1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

'احکام ومسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو عقاشہ, ‏مئی 14، 2011۔

  1. ‏دسمبر 11، 2012 #11
    عبدالرزاق جامعی

    عبدالرزاق جامعی رکن
    جگہ:
    ہبلی، کرناٹک،انڈیا
    شمولیت:
    ‏دسمبر 11، 2012
    پیغامات:
    15
    موصول شکریہ جات:
    81
    تمغے کے پوائنٹ:
    48

    تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انگریزی میں بھی اس طرح کا لکھنا غلط ہوگا؟ Insha Allah
    اور صحیح ہوگا۔In Sha Allah
    کیا خیال ہے آپ کا؟
     
  2. ‏دسمبر 11، 2012 #12
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    نہیں بھائی ، ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بعض مخلص احباب نے جذباتیت کے زیراثر اس کو بہت بڑا ہوا بنایا ہوا ہے :) ۔ دراصل اردو اور عربی الگ الگ زبانیں ہیں ، لہذا الفاظ کے معانی ، ہجے، صرف و نحو بھی مختلف ہیں۔ جو مفہوم عربی لفظ "ان شاءاللہ" کے ذریعے ادا ہوتا ہے بعینہ یہی معنی و مفہوم عرصہ دراز سے اردو لغات میں لفظ "انشاءاللہ" کے ذریعے بیان ہوا ہے۔
    ہاں ، ذاتی طور پر میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں ان شاءاللہ لکھا جائے۔ اور انشاءاللہ لکھنے کو بھی غلط نہیں سمجھتا کہ اردو کی تقریباً تمام لغات میں ایسا ہی لکھا ہے۔
    مشہور لغت فیروز اللغات کا حوالہ ذیل میں دیکھیے :
    [​IMG]
     
  3. ‏دسمبر 12، 2012 #13
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    دو زبانوں کا آپس میں طریقہ املاء مختلف ہو سکتا ہے ۔ مثلا ایک اور لفظ ہے ’’ علیحدہ ‘‘ یہ لفظ عربی سے لیا گیا عربی میں اس کو ’’ علی حدۃ ‘‘ لکھا جاتا ہے۔
    اس طرح کی مزید مثالیں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں ۔

    لیکن جملہ ’’ ان شاء اللہ ‘‘ چونکہ اردو میں بھی دونوں طرح (حسب علمی ) لکھا جاتا ہے ۔ ’’ ان شاء اللہ ‘‘ اور ’’ انشاء اللہ ‘‘
    جبکہ عربی کے مطابق یہ صرف ’’ ان شاء اللہ ‘‘ ہی ٹھیک ہے ۔
    تو ’’ ان شاء اللہ ‘‘ ہی لکھنا چاہیے کیونکہ یہ عربی ، اردو دونوں جگہ چل جاتا ہے ۔اور غلطی کا بالکل بھی احتمال باقی نہیں رہتا ۔
    جبکہ ’’ انشاء اللہ ‘‘ چونکہ صرف اردو والوں کےنزدیک ٹھیک ہے لہذا اس میں غلطی کا احتمال باقی رہتا ہے ۔ واللہ اعلم


    صاحبان علم موجود ہیں ، میرے خیال سے لفظ ’’ ان شاء اللہ ‘‘ کی اردو زبان میں کیفیت املاء کی تحقیق کے لیے مطبوع کتابوں کی بجائے مخطوط کتابوں یا خطوط وغیرہ کی تلاش کرنی چاہیے کیونکہ چھپی ہوئی چیزوں میں یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ ممکن ہے مصنف نے کچھ اور طریقےسے لکھا ہے اور چھاپنے والے نے کسی اور طریقےسے لکھ دیا ہو۔
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • مفید مفید x 2
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 12، 2012 #14
    اعتصام

    اعتصام مشہور رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    483
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    130

    جی بلکل جس لفظ کا دوسری زبان میں تلفظ ہی تبدیل ہو تو اس میں اسی بان کے مطابق لکھنا ٹھیک ہے مگر جس میں تلفظ ایک ہی طرح کا ہو اور اس میں اگر غلطی بھی فاحش ہو تو اس وقت غلطی کا خیال رکھنا چاہیے۔۔۔جیسے ان شاء اللہ اور انشاء اللہ

    شاء| نشء

    جزاکم اللہ خیرا
     
  5. ‏دسمبر 12، 2012 #15
    بالاکوٹی

    بالاکوٹی رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 04، 2012
    پیغامات:
    82
    موصول شکریہ جات:
    351
    تمغے کے پوائنٹ:
    36

    جزاک اللہ فی الد نیا ولآخرۃ
     
  6. ‏دسمبر 15، 2012 #16
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    :) :)
    بھائی ذرا احتیاط سے! اس طرح تو ہم منکرین حدیث اور دیگر طبقات کو شہ دیں گے ، ان کے خدشات کی تصدیق کریں گے کہ مخطوطات میں لکھا کچھ اور جاتا ہے اور مطبوع کتابوں میں کچھ اور ۔۔ لہذا لائیں صحیح بخاری کا امام بخاری(رحمۃ اللہ) کے ہاتھ سے تحریر کردہ نسخہ!
    اگر ہم مطبوع کتب کے ساتھ ساتھ لغات پر بدگمانیاں جھاڑنا شروع کر دیں تو پھر بچارے ماہرین لغت نابود ہو جائیں گے ۔۔۔۔ :)
    محترم عابد الرحمٰن صاحب نے ایک جگہ یہ بالکل درست کہا ہے :
    اور اردو لفظ "انشاءاللہ" کو میں لسانیات کا مسئلہ سمجھتا ہوں جس کی تصدیق فلاں فلاں کے زورِ فہم سے نہیں بلکہ لسانیات کے ماہرین کے حوالے سے پیش کی جانی چاہیے۔
    اوپر کے مراسلے میں فیروز اللغات کا حوالہ دیا تھا ، اب لیجیے ایک اور مشہور زمانہ لغت "فرہنگ آصفیہ" سے بھی حوالہ پیش خدمت ہے :

    [​IMG]
     
  7. ‏دسمبر 15، 2012 #17
    عابدالرحمٰن

    عابدالرحمٰن سینئر رکن
    جگہ:
    BIJNOR U.P. INDIA
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 18، 2012
    پیغامات:
    1,124
    موصول شکریہ جات:
    3,229
    تمغے کے پوائنٹ:
    240

    السلام علیکم
    محترم باذوق صاحب میں آپ کے ذوق سلیم سے بالکل متفق ہوں
    ہمارہ مادری زبان اردو ہے اور اس زبان کے ماہرین’’ ان شاء اللہ ‘‘ کا انشاء اللہ ہی لکھتے ہیں اگرچہ کہیں کہیں ان شاءاللہ کا استعمال بھی ملتا ہے۔
    لیکن جب عربی زبان کا استعمال ہو تو وہاں’’ ان شاء اللہ‘‘ ہی لکھنا چاہیے’’ انشاءاللہ ‘‘نہیں لکھنا چاہیے کیوں کہ اردو زباں میں انشاء بمعنیٰ تحریر کرنا لکھنا طرز تحریر وغیرہ میں مستعمل ہے
    جب کہ عربی میں انشاء بمعنیٰ۔ تعمیر کرنا ایجاد کرنا پیدا کرنا مثلاً
    اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙ
    ہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵
    كتاب ((شذور الذهب)).. لابن هشام..ميں ذكر كياہے أن معنى الفعل إنشاء) - ميرى إيجاد كردا)
    انشاء بمعنیٰ تعمیر کرنا: جیسے
    انشانا مصنعًا للملابس۔ ہم نے کپڑے بنانے کی فیکٹری تعمیر کی۔
    ھذا الانشاء جمیل۔ یہ بلڈنگ خوبصورت ہے۔
    اور اب رہی ان شاءاللہ کی بات تو عرض ہے
    یہ حرف تین حرفوں سے مرکب ہے
    ان + شاء +اللہ = انشاء اللہ جس کے معنیٰ ہیں اگر اللہ نے چاہا تو یہ ٹھیک ہے مگر اس کے پابند یا مکلف صرف اہل عرب ہیں عجمی مکلف نہیں ہیں
    غیر عرب اس لفظ کو ایسے ہی استعمال کریں گےجیسا کہ اس علاقہ یا ملک کے ماہرین لسانیات یا اہل لغت نے کیا ہے چنانچہ اردو زبان کے ماہرین لسانیات اور اہل لغت نے’’ ان شاءاللہ ‘‘کو انشاءاللہ ہی لکھا اور یہی عوام الناس میں رائج ہے
    اور اصول ہے
    ایک مشہور ضرب المثل ہے
    غلط العوم فصیح
    یعنی عوامی غلطی فصاحت میں داخل ہے ـ
    اور یہ عوامی سطح پر یہ لفظ اتنا مقبول ہے کہ ایک مبتدی سے لے کر اعلی درجہ کے اردو دان سب پر اس کے معانی واضح اور روشن ہیں ایسی صورت میں یہ کہنا غلط ہو گا کہ اس کے معانی میں ابہام پیدا ہو تا ہے اور’’ انشاء ‘‘چونکہ مرصع تحریر کو کہتے ہیں اس لئے ’’انشاء اللہ‘‘ کا معنی اللہ کی تحریر تو ہو سکتا ہے جس سے کوئی تکفیری جملہ نہیں بنتاجب کہ یہ معنیٰ مراد نہیں بلکہ’’ اگر اللہ نے چاہا ‘‘ ہی ترجمہ ہوگا
    چونکہ اردو میں لفظ انشاء اللہ ہی مقبول ہے اور عوامی سطح پر درجہ قبولیت پر فائز ہے اس لئے یہ غلط العوام فصیح کی مصداق بھی درست ہے۔
    اور یہ اصول اور قاعدہ ہے کہ جس لفظ کوجس طرح بھی اس کے ماہرین استعمال کرتے ہوں وہی معنیٰ مراد ہوں گے۔
    چند مثالیں پیش خدمت ہیں:
    ایک لفظ ہے ’’شراب‘‘ اردو زبان میں بمعنیٰ’’ خمر‘‘ مستعمل ہے جب کہ عربی زبان میں بمعنیٰ ’’ماء‘‘ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
    اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا۝۰ۚ لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ۝۷۰ۧ
    ترجمہ: یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کے لئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب ہے اس لئے کہ کفر کرتے تھے
    خدا اور اللہ کا فرق
    لفظ خدا حقیقتاً اسلامی اصطلاح یا لفظ نہیں ہیں’’ خدا‘‘پارسیوں کا معبود ہے جس کے معنیٰ ہیں خود بخود وجود میں آنا ۔ اس کے علاوہ بھی’’ خدا ‘‘مختلف معبودوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس میں ایک بڑی تفصیل ہے
    ہندوؤں کے یہاں ’’بھگوان‘‘ بمعنیٰ ’’خدا ‘‘استعمال ہوتا ہے’’ اللہ‘‘ بھی کہہ دیتے ہیں
    اردو کا ایک لفظ ہے ’’ژنگ‘‘ جب اس کو ہندی زبان میں لکھتے ہیں تو یہ لکھا جاتا ہے ’’جنگ‘‘ دونوں میں کتنا بڑا فرق ہے ،
    اسی طرح ’’ضالین‘‘ اور ’’دالین‘‘ کا فرق ہے،کہیں ’’قل‘‘’’ گل‘‘ کہا جاتا ہے یہ سارے الفاظ اپنے اپنے معنیٰ جدا گانہ رکھتے ہیں لیکن جس معنیٰ میں استعمال ہورہا ہے وہ اس جگہ کے لحاظ سے صحیح ہے اس میں جائز نا جائز والی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔
    اسی طرح سے رسم الخط کا فرق ہے مثال کے طور پر یہی ان شاءاللہ جب اس کو ہندی میں لکھیں گے تو اس کی شکل یہ ہوگی۔
    इंशाअल्लाह)ہوگی جو صحیح ہے۔इन शा अल्लाह۔ نہیں ہوگی۔ اسی طرح انگلش کا معاملہ ہے کہ انگریزی میں (INSHAALLAH) لکھا جاتا ہے اور اس طرح بھی لکھا جاتاہے (In ShaALLAH)
    الغرض جو لفظ خواص میں جس طرح سے رائج ہے اس کا اعتبا ر کیا جایئے گا ۔
    احقر عابد الرحمٰن بجنوری
     
  8. ‏دسمبر 16، 2012 #18
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    (١) اردو ادب کے مخطوطات کو آپ فن حدیث کے مخطوطات پر قیاس کر رہے ہیں جن میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور جو اصول حدیث اور مخطوطات حدیثیہ کے تعلق سے کچھ نہ کچھ معلومات رکھتا ہے وہ اس بات کو بخوبی جانتا ہے ۔ بہر صورت اگر منکرین حدیث میں سے کوئی بھی آپ کی اس بات کو سن چکا ہے یا پڑھ چکا ہے تو اس سے گزارش ہے کہ کسی حدیث پر اس حوالے سے اعتراض کرے تاکہ حق بات واضح ہو جائے ۔
    (٢) احتمال کی بات کی ہے بالجزم نہیں کہا کہ ضرور ایسا ہی ہوتا ہے ۔ کتب حدیث میں بھی یہ احتمال ہو سکتا ہے لیکن اس احتمال کو دور کرنے کے اہل فن کے پاس اصول و دلائل بھی ہیں ۔
    (٣) باذوق بھائی مثال کے طور پر اگر آپ ہی کوئی کتاب لکھیں اور اس کا مسودہ کسی کو کتابت کے لیے دے دیں ۔ پھر آپ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے مسودے اور اس کاتب کے لکھے ہوئے نسخے میں اختلاف ہوجائے تو پھر کس کو ترجیح دی جائے گی ؟
    (٤) آپ کی بات سے اتفاق ہے۔ میری گزشتہ مشارکت میں کون سی ایسی بات ہے جو اس اصول کے مخالف ہے ؟ میں نے اہل فن کے خطوط کا ہی تذکرہ کیا تھا ۔
    (٥) فیروز اللغات کے ساتھ آپ نے فرہنگ آصفیہ کا اضافہ کردیا ہے لیکن وہی احتمال باقی ہے کہ ان دونوں مصنفین نے ان شاء اللہ کی املاء کچھ اور کی ہو اور کاتب نے کچھ اور کی ہو ۔ اب اللہ کرے ایسا ہو کہ مصنف کے ہاتھ کا لکھا ہوا نسخہ مل جائے اور اس میں اس نسخے میں اختلاف ہو تو ترجیح کس کو دی جائے گی ؟
    اور اگر مصنف کے ہاتھ کا نسخہ نہیں ملتا تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ صاحب فیروز اللغات یا فرہنگ آصفیہ نے اس کی املاء ایسے ہی کروائی ہے جیسا کہ موجودہ نسخے میں ہے ؟
    البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ لغت کے مطبوعہ نسخے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا ( اگر واقعتا کسی نے نہیں کیا ) اس اعتبار سے یہ قابل حجت ہے ۔ اور اس سے ہم بھی اتفاق کرتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ مصنف کے ہاتھ کے نسخہ میسر ہو جائےتو اختلاف کی صورت میں اس کو ترجیح دی جائے گی ۔
     
  9. ‏دسمبر 17، 2012 #19
    باذوق

    باذوق رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏فروری 16، 2011
    پیغامات:
    888
    موصول شکریہ جات:
    3,984
    تمغے کے پوائنٹ:
    289

    حضور! برائے مہربانی مجھے اس قسم کی بحث سے معاف رکھیں۔ :)
     
  10. ‏جون 09، 2016 #20
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    عمدہ تھریڈ.
    جزاکم اللہ خیر
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں