1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انکار حدیث مبنی بر علمیت ہے؟

'انکار حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالله بن عبدالرشيد, ‏جنوری 26، 2016۔

  1. ‏جنوری 26، 2016 #1
    عبدالله بن عبدالرشيد

    عبدالله بن عبدالرشيد رکن
    جگہ:
    الهند،كولكاتا
    شمولیت:
    ‏جنوری 23، 2015
    پیغامات:
    63
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ۔
    آجکل بعض جھّال محض اپنی بے بنیاد "علمیت" کی بنیاد پر احادیث رسول صلی ﷲ علیہ وسلم کے بطلان کا فتوی صادر فرمانے لگے ہیں۔
    لہذا آئیے آج ہم ذرا اسی "علمیت"(علم) پر تھوڑی گفتگو کرتے ہیں۔
    عام فہم الفاظ میں “جب ہم کسی بھی چیز کے متعلق جانتے ہیں تو ہم دراصل اس کے متعلق علم رکھتے ہیں ۔ تب ہم کہتے ہیں “مجھے فلاں چیز کا علم ہے , میں فلاں بات کا علم رکھتا ہوں ” ۔

    کسی بھی چیز کے متعلق جاننا اس کا علم رکھنا کہلاتا ہے ۔ اگر آپ عالم دین ہیں تو آپ دین کا علم رکھتے ہیں , ریاضی دان ہیں تو ریاضی کا علم رکھتے ہیں , بائیولوجسٹ ہیں تو علم الاحیاء رکھتے ہیں ۔ حتی کہ بڑھئی , لکڑہارا , سنار اور لوہار بھی اہل علم ہیں ۔ کیونکہ وہ بھی اک مخصوص ہنر کا علم رکھتے ہیں۔

    اسی طرح یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ علم کا ادراک فکرونظر کے ذریعہ کیا جاتا ہے اور وہی شخص کسی خاص میدانِ علم میں اپنی علمیت کی بنیاد پر تبصرہ یا "تنقید" کرسکتا ہے جو اس میدان کا "مکمل" اور "صحیح" عالم ہو ,بصورت دیگر اس "تنقید" یا "تبصرے" کو محض ایک "بڑ " قرار دیا جاتا ہے۔
    وہ جیسے کہتے ہیں نا "نیم حکیم خطرہ جان"
    یعنی اگر نامکمل حکماء علم طب میں اپنی شیخی بگھار نے لگ جائیں تو اس بات کی ضمانت دینے میں کوئی حرج نہیں کہ یقینا وہ اپنی اس "شیخی" کے ذریعہ مریض کو اللہ کا پیارا کروادینگے۔

    بعینہ یہی حال ان منکرین حدیث کا ہوتا ہے ۔یہ لوگ بالکل "نیم حکیم خطرہ جان"کی جیتی جاگتی مثال اور "نیم ملا خطرہ ایمان" کے سوفیصد مصداق ہوتے ہیں۔

    ارے میرے بھائی...
    اگر آپ پر خود کو عالم کہلانے کا اتنا ہی بھوت سوار ہے تو آئیے ہم آپکو اس "درجہ علمیت" پر فائز ہونے کا ایک آسان سا طریقہ بتلاتے ہیں۔۔۔اور وہ یہ ہے کہ بس آپ اپنی "لاعلمی " ہی کے عالم بن جائیں اور بس, بن گئے آپ "نصف عالم".


    کیونکہ

    " ‫‏میں_نهیں_جانتا‬ " کہنا بھی دراصل نصف علم ہے۔
    ابو درداء رضی الله عنه , عامر بن شرحبیل الشعبی رحمه الله اور دیگر كچھ اسلاف سے مروی هے كه عالم كا " لا ادری " كهنا نصف علم هے _____
    جس كا انسان كو علم هے یا جس سے انسان لاعلم هے اس میں درج ذیل صورتیں هیں :
    جس كا انسان كو علم هو اس كی دو صورتیں هیں :
    ١۔وه اپنے علم كا عالم هوگا
    ٢۔یا جاهل __


    ١۔ عالم هو تو یه نصف علم هے
    ٢۔جاهل هو تو لا علمی هے __یعنی جہالت۔

    دراصل جہالت بھی دو قسم کی ہوتی ہیں:
    ١۔جھل بسیط: یہ کہ انسان سرے سے نرا جاہل ہو,یعنی کچھ بھی علم نہ ہو۔

    ٢۔جھل مرکب: یہ کہ علم ہو مگر غلط ۔

    لہذا جس كا علم نهیں اس كی بھی دو صورتیں هیں :
    یا تو اپنی لا علمی كا علم هے یا نهیں __
    # اگر اپنی لا علمی كا علم هے تو یه نصف علم هے۔

    اور اگر:

    ١ ۔ علم ہی نهیں تو یه جهل بسیط هے ___

    ٢۔ اور اگر انسان لاعلم ہے مگر خود کو عالم تصور کرتا ہے تو یہ کہلائیگا جھل مرکب ہے۔

    مذکورہ بالا دونوں صورتوں میں انسان جاہل ہی کہلائیگا۔
    کیونکہ جھل خواہ بسیط ہو خواہ مرکب۔۔۔۔ ہے جھل ہی۔
    لیکن ہمارے اکثر احباب جھل مرکب کو بھی علم تصور کرتے ہیں اور خود کو "عالمِ اٹکل" ہونے پر فخر کرتے ہیں ۔(ابتسامہ)

    بھلا اب انہیں یہ کون بتلائے کہ انکا اپنے "علمِ مبنی بر اغلاط و جہالت "پر فخر کرنا بھی حقیقتا جھل مرکب در جھل مرکب, یعنی کثافت بھرا جھل مرکب ہے۔(ابتسامہ)

    ©اخوکم عبداللہ بن عبدالرشید


    اہل علم سے گزارش ہے کہ اگر بندے نے کچھ غلط کہ دیا ہو تو اصلاح فرمادیں۔ممنون ہونگا۔
     
    • پسند پسند x 5
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 26، 2016 #2
    Afsar

    Afsar مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 04، 2013
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    ما شا اللہ
     
  3. ‏جنوری 27، 2016 #3
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    انکار حدیث مبنی بر جھالت ہے
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 27، 2016 #4
    عبدالله بن عبدالرشيد

    عبدالله بن عبدالرشيد رکن
    جگہ:
    الهند،كولكاتا
    شمولیت:
    ‏جنوری 23، 2015
    پیغامات:
    63
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    بیشک،یقیناََ۔
     
  5. ‏جنوری 27، 2016 #5
    قاضی786

    قاضی786 رکن
    شمولیت:
    ‏فروری 06، 2014
    پیغامات:
    142
    موصول شکریہ جات:
    70
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    السلام علیکم

    ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ ہم طالب علم نہیں
    عالم بننا چاہتے ہیں
    جب کہ وہ سب سے آخری منزل وتی ہے

    آپ ہمارہ یہ طرز عمل ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں
    کبھی کرکٹ کا میچ دیکھ لیں
    ہر شخص ایسے رائے دیتا ہے جیسا یہ اپنے زمانے کا سب سے بڑا کرکٹر ہو

    سیاست دیکھ لیں
    کچھ دیکھ لیں
    ہمارے لوگ ایسے رائے زنی کریں گے جیسا کہ وہ سب کے ماہر ہیں

    افسوس یہ ہے کہ اب یہ طرز عمل دین میں بھی شروع ہو گیا ہے
    ہر بندہ عالم بننے لگا ہے
    یعنی عامر لیاقت حسین کے ساتھ بھی مذہبی سکالر لکھا جاتا ہے

    اس کے بعد کیا رہ جاتا ہے
     
  6. ‏جنوری 28، 2016 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,726
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میں کچھ دن پہلے فیس بک پر ایک مراسلہ کیا تھا ، شاید اسے یہاں بیان کردینا چاہیے :
    انکار حدیث کا سبب عقل کا بے محل استعمال
    منکرین حدیث کے بارے معروف ہے سب سے زیادہ عقل کا استعمال کرتے ہیں ، لیکن اگر اس شتر بے مہار عقل کو ذرا اس کے محل پر استعمال کریں تو یہ بات سمجھنا مشکل نہیں کہ ’’ خبر ’’ کے سچے یا جھوٹے ہونے کا فیصلہ اس کے ’’ ذرائع ’’ سے کیا جاتا ہے ، نہ کہ اس کے مضامین کی پسندیدگی و نا پسندیدگی کی بنیاد پر .
    تفصیل اس اجمال کی ایک مثال سے سمجھ لیں :
    کون چاہتا ہے کہ اس کو اس کے کسی پیارے کی اچانک موت کی خبر ملے ، لیکن جب یہ آفت آجاتی ہے اور آپ کو پختہ ذریعہ سے خبر مل جاتی ہے ، تو پھر اس خبر کو جھٹلانا ، جذبات ہوسکتے ہیں ، کم عقلی ہوسکتی ہے ، ہواس باختگی ہوسکتی ہے ، لیکن خبر دینے والے کا اس میں کوئی قصور نہیں ، اس نے جو دیکھا ، سنا پہنچا دیا .
    اب یہاں خبر کو چھٹلانے کا سبب کیا بنا ؟ ، ذاتی رجحانات ، ذاتی پسند و نا پسند .
    یہی حال منکرین حدیث کا ہے ، خبر کے مضمون کو دیکھتے ہیں ، اکر پسند آجائے تو خاموش ، سب درست ، لیکن اگر پسند نہ آئے تو جنون ، ہواس باختگی سے واویلا شروع کردیتے ہیں ، کہ یہ جھوٹ ہے ، ایسی بات سچ نہیں ہوسکتی .
    تو ایسے عقل پرستوں سے ہماری گزارش ہے کہ عقل کا علاج کروائیں ، احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیق ’’ اصول حدیث ’’ سے کریں ، نہ کہ اپنی عقل سقیم سے .
    خبریں خوش کن بھی ہوتی ہیں ، غمگین بھی ہوتی ہیں ، لیکن نہ تو اچھی لگنے والی ہر خبر کو سو فیصد درست کہا جاسکتا ہے ، اور نہ ہی بری لگنے والی خبروں کو جھٹلایا جاسکتا ہے .
    اگر خبر کی تحقیق کا یہی پیمانہ ہو تو دنیا میں صرف ’’ خوشخبریاں ’’ ہی ہوں ۔ غمزدہ خبریں تمام جھوٹ کا پلندہ قرار دے دی جائیں .
    منکرین حدیث کو چاہیے صحیح خبروں ( احادیث ) کو رد کرنے پر عقل استعمال کرنے کی بجائے ، ان حقائق کو ان کے صحیح معنی و محمل کے مطابق سمجھنے کے لیے عقل کو ذرا زحمت دیں کہ یہی اس کا صحیح موقع و محل ہے .
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 28، 2016 #7
    عبدالله بن عبدالرشيد

    عبدالله بن عبدالرشيد رکن
    جگہ:
    الهند،كولكاتا
    شمولیت:
    ‏جنوری 23، 2015
    پیغامات:
    63
    موصول شکریہ جات:
    30
    تمغے کے پوائنٹ:
    54


    ایک دم حق کہا شیخ نے۔
    یہ کمبخت منکرین حدیث ,قلعہ احادیث کو منہدم کرنے میں اپنی "عقل سقیم " کو منجنیق سمجھتے ہیں۔
    لیکن دراصل انہیں معلوم نہیں کہ

    " وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ "
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 28، 2016 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,726
    موصول شکریہ جات:
    8,322
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    آپ کا یہ جملہ ’’ زبردست ‘‘ سے کم کا مستحق نہیں تھا ، واقعتا یہ عقل پجاری دوسروں کے خلاف عقل کا استعمال بطور منجنیق ہی کرتے ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 28، 2016 #9
    Ibne Habibullah

    Ibne Habibullah بین یوزر
    جگہ:
    ساری کائنات
    شمولیت:
    ‏جنوری 12، 2016
    پیغامات:
    106
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    22

    محمدعامر یونس اس کو ضرور پڑھ لیویو۔
     
  10. ‏جنوری 28، 2016 #10
    makki pakistani

    makki pakistani سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 25، 2011
    پیغامات:
    1,323
    موصول شکریہ جات:
    3,028
    تمغے کے پوائنٹ:
    282

    فتنہ انکار حدیث کی نشو و نما میں من گھڑت اور جھوٹی حدیثیں

    پیش کرنے والے "فتنہ وضح الحدیث" کے حاملین بھی ایک بڑا سبب
    ھیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں