1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

انگوٹھے چومنے کی حدیث

'بدعی عقائد' میں موضوعات آغاز کردہ از khalil rana, ‏مئی 23، 2017۔

  1. ‏مئی 26، 2017 #31
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,334
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    ایک حدیث ہے ، اس کی جیسی تیسی سند ہے ۔
    دوسری ہے ، جس کی سرے سےسند ہے ہی نہیں ۔
    سند موجود تھی ، کذاب راوی سامنے آگیا ، حدیث موضوع کہہ دی گئی ۔
    سند موجود ہی نہیں تھی ، کہہ دیا گیا کہ یہ بے اصل ہے ، یا بلا سند ہے ۔ یا صحیح نہیں ، یا غیر ثابت ہے وغیرہ ۔
    اب اس آخری صورت حال کو پہلی سے بہتر سمجھ لینا ، درست نہیں ۔
    اس طرح تو ہر موضوع روایت کو دوسری حالت میں لایا جاسکتا ہے ، کہ کذاب راوی کا سرے سے ذکر کیا ہی نہ جائے ۔
    امام مالک اگر نام سن کر جھکتے بھی تھے ، تو انہوں نے کون سا اس کے لیے کوئی حدیث گھڑ لی تھی ۔ کہ جو جھکے گا ، سب گناہ گِر جائیں گے ۔ انگوٹھے چومنے کے لیے دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث چاہیے ، کسی جھوٹے راوی یا سچے امام کا قول یا فعل نہیں ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں