1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

"انٹرویو" پورشن میں خواتین کے انٹرویو نشر نہ کیئے جائیں

'تجاویز، آراء اور شکایات' میں موضوعات آغاز کردہ از سجاد, ‏مارچ 07، 2015۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏مارچ 10، 2015 #41
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    @اخت ولید سسٹر ، آپ کی بات سے متفق ہوں کہ کل سے میرا حوصلہ نہیں ہو رہا ہے کہ کسی تھریڈ میں پہلے جیسے جذبے کے ساتھ پوسٹ کروں۔
    مجھے نہیں پتا کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے، لیکن ایک ایسے بھائی جو صرف اپنی ذاتی فہم کو علم سمجھتے ہیں ، وہ ضرور ہم سب کو "الجھن" میں مبتلا کر رہے ہیں!
    عورت کو چھپانے کی رو سے جو نظریہ آپ لاگو کرنا چاہتے ہیں ، اس کے مطابق سب سے پہلے خواتین کی ریٹنگ "پسند ، زبردست ، متفق" ان سب کو بند کرنا ہوں گا کیونکہ یہ اس کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے !
    تجاویز ، طنز و مذاح ، اردو ادب ، فقہی سوالات سیکشنز میں خواتین کو داخلے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ، کیونکہ یہاں کے بیشتر مسائل میں خواتین کے ذاتی احساسات شامل ہو سکتے ہیں !اور بڑی بد قسمتی ہے کہ "خواتین سیکشن" کی ہر تحریر میں حصہ ڈالنی والی خواتین اپنے "احساسات اور جذبات "کی عکاسی کرتی ہیں!
    اور ہم تو عام یہاں لکھتے ہیں کہ فلاں بھائی نے اس موضوع پر بہت اچھی رائے دی یا بات کی۔۔۔۔ایسے جملے پر خصوصی پابندی عائد کریں ، کیونکہ عورت نے اپنے احساس ظاہر کر دئیے ہیں، اور یہ "فتنہ" ہے!
    عورت کی ایسی تعریف پہلے کبھی نہیں دیکھی !
    لیکن میں آپ کو ایک فرق ضرور پیش کرنا چاہتی ہوں۔
    اخت سہام بہن کی پوسٹ پر آپ نے " قابل قدر جذبات" کے الفاظ کے لکھے۔۔۔
    آپ اپنے لیے ایک غیر محرم خاتون کے لیے قدر کے جذبات کو دین کے کس درجے میں لیں گے ؟ مجھے تو آپ کے اس "دو رخ" کی سمجھ نہیں آ رہی بھائی!
    @ابن حسیم بھائی کی رائے بہت مفید ہے۔(اللہ معاف کرے ، ایسے الفاظ پر یہاں فتنہ سمجھا جا رہا ہے، کیا لکھوں ، سخت کشمکش ہے) ۔
    اہل علم سے توجہ کی گزارش ہے ۔
     
  2. ‏مارچ 10، 2015 #42
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    میں تقریبا 16 مہینہ سے اس فورم کا حصہ ہو مگر کبھی بھی اس طرح کا مسلہ پیدا نہیں ہوا - لہذا میری تو رائے یہ ہے کہ جس طرح پہلے خواتین دین کا علم سیکھ اور سیکھا رہی تھی - اسی طرح چلنے دے کیونکہ خواتین کو دینی علم سیکھنا بہت ضروری ہے - اور دین کی خدمت مرد اور عورت دونوں کے لئے ہیں -

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث پیش کرتا ہو - جس سے بات واضح ہو جائے گی -


    12897_797795673632888_2825299487408441447_n.jpg
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 10، 2015 #43
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    خواتین کے فرائض اپنے سماج کے تئیں :

    معاشرہ مرد و عورت سے مل کر بنتا ہے ،معاشرہ کے صلاح و فساد میں مرد و عورت دونوں کا ہاتھ ہوتا ہے ،اور معاشرہ کے صلاح وفساد کی فکر بھی مرد و عورت دونوں کوہی کرنی چاہئے ،حالاں کہ جب عورت اپنے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے گی تو بہت حدتک وہ سماج کے تئیں بھی اپنے فرائض ادا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی ،کیوں کہ سماج گھر سے شروع ہوتا ہے اورگھرعورت سے ،لیکن اس کے باوجود سماج کے تئیں خواتین کے اوپر کچھ خاص قسم کے فرائض بھی عائد ہوتے ہیں ،جن سے کوئی بھی خاتون مبرانہیں ہوسکتی مثلاپڑوسیوں سے اچھے تعلقات ،رشتہ داروں میں محبت و میل ملاپ ،ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونا ،مصیبت کے وقت دوسروں کے کام آنا،شادی بیاہ وغیرہ کے موقعوں پر مل بانٹ کرذمہ داریوں کابوجھ ہلکاکرنا،ضرورت کے وقت دوسروں کی رہنمائی کرنا ،موقع کے لحاظ سے مفیدمشورہ دینا،اگرکوئی غلط راستہ پرچل رہاہوتوحکمت ودانائی سے اس کواچھائی کی طرف موڑناوغیرہ خواتین کے سماجی فرائض ہیں ۔

    علاوہ ازیں تعلیم کے فروغ خصوصا تعلیم نسواں کے فروغ کے لیے کوشاں ہونا،حقوق انسانی بطور خاص تعلیم اورحقوق نسواں کی بحالی میں اپنی خدمت پیش کرنا ،سماج میں اپنی جڑیں مضبوط کرچکے غیرشرعی رسوم ورواج مثلا جہیز وغیرہ کے خلاف کوشش کرنا ،لوگوں میں خصوصاعورتوں میں دین کی صحیح سمجھ اوراسلام کی سچی تعلیمات پہنچانا اورخصوصاعورتوں کے بیچ اصلاح کی کوشش کرنا وغیرہ بھی خواتین کے سماجی فرائض ہیں۔
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 10، 2015 #44
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,732
    موصول شکریہ جات:
    8,323
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اب تک کے مباحثے میں دو تین باتیں متفقہ نظر آرہی ہیں :
    1۔ فورم پر موجود قابل قدر بہنوں سے ان کے ذاتی معاملات کے بارے میں پوچھ گچھ نہ کی جائے ، انٹرویو وغیرہ میں بھی اور عام حالات میں بھی ۔ اگر بہنیں آپس میں کوئی ضرورت سمجھتی ہیں تو ذاتی پیغام والی سہولت استعمال کریں ۔
    2۔ دینی و علمی موضوعات میں اظہار خیال پر بہنوں پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے ، بلکہ اس سلسلہ میں ان قابل قدر خواتین اراکین کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو اس پر فتن دور میں دامن بچا کر ’’ اصلاح ‘‘ کے لیے کوشش اور محنت کر رہی ہیں ۔
    3۔ ’’ فتنہ ‘‘ صرف عورت ہی نہیں بلکہ ’’ مرد ‘‘ بھی بن سکتا ہے ، لہذا صرف ’’ بہنوں ‘‘ کو موضوع بحث نہ بنایا جائے ۔
     
    • متفق متفق x 5
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  5. ‏مارچ 10، 2015 #45
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    -
     
  6. ‏مارچ 10، 2015 #46
    عبدالقیوم

    عبدالقیوم مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2013
    پیغامات:
    825
    موصول شکریہ جات:
    408
    تمغے کے پوائنٹ:
    128

    اچھا فیصلہ ہے متفق ہیں آپ کی رائے کےساتھ
     
  7. ‏مارچ 10، 2015 #47
    ابن حسیم

    ابن حسیم رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2012
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    145
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    مجھے یاد ہے اردو مجلس پر ایک دفعہ ایک صاحب ٹوپی والے برقعہ پر بضد تھے کہ پردہ ہے ہی ٹوپی والے برقعہ میں جس پر تنقید کرتے ہوئے بہت سے بہن بھائیوں نے اظہار رائے کی تھی۔
    کہیں ٹوپی والے برقعہ کا مسئلہ، کہیں گفت و شنید کا مسئلہ، اور اگر یہی معاملہ رہا تو وہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے کہ لفظ "عورت" پر اور دنیا میں اسکے وجود پر ہی پابندی عائید ہو جائے گی۔
    لیکن یہ کوئ نئ بات نہیں ایسے افراد ہر معاشرہ میں معاشرہ کا حصہ رہے ہیں جو کسی نہ کسی معاملہ میں افراط تفریط کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لئیے بہنوں کو دل برادشتہ ہو کر دعوت و تبلیغ سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ بلکہ ہمت و حوصلہ سے ایسے لوگوں کی راہنمائ کرنی چاہیے اور انہیں اس افراط و تفریط سے نکالنا چاہیے۔
    مزید میں انتظامیہ سے گزارش کروں گا کہ اس تھریڈ کو جلد از جلد مکمل کریں۔
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏مارچ 10، 2015 #48
    بنات خدیجہ

    بنات خدیجہ رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 01، 2014
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    57
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
    معذرت چاہتی ہوں۔ آپ علماء کے درمیان میں میں بولنے کی اہل نہیں ، لیکن اپنے کچھ خیالات کا اظہار کرنا چاہتی ہوں۔
    واللہ مجھے محدث فورم پر یہی بات کھٹکتی رہی تھی کہ علماء موجود ہیں پھر بھی یہاں اختلاط پایا جاتا ہے، اور نجانے کیوں مجھے ایسا خیال آنے لگتا کہ اگر میرے والد صاحب یا میرے بھائی ایسا کریں (کسی بہن سے مخاطب ہوں) تو۔۔۔۔۔۔۔ اور بس خون کھولنے لگتا۔
    میرے دور کے کوئی رشتہ دار خاتون اگر والد صاحب کے لئے سلام کہنے کا کہتے، تو مجھے بہت عجیب لگتا، کہ کلام نہیں کرنا ہے تو سلام کی کیا ضرورت ہے؟ اگر دعا ہی دینی مقصود ہے تو غائبانہ دعا دے لیتے، غائبانہ دعا کی فضیلت بھی زیادہ ہے۔ اور سلام کی اس امانت کو والد صاحب تک پہنچانے کے لئے مجھے ضبط کے کن مراحل سے گزرنا پڑتا وہ میرا رب جانتا ہے۔
    میں نہیں جانتی کہ غیر محرم کو سلام کہنا یا کہلوانا جائز ہے یا نہیں، لیکن مجھے محدث فورم پر سلامتی کی دعاوں کے تبادلے بہت کھٹکتے تھے۔
    پھر میں نے غور کیا، بہت غور کیا،
    اور میں نے جانا کہ ایسا اس لئے ہوتا تھا کہ ہمارا گھرانہ، ماحول، بہت سخت ہے،
    بلا شبہ اسلام زیادہ تنگ نہیں ہے، اور نہ ہی زیادہ فراخ ہے۔ اسلام کے پر پہلو میں اعتدال ہے۔
    ہم اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجانا چاہتے ہین جیسے کہ رب العزت کا حکم ہے۔
    لیکن ہمارے گھرانہ میں کبھی اس بات کی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ کسی غیر محرم مرد کو مخاطب کرنا پڑے، یا ہمارے مردوں کو کسی غیر محرم خواتین کو بہن کہہ کر مخاطب کرنا پڑے۔
    ہر کسی پر ماحول کا اثر ہوتا ہے، اور انسان کو ماحول سے ہٹے ہوئے معاملات بہر صورت کھٹکتے ہی ہیں۔
    محدث فورم کے اس ماحول کو قبول کرنے میں وقت تو لگا۔ لیکن انٹرویو والا معاملہ مجھے اب بھی بہت کھٹکتا ہے، میں وجہ تک نہیں پہنچ پائی کہ اس میں مجھے کیا چیز کھٹکتی ہے۔
    یہ بہترین فورم ہے، میں اس فورم سے دور جانا نہیں چاہوں گی ان شاء اللہ۔ اس فورم سے میں بہت استفادہ حاصل کرتی ہوں۔
     
    Last edited: ‏مارچ 10، 2015
    • شکریہ شکریہ x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 10، 2015 #49
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,032
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    خضر حیات بھائی میرا آپ کی رائے سے صرف جزوی اختلاف ہے صرف پہلے نکتے کے حوالے سے
    اگر اس پر کوئی اتفاق ہوا ہے تو اس کا لنک مجھے بھی بتا دیں کیونکہ ابھی تک تو اس کی مخالف رائے پر زیادہ اتفاق پایا جا رہا ہے (میری ناقص رائے کے مطابق)
    اس فورم پر زیادہ تر اراکین کی تعداد مدارس کے اساتذہ اور طالبعلموں کی ہی ہے لہذا ان کی آراء کو مدنظر رکھا جائے اور فورم پر کچھ ایسے ساتھی بھی ہیں جو فتوی کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں بلکہ خود محدث فورم کا ایسا سیکشن بھی ہے وہاں باقاعدہ ایک سوال لکھ کر دیا جا سکتا ہے اس سے پہلے متفقہ والا لفظ کچھ مناسب نہیں ہے میری بات کو محسوس نہ فرمایئے گا
     
  10. ‏مارچ 10، 2015 #50
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,957
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    11020217_1073084646039358_7418643196151053185_n.jpg

    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (( مَا کَانَ الْفُحْشُ فِی شَیْئٍ إِلَّا شَانَہُ مَا کَانَ الْحَیَائُ فِيْ شَيْئٍ إِلَّا زَانَہُ۔))2

    ’’ حیاء جس چیز میں بھی ہوتی ہے اسے خوبصورت بنا دیتی ہے۔ ‘‘

    (فی شیء: کسی چیز میں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس لفظ میں مبالغہ ہے یعنی اگر کسی جامد چیز میں بھی حیاء ہو تو وہ بھی خوبصورت ہوجاتی ہے اور اگر انسان میں آجائے تو کیا ہی کہنے۔


    http://forum.mohaddis.com/threads/پردہ-پوشی-اور-حیا.23317/
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں