1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انگریز کی پیداوار کون؟

'تقابل مسالک' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏اگست 24، 2013۔

  1. ‏اگست 24، 2013 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    انگریز کی پیداوار کون؟
    دہوبندی تقلیدی فرقہ جدید کی انگریز سرکار سے وفاداری کا ثبوت ان کی اپنی معتبر کتب سے ملاحظپہ فرمائیں اور فیصلہ کریں انگریز کی پیداوار اور وفادار کون ہے؟ —

     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 05، 2016 #2
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,247
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    مقلدین کا وسوسہ" اہل حدیث انگریز کی پیداوار" اور اس کا علاج

    کئی سالوں سے مقلدین کی طرف سے اہل حدیث کے وجود کو ہندوستان میں انگریز کی آمد سے جوڑنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے تاکہ اپنے نئےوجود کو لوگوں کی نظروں سے بچا سکے۔ یہ کام وہی کرتا ہے جسے اپنے وجود پہ بھروسہ نہیں ہوتا۔

    درحقیقت اہل حدیث ہندوستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں اس وقت سے ہیں جب سے اسلام ہے ، یہ الگ بات ہے ہم حق پرستوں کی تعداد ہمیشہ کم رہی ہے ، اس کی وجہ اللہ رب العزت نے خود بتلادی ہے ۔ وقلیل من عبادی الشکور(القرآن) شکر گذار بندے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔

    اہل حدیث کو انگریز کی آمد سے جوڑنے کے واسطے مقلدوں کی عقل کا جنازہ نکل گیا ۔ ایک طرف تو اہل حدیث کو انگریز کی پیداوار کہتے ہیں دوسری طرف اہل الحدیث محدثین کی جماعت کہہ کر شروع اسلام سے اس کا وجود بھی مانتے ہیں ۔ ان کی عقل پہ ماتم کیا جائے اور کیا کیا جائے؟ ۔

    اہل حدیث کا صحیح معنی اور اس کی صحیح تاریخ سمجھ لیں ۔

    جیسے اہل السنہ سے سنت والے یعنی تمام مسلمان خواہ پڑھا ہو یا جاہل مراد ہیں اسی طرح اہل الحدیث سے حدیث پہ عمل کرنے والے تمام مسلمان خواہ پڑھا لکھا ہو ،غیرپڑھا لکھا مراد ہیں ۔ چنانچہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا:

    "صاحب الحدیث عندنا من یستعمل الحدیث" ہمارے نزدیک اہلحدیث وہ ہے جو حدیث پر عمل کرتا ہے۔(مناقب الامام احمد بن حنبل لابن الجوزی ص۲۰۹ و سندہ صحیح)

    میں دیوبندی یا بریلوی کو انگریزکی اولاد یا اس کی پیداوار نہیں کہہ سکتااللہ تعالی کے سامنے میری پوچھ ہوگی مگر ان دونوں کا وجود انگریزی دور سے ہے یہ بالیقن کہہ سکتا ہوں۔ مجھے تعجب اس بات پہ ہے اہل حدیث کو کیسے انگریز کی پیداوار کہا جاتا ہے؟ ، ذرہ برابر اللہ کا خوف نہیں ہوتا۔ ہند پہ راج کرنے والا انگریز تو سراپا کافر تھا ، مسلمان ان کافر کی پیداوار کیسے ہوسکتے ہیں ؟ شرم نہیں آتی یہ بات کہتے ہوئے ۔

    ؎یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود

    اہل حدیث کے مختلف نام ہیں ،ان میں سلفی، محمدی ، اہل السنہ اوراثری وغیرہ ہیں ۔ یہ سب اہل حدیث کے صفاتی نام ہیں جس کی پہچان حدیث میں طائفہ منصورہ بتلائی گئی ہے۔ طائفہ منصورہ بھی ایک وصفی نام ہے یعنی نجات پانے والی جماعت ۔ اس نام کا بھی یہ مطلب نہیں کہ اسلام سے ہٹ کر یہ ایک الگ فرقہ ہے ۔

    گویا اہل الحدیث میں بشمول عوام وخواص صحابہ ، تابعین، تبع تابعین،ائمہ اور قیامت تک آنے والے حامل کتاب وسنت شامل ہیں۔ اس کا دوٹوک مطلب یہ ہوا کہ اہل حدیث سدا سے ہیں ۔ ائمہ و محدثین نے انگریز کی آمد سے سیکڑوں سال پہلے طائفہ منصورہ کو اہل حدیث بتلایا ہے ۔امام احمد بن حنبل، امام بخاری , امام علی بن المدینی اور بہت سے اہل علم نے طائفہ منصورہ اہل حدیث ہی کو قراردیا ہے۔

    حوالے کے طور پہ دیکھیں :(معرفۃ علوم الحدیث للحاکم:2 وصححہ ابن حجر العسقلانی فی فتح الباری ج13، ص293 تحت ح 7311، مسالۃ الاحتجاج بالشافعی للخطیب ص47، سنن ترمذی مع عارضۃ الاحوزی ج9، ص74 ح2229)

    طوالت کے خوف سے اس بات کے ذکر کاموقع نہیں وگرنہ ہزاروں اہل علم کے اقوال پیش کئے جاسکتے ہیں جنہوں نے انگریز سے سیکڑوں سال پہلے جماعت اہل حدیث کا تذکرہ اس کی مدح سرائی کی ہے ۔

    ایک عام طالب علم یا عام آدمی بغیر کتاب اٹھائے اور بغیر تاریخ کا پتہ کئے یہ بات کہہ سکتا ہے کہ

    ٭دیوبندی کی ابتداء مدرسہ دیوبند کے قیام سے ہے۔

    ٭بریلوی کی ابتداء احمد رضابریلوی کی پیدائش کے بعد سے ہے ۔


    ٭اور اہل حدیث کی ابتداء اس وقت سے ہے جب سے حدیث اور عاملین بالکتاب والحدیث پائے جاتے ہیں ۔

    ارے میاں ! تم اہل حدیث کی بات کرتے ہو۔انگریز سے ہماری کوئی نسبت ہی نہیں ، ہم تو اصل مسلمان سمجھ کر آزادی ہند میں گاجر مولی کی طرح کاٹے گئے اور تم تو وفاداران انگریز تھے، گوکہ اس نے تمہیں جنم نہیں دیا مگر تمہارا وجود اسی وفادار نے باقی رکھا کیونکہ اس کا ساتھ جو نبھاتے تھے ۔

    مدرسہ دیوبند کا قیام 1867 اور احمد رضابریلوی کی پیدائش 1865 – ان دونوں کے معرض وجود میں آنے سے پہلےیعنی انیسویں اور بیسویں صدی عیسوی سے پہلے فرقہ دیوبندیہ اور فرقہ بریلویہ کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ ہندوستان میں گوکہ پہلے ہی انگریز کی آمد ہوگئی تھی مگر 1857 کے بعد یہاں اس کا راج قائم ہوگیا۔ جس نے اس راج کا ساتھ دیا انگریز کا وفادار کہلایا اور جس نے مخالفت کی اسے غدار سمجھا گیا اور اسے قسم قسم کی سزا دی گئی ۔ ہمیں تو مخالف سمجھ کر وہابی کہا گیا اور ہم نے سینوں میں انگریز کی گولیاں کھائیں اور الحمد للہ اسلام بچایامگر ملک کا غدار ہونے کے ساتھ ، دین سے بھی کچھ مسلمانوں نے غداری کی جنہیں اسلامی تاریخ کبھی معاف نہیں کرسکتی ۔

    میں پورے دیوبندی مسلمان کو مطعون نہیں کرتا اور نہ ہی کرسکتا ہوں ۔ خاص طور سے جو ابھی کے دیوبندی ان کا کوئی قصور نہیں مگر تاریخی حقائق کا انکار بھی نہیں کیا جاسکتا جس میں دیوبند اور آل دیوبند کا انگریزی سرکار سے دوستانہ تعلقات ملتے ہیں ۔

    (1)مدرسہ دیوبند اور انگریزی سرکار: جو کام بڑے بڑے کالجوں میں ہزاروں روپیہ کے صرف سے ہوتا ہے وہ یہاں کوڑیوں میں ہورہا ہے۔ جو کام پرنسپل ہزاروں روپیہ ماہانہ تنخواہ لے کر کرتا ہے وہ یہاں ایک مولوی چالیس روپیہ ماہانہ پر کررہا ہے۔ یہ مدرسہ خلافِ سرکار نہیں بلکہ موافق سرکار ممد معاونِ سرکار ہے۔(مولانا محمد احسن نانوتوی، ص 217)

    (2) مدرسہ دیوبند کے کارکنان اور انگریز:مدرسہ دیوبند کے کارکنوں میں اکثریت ایسے بزرگوں کی تھی جو گورنمنٹ کے قدیم ملازم اور حال پینشنز تھے جن کے بارے میں گورنمنٹ کو شک و شبہ کرنے کی کوئی گنجائش ہی نہ تھی۔(حاشیہ سوانح قاسمی، ج 2، ص 247)

    (3) مدرسہ دیوبند کے بانی اور انگریز: مولوی محمد قاسم نانوتوی صاحب کا انگریزی مدرسہ دہلی سے بھی تعلق رہا ( تذکرہ علمائے ہند فارسی ص ٢١٠ نولکشور پر یس لکھنؤ ١٩١٤)

    اس انگریزی کالج کا مقصد بھی جان لیں ۔

    "عربی کالج (دہلی) کی مشین میں جو کل پرزے ڈھالے جاتے تھے ان کے متعلق طے کیا گیا تھا کہ صورت وشکل کے اور بیرونی لوازم کے حساب سے تو وہ مولوی ہوں اور مذاق ورائے اور سمجھ کے اعتبار سے آزادی کے ساتھ حق کی تلاش کرنے والی جماعت ہو"۔(سوانح قاسمی، ج ا، ص 97-96)

    اسی کالج کے تربیت یافتہ مولوی قاسم، ان کے استادمملوک علی اور مولوی احسن نانوتوی وغیرہ تھے ۔ دیکھیں ۔( (مولانا احسن نانوتوی، ص 77،25) ،(ارواحِ ثلاثہ، ص 301) اور(تذکرہ علما ہند، ص 210)

    (4) مولوی رشید احمد گنگوہی اور انگریز: دیوبندی حلقے کے ممتاز مصنف مولوی عاشق الٰہی میرٹھی اپنی کتاب تذکرۃ الرشید میں انگریزی حکومت کے ساتھ مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی کے نیاز مندانہ جذبات کی تصویر کھنچتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں آپ سمجھے ہوئے تھے کہ میں جب حقیقت میں سرکار کا فرماں بردار ہوں تو جھوٹے الزام سے میرا بال بیکانہ ہوگا اور اگر مارا بھی آگیا تو سرکار مالک ہے اسے اختیار ہے جو چاہے کرے ۔ (تذکرۃ الرشید ج 1 ص 80 ادارہ اسلامیات لاہور )

    (5)مولوی اشرف علی تھانوی صاحب کو سرکار برطانیہ (انگریز) سے چھ سو روپے ماہوار ملا کرتے تھے-(مکالمۃ الصدرین صفحہ نمبر 9 دارالاشاعت دیوبند ضلع سہانپور)

    (6)تبلیغی جماعت کے بانی مولوی الیاس کاندھلوی کو سرکار برطانیہ (انگریز) سے بذریعہ لیٹر پیسے ملتے تھے –(مکالمۃ الصدرین صفحہ نمبر 8 )

    (7)جمعیت علمائے اسلام کو حکومت برطانیہ (انگریز) نے قائم کیا اور ان کی امداد کی-(مکالمۃ الصدرین صفحہ نمبر 7)

    حجت قائم کرنے کے لئے ایک ہی ثبوت کافی ہوتا ہے مگر یہاں اس قدر ثبوت موجود ہیں کہ آنکھیں بند کرنے سے بھی حقائق اوجھل نہیں ہوتے ۔

    حلاصہ بیان کرتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہوں کہ دیوبندی فرقہ انگریز کے دور سے معرض وجود میں آیا ، اس فرقے کے سرکردہ علماء و مشائخ کی تربیت انگریزی اسکول میں ہوئی، اس فرقے پہ انگریزوں کے بے پناہ احسانات ہیں یا یہ کہہ لیں کہ انگریزی ساتھ نبھانے سے انہیں خوب خوب انگریزی انعامات ملے ۔

    ؎آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

    ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

    بہت معذرت کے ساتھ ان نادانوں کے نام جو لوگوں میں وسوسہ پیدا کرتے ہیں کہ اہل حدیث انگریز کی اولاد ہیں۔
     
    • زبردست زبردست x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 06، 2016 #3
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    وفا دار یا پیدا وار!!!!!!!!!!!!!!!
     
  4. ‏جنوری 06، 2016 #4
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    یہی وہ ”دجل“ ہے جس کی وجہ سے میں نے آپ لوگوں کو ”اہل، حدیث“ کی بجائے ”غیر مقلد“ لکھنا شروع کر دیا کہ یہ محدثین کرام کی توہین تھی کہ ہر سفیہ بھی ”اہلِ حدیث“ ہی کہلاتا ہے جب کہ حقیقتاً ”اہلِ حدیث“ محدثین کرام ہیں۔ بعد میں جب احساس ہؤا کہ یہ لگ ”غیر مقلد“ بھی نہیں بلکہ ہر دوسرا مجتہد بنا بیٹھا ہو اور دوسروں کو اپنا مقلد بنا رکھا ہے تو میں نے ”لا مذہب“ لکھنا شروع کردیا کہ یہ لفظ علماء نے ان کے خدوخال کی نمو کے وقت ان کے لئے استعمال کیا تھا۔
     
  5. ‏جنوری 06، 2016 #5
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,247
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    Muqallideen ka waswasaa "Ahle Hadees angrez kee paidaawaar " aur uskaa ilaaj
    ======================

    Maqbool Ahmad Salafi

    Kai saalon say muqallideen kee taraf say Ahle Hadees kay wajood ko Hindustaan men angrez kee aamad say jod-nay kee naapaak koshish kee jaa rahi hai taaki apnay naye wajood ko logon kee nazron say bachaa sake. Yeh kaam wahi kartaa hai jisay apnay wajood pe bharosaa nahin hotaa.
    Darhaqeeqat Ahle Hadees Hindustaan men hi nahin pooree duniya men us waqt say hain jab say Islaam hai, yeh alag baat hai hum haq paraston kee taadaad hameshaa kam rahi hai, iski wajah Allaah rabbul izzat ne khud batlaa di hai. Wa qaleemam min 'ibaadi ash-Shukoor (al-Qur'aan) shukr guzaar banday thoday hi hotay hain.
    Ahle Hadees ko angrez kee aamad say jod-nay kay waaste muqallidon kee aqal ka janaazaa nikal gaya. Ek taraf to Ahle Hadees ko angrez kee paidaawaar kahte hain doosri taraf Ahlul Hadees muhaddiseen kee jamaat kah kar shuroo Islaam say iskaa wajood bhee maante hain. Inki aqal pe maatam kiyaa jaaye aur kya kiyaa jaaye ?
    Ahle Hadees ka saheeh maanaa aur iski saheeh taareekh samajh len.
    Jaisay Ahlus Sunnah say sunnat waale yaani tamaam musalmaan khwaah padhaa ho yaa jaahil muraad hain isee tarah Ahlul Hadees say Hadees pe amal karne waale tamaam musalmaan khwaah padhaa likhaa ho, gair padhaa likhaa muraad hain. Chunaanchay Imaam Ahmad bin Hambal rahimahullaah ne farmaaya :
    "Saahibal Hadees indanaa min yasta'malul Hadees" humaaray nazdeeq Ahle-Hadees wah hai jo Hadees par amal kartaa hai.
    (Manaaqib al-Imaam Ahmad bin Hambal li-ibnul Jauzee S 209 wa sanaduhu saheeh)
    Mein Dewbandi yaa barelwee ko angrez kee aulaad yaa uski paidaawaar nahin kah saktaa Allaah ta'aalaa kay saamnay meri poochh hogi magar in donon ka wajood angrezi daur say hai yeh bil-yaqeen kah saktaa hoon. Mujhe taajjub is baat pe hai Ahle Hadees ko kaise angrez kee paidaawaar kaha jaataa hai ?, zarraa baraabar Allaah ka khauf nahin hotaa. Hind pe raaj karne waalaa angrez to saraapaa kaafir thaa, musalmaan in kaafir kee paidaawaar kaise ho saktay hain ? sharm nahin aatee yeh baat kahte huye.
    ؎ yeh musalmaan hain jinhen dekh kay sharmaae Yahood
    Ahle Hadees kay mukhtalif naam hain, inmen Salafee, Muhammadi, Ahlus Sunnah aur Asaraee waghairah hain. Yeh sab Ahle Hadees kay sifaati naam hain jiskee pahchaan Hadees men taaifay mansoorah batlaai gayi hai. Taaifay mansoorah bhee ek wasafee naam hai yaani nijaat paanay waali jamaat. Is naam ka bhee yeh matlab nahin ki Islaam say hat kar yeh ek alag firqaa hai.
    Goyaa Ahlul Hadees men ba-shamool Awwaam wa khawaas sahaabaa, Taaba'een, taba' Taaba'een, Aimmah aur qiyaamat tak aanay waale haamilay kitaab wa sunnat shaamil hain. Iskaa do tok matlab yeh huwaa ki Ahle Hadees sadaa say hain. Aimmah wa muhaddiseen ne angrez kee aamad say sekadon saal pAhle taaifay mansoorah ko Ahle Hadees batlaaya hai. Imaam Ahmad bin Hambal, Imaam Bukhari, Imaam Ali bin al-Madeeni aur bahut say Ahle ilm ne taaifay mansoorah Ahle Hadees hi ko qaraar diya hai.
    Hawaalay kay taur pe Daykhen : (ma'rifah 'uloomul Hadees lil-Haakim : 2 wa sahhahu Ibn Hajar al-'Asqalaanee fee Fathul Baari j. 13, S 293 tahat H 7311, MasAlatul Ihtijaaj, bish-Shaafa'ee lil- Khateeb S 47, Sunan Tirmizi ma'rizatul Ahwazee j. 9, S 74 H 2229)
    Tawaalat kay khauf say is baat kay zikr ka mauqaa nahin wagarnaa hazaaron Ahle ilm kay aqwaal pesh kiye jaa sakte hain jinhonay angrez say sekadon saal pAhle jamaat Ahle Hadees ka tazkiraa iski madah saraai kee hai.
    Ek aam taalibay ilm yaa aam aadami baghair kitaab uththaaye aur baghair taareekh ka pataa kiye yeh baat kah saktaa hai ki ٭ Dewbandi kee ibtida madarsaa Deoband kay qiyaam say hai.
    ٭ barelwee kee ibtida Ahmad razaa barelwee kee paidaaish kay baad say hai.
    ٭ aur Ahle Hadees kee ibtida us waqt say hai jab say Hadees aur aamileen bil-kitaab wal Hadees paaye jaatey hain.
    Aray miyaan ! tum Ahle Hadees kee baat karte ho. Angrez say humaari koi nisbat hi nahin, hum to asl musalmaan samajh kar aazaadi Hind men gaajar maulaa kee tarah kaatay gaye aur tum to wafaadaaraanay angrez thay, go ki usnay tumhen janam nahin diya magar tumhaara wajood usi wafaadaar ne baaqee rakhaa kyunki uskaa saath jo nibhaatay thay.
    Madarsaa Deoband ka qiyaam 1867 aur Ahmad razaa barelwee kee paidaaish 1865– in donon kay ma'rizay wajood men aanay say pAhle yaani unneesween aur beeswen sadee Eiswee say pAhle firqaa Dewbandiyyah aur firqaa barelwiyyah ka koi wajood hi nahin thaa. Hindustaan men go ki pAhle hi angrez kee aamad ho gayi thi magar 1857 kay baad yahaan iskaa raaj qaayam ho gaya. Jisnay is raaj ka saath diya angrez ka wafaadaar kahlaayaa aur jisnay mukhaalifat kee usay ghaddaar samjhaa gaya aur usay qism qism kee sazaa di gayi. Hamen to mukhaalif samajh kar Wahaabee kaha gaya aur humnay seenon men angrez kee goliyaan khaaeen aur al-Hamdu lillaah Islaam bachaayaa magar mulk ka ghaddaar honay kay saath, deen say bhee kuchh musalmaanon ne ghaddaaree kee jinhen islami taareekh kabhi maaf nahin kar sakti.
    Mein pooray Dewbandi musalmaan ko mataoon nahin kartaa aur naa hi kar saktaa hoon. Khaas taur say jo abhi kay Dewbandi inkaa koi qasoor nahin magar taareekhi haqaaiq ka inkaar bhee nahin kiyaa jaa saktaa jismein Deoband aur aalay Deoband ka angrezi Sarkaar say dostaanaa taalluqaat miltay hain.
    (1) madarsaa Deoband aur angrezi Sarkaar : jo kaam bade bade collegeon men hazaaron rupyaa kay sarf say hotaa hai wah yahaan kaudiyon men ho rahaa hai. Jo kaam Principal hazaaron rupyaa maahaanah tankhwaah laykar kartaa hai wah yahaan ek maulwi chaalees rupyaa maahaanah par kar rahaa hai. Yeh madarsaa khilaafe Sarkaar nahin balki muwaafiqay Sarkaar mumidd mu'aawinay Sarkaar hai. (maulaanaa Muhammad ahsan Naanotwee, S 217)
    (2) madarsaa Deoband kay kaarkunaan aur angrez : madarsaa Deoband kay kaarkunon men aksaryat aisay buzurgon kee thi jo Government kay qadeem mulaazim aur haal pensions thay jinkay baaray men Government ko shak wa shubah karne kee koi gunjaaish hi naa thi. (haashiyah sawwaney Qasimee, j. 2, S 247)
    (3) madarsaa Deoband kay baani aur angrez : maulwi Muhammad Qaasim Naanotwee saahib ka angrezi madarsaa Dehli say bhee taalluq rahaa (tazkiraa ulmaaye Hind Faarsi S 210 naulakshoorpar yaaseen Lakhnau 1914)
    Is angrezi College ka maqsad bhee jaan len.
    " arabi College (Dehli) kee mashin men jo kal purzay dhaalay jaatey thay inke mutaalliq taye kiyaa gaya thaa ki soorat wa shakl kay aur bairoonee lawaazim kay hisaab say to wah maulwi hon aur mazaaq wa raae aur samajh kay aetbaar say aazaadi kay saath haq kee talaash karne waali jamaat ho ". (sawwaney Qasimee, j. 1, S 97-96)
    Isee College kay tarbiyat yaaftaa maulwi Qaasim, unkay Ustaad mamlook Ali aur maulwi ahsan Naanotwee waghairah thay. Daykhen. (maulaanaa ahsan Naanotwee, S 77, 25) arwaahay salaasaa, S 301) aur (tazkiraa ulamaa Hind, S 210)
    (4) maulwi Rasheed Ahmad Gangohi aur angrez : Dewbandi halqay kay mumtaaz Musannif maulwi Aashiq ilaahi Meerathee apnee kitaab Tazkiratur Rasheed men angrezi hukoomat kay saath maulwi Rasheed Ahmad saahib Gangohi kay niyaaz mandaanaa jazbaat kee tasweer kheenchte huye ek jagah likhte hain aap samajhe huye thay ki mein jab haqeeqat men Sarkaar ka farmaan bardaar hoon to jhoohay ilzaam say meraa baal beekaa naa hogaa aur agar maaraa bhee aa gayaa to Sarkaar Maalik hai isay ikhtiyaar hai jo chaahay karay.) Tazkiratur Rasheed j.1, s80 idaara Islaamiyaat Laahaur)
    (5) maulwi ashraf Ali thaanwi saahib ko Sarkaar Bartaaniyaa (angrez) say chhe sau rupaye maahwaar milaa karte thay (Makaalamatus Sadarain safah Number 9, daar al ishaat Deoband Zila Sahraanpoor)
    (6) tableeghee jamaat kay baani maulwi Ilyaas Kaandhalwee ko Sarkaar Bartaaniyaa (angrez) say ba-zariyaa letter paise miltay thay – (Makaalamatus Sadarain safah Number 8)
    (7) jamiyyat ulmaaye Islaam ko hukoomat Bartaaniyaa (angrez) ne qaayam kiyaa aur inki imdaad kee-(Makaalamatus Sadarain safah Number 7)
    Hujjat qaayam karne kay liye ek hi saboot kaafi hotaa hai magar yahaan is qadr saboot maujood hain ki aankhen band karne say bhee haqaaiq ojhal nahin hotay.
    Khulaasaa bayaan karte huye yeh kah saktaa hoon ki Dewbandi firqaa angrez kay daur say maariz wajood men aayaa, is firqe kay sar kardaa ulamaa wa mashaaikh kee tarbiyat angrezi School men hui, is firqe pe angrezon kay be panaah ahsaanaat hain yaa yeh kah len ki angrezi saath nibhaanay say inhen khoob khoob angrezi inaamaat milay.
    ؎ aap hi apnee adaaon pe zaraa ghaur karen
    Hum agar arz karenge to shikaayat hogi
    Bahut maazrat kay saath un naadaanon kay naam jo logon men waswasaa paida karte hain ki Ahle Hadees angrez kee aulaad hain.

     
  6. ‏جنوری 06، 2016 #6
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,247
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    اس فورم پہ پہلا ایسا شخص دیکھا جو ڈھیٹ بن کر حق کی تکذیب کرتا ہے ، فہم سلف اوراہل علم کی تنقیص کرتا ہے ۔

    اہل حدیث ہمارا وصفی نام ہے، اس کی صراحت بڑی بڑی کتابوں میں کی گئی جن میں صحابہ سے لیکر محدثین و مجتہدین کی واضح ترین تصریح موجود ہے ۔ میں نے مختصر ا یہاں بیان کیا ۔ اس سلسلے میں امام احمد بن حنبل ؒ کا ایک ہی قول کافی ہے جسے میں نے لکھ دیا ہے ۔مقلد بن کر اماموں کا قول ٹھکراکر جھوٹے مقلد بننے کی کوشش مت کرو۔
    تمہارے یہاں تو مسلمہ قاعدہ ہے کہ دیوبندی کا اطلاق چور، دغاباز، شرابی، جواڑی، زناکار، فاسق ، فاجر سب پہ ہوتاہےگر دیوبندی گھر میں پیدا ہواہے ، مگر میرا منہج یہ ہے کہ اگر اہل حدیث میں کوئی غلط کام کرنے والا ہو تو اہل حدیث جماعت اس کے اس غلط کام سے بری ہے ۔
    اور جس طرح اگر کوئی مسلمان غلط ہوجائے تو اس سے اسلام پہ آنچ نہیں آئے گااسی طرح اگرایک آدھ اہل حدیث جماعت میں بے راہ روی کا شکار ہوں تو اس کے کام سے جماعت بری ہے ۔
    ہمارا منہج فہم سلف کے مطابق قرآن وحدیث پہ عمل کرنا ہے ، انہیں کوہرزمانے میں اہل حدیث کہاجاتارہاہے اور تاقیام قیامت انہیں اہل حدیث کہاجاتا رہے گا۔
    تم خود کو حنفی ،دیوبندی ،مقلد کہتے ہوہم نے تو تمہارا نام نہیں بدلا، تمہیں ہمارا نام کیوں کھٹکتاہے؟
    لفظ اہل حدیث تم کو انگریز کا نام لگتا ہے جبکہ انگریز سے سیکڑوں سال پہلے سے اہل حدیث دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں ، انہیں کی کرم فرمائی سے آج حدیث اپنے صاف ستھرے لباس میں دنیا میں موجود ہے ۔
    غیرمقلد تمہارا اپنا دیا ہوا نام ہے جسے خود ہی جھوٹ کہتے ہو۔ایک احسان کرنا اپنے آباؤواجدادکی کتابوں سے اس لفظ کو مٹا دینا اور موجودہ ومستقبل کی نسل کو اپنی نئی فکر سے آگاہ کردینا تاکہ تمہاری عوام کو جھوٹ بولنے کی سزا نہ ملے ۔
    ہمیں لامذہب تم جیسا غبی کہتا ہے جس کی بجلی ہمارے اوپر نہیں تمہارے پورے کاشانے پہ گرتی ہے ، میں اس سے پہلے تمہاری ہی دلیل سےتم پہ واضح کردیا ہے۔
    میں تو یہ کہتا ہوں کہ تم کون ہوتے ہوہمارا نام رکھنے والا ؟ تم کس کھیت کے مولی ہو؟
    کیاتمہاری تکذیب کو قوم سچ مان لے گی اور اہل حدیث کی روز بروز بڑھتی تعداد کم ہوجائے گی ؟
    بالکل نہیں ۔
    اپنی دیوبندیت بچا کے رکھنا نہ جانے کب تمہارے پاس بھی ہدایت کا پروانہ آجائے ؟
    یہ بات میں اس لئے کہہ رہاہوں کہ یہ سو فیصد سچائی اور آزمودہ نسخہ ہے۔
    ٭جو آدمی تحقیق اہل حدیث کی راہ چلا اہل حدیث ہوگیا۔
    ٭جوآدمی اہل حدیث کی کتابوں سے اپنے من کا کیڑا نکالنے کی کوشش کیاوہ خود ہی اہل حدیث ہوگیا۔
    ٭جو آدمی اہل حدیث کے اہل قرآن وحدیث پہ شک کیا اور اس نے اہل حدیث کی کتابوں سے طرح طرح کے حوالے دیکر الٹا پلٹا مطلب نکالتا رہا خود اس کی راہ بند ہوگئی اور اس کے لئے اہل حدیث ہونے کے ماسوا کوئی چارہ کار نہ رہا۔
    اٹھاؤ تاریخ اہل حدیث اور اپنے آباؤواجداد کی تاریخ پڑھ لو جو کبھی تمہاری ہی طرح بولتے تھے مگر سچائی نے آخرکار ان کا دامن تھام ہی لیا۔

    حقیقت خود منالیتی ہے منوائی نہیں جاتی
     
  7. ‏جنوری 07، 2016 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بالکل بجا کہا آپ نے
     
  8. ‏جنوری 07، 2016 #8
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    upload_2016-1-7_18-39-39.png
    یہ سراسر بہتان ہے اور اس کی عند اللہ سزا آپ کو یقیناً پتہ ہوگی؟

    انگریز سے اس نام کو رجسٹر کروانے کے پیچھے یہی فتنہ انگیز سوچ تھی۔ محدثین کو ”اہلِ حدیث“ نام اس وقت کے علماء کرام نے ان کا کام دیکھ کر دیا۔ انگریز دور میں ”لا مذہبوں“ کا کامدیکھ کر اس وقت کے علماء نے ”لا مذہب“ کہا اور ”لا مذہبوں“ نے باقائدہ انگریز سرکار کو درخواست دے کر اپنا نام ”اہلِ حدیث“ الاٹ کروایا۔
    ایک بات کی وضاحت کردوں کہ ان ”لا مذہبوں“ میں سے جو واقعی محدثین والا کام کر رہے ہیں وہ اور متعصب نہیں وہ علماء اب بھی اہلِ حدیث کہلانے کے حقدار ہیں۔

    دیو بندیت یا حنفیت مسلک ہے گو اس پر عمل پیرا ہو وہ دیوبندی یا حنفی کہلائے گا کسی گنا کی وجہ سے وہ مسلک سے نہیں نکل جائے گا۔ جیسے اگر کسی صحابی سے گناہ کا ارتکاب ہؤا تو وہ صحابیت سے نہیں نکل جائے گا۔ کما لا یخفیٰ

    محترم! میں نے کبھی کسی پوسٹ میں اس قسم کا الزام لگایا ہو تو اس سے مطلع کریں میں اسی فورم پر معذرت کرنے میں ذرا سا بھی ہچکچاؤں گا نہیں۔ انشاء اللہ
    ہر جاہل کو اہلِ حدیث کہنا محدثین کرام کی توہین ہے اور یہ کام کم از کم مجھ سے ممکن نہیں۔

    ان کی نشاندہی بھی کر دیجئے جس ”سلف یا اسلاف“ کی رہنمائی ”لا مذہبوں“ کو حاصل ہے؟

    محترم! میں نے کھلے دل کے ساتھ پہلے بھی کہا تھا کہ آپ لوگوں کے جو دل میں آتا ہے وہ مجھے کہہ لو میری طرف سے کھلی اجازت ہے۔

    یہی وہ دجل ہے جو ہمرنگ زمین ہے۔

    کیا کسی دانا نے یہ کہا ہے کہ اگر ایک دفعہ غلطی ہوجائے تو اس پر اڑے رہنا۔

    محترم! سیانے کہتے ہیں ”غصہ عقل کو کھا جاتا ہے“۔

    محترم! میں نے اسی محدث فورم میں ایک پوسٹ میں عرض کی تھی کہ اگر ”لا مذہب“ کے نام میں آپ لوگوں کے تحفظات ہیں تو مجھے خود کوئی ایسا نام بتادیں جو جھوٹ بھی نہ ہو اور اس سے محدثین کرام کی توہین بھی نہ ہو۔
     
  9. ‏جنوری 07، 2016 #9
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,247
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    یہ محدث فورم ہے ، یعنی اہل حدیث فورم اس وجہ سے آپ اتنی بات اور اس طرح جرات سے کرپاتے ہیں کیونکہ ہمارے یہاں ہی اتنا مجاز ہے لیکن ہمارے لئے مقلد فورم پہ اس قدر جرات کی اجازت مستحیل ہے ۔
    صاف لفظوں میں بتادوں آپ کے یہاں سوائے لفاظی کے اور کچھ نہیں ہے ، قیل و قال اور کٹھ حجتی تو ہرکلام پہ کی جاسکتی۔
    مگر
    الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا
    غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے

    آپ نے ایک ہی روش ٹھان لی سامنے والے کو جھوٹا کہنے میں الجھا دو تاکہ ہمارے تقلیدی گناہ پہ پردہ پڑا رہے ۔ اتنا زیرک بننے کی کوشش مت کرو۔
    ارے کب تک میاں مٹھو بنے رہیں گے ۔ یہ جو لامذہب کی باطل اصطلاح ہم پہ فٹ کرنے کی سعی ناروا کرتے ہیں ۔ اس کی تو کوئی نوبت ہی نہیں آنی چاہئے تھی کیونکہ اندھی تقلید شرک ، حرام اور معصیت و نافرمانی ہے ۔جب ایک چیز معصیت ہے تو پھر اس کے ماننے والے کو مذہبی اور نہ ماننے والے کو لامذہب کہنا حماقت در حماقت ہے ۔یہ تو ایسے ہی ہوا کوئی کہے اچھی برائی ، خراب برائی ۔ اور آپ لوگوں کی تو کہنے کی عادت سی بنی ہوئی ہے ۔اچھی گمراہی (بدعت) ، بری گمراہی ۔ نعوذ باللہ
    آپ کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس کی ناک کٹی ہوتی تھی ، اپنے پاس ایک دوسرا صحیح ناک والا آتا دکھائی دیا تو نک کٹے نے سوچا کہیں ہمارے نک کٹی کا مسئلہ نہ درپیش ہوجائے اس لئے سامنے ہی والے کو نک کٹا کہنا شروع کر دیا۔ بیجارہ چیخ چیخ کر کہہ رہاتھا میں نک کٹا نہیں ہوں ، میں نک کٹا نہیں ہوں مگر نک کٹا تھاکہ بس اپنی سنائے جارہے تھا۔ تم نک کٹے ہو، تم نک کٹے ہو۔

    فاعتبروا یا اولی الالباب
     
  10. ‏جنوری 08، 2016 #10
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم! چلیں میں آپ لوگوں کو ”لا مذہب“ نہیں کہوں گا بلکہ ”آلِ حدیث“ (غنیۃ الطالبین والا حدیث ) کہوں گا جو آپ لوگوں کے لئے ”اسم با مسمیٰ“ بھی ہے منظور ہے؟

    محترم! مثال کو کسی کتاب میں پڑھ ہی لیتے!
    مثال یوں ہے؛
    کچھ نک کٹوں (یعنی لا مذہبوں) کی ٹولی تھی ان کو ایک (حنفی) بستی سے گزرنا پڑا۔ انہوں نے مشورہ کیا کہ کیا کیا جائے یہبستی والے تو تنگ کریں گے۔ ان میں سے ایک ”بڑے“ نے کہا کہ فکر نہ کرو جب تم اس بستی میں داخل ہو تو جو بھی سامنے آئے اس کو ”نکو نکو“ (مشرک مشرک) کی رٹ لگا دینا۔ ان کو اپنی فکر پڑ جائے گی تم آرام سے نکل جاؤ گے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں