1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انگوٹھے چومنے کی حدیث

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از khalil rana, ‏مئی 23، 2017۔

  1. ‏مئی 24، 2017 #21
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    حدیث کی سند نہ ہو تو اس پر کیا حکم لگتا ہے؟؟؟ ضعیف حدیث کسے کہتے ہیں؟
     
  2. ‏مئی 24، 2017 #22
    khalil rana

    khalil rana رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2015
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    31
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    عمر اثری صاحب آپ بحث برائے بحث کررہے ہیں ،آپ نے غالباً سکین پڑھا نہیں ،علامہ طاہر پٹنی علیہ الرحمہ نے حدیث کی سند نہ ہونے پر ضعیف کا حکم لگایا ہے۔اور نہ آپ نے امام مالک رضی اللہ عنہ کے فعل پر کچھ کہا۔
     
  3. ‏مئی 24، 2017 #23
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,356
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
    یار آپ لوگ بڑے متعصب ہوتے جا رہے ہیں. اوپر میرا سوال مطلق تھا. صرف آپ ہی مخاطب ہوتے تو آپ کے پیغام کا اقتباس لیتا. خیر آپ صرف اسکینز لگائیں اور تعصب بھری پوسٹس کرتے رہیں.
    والسلام علیکم
     
  4. ‏مئی 24، 2017 #24
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کی بحث تو بعد میں کریں گے، پہلے آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگوٹھے چومنے کا عمل کسی معتبر و مقبول حدیث سے ثابت کردیں!
    پھر دیکھیں گے کہ اس کی فضیلت کیا ہے اور اعمال کی فضیلت کے متعلق ضعیف احادیث کا کیا معاملہ ہے!
    ویسے علم الحدیث کے معاملہ میں مقلدین احناف سے گفتگو کرنا ایسے ہی ہے جیسے کسی مچھلی کو کوہ پیمائی سکھلانا!
    محدثین نے اس روایت و خضر علیہ السلام سے روایت کرنے کی علت بھی بیان کی ہے!
    یہ بتلائیے کہ کوئی امتی ، وہ بھی جو نہ صحابی ہو، نہ تابعی ہو یہ تبع تابعین میں سے ہو، خضر علیہ السلام سے روایت کرے، وہ بدعتی صوفیوں کے ہا جو ہو سو ہو، محدثین کے ہاں مقبول نہیں ، بلکہ مردود و ضعیف اور من گھڑت و موضوع ہے!
    بلا سند اور لا يصح کو ضعیف و موضوع بھی کہا جائے گا!
    علامہ طاہر پٹنی نے کہا ہے کہ ''وروي تجربة ذلك عن كثرين'' یعنی کہ '' بہت سے لوگوں سے اس کا تجربہ کرنا روایت کیا گیا ہے!
    دو باتوں پر غور کریں! ایک تو یہ علامہ طاہر پٹنی نے ان تجربہ کاروں کا نہ نام لکھا ہے، اور نہ ان تک سند بیان کی ہے، بلکہ اتنا کہا کہ روایت کیا گیا ہے! اب یہ روایت کیسی ہے ، یہ نہیں بتلایا!
    دوم کہ لوگوں نے تجربہ کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تجربہ کیا؟ یہ عمل یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سن کر انگھوٹے کا چوما، یہ عمل تو ممکن ہے، لیکن یہ کہ انہیں اس عمل کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت ملی! روایت کرنے والوں کو عالم آخرت کی یہ خبر کس نے لا کر دی؟ ان پر جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تھے!
    اور یہ کہا جائے کہ ان کی آنکھیں کبھی نہ دُکھیں، اور وہ نا بینا نہ ہوئے، تو اس سے یہ کہا لازم آتا ہے کہ سبب ان کا یہ عمل تھا!
    اکثر کفار ، یہود و نصاری و ہندو سکھ بھی بینا ہی موت پاتے ہیں، اور یہ بھی کہیں وارد نہیں ہوا کہ ہر کسی کو آنکھیں دُکھنے کا مرض ضرور بالضرور لاحق ہونا ہے!
    پھر علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں تو غزوہ خیبر کے موقع پر دُکھیں تھیں! اس پر کیا کہا جائے گا!
    دیکھیں میرے بھائی! ہمارا منہج یہ ہے کہ ہم کسی کی خطاء کی پیروی خود پر لازم قرار نہیں دیتے !
    اول تو محدثین نے اس حدیث کو مقبول قرار نہیں دیا، نہ اعمال میں نہ فضائل اعمال میں! لہٰذا ہم پر اس معاملہ تو یہ الزام ہی باطل ہے کہ ہم محدچین کی تحریروں کو نہیں مانتے!
    امام مالک کے اس عمل کا حوالہ مطوب ہے!
    دوم کہ ادب سے جھکنے سے انگھوٹھوں کا چومنا ثابت نہیں ہوتا!
    میرے بھائی! وہی بات ہے کہ آپ کو بلا سند او ر لا یصح سے ضعیف کا حکم معلوم ہوتا ہے اور آپ ضعیف کے حکم کو موضوع کے حکم کے منافی سمجھتے ہو!
    انہیں وجوہات کی بنا پر کہتا ہوں کہ مقلدین حنفیہ سے علم الحدیث کے بارے میں گفتگو کرنا مچھلی کو کوہ پیمائی سکھلانے کے مترادف ہوتی ہے!

    (نوٹ: علامہ طاہر پٹنی الحنفی کا مؤقف اگر محدثین کے مؤقف کے موافق ہو تب تو اس بحث کی ضرورت نہیں، لیکن اگر علامہ طاہر پٹنی الحنفی کا مؤقف محدثین کے مؤقف کے موافق نہیں، تو علامہ طاہر پٹنی الحنفی کا مؤقف محدثین کے مؤقف میں شمار ہی نہیں کیا جائے گا! چہ جائے کہ اسے دوسرا مؤقف یا شذوذ سمجھا جائے۔ ہم علامہ طاہر پٹنی الحنفی کا حوالہ دلائل خصم کے اعتبار سے پیش کرتے ہیں!)
     
    Last edited: ‏مئی 24، 2017
    • زبردست زبردست x 4
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  5. ‏مئی 25، 2017 #25
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ایک محاورہ ہم استعمال کرتے رہے ہیں
    "تمہیں بات سمجھانا یا اونٹ کو رکشے میں بیٹھانا ایک برابر ہے"
    لیکن پھر ایک ویڈیو دیکھی جس میں اونٹ رکشے میں بیٹھ کر گردن باہر نکالے جا رہا تھا تو ہم نے اُس محاورے کا استعمال ترک کر دیا اور پھر متبادل کی تلاش میں سرگرداں رہے۔۔ اور آج ہمیں متبادل مل ہی گیا۔۔۔ ابتسامہ! آپ کا شکریہ!!!
     
  6. ‏مئی 25، 2017 #26
    ابن طاھر

    ابن طاھر رکن
    جگہ:
    ارض الله
    شمولیت:
    ‏جولائی 06، 2014
    پیغامات:
    160
    موصول شکریہ جات:
    53
    تمغے کے پوائنٹ:
    75

    محاورہ تو خوب ہے۔
    ویسے مچھلیوں کی کچھ اقسام ایسی بھی ہوتی ہیں جو آبشار کے بہاؤ کے الٹ، یعنی اوپر کی طرف تیر سکتی ہیں (جیسے ٹراؤٹ وغیرہ) تو کیا اس کو کسی حد تک "کوہ پیمائی" کہا جا سکتا ہے؟ ابتسامہ!
     
  7. ‏مئی 25، 2017 #27
    مظاہر امیر

    مظاہر امیر مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جولائی 15، 2016
    پیغامات:
    1,272
    موصول شکریہ جات:
    362
    تمغے کے پوائنٹ:
    176

    میرے خیال میں @ابن داود بھائی نے ”كوه پيمائي “ كو ”قافيه پيمائي“ كے هم قافيه بنايا هے ، تاكه معني دوچند هوجائيں ، اسكا ٹراؤٹ سے تعلق نهيں هے ۔
    ؎ يه قافيه پيمائي هے ذرا كركے تو ديكھو !!
     
  8. ‏مئی 25، 2017 #28
    khalil rana

    khalil rana رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2015
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    31
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    22.jpg 33.jpg 44.jpg امام ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ حدیث کے صحیح نہ ہونے سے موضوع ہونا لازم نہیں آتا۔
    اَب آپ کی مانیں یا امام ابن حجر کی بات مانیں ؟
    امام مالک رضی اللہ عنہ کا نام اقدس سننے پر جھک جانا ، کتاب الشفاء میں ہے۔ ایسا کرنا کون سی حدیث میں ہے ؟
    11.jpg
     
  9. ‏مئی 25، 2017 #29
    khalil rana

    khalil rana رکن
    شمولیت:
    ‏دسمبر 05، 2015
    پیغامات:
    216
    موصول شکریہ جات:
    31
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

  10. ‏مئی 25، 2017 #30
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ہم نے کب کہا ہے کہ محض ''لايصح'' سے موضوع ہونا لازم آتا ہے!
    اور دیکھ لیں! امام ابن حجر العسقلانی کی عبارت یہ بھی بتلاتی ہے کہ ''لا يصح'' میں موضوع بھی ہو سکتی ہے، لیکن''لازم''نہیں !
    جی مؤلف کتاب الشفاء اور امام مالک تک کی سند دے دیں!
    پہلے امام مالک کا یہ عمل کرنا تو ثابت ہو، باقی بعد میں دیکھیں گے!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں