1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ان حالات میں ولی الامر کون ہوگا؟

'سیاسی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از عبدالرحمن حمزہ, ‏مئی 24، 2017۔

  1. ‏مئی 24، 2017 #1
    عبدالرحمن حمزہ

    عبدالرحمن حمزہ رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 27، 2016
    پیغامات:
    222
    موصول شکریہ جات:
    69
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    السلام عليكم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔۔
    محترم علمائے کرام ۔۔ایک سوال کا واضح جواب درکار ہے ۔اللہ آپ لوگوں کی خدمات قبول کرے ۔آمین

    جیسا کے ایک حدیث ہے جو کہ صحیح مسلم میں مروی ہے (من مات ولیس فی عنقہ بیعۃ مات میتۃ جاہلیۃ) ۔۔۔

    تو امام یعنی ولی امر کا ہونا ضروری ہے ۔اگر وہ نہیں ہوگا تو بیعت کس کی ہوگی۔ اور امام کا تعین بھی ضروری ہے تاکہ اس کی بیعت کی جائے کسی اور کی نہیں!
    اب میرا سوال یہ ہے کہ
    -آج کل مثلاً ایک پاکستانی ہے اور رہتا امریکہ میں ہے ۔اب اس کا امیر یا ولی الامر کون ہوگا؟

    -ایک اور پاکستانی ہے وہ سعودی عرب یا ترکی میں رہتا ہے اب اس کا امیر کون ہوگا؟


    شیخ @اسحاق سلفی حفظک اللہ..
     
  2. ‏مئی 24، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,611
    موصول شکریہ جات:
    2,225
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ان سوالوں کے جواب کیلئے میری درخواست محترم شیخ @محمد فیض الابرار صاحب
    اور محترم شیخ @عبدہ صاحب سے ہے کہ وہ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ، جزاکم اللہ تعالی خیراً
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 25، 2017 #3
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    جزاکم اللہ خیرا یا شیخ
    ویسے تو ہمارے شیخ محترم ڈاکٹر فیض الابرار بھائی وضاحت سے بتائیں گے میں اپنی رائے بتا دیتا ہوں شیوخ میری اصلاح کر دیں جزاکم اللہ خیرا

    جی میری رائے میں امامت دو قسم کی ہوتی ہے ایک امامت کبری یعنی مسلمانوں کے ایک متفقہ خلیفہ کی امامت اور دوسری امامت صغری یعنی اسکے علاوہ کسی جہادی تنظیم یا سفر کے امیر وغیرہ کی امامت وغیرہ
    یہاں ہمارا موضوع پہلی امارت ہے اور ویسے تو یہ امارت صرف خلیفۃ المسلمین کے لئے ہی ہے لیکن آج کل ایک خلیفہ تو ہے نہیں آج کل مسلمان ملکوں کے مسلمان حکمرانوں کو خلیفۃ المسلمین کے قائم مقام سمجھا جاتا ہے اور اسکی اسی طرح اطاعت کا کہا جاتا ہے
    تو میرے خیال میں کچھ شرائط کے ساتھ مسلمان ملکوں کے مسلمان حکمرانوں کی اطاعت اسی طرح لازمی سمجھی جا سکتی ہے جس طرح خلیفۃ المسلمین کی اطاعت لازمی ہوتی ہے جیسا کہ خود صحابہ کے دور میں بھی مختلف علاقوں کے مختلف حکمران رہے ہیں
    اس سلسلے میں شرائط کو بتانے سے پہلے ایک بات بتانا ضروری ہے کہ کسی ملک کا حقیقی حکمران کوئی ایک نام رکھنے والا بندہ نہیں ہوتا بلکہ حقیقی حکمران ایک پورا نظام ہوتا ہے جس کا اصل میں اس ملک میں حکم چلتا ہے مثلا پاکستان میں فرض کرتے ہیں کہ پاکستان میں وزیر اعظم کو پاکستان کا حکمران سمجھا جاتا ہے لیکن یہ درست بات نہیں ہے بلکہ پاکستان میں اصل حکمران وہ غالب نظام ہے کہ جس کے بغیر وزیر اعظم بھی کچھ نہیں کر سکتا مثلا ساجد میر صاحب کو نون لیگ والے وزیراعظم بنا دیتے ہیں تو میرا یہ سادہ سا سوال ہے کہ کیا ساجد میر صاحب وزیر اعظم بننے کے بعد کیا سعودیہ کی طرح تمام مزارات کو گرا سکتے ہیں کبھی بھی نہیں گرا سکتے کیونکہ اگر حکم دیں گے تو انکو الٹا اٹھا کر قید میں ڈال دیا جائے گا حالانکہ اگر کسی کو سلطہ حاصل ہو تو وہ ایسا کیوں نہیں کر سکتا اسکے معاشرے پہ اثرات اور مصلحت کی وجہ سے مزارات گرانے سے رکے رہنا علیحدہ بات ہے یہاں بات سلطہ کی ہو رہی ہے کہ کیا وزیر اعظم کے پاس سلطہ ہے کہ وہ کوئی حکم نافذ کر سکے پس ثابت ہوا کہ اصل حکمران کوئی ایک عہدہ نہیں ہوتا بلکہ مختلف اداروں کا مجموعہ ہوتا ہے اور یاد رکھیں کہ اطاعت بھی اسی غالب نظام کی ہی ہو گی کسی ایک وزیر اعظم کے عہدے کی نہیں ہو گی
    اب ان شرائط کو دیکھتے ہیں کہ جن کی وجہ سے کسی مسلمان ملک کا مسلمان حکمران خلیفۃ المسلمین کی طرح واجب الاطاعت ہو سکتا ہے
    اس میں پہلی شرط یہی ہے کہ وہ غالب نظام کہ جس کی اطاعت خلیفۃ المسلمین کے طرح واجب قرار دی جا رہی ہے وہ توحید کا رکھوالا ہو ورنہ وہ غالب نظام اسلامی نظام ہی نہیں ہو گا تو اسکی اطاعت کیسے واجب ہو گی
    اس وقت میرے علم کے مطابق کچھ مسلمان ممالک ایسے ہیں جہاں ایسا غالب نظام موجود ہے جس کی سب سے پہلی اور بہترین مثال سعودی عرب ہے وہاں مشرکین چھپ چھپ کے اپنی محفلیں کر رہے ہوتے ہیں جیسے یہاں موحدین چھپ چھپ کے اپنی محفلیں کرتے ہیں
    اب بھائی کے سوالوں کی طرف آتے ہین
    جی جس ملک کا غالب نظام توحید کا رکھوالا ہے یا اسکا دعوی کرتا ہے تو اسکا تعین اس امام کے طور پہ کیا جا سکتا ہے کہ جس کا اوپر حدیث میں ذکر ہے

    میری رائے اور فہم کے مطابق پاکستان کے غالب نظام کی اطاعت خلیفۃ المسلمین کی طرح نہیں ہے ہاں اسکی اطاعت سے انکار نہیں ہے لیکن اسکا درجہ خلیفۃ المسلمین کی طرح نہیں ہو سکتا پاکستان کے غالب نظام کی اطاعت کے اوپر شریعت کی ہی اور بہت سی نصوص موجود ہیں لیکن یہ خلیفۃ المسلمین والی نص میرے عقل میں نہیں آتی اگر کسی کو اس پہ شرح صدر ہو تو مجھے بھی دلیل سے سمجھا دے جزاکم اللہ خیرا
    دوسری نصوص میں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالنا، اھون البلیتین یا اخف الضررین وغیرہ جیسے فقہی قواعد یا معاہدات کی پاسداری جیسے شرعی احکام یا جیسے نجاشی کی اطاعت کا معاملہ تھا وغیرہ
    ہاں جو سعودیہ کا شہری ہے تو وہ کسی اور ملک جاتا ہے تو وہاں کا جب ویزہ لگتا ہے تو اس میں ایک قسم کا معاہدہ شامل ہوتا ہے یعنی جب سعودیہ والا ترکی جائے گا تو اسکو ترکی کے قوانین کی پاسداری کرنی ہو گی جہاں تک کوئی بات شریعت کے خلاف نہ ہو اس وقت امیر اسکا سعودیہ کا ہی حاکم ہو گا اور ترکی کے غالب نظام کے ساتھ تو صرف اسکا معاہدہ ہو گا وہ ترکی والا اسکے لئے خلیفۃ المسلمین کی جگہ پہ نہیں ہو گا واللہ اعلم بالصواب
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں