں شک ہے؛ کیونکہ اس نے جمعہ کو بننے اور سنورنے کا دن بنایا ہوا ہے، وہ بن ٹھن کر خوشبو لگا کر صرف لوگوں سے ملنے کیلیے جاتا ہے، مجھے اس کے مسلمان ہونے میں شک ہے، لیکن ہمارے شیخ محترم عبد العزیز کی رائے کے مطابق وہ شخص کافر ہے اور اس کا معاملہ ختم ہو چکا ہے" انتہی

    "لقاء الباب المفتوح"

    واللہ اعلم .

    اسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/83165


     
  2. ‏فروری 18، 2017 #2
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,986
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    جزاک الله -

    لیکن پھر بھی بے نمازی پر "کفر" کے فتویٰ کا معامله تھوڑا الجھا ہوا ہے-

    شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا فتویٰ بے نمازی کے بارے میں زیادہ قرین و قیاس ہے کہ "میری رائے ہے کہ کافر وہی شخص ہو گا جو مطلق طور پر نماز نہ پڑھے یعنی بالکل نماز چھوڑ دے، لیکن جو شخص کبھی پڑھ لیتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق کافر نہیں ہو گا" (واللہ اعلم)-

    کیوں کہ شاید ہی کوئی ایسا مسلمان ہو جس کی کبھی کوئی نماز نہ چھوٹی ہو - خود نبی کریم صل الله علیہ و آ له وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضوان الله آجمین کی ایک غزوہ کے موقع پر نیند کے غلبے کی بنا پر چند نمازیں قضاء ہوگئیں جو بعد میں نبی کریم نے باری باری ایک ہی وقت میں پڑھائیں- ظاہر ہے ان پاک ہستیوں پر اس بنا پر کفر کا فتویٰ لگانا بہت بڑی جسارت ہو گی- کہ ایک نماز کا تارک بھی کافر ہو جاتا ہے- (واللہ اعلم)-

    الله ہم سب کو ہدایت دے (امین)-
     
  3. ‏فروری 18، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,359
    موصول شکریہ جات:
    2,394
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    شیخ محمد بن صالح العثيمين (المتوفى: 1421هـ)
    فرماتے ہیں :
    وسئل فضيلة الشيخ - حفظه الله - عن الإنسان الذي يصلي أحياناً ويترك الصلاة أحياناً ويترك الصلاة أحياناً أخرى فهل يكفر؟
    فأجاب بقوله: الذي يظهر لي أنه لا يكفر إلا بالترك المطلق بحيث لا يصلي أبداً، وأما من يصلي أحياناً فإنه لا يكفر لقول الرسول، عليه الصلاة والسلام: " بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة. ولم يقل ترك صلاة، بل قال: " ترك الصلاة ". وهذا يقتضي أن يكون الترك المطلق، وكذلك قال:" العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها - أي الصلاة - فقد كفر " (1) . وبناء على هذا نقول: إن الذي يصلي أحياناً ليس بكافر.

    ترجمہ :
    ان سے پوچھا گیا کہ: ایک شخص کبھی نماز پڑھتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے تو کیا وہ کافر ہے؟

    تو انہوں نے جواب دیا:
    "میری رائے ہے کہ کافر وہی شخص ہو گا جو مطلق طور پر نماز نہ پڑھے یعنی بالکل نماز چھوڑ دے، لیکن جو شخص کبھی پڑھ لیتا ہے اور کبھی چھوڑ دیتا ہے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق کافر نہیں ہو گا، حدیث یہ ہے:" ( بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة ) [آدمی اور شرک و کفر کے درمیان نماز چھوڑنا ہی قدر امتیاز ہے] اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے " ترك صلاة " [یعنی صلاۃ کا لفظ نکرہ] نہیں بولا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ترك الصلاة " [یعنی: الف لام کے ساتھ معرفہ بولا ہے] اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص مطلق طور پر نمازیں چھوڑ دے اور کبھی بھی نماز نہ پڑھے۔

    اسی طرح دوسری حدیث میں ہے کہ: (العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها ـ أي الصلاة ـ فقد كفر)[ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز ہے، جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا] تو اس بنا پر ہم کہیں گے کہ: جو شخص کبھی نماز پڑھ لیتا ہے اور کبھی نہیں پڑھتا تو وہ کافر نہیں ہے" انتہی
    از: "مجموع فتاوى ابن عثیمین" (12/55)
    اسی طرح شیخ رحمہ اللہ نے الشرح الممتع میں لکھا ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن یاد رہے :
    کبھی کبھی نماز کو ترک والا بھی اپنا بہت بڑا نقصان کرتا ہے ،
    صحیح بخاری میں حدیث شریف ہے :
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الَّذِي تَفُوتُهُ صَلاَةُ العَصْرِ، كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ»
    قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: {يَتِرَكُمْ} [محمد: 35] «وَتَرْتُ الرَّجُلَ إِذَا قَتَلْتَ لَهُ قَتِيلًا أَوْ أَخَذْتَ لَهُ مَالًا»

    عبداللہ بن عمر ؓ سے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، جس کی نماز عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور مال سب لٹ گیا ۔
    امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سورۃ محمد میں جو « يترکم » کا لفظ آیا ہے وہ « وتر » سے نکالا گیا ہے ۔ « وتر » کہتے ہیں کسی شخص کا کوئی آدمی مار ڈالنا یا اس کا مال چھین لینا ۔ (صحيح البخاري 552)
     
    • علمی علمی x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 21، 2017 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    تارک نماز کو کافر قرار دینے یا نہ دینے والے دونوں ہی اجماع کا دعوی کرتے ہیں، ہم ان دونوں اقوال کو کیسے سمجھیں؟

    میں نے نماز نہ پڑھنے والے شخص کے متعلق علمائے کرام کی آراء پڑھی ہیں، چنانچہ کچھ نے ایسے شخص کو کافر اور مرتد کہا ہے، اور کچھ نے فاسق کہا ہے، اور پہلے گروہ نے اس بات پر اجماع کا دعوی بھی کیا ہے، تو سوال یہ ہے کہ اگر اس مسئلہ میں سب کا اجماع تھا تو اس اجماع کے بارے میں ابو حنیفہ، مالک، اور شافعی رحمہم اللہ کو علم کیو ں نہیں ہوا؟ انہوں نے بھی اسی اجماع کے مطابق فتوی کیوں نہیں دیا، بلکہ میں نے یہ بھی سنا ہے کہ امام احمد سے ایک روایت ان تینوں ائمہ کرام کے موقف سے موافق بھی ملتی ہے، ایسے ہی میں نے یہ بھی پڑھا ہے کہ امام شوکانی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ تارک نماز کافر نہیں ہے، اور اس بات پر سلف کا اجماع ہے، تو پہلے گروہ کو اس مسئلہ میں اجماع کہاں سے ملا؟ اور پھر یہ اجماع دوسرے گروہ کے علمائے کرام سے اوجھل کیوں رہا، انہوں نے اسی کے مطابق فتوی کیوں نہیں دیا؟

    Published Date: 2014-06-12

    الحمد للہ:

    جو شخص اس بات کو جانتے ہوئے کہ اللہ تعالی نے نماز قائم کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن پھر بھی نماز کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے نمازیں نہ پڑھے، تو ایسا شخص اجماعِ امت کے مطابق کافر ہے۔

    اورجس شخص کو نماز کی فرضیت کا علم نہیں تھا وہ نماز کو ترک کردے جیسے کہ نومسلم افراد تو ان پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جائے گا، بلکہ انہیں سکھایا ، اور نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے گا۔

    ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

    "مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ نماز کی فرضیت کا منکر شخص کافر ہے، اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو اسے قتل کردیا جائے گا، لیکن جو شخص نماز کی فرضیت کا قائل اور نمازیں پڑھنے پر قادر بھی ہو، لیکن پھر بھی عملی طور پر نمازیں نہ پڑھے تو ایسے شخص کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے" انتہی

    "الاستذكار" (2 /149)

    ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    تارک نماز کی دو صورتیں ہیں: نماز کی فرضیت کا انکاری ہوگا، یا فرضیت کو تسلیم کرتا ہوگا، اگر تو فرضیت کا انکاری ہے تو دیکھا جائے گا: اگر وہ نماز کی فرضیت سے لا علم ہے، اور وہ ایسے لوگوں میں سے ہے جو واقعی نماز کی فرضیت سے لاعلم ہوں، مثال کے طور پر: نو مسلم افراد، جنگلوں میں رہنے والے افراد وغیرہ تو انہیں نماز کی فرضیت کے بارے میں بتلایا جائے گا، اور طریقہ بھی سیکھایا جائے گا، ان لوگوں پر کفر کا فتوی نہیں لگ سکتا؛ کیونکہ انکا عذر مقبول ہے۔

    اور اگر نماز کی فرضیت کا انکاری شخص ایسے لوگوں میں سے نہیں ہے جو نماز کی فرضیت سے لاعلم رہیں مثال کے طور پر چھوٹے بڑے شہروں میں رہنے والے افراد ، تو انکا عذر قبول نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی لاعلمی کا دعوی تسلیم کیا جائے گا، اس پر کفر کا فتوی بھی لگے گا، کیونکہ نماز کی فرضیت کے دلائل کتاب وسنت میں موجود ہیں، اور مسلمان ہمیشہ سے نمازیں پڑھتے آئے ہیں، چنانچہ مسلمانوں کے درمیان رہنے والے شخص سے نماز کی فرضیت مخفی نہیں رہ سکتی، لہذا ایسا شخص اللہ ، اسکے رسول اور اجماع امت کو مسترد کرتے ہوئے نماز کا انکار کر رہا ہے، اس بنا پر یہ شخص مرتد ہوگا،اور اسکے ساتھ توبہ کا موقع فراہم کرنے کے بعد قتل کا معاملہ بالکل مرتدین ہی کی طرح کیا جائے گا، اور اس بات پر کسی قسم کا اختلاف بھی نہیں ہے" انتہی

    "المغنی" (2/156)

    اور جو شخص نماز کے معاملے میں سستی اور کوتاہی برتتے ہوئے نماز چھوڑ دے تو اس کے بارے میں علمائے کرام کی مختلف آراء ہیں، چنانچہ کچھ علمائے کرام کفر کا حکم لگاتے ہیں، اور کچھ علمائے کرام اسکے قائل نہیں ہیں، اور کچھ علمائے کرام تفصیل سے کام لیتے ہیں کہ اگر بالکل ہی نمازیں نہیں پڑھتا تو وہ کافر ہے، اور جو شخص کبھی پڑھ لی اور کبھی نہ پڑھی تو ایسے لوگوں کے بارے میں کفر کا حکم نہیں لگاتے۔

    چنانچہ "الموسوعة الفقهية" (27/53-54) میں ہے کہ :

    "مالکی اور شافعی علمائے کرام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز کا انکار تو نہیں کرتا لیکن سستی اور کاہلی کی بنا پر نماز ترک کرتا ہے تو ایسے شخص کو حد لگاتے ہوئے قتل کردیا جائے گا، یعنی اسکے قتل کے بعد اسکا حکم مسلمان والا ہی ہوگا، اسے غسل دیکر نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اور مسلمانوں کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔

    حنبلی کہتے ہیں کہ :

    سستی اور کاہلی کی وجہ سے نماز ترک کرنے والے شخص کو نماز پڑھنے کی دعوت دی جائے گی، اور کہا جائے گا: "نماز پڑھو، ورنہ ہم تجھے قتل کردینگے"تو اگر نماز پڑھ لے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کرنا واجب ہے، لیکن اسے قتل کرنے کیلئے تین دن قید میں رکھا جائے گا، اور ہر نماز کے وقت اسے نماز پڑھنے کی دعوت دی جائے گی، تو اگر نمازیں پڑھنا شروع کردے تو ٹھیک ورنہ حد لگاتے ہوئے اسے قتل کردیا جائے گا، جبکہ کچھ حنابلہ کا کہنا ہے کہ کفر کا حکم لگاتے ہوئے قتل کیا جائے گا،یعنی اسے غسل نہیں دیا جائے گا، اور نہ ہی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، اور نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں اسے دفن کیا جائے گا، اور اس کے اہل و عیال کو غلام یا قیدی نہیں بنایا جائے گا ، جیسے کہ دیگر مرتدین کو قیدی نہیں بنایا جاسکتا"انتہی

    ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتےہیں:

    "میں یہ سمجھتا ہوں کہ کافر اسی وقت ہوگا جب بالکل ہی نمازیں ترک کردے، کہ بالکل نماز نہ پڑھے ، چنانچہ اگر کوئی کبھی نماز پڑھ لے اور کبھی نہ پڑھے ایسا شخص کافر قرار دنہیں دیا جاسکتا"انتہی

    "مجموع فتاوى ابن عثيمين " (12/55)

    مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر : (5208) اور (83165) کا مطالعہ کریں۔

    متعدد اہل علم نے تارک نماز کے کافر ہونے پر اجماع بھی نقل کیا ہے، چنانچہ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں:

    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت سے لیکر ہمارے دور تک تمام اہل علم کی یہی رائے رہی ہے کہ تارک نماز کافر ہے"انتہی

    "الاستذكار" (2 /150)

    ان اہل علم نے تارک نماز پر کفر کا حکم لگانے والی نصوص کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے، اسی طرح عبد اللہ بن شقیق العقیلی کے قول کو بھی حجت بنایا ہے کہ:

    (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نماز کے علاوہ کسی بھی عمل ترک کرنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے) اسے ترمذی (2622) نے روایت کیا ہے، اور البانی نے صحیح ترمذی میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔

    آپ مزید وضاحت کیلئے سوال نمبر: (9400) کا بھی مطالعہ کرسکتےہیں۔

    جبکہ اس موقف کی مخالفت کرنے والے علمائے کرام نے بھی تارک نماز کو کافر قرار نہ دینے پر اجماع ذکر کیا ہے، چنانچہ وہ کہتے ہیں:

    "اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے؛ کیونکہ گذشتہ کسی بھی زمانے میں تارک نماز کی تجہیز و تکفین ، نمازِ جنازہ نہیں چھوڑی گئی اور اسے مسلم قبرستان میں دفن کرنے سے نہیں روکا گیا، اسکی وراثت بھی نہیں روکی گئی، اسکا مال وارثوں میں تقسیم کیا گیا ہے، نماز چھوڑنے کی وجہ سے میاں بیوی میں جدائی نہیں ڈالی گئی، حالانکہ نمازیں چھوڑنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے، چنانچہ اگر کوئی نماز چھوڑنے کی وجہ سے کافر ہوتا تو یہ تمام احکام اس پر لاگو کئے جاتے، اسی طرح ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کے نزدیک نماز چھوٹ جانے پر اسکی قضا ضروری ہوگی، اگر کوئی نماز ترک کرنے پر مرتد ہوجائے تو اس سے کسی بھی نماز روزے کی قضا کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ تماز ترک کرنے پر کفر کاحکم لگانے والی احادیث کو شدت، اور کفار سے مشابہت پر محمول کیا جائے گا، حقیقت پر محمول نہیں کیا جائے گا، جیسے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    (مسلمان کو گالی دینا فسق ہے، اور اس سے لڑنا کفر ہے)،

    اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک اور فرمان:

    (شراب پینے والا بت کی پوجا کرنے والے کی طرح ہے)

    اس کے علاوہ اور بھی احادیث ہیں جن میں وعید بیان کرنے کیلئے سختی کرنا مقصود ہے"انتہی

    دیکھیں: "المغنی" (2/157)

    اس قسم کے مسائل میں فریقین کی جانب سے اجتہاد کیا گیا ہے، چنانچہ پہلے موقف والے حضرات نے عبد اللہ بن شقیق کے گذشتہ قول کو تارک نماز کے بارے میں صحابہ کرام کے اجماع کی دلیل سمجھا ، اور پھر اسی کی بنا پر صحابہ کا اجماع نقل کردیا۔

    جبکہ دوسرے موقف والے افراد نے ہر زمانے میں مسلمانوں کے عمل کو مد نظر رکھا ہے کہ، تارک نماز کو غسل بھی دیا گیا، اسکی نمازِ جنازہ بھی اد اکی گئی، اور اسے مسلمانوں کے قبرستان میں بھی دفن کیا گیا، مذکورہ اور دیگر معاملات کی وجہ سے انہوں نے مسلمانوں کے اجماع کی دلیل بنائی کہ تارک نماز کافر نہیں ہے، اور انہوں نے تارک نماز کے کافر ہونے پر پیش کی جانے والی احادیث کو سختی اور ڈانٹ پر محمول کیا ہے، اور انہی آثار میں سے عبد اللہ بن شقیق کا قول بھی ہے۔

    بہر حال مسئلہ میں مختلف اقوال ہیں، تو جس طرح فریقین کا دلائل اور فہمِ دلائل میں اختلاف ہے، اسی طرح اجماع بیان کرنے کیلئے پیش کئے جانے والے دلائل میں بھی اختلاف ہے، چنانچہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ: جن شرعی نصوص سے اِنہوں نے استدلال کیا ہے، یہ شرعی نصوص اُنہیں پتا نہیں چلیں؟ کیونکہ انہیں ان دلائل کا علم تھا لیکن انہوں نے اسکو سمجھنے کی کوشش کی اور ان نصوص سے شرعی حکم بھی استنباط کیا، تو اسی طرح اجماع کا مسئلہ ہے، کیونکہ تارک نماز کو کافر نہ کہنے والے افراد ان احادیث ، یا قولِ عبداللہ بن شقیق کا انکار نہیں کرتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ ان نصوص میں کفر کا لفظ تارک نماز پر تو بولا گیا ہے، لیکن اس کفر سے مراد دین سے خارج کر دینے والا کفر مراد نہیں ہے، چنانچہ اس بنا پر اس مسئلہ میں اختلاف کی گنجائش پیدا ہوئی۔

    چنانچہ پہلے گروہ نے نصوص کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے اجماع نقل کیا، -ان نصوص کے ثابت ہونے میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے- اسی طرح انہوں نے عبد اللہ بن شقیق اور اسحاق بن راہویہ کے قول وغیرہ کو بنیاد بنایا۔

    جبکہ دوسرے گروہ نے ہر زمانے اور وقت میں ساری امت کے عمل کو بنیاد بنا کر اجماع نقل کیا ہے۔

    اس لئے فریقین کی طرف سے اجماع نقل کرنا نظر وفکر اور اجتہاد کا نتیجہ ہے، اسی لئے اگر ایک گروہ کا اجماع دوسرے گروہ کے ہاں ثابت ہوگیا تو دوسرا گروہ کبھی بھی پہلے کی مخالفت نہیں کریگا، مسئلہ یہ ہے کہ پہلے اجماع ثابت ہو۔

    واللہ اعلم .

    اسلام سوال و جواب

    https://islamqa.info/ur/194309
     
  5. ‏فروری 23، 2017 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,967
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سستی کرتے ہوئے نماز چھوڑ دی


    سوال: اگر میں سستی کی بنا پر نماز نہ پڑھوں تو مجھے کافر سمجھا جائے گا یا نافرمان مسلمان؟

    Published Date: 2017-02-23

    الحمد اللہ:

    امام احمد سستی کرتے ہوئے نماز چھوڑنے والے کو کافر کہتے ہیں، یہی موقف راجح ہے، کتاب و سنت کے دلائل اور سلف صالحین کا فہم اور صحیح نظر و فکر بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہیں۔
    تفصیلات کیلیے دیکھیں: "الشرح الممتع على زاد المستنقع"( 2/26)

    کتاب و سنت کی نصوص پر غور و فکر کرنے والا اس نتیجے تک پہنچے گا کہ قرآن و سنت دونوں ہی نماز چھوڑنے والے شخص کے کفر اکبر پر دلالت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ شخص ملتِ اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے، چنانچہ قرآنی دلائل میں سے چند یہ ہیں:

    {فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ}

    ترجمہ: اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کرنے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں [التوبہ: 11]

    یہ آیت دلیل اس طرح بنتی ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے ہمارے اور مشرکین کے درمیان دینی بھائی چارہ کے قیام کو تین شروط کے ساتھ جائز قرار دیا ہےکہ وہ :

    شرکیہ امور سے توبہ کر لیں، نماز قائم کریں، اور زکاۃ ادا کریں، چنانچہ اگر مشرکین شرک سے توبہ تو کر لیں لیکن نماز اور زکاۃ کا اہتمام نہ کریں تو وہ ہمارے دینی بھائی نہیں ہیں۔ اسی طرح اگر وہ نماز تو قائم کریں لیکن زکاۃ ادا نہ کریں تو وہ ہمارے دینی بھائی نہیں ہیں، اور یہ بات واضح ہے کہ دینی اخوت اسی وقت ختم ہوتی ہے جب انسان دین سے کلی طور پر باہر نکل جائے، محض فسق اور کبیرہ گناہوں سے دینی اخوت ختم نہیں ہوتی۔

    اسی طرح اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے:

    {فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (59) إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا}

    ترجمہ: پھر ان کے بعد ان کی نا لائق اولاد ان کی جانشین بنی جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔ وہ عنقریب گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔ [60] البتہ ان میں سے جس نے توبہ کر لی، ایمان لایا اور اچھے عمل کئے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ [مريم: 59، 60]

    یہ آیت دلیل اس طرح بنتی ہے کہ اللہ تعالی نے نمازیں ضائع کرنے والوں اور شہوت پرستی میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو کہا: " إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ"[ البتہ ان میں سے جس نے توبہ کر لی،اور ایمان لایا] اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ نمازیں ضائع کر رہے تھے اور شہوت پرستی میں مگن تھے، وہ اس وقت مومن نہیں تھے۔

    اسی طرح تارکِ نماز کے کافر ہونے پر احادیث مبارکہ میں بھی دلائل موجود ہیں ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    (آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے) امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے کتاب الایمان میں سیدنا جابر بن عبد اللہ کی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔

    اسی طرح بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ :

    (ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز ہے، جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا) اسے احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

    اس حدیث میں کفر سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کر دینے والا کفر ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مومنوں اور کافروں کے درمیان حد فاصل مقرر فرمایا ہے، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ ملت کفر اور ملت اسلامیہ دونوں الگ الگ ہیں، لہذا اگر کوئی شخص معاہدے یعنی نماز کی پابندی نہیں کرتا تو وہ کافروں میں سے ہے۔

    اسی طرح عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں، وہ تمہارے لیے دعائیں کرتے ہیں اور تم ان کیلیے دعائیں کرتے ہو، اور تمہارے بد ترین حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض کرو اور وہ تم سے بغض کریں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں) کہا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم تلوار سے اسے نیچے نہ اتار دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں، جب تک وہ تمہارے اندر نماز پڑھتے رہیں)

    تو اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور ان پر مسلح کاروائی اسی وقت ہوگی جب وہ نماز نہ پڑھیں، لہذا حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور ان کے خلاف اعلان جنگ اسی وقت ہو گا جب وہ صریح طور پر کفریہ کام کریں اور ہمارے پاس ان کے کفر کو ثابت کرنے کیلیے اللہ تعالی کی طرف سے دلیل بھی ہو؛ کیونکہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ:

    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعوت دی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے ہوئے جو امور ذکر کئے تھے وہ یہ تھے: ہم ہر وقت اطاعت کریں گے اور بات سنیں گے چاہے وہ ہماری مرضی کے مطابق ہو یا نہ ہو، چاہے ہم تنگی میں ہوں یا خوشحالی میں اور چاہے ہمیں نظر انداز کر کے ہم پر دوسروں کی ترجیح دی جا رہی ہو، نیز ہم حکمرانوں سے حکومت نہیں چھینیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الا کہ تم واضح ترین کفر دیکھو کہ تمہارے پاس اس کے بارے میں اللہ کی طرف سے واضح دلیل بھی ہو" متفق علیہ

    اس حدیث کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور مسلح کاروائی کو نمازیں نہ پڑھنے کے ساتھ نتھی اور منسلک فرمایا، اور حکمرانوں کی جانب سے نماز نہ پڑھنے کا عمل ان کے واضح کفر کی علامت ہے جس کے متعلق ہمارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح دلیل بھی ہو۔

    اگر کوئی شخص کہے کہ:

    کیا ایسا کرنا ممکن نہیں ہے کہ جن نصوص میں نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم ہے انہیں صرف ایسے شخص پر لاگو کیا جائے جو نماز کی فرضیت کا ہی منکر ہے اور اسی لیے وہ نماز نہیں پڑھتا؟

    تو ہم کہیں گے: ایسا کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں دو قباحتیں ہیں:

    1- اس طرح سے جس وصف کو صاحبِ شریعت نے معتبر سمجھا اور اسی کے ساتھ حکم بھی لاگو فرمایا ہم اس وصف کو کالعدم قرار دے دیں گے؛ کیونکہ صاحبِ شریعت نے کفر کا حکم نماز چھوڑنے پر لگایا ہے نماز کا انکار کرنے پر نہیں، اسی طرح صاحبِ شریعت نے نماز قائم کرنے پر دینی اخوت کھڑی کی ہے محض نماز کے فرض ہونے کا اقرار کرنے پر نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ :

    [فَإِنْ تَابُوا وَأَقرُّوْا بِوُجُوْبِ الصَّلَاةَ]

    (یعنی: اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز فرض ہونے کا اقرار کر لیں)

    اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ : (آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز کی فرضیت کے انکار کا ہے) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ: (ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز کے واجب ہونے کا اقرار ہے، جس نے نماز کے واجب ہونے کا انکار کیا اس نے کفر کیا) اگر یہ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہوتی تو اس سے عدولی قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کے منافی ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا ہے:

    {وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ}

    ترجمہ: اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کی وضاحت کرتی ہے۔[النحل: 89]

    اور اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

    {وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ}

    ترجمہ: اور ہم نے آپ کی جانب ذکر نازل کیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو واضح کر کے بتلائیں جو کچھ ان کی جانب نازل کیا گیا ہے۔[النحل: 44]

    2- دوسری قباحت یہ ہے کہ ایسے وصف کو شرعی حکم کا محور سمجھنا پڑے گا جسے صاحبِ شریعت نے محور نہیں بنایا؛ کیونکہ پانچوں نمازوں کی فرضیت کا انکار کرنے سے وہ شخص کافر ہو جاتا ہے جس کا عذر بالجہل قابل قبول نہیں چاہے وہ نمازیں پڑھتا ہو یا نہ پڑھے اس سے فرق نہیں پڑتا، فرض کریں کہ اگر کوئی شخص پانچوں نمازیں پڑھتا ہے اور تمام معتبر شرائط، ارکان، واجبات اور مستحبات کی ادائیگی یقینی بناتا ہے ، لیکن وہ نماز کی فرضیت کا بغیر کسی عذر کے منکر ہے تو وہ بھی کافر ہے! حالانکہ اس نے نماز ادا کی ہے چھوڑی نہیں ہے۔

    تو اس سے واضح ہوا کہ ان نصوص کو نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والے پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے، لہذا صحیح موقف یہ ہے کہ نماز چھوڑنے والا شخص کافر ہے ، دائرہ اسلام سے خارج ہے-

    جیسے کہ یہی بات امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ کی کتاب "سنن" میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی:

    (اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ، جان بوجھ کر نماز مت چھوڑو، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا)

    اسی طرح اگر ہم نے ان نصوص کو نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والے پر محمول کر دیا تو نماز کو خاص کرنے کا فائدہ ہی باقی نہیں رہے گا؛ کیونکہ پھر یہ حکم نماز کے ساتھ خاص نہیں ہے یہ تو زکاۃ، روزے اور حج سب کے ساتھ ہے چنانچہ اگر کوئی بھی شخص ان میں سے کسی ایک عمل کو اس کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے چھوڑ دے تو وہ کافر ہو جائے گا، الا کہ لاعلمی کی صورت میں اس کا کوئی عذر ہو۔

    تو جس طرح تارکِ نماز کو کافر قرار دینا کتاب و سنت کے دلائل کا تقاضا ہے، اسی طرح عقلی دلیل بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے کافر مانا جائے، لہذا [عقلی طور پر ] یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص نماز بھی نہ پڑھے اور مومن بھی ہو! حالانکہ نماز دین کا ستون ہے! اسی نماز کیلیے ہی اتنی ترغیب ہے کہ جس مومن کے ہوش و حواس قائم ہوں اسے نماز کا وقت داخل ہونے پر فوری طور پر پڑھنی ہو گی! اور نماز ترک کرنے پر اتنی زیادہ وعید ہے کہ جس مومن کے ہوش و حواس قائم ہوں اسے نماز چھوڑنے اور ضائع کرنے سے بچنا ضروری ہے! تو ایسی صورت میں نماز چھوڑنے پر ایمان باقی نہیں رہ سکتا۔

    اگر کوئی شخص یہ کہے کہ:

    کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ : یہاں پر تارک نماز پر لاگو ہونے والا کفر ، کفران والا ہو یعنی جس کو نا شکری کہتے ہیں،اور اس کفر سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا کفر مراد نہ ہو جسے کفر اکبر کہتے ہیں؟ بلکہ کفر کی ذیلی اقسام مراد ہوں، تو پھر ان نصوص کا معنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث جیسا ہو گا (لوگوں میں دو چیزیں کفر کا باعث ہیں: نسب نامے میں قدغن لگانا، اور میت پر نوحہ کرنا) اور اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ: (مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے) دیگر احادیث میں بھی اسی طرح گناہوں پر کفر کا لفظ بولا گیا ہے۔

    تو اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ: یہ احتمال اور مثالیں کئی اعتبار سے صحیح نہیں ہیں:

    1- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو کفر اور ایمان کے درمیان، مومن اور کفار کے درمیان امتیازی حد قرار دیا ہے جس کی وجہ سے دونوں میں فرق عیاں ہوتا ہے ، اب کفر اور ایمان دو الگ الگ چیزیں ہیں ان میں سے کوئی ایک دوسرے میں داخل نہیں ہو سکتا۔

    2- نماز ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اور رکن کو ترک کرنے والے کو کفر سے موصوف کرنے کا تقاضا یہ بنتا ہے کہ یہ دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا کفر ہو ؛ کیونکہ نماز ترک کرنے سے اسلام کا ایک رکن منہدم ہو جاتا ہے، لہذا نماز ترک کرنے کا معاملہ کسی ایسے عمل جیسا نہیں ہے جس میں کسی کفریہ کام کرنے والے پر کفر کا صرف جزوی وصف لاگو کیا جائے۔

    3- ایسی دیگر نصوص بھی ہیں جن میں نماز چھوڑنے والے پر یہ حکم لگایا گیا ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اس لیے ان نصوص میں موجود کفر کو اسی معنی میں لیا جائے گا جس کے مطابق دیگر روایات کے الفاظ ہیں، تا کہ تمام احادیث کا معنی اور مفہوم یکساں ہو جائے۔

    4- احادیث مبارکہ میں نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم لگاتے ہوئے ایک مختلف تعبیر استعمال کی گئی ہے، چنانچہ نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم لگاتے ہوئے فرمایا: " بين الرجل وبين الشرك والكفر " تو یہاں پر لفظ "کفر" کو "ال "کے ساتھ ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کفر سے مراد حقیقی کفر ہے، جبکہ نماز کے علاوہ دیگر امور میں کفر کا حکم لاگو کرنے کیلیے لفظ "کفر" کو "ال "کے بغیر ذکر کیا ہے، یا پھر "کَفَرَ" فعل ماضی کا صیغہ استعمال کیا ہے جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ : وہ کفریہ عمل کر رہا ہے، یا یہ کام کفریہ عمل ہے، اس سے کفر مطلق مراد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے۔


    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب "اقتضاء الصراط المستقیم" کے صفحہ 70 -طبعہ السنہ المحمدیہ -میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث " اثنتان في الناس هما بهما كفر" کی تشریح میں کہتے ہیں:

    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اثنتان في الناس هما بهما كفر"[دو چیزیں جن کے ذریعے لوگ کفر یہ عمل کا شکار ہوتے ہیں] کا مطلب یہ ہے کہ: یہ دو خصلتیں کفریہ کام ہیں اور لوگ انہیں کرتے ہیں، یہ دونوں خصلتیں کفریہ کاموں میں شامل ہیں اور لوگوں میں مروج ہیں، اور یہ بات واضح رہے کہ کوئی بھی شخص جو کفریہ کام کرے تو وہ مطلق طور پر کافر نہیں ہو جاتا کہ اسے حقیقی کافر سمجھا جائے، بالکل اسی طرح کوئی بھی شخص اگر ایمانی کاموں میں سے کوئی کام کرے تو وہ مومن نہیں بن جاتا جب تک وہ حقیقی طور پر ایمان نہ لے آئے۔

    نیز فرامین نبویہ میں موجود لفظ "کفر" جب الف لام کے ساتھ معرفہ بن کر آئے اور بغیر الف لام کے نکرہ ہو تو دونوں میں کسی پر کفر کا حکم لاگو کرنے میں فرق ہوتا ہے، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " ليس بين العبد وبين الكفر أو الشرك إلا ترك الصلاة" (ترجمہ: بندے اور کفر یا شرک کے درمیان صرف نماز چھوڑنے کا فرق ہے)[اس حدیث میں کفر کو الف لام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے]" انتہی

    جب ان دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ بغیر عذر کے نماز ترک کرنے والا شخص کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے تو پھر صحیح رائے وہی ہے جو کہ امام احمد کا موقف ہے اور اسی موقف کے مطابق امام شافعی کی بھی ایک رائے ہے، جیسے کہ امام ابن کثیر نے اللہ تعالی کے فرمان:

    {فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ}

    ترجمہ: پھر ان کے بعد ان کی نا لائق اولاد ان کی جانشین بنی جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے [مريم: 59] کی تفسیر کے تحت ذکر کیا ہے۔

    اسی طرح ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب : الصلاۃ میں ذکر کیا ہے کہ :

    " شافعی مذہب کے دو موقفوں میں سے ایک موقف یہی ہے، اور امام طحاوی نے امام شافعی سے خود ان کا یہی موقف بیان کیا ہے"

    یہی موقف جمہور صحابہ کرام کا ہے بلکہ متعدد اہل علم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔

    سیدنا عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں :

    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نماز کے علاوہ کسی بھی عمل کو کفر نہیں سمجھتے تھے" اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر قرار دیا ہے۔

    اسی طرح مشہور امام اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ:

    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے، یہی رائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر آج تک اہل علم کی رہی ہے کہ اگر نماز جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے کوئی چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر ہے"

    ابن حزم رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ:

    "سیدنا عمر، عبد الرحمن بن عوف، معاذ بن جبل، ابو ہریرہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے یہی موقف مروی ہے، ابن حزم نے مزید کہا کہ ہمیں اس مسئلے میں صحابہ کرام کے مابین کوئی مخالف نظر نہیں آیا" ان کی یہ بات امام منذری نے الترغیب و الترہیب میں نقل کی ہے، اور امام منذری مزید صحابہ کرام کے نام آگے لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ:

    "عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، جابر بن عبد اللہ اور ابو درداء رضی اللہ عنہم سے بھی یہی منقول ہے"

    پھر انہوں نے کہا ہے کہ:

    "صحابہ کرام کے علاوہ امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، عبد اللہ بن مبارک، نخعی، حکم بن عتیبہ، ایوب سختیانی ، ابو داود طیالسی، ابو بکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب و دیگر ائمہ کا بھی یہی موقف ہے" انتہی

    واللہ اعلم .

    ماخوذ از: رسالہ : نماز چھوڑنے والے کا حکم، از شیخ محمد بن صالح عثیمین

    https://islamqa.info/ur/5208
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں