1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انشورنس كمپنى ميں ملازمت كرنى :

'انشورنس' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 28، 2015۔

  1. ‏نومبر 28، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    انشورنس كمپنى ميں ملازمت كرنى :

    كيا زندگى كى انشورنس ( بيمہ ) كروالى حرام ہے يا حلال؟ اور زندگى كى انشورنس كمپنيوں ميں ملازمت كرنے والوں كا حكم كيا ہے ؟

    الحمد للہ :

    اول:

    زندگى كى انشورنس تجارتى انشورنس كى اقسام ميں سے ايك قسم ہے، اور يہ حرام ہے؛ كيونكہ اس ميں جہالت، سود، اور جوا اور باطل و ناجائز طريقہ سے مال كھايا جاتا ہے.

    اور تجارتى كمپنيوں ميں ملازمت اور كام كرنا جائز نہيں؛ كيونكہ يہ گناہ اور معصيت ميں معاونت ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالى نے اس سے منع كرتے ہوئے فرمايا:

    {اور تم نيكى وبھلائى كے كاموں ميں ايك دوسرے كا تعاون كرتے رہو، اور گناہ و معصيت اور برائى ميں ايك دوسرے كا تعاون مت كرو}المائدۃ ( 2 ).

    اس كى مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 8889 ) كا جواب ضرور ديكھيں.

    دوم:

    آپ كو اس كام كى حرمت كا علم ہونے سے قبل اس كمپنى ميں ملازمت كے ذريعہ جو كمايا ہے اس سے فائدہ حاصل كرنے اور استعمال كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

    {جو شخص اپنے پاس اللہ تعالى كى جانب سے آئى ہوئى نصيحت سن كر رك گيا اس كے ليے وہ ہے جو گزر چكا، اور اس كا معاملہ اللہ تعالى كے سپرد} البقرۃ ( 275 ).

    اور جو مال آپ نے اس كى حرمت معلوم ہو جانے كے بعد كمپنى سے حاصل كيا ہے آپ كو اس سے چھٹكارا حاصل كرنا ضرورى ہے، كيونكہ وہ حرام مال ہے، اور اس مال كو كسى نيكى اور بھلائى كے كاموں ميں صرف كرديں.

    اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے سوال نمبر ( 33852 ) اور ( 2492 ) كے جوابات ضرور ديكھيں.

    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 15 / 8 ).

    واللہ اعلم .

    الاسلام سوال وجواب

    http://islamqa.info/ur/40336
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں