1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انسان کو جہنم پہنچانے والی دو عظیم مہلک گناہ شرک بالله اور تقلیدِ آباء و اجداد

'معاصر بدعی اور شرکیہ عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏فروری 24، 2016۔

  1. ‏فروری 24، 2016 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    انسان کو جہنم پہنچانے والی دو عظیم مہلک گناہ شرک بالله اور تقلیدِ آباء و اجداد

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    تحریر : [ أبو عامر۔ Abu Aamir ]

    اللہ سبحانہ و تعالی نے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لئے کرۂ أرض پر جتنے بھی انبیاء و رسول علیہم السلام بھیجے ہیں تو اُن سب کا مشن اور دعوت ایک ہی تھا کہ لوگوں کو طاغوت اور معبودانِ باطلہ کی بندگی سے نکال کر صرف ایک ہی مالکِ حقیقی ربُّ العالمین اللہ سبحانہ وتعالی کی بندگی کی طرف بلائیں۔ اور اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے مقدس تمام آسمانی کتب تورات، زبور، انجیل و قرآن کریم اور دیگر صُحف میں بھی صرف ایک ہی معبود حقیقی اللہ تعالی کی بندگی و عبادت کی تعلیمات و احکامات بیان فرمائی ہیں۔ جن میں آخری کتاب قرآن کریم ہے اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنے آخری محبوب نبی امام کائنات امام الأنبیاء خاتم النبیین رحمت اللعالمین محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمائی ہے۔ اور وہی آخری کلام الٰہی قرآن عظیم الشان ہمارے ہاتھوں میں کتابی صورت میں اور سینوں میں مِّن وعن تر وتازہ بغیر کسی تغیر و تبدیل اور تحریف کے صحیح و سالم کامل محفوظ ہے۔ جس طرح اللہ سبحانہ وتعالی نے خود اس کی حفاظت کا ذمہ لے رکھا ہے۔

    والحمد لله علی ذلك۔

    قرآن کریم کو غور و تدبر کے ساتھ پڑھنے وتلاوت کرنے سے یہ بات روزِ روشن کی طرح بالکل صاف واضح عیاں ہو جاتی ہے کہ اکثر انسانوں کو دوزخ کی آگ یعنی جہنم میں لے جانے والی سب سے زیادہ مہلک وعظیم گناہ شرک باللہ اور آباء و اجداد کی اندھی ہیں جو شیطان ملعون کی بہت سارے تیروں میں سے دو نہایت ہی خطرناک تیر ہیں جس سے وہ لوگوں شکار کرکے شرک و بدعقیدگیوں میں مبتلا کرتے ہیں جو تمام گناہوں کی جڑ و اساس ہیں۔ جب بھی کسی قوم میں یہ دو گناہ پیدا ہوئے تو باقی سارے گناہ انہی کی بطن سے پیدا ہوئے جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے سابقہ اقوام مکذبہ ہلاک کر دئے۔

    لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان دو عظیم گناہوں یعنی شرک باللہ اور تقلید آباء و اجداد میں آج اس آخری اُمت کی ایک کثیر تعداد بھی دانستہ یا غیر دانستہ قبرپرستی، پیرپرستی اور رسم و رواج اور آئمہ و بزرگانِ دین کی آندھی تقلید کی شکل میں گرفتار ہیں۔ جب کہ کتاب وسنت ( قرآن کریم اور صحیح آحادیث رسول ﷺ) میں اس کے لئے سخت وعید اور انذار موجود ہے لیکن اس کے باوجود بھی لوگ ان دو مہلک گناہوں سے اپنے دامن کو نہیں بچاتے ہیں، بلکہ سرے سے ان کو گناہ ہی نہیں سمجھتے ہیں۔ والعیاذ باللہ

    قرآن کریم میں اللہ سبحانہ و تعالی نے مشرک کے بارے جہنمی ہونے اور اس پر جنت حرام ہونے کا صاف، واضح اور دو ٹوک فیصلہ فرما چکا ہے:

    ﴿ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْماً عَظِيماً ﴾ [ النساء 48:4 ]

    " الله تعالى اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے الله تعالى کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا ."

    ﴿ إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا ﴾ [ النساء 116:4 ]

    " الله تعالى اس کے گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا (اور گناہ) جس کو چاہیے گا بخش دے گا۔ اور جس نے الله تعالى کے ساتھ شریک بنایا وہ رستے سے دور جا پڑا."

    ﴿... إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَمَأْوَاهُ النَّارُ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ ﴾ [ المائدة: 72:5 ]

    "... (اور جان رکھو کہ) جو شخص الله تعالى کے ساتھ شرک کرے گا الله تعالى اس پر بہشت حرام کر دے گا اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار۔"

    اور اسی طرح انبیاء علیہم السلام کی اطاعت و اتباع چھوڑ کر اپنے اپنے آباء و اجداد اور بزرگان کی اندھی تقلید بھی جہنم کو جانے ایک بڑی سبب ہے جس میں اُُمم سابقہ کے ساتھ ساتھ اس امت کی بھی کثیر لوگ ملوث ہیں۔ قرآن کریم میں اللہ سبحانہ وتعالی اس کی قباحت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:

    ﴿ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ﴾ [ البقرة 170:2 ]

    " اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) الله تعالى نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے)"

    ﴿ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ قَالُوا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْلَمُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ ﴾ [ المائدة 104:5 ]

    " اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) الله تعالى نے نازل فرمائی ہے اس کی اور رسول الله کی طرف رجوع کرو تو کہتے ہیں کہ جس طریق پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے وہی ہمیں کافی ہے بھلا اگر ان کے باپ دادا نہ تو کچھ جانتے ہوں اور نہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی؟) "

    ﴿ وَإِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً قَالُوا وَجَدْنَا عَلَيْهَا آبَاءَنَا وَاللَّهُ أَمَرَنَا بِهَا قُلْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَأْمُرُ بِالْفَحْشَاءِ أَتَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ ﴾ [ الأعراف 28:7 ]

    اور جب کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے اور الله تعالى نے بھی ہم کو یہی حکم دیا ہے۔ کہہ دو الله تعالى بےحیائی کے کام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بھلا تم الله تعالى کی نسبت ایسی بات کیوں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں"

    ﴿ قَالُوا أَجِئْتَنَا لِتَلْفِتَنَا عَمَّا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا وَتَكُونَ لَكُمَا الْكِبْرِيَاءُ فِي الْأَرْضِ وَمَا نَحْنُ لَكُمَا بِمُؤْمِنِينَ ﴾ [ يونس 78:10 ]

    "وہ بولے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ جس (راہ) پر ہم اپنے باپ دادا کو پاتے رہے ہیں اس سے ہم کو پھیردو۔ اور (اس) ملک میں تم دونوں کی ہی سرداری ہو جائے اور ہم تم پر ایمان لانے والے نہیں ہیں"

    ﴿ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ الشَّيْطَانُ يَدْعُوهُمْ إِلَىٰ عَذَابِ السَّعِيرِ ﴾[ لقمان 21:31 ]

    " اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) الله تعالى نے نازل فرمائی ہے اُس کی پیروی کرو۔ تو کہتے ہیں کہ ہم تو اسی کی پیروی کریں گے جس پر اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ شیطان ان کو دوزخ کے عذاب کی طرف بلاتا ہو (تب بھی؟) "

    ﴿ وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَىٰ يَدَيْهِ يَقُولُ يَا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا﴿27﴾ يَا وَيْلَتَىٰ لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيلًا﴿28﴾ لَّقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي ۗ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولًا ﴿29﴾ وَقَالَ الرَّسُولُ يَا رَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَٰذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا ﴿30﴾ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِينَ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ هَادِيًا وَنَصِيرًا﴿31﴾" [ الفرقان: 25 ]


    " اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا ہائے کاش کہ میں نے رسول ﷺ کی راە اختیار کی ہوتی (27) ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا (28) اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراە کر دیا کہ نصیحت میرے پاس آ پہنچی تھی اور شیطان تو انسان کو ( وقت پر ) دغا دینے ولا ہے (29) اور رسول ﷺ کہے گا کہ اے میرے رب ! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا (30) اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بعض گناە گاروں کو بنا دیا ہے، اور تیرا رب ہی ہدایت کرنے والا اور مدد کرنے والا کافی ہے(31)"

    مندرجہ بالا قرآنی آیات کریمہ میں ان تمام لوگوں کے لئے کافی نصیحت و موعظت موجود ہے جو اللہ تعالی کی سیدھی راہ کتاب وسنت ( قرآن کریم و صحیح آحادیث رسول ﷺ) کو چھوڑ کر شیطان اور طواغیت کی راہیں اختیار کئے ہوئے ہیں۔

    اس لئے ہمارے محبوب نبی محمد کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ:

    (( تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ ))

    " میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے پکڑے رہو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہو گے، الله تعالی کی کتاب اور اس کے نبی اکرم (ﷺ) کی سنت۔"

    [حسن] السنن الکبرٰی للبیهقي، آداب القاضي، باب ما یقضي به القاضي ویفتي به المفتي: 114:10، حدیث: 20337، والموطآ للإم مالك، القدر، باب النهي عن القول بالقدر، حدیث: 1708، یہ روایت اپنے شواہد کے ساتھ حسن ہے] ماخوذ: نماز نبوی صحیح آحادیث کی روشنی میں (ص: 39).

    اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو ہر قسم کی شرک اور تقلید آباء و اجداد اور خودساختہ بزرگان کی اندھی تقلید سے نکال کر کتاب وسنت ( قرآن کریم و صحیح آحادیث رسول ﷺ) کی نبوی منهج کی روشن و معطر راہ کی اتباع و اطاعت پر لگا دیں۔ اور انہیں اپنے صحیح متبعین سنت مؤحدین بندے بنا دیں۔ اللهم آمین۔

    اس دعوتی پوسٹ کو تمام اہل حق متبعین سنت مؤحدین مسلمان بہن بھائی اپنے ویب پیجز اور فیس بک ٹائم لائنز پر اپنے دوستوں سے بطور صدقہ جاریہ ثواب کی نیت سے share کریں، ہو سکتا ہے کہ اس کے ذریعے سے کسی کو اللہ تعالی ہدایت نصیب کرے اور وہ اندھی تقلید و بدعات اور بدعقیدگیوں کی تاریک راہوں سے نکل کر اتباعِ کتاب وسنت کی روشن و سیدھی اور معطر راہ کی طرف آئے، اور صحیح و سچا متبعِ سنت بن جائے۔

    جزاکم الله خیرًا۔

    وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين۔

    واللہ تعالی أعلم
    أبو عامر (Abu Aamir)
     
    Last edited: ‏فروری 24، 2016
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں