1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انٹرویوز: دلیل ڈاٹ پی کے

'مکالمہ' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏نومبر 27، 2017۔

  1. ‏نومبر 27، 2017 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    سوشیل میڈیا کی مشہور و معروف سائٹ دلیل ڈاٹ پی کے کے مضامین کی اہمیت اپنی جگہ، لیکن اس نے حال ہی میں معروف شخصیات کے انٹرویو کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اگر آپ اب تک اس سے بے خبر ہیں تو یہ انٹرویو ضرور پڑھئے۔ان پر تبصرہ بھی کیجئے۔ اتفاق کیجئے یا اختلاف، لیکن انہیں پڑھئے ضرور کہ ان انٹرویوز سے آپ کی عصری معلومات میں بھی اضافہ ہوگا اور آپ کا وژن بھی وسیع ہوگا
     
  2. ‏نومبر 27، 2017 #2
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562


    اوریا مقبول جان

    میں طالبان اور داعش کو ایک ساتھ جوڑنے کو ہرگز تیار نہیں۔ یہ دونوں بالکل مختلف نظریات رکھنے والے ہیں۔ جہاں تک کچھ نظریات کے آپس میں یکسانیت کا تعلق ہے، ضروری نہیں کہ آپ کا نظریہ کوئی اور استوار کرلے تو آپ اپنا نظریہ چھوڑدیں۔ پاکستانی طالبان کے حق میں کبھی نہیں رہا۔ البتہ افغان طالبان کی بات ضرور کرتا ہوں۔ مجھے کوئی بتائے افغانستان کی چودہ سو سالہ تاریخ میں طالبان سے بہتر کوئی حکومت آئی؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ اور خلفائے راشدین کے دور کو چھوڑکر ایسا پُرامن دور کسی نے افغانستان میں دیکھا؟ اتنی فعال حکومت کہ دنیا کے اندر ہیروئن کے لیے 91 فیصد پیداوار فراہم کرنے والا ملک زیرو پر آجائے۔ وہ جو ہم سنتے ہیں ایک عورت صنعا سے حضر موت تک سونا اُچھالتی ہوئی سفر کرے گی اور اسے خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ ہوگا۔ اسے ہم نے اپنی آنکھوں سے افغانستان میں دیکھا۔ قندھار سے ایک عورت چلتے ہوئے کابل پہنچتی اور اسے کوئی فکر نہ ہوتی کہ کوئی اسے لوٹ لے گا۔ میں نے وہاں جاکر حالات اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ State become invisible۔ ’دنیا کی کامیاب ریاست وہ ہے جو نظر نہ آئے۔‘ پولیس نظر نہیں آرہی، لیکن چوراہے پر کوئی سگنل نہیں توڑرہا۔ طالبان نے اسے کردکھایا۔ کوئی شہر ایسا نہیں تھا جہاں سات سے زیادہ نفری ہو۔ بڑے سے بڑے شہر میں دیکھ لیا۔ صرف سات طالبان۔ بہترین انتظامیہ، شاندار حکومت۔ اگر میں ان کا دفاع کرتا ہوں تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟
    https://daleel.pk/2017/11/21/66958

    https://daleel.pk/2017/11/23/67241
     
  3. ‏نومبر 27، 2017 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ہارون الرشید
    وہ کیسا اسکالر ہے جو ردِعمل میں فیصلہ صادر فرمائے۔ میں اس کو اچھا تجزیہ کار نہیں سمجھتا جو نواز شریف سے چڑکر عمران خان کی بات مان لے کہ نواز شریف دفن ہوچکا اور اس کی قبر پر گھاس اُگ آئی ہے۔ میں نے تو آج لکھا کہ نہ وہ دفن ہوا، نہ اس کی قبر پر گھاس اُگی ہے۔ میرے بڑے بھائی میاں محمد یٰسین کا مولانا مودودی کے ساتھ کافی ملنا جلنا تھا۔ مولانا مودودی سے انہوں نے کہا کہ ہم تصوف کی کیوں مخالفت کریں؟ سید صاحب نے فرمایا: ’’اس راستے میں ایسا ایسا اژدھا پڑا ہے کہ آپ کا ایمان ہی ہڑپ کرجائے‘‘ تو اس اژدھا سے بچیں نا، حالانکہ اس حد تک مولانا تصوف کے قائل تو ضرور تھے کہ کشف المحجوب کا ترجمہ کرایا اور اپنے عزیز ترین شاگرد میاں طفیل محمد سے۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ تصوف کا جو طریق رائج رہا ہے، وہ آج نہیں چل سکتا۔ پروفیسر احمد رفیق اختر نے بھی یہی کہا کہ یہ انداز آج نہیں چل سکتا، بیعت نہیں ہوسکتی، بحث ہوگی۔

    https://daleel.pk/2017/11/14/65792

    https://daleel.pk/2017/11/15/65992
     
  4. ‏نومبر 27، 2017 #4
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    سجاد میر:
    کراچی نے ایک تہذیبی و ثقافتی مرکز کے طور پر جڑ پکڑی تھی۔ پاکستان جب بنا تو اُس وقت صرف ایک ہی مرکز لاہور تھا۔ صحافتی طور پر بھی، ادبی طورپر بھی۔ صرف یہی نہیں کہ نوائے وقت تھا۔ امروز چلا۔ زمیندار چلا۔ اخبارات الگ الگ ‘ مگر ایک فکری دبستان۔ ایک پورا مکتب فکر کراچی میں نیا قائم ہوا تھا۔ لوگ وہاں ہجرت کرکے آتے رہے اور شہر کا مزاج بنتا گیا۔ لاہور میں بھی ایسا ہوا کہ لوگ ہجرت کرکے آئے جن میں اشفاق احمد، اے حمید، منیر نیازی، شہزاد احمد شامل ہیں۔۔۔ ایک نیا شہر خوابوں کی دنیا دیکھنے والوں کا آباد ہوا۔ لیکن کراچی میں تو لگتا تھا کہ ایک نئی بستی آباد ہوئی ہے۔ ان لوگوں کی کہانیاں ہم سنتے ہیں۔ کس طرح بے چین روحیں سڑکوں پر گھومتی تھیں اور بیٹھتی تھیں اور ساری ساری رات اور سارا سارا دن ادب کے مسائل پر گفتگو کرتی تھیں۔

    https://daleel.pk/2017/11/09/64291
     
  5. ‏نومبر 27، 2017 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    احمد جاوید:
    اگر ہم روحانی بنیادوں پر ایک فلاحی اور انسانی معاشرہ بناکر دکھادیں تو مغرب ایک گولی چلائے بغیر فتح ہوسکتا ہے۔ لیکن ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم اس کو تو روتے ہیں کہ عالم اسلام میں کوئی حکومت اسلامی نہیں ہے، لیکن اس طرف نظر نہیں کرتے کہ عالم اسلام میں کوئی معاشرہ اسلامی ہے یا نہیں؟ ہمیں اس بات کی کسک محسوس نہیں ہوتی کہ اس وقت عالم اسلام میں کوئی ایک معاشرہ بھی اسلامی معاشرہ نہیں ہے۔ حالانکہ معاشرے کی اسلامی تشکیل کا کام کم ازکم ایک قابلِ اعتبار حد تک ریاست کی مدد کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ ہمیں اسلامی معاشرے میں ڈھلنے کے لیے بہت زیادہ نظریاتی پن یا بہت زیادہ قانونی پن کی حاجت نہیں ہے۔ بندگی اور آدمیت میں، یا بالفاظِ دیگر دین اور فطرت میں آجانے والے فاصلے کو کم کر دینے کی اُمنگ اور قدرت سے معاشرہ اس طرح اسلام کے اجتماعی در وبست کا نمونہ بن سکتا ہے جس کی تحسین اور تعریف میں غیر مذہبی ذہن بھی بخل نہ کرے۔ ایک خاص طرح کی دست نگری والے مزاج نے ہم پر ایسا غلبہ کر رکھا ہے کہ ہم ریاست اور حکومت کو بہت زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں اور ان پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں۔ حالانکہ ریاست جز ہے اور معاشرہ کُل، لیکن ہم نے ریاست اور سوسائٹی کی اس فطری نسبت کو عمل میں لانے کی کوشش نہیں کی، کوشش تو دور کی بات ہے ہمارے اندر وہ تصوّر ہی غائب ہو چکا ہے جس کے مطابق حکومت سوسائٹی کا ایک طفیلی ادارہ ہے، اور حکومت و ریاست میں بھی تبدیلی معاشرتی قوت ہی سے آتی ہے۔

    https://daleel.pk/2017/11/02/64039
     
  6. ‏دسمبر 01، 2017 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    حامد میر:
    1994ء کا سال تھا۔ میں نے آبدوز اسکینڈل پر ایک آرٹیکل لکھا۔ جس میں آصف علی زرداری صاحب کا نام بھی تھا۔ میں نے زرداری صاحب پر براہِ راست کوئی الزام نہیں لگایا تھا، بلکہ میں نے ان کے کچھ دوستوں کا ذکر کیا کہ وہ اس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ پھر اس میں چائنیز اور فرنچ آبدوزوں کا ذکر تھا کہ کون سی ڈیل پاکستان کے لیے بہتر ہے اور اس میں کس کا کیا مفاد ہے؟ جب یہ خبر چھپ کر آئی تو ہمارے سینئر اور آصف علی زرداری صاحب کے دوست اظہر سہیل صاحب نے اخبار انتظامیہ سے کہا کہ اگر آپ کو ٹی وی چینل کھولنا ہے تو آصف علی زرداری کو ناراض تو نہیں کرسکتے۔ ٹی وی چینلز کی باتیں اس زمانے سے چل رہی تھیں۔

    اسی کا نتیجہ تھا کہ صبح گیارہ بجے مجھے بغیر کسی شوکاز نوٹس کے ملازمت سے فارغ کردیا گیا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ زرداری صاحب نے آپ کو ملازمت سے نکلوا دیا ہے۔ اگلے دن روزنامہ خبریں میں ضیاء شاہد صاحب نے صفحہ اول پر خبر چھاپ دی کہ آبدوز اسکینڈل کی اسٹوری پر حامد میر نوکری سے فارغ۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان نے پریس کانفرنس بھی کر دی اور قومی اسمبلی میں بھی یہ ایشو اُٹھا۔ میں لاہور میں ہی تھا، بے نظیر بھٹو صاحبہ وزیراعظم تھیں، انہوں نے مجھے اسلام آباد بلایا اور کہا کہ یہ کیسے ہوگیا؟ میں نے تو آپ کو نہیں نکلوایا۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے تو یہی بتایا گیا ہے کہ آصف علی زرداری صاحب نے مجھے نکلوایا ہے۔

    محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ نے آصف علی زرداری صاحب سے میری ملاقات کروائی تو انھوں نے اس کی تردید کی اور کہا کہ میرا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی وقت میرے سامنے اخبار انتظامیہ سے بات کی اور مجھے بحال کروا دیا۔ مجھے شدید دھچکا لگا اور سوچا کہ میری عزتِ نفس مجروح ہوا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا کہ اب مجھے یہاں مزید ملازمت برقرار نہیں رکھنی چاہیے۔ میں نے بحالی کے بعد استعفیٰ لکھا، جس میں یہ مینشن کیا کہ مجھے بغیر کسی وجہ کے نوکری سے برخاست کیا گیا، میں بھی آپ کو کوئی وجہ بتائے بغیر استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں نے ابھی تک وہ استعفیٰ سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ میں نے روزنامہ ”جنگ“ سے استعفیٰ دیا اور روزنامہ ”پاکستان“ جوائن کر لیا۔ منو بھائی روزنامہ جنگ میں آگئے تھے، میں وہاں چلا گیا۔ وہاں میں نے کالم لکھنا شروع کردیا۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ میں منو بھائی کے متبادل کے طور پر روزنامہ ”پاکستان“ آیا۔

    https://daleel.pk/2017/11/30/68047
     
  7. ‏دسمبر 04، 2017 #7
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    حامد میر-2:
    ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں کتاب لکھی تھی If I am Assassinated۔ اس میں ایک فقرہ لکھا کہ ”میں تاریخ کے ہاتھوں مرنے کے بجائے فوج کے ہاتھوں مرنا پسند کروں گا۔“ اس وقت آمریت تھی۔ اگر نواز شریف صاحب تاریخ میں زندہ رہنا چاہتے تھے تو وہ بھی امر ہوسکتے تھے۔ جب وہ وزیراعظم تھے اور پرویز مشرف پر آئین کی دفعہ چھ کی خلاف ورزی کا مقدمہ چل رہا تھا۔ اس وقت جنرل راحیل شریف، چوہدری نثار اور شہباز شریف کے ذریعے دباؤ ڈال رہے تھے کہ مشرف کا ٹرائل نہ کیا جائے اور انہیں پاکستان سے باہر بھیج دیا جائے۔ وہ ایک لمحہ تھا جب نواز شریف کو فیصلہ کرنا تھا کہ انہیں دباؤ قبول کرنا ہے یا نہیں؟ اگر وہ راحیل شریف، شہباز شریف اور چوہدری نثار کی ٹرائیکا کے سامنے ہتھیار نہ ڈالتے اور ڈٹ جاتے۔ وہ کہتے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک ڈکٹیٹر کا احتساب ہورہا ہے۔ اور ضرور ہونا چاہیے چاہے اس کے نتیجے میں حکومت ختم ہوجائے۔ انہیں جیل میں ڈال دیا جائے۔ غائب کردیا جائے۔ بے شک وہ ایک لفظ نہ بولتے، وہ خودبخود مزاحمت کی ایک علامت بن جاتے۔ اب جو اسٹینڈ لیا ہے، یہ ان کی ایک ذاتی محرومی ہے۔ لوگ اسے وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کا ردِعمل کہیں گے۔

    https://daleel.pk/2017/12/03/68274
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں