1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ان معتبر شروط کا بیان جو راوی میں ہونا ضروری ہیں:

'اصول حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از ناصر رانا, ‏اکتوبر 02، 2011۔

  1. ‏اکتوبر 02، 2011 #1
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    ان معتبر شروط کا بیان جو راوی میں ہونا ضروری ہیں:


    حدیث روایت کرنے والے راوی کےلیے چار شرطوں پرپورا اترنا ضروری ہے:

    اسلام: لہٰذا کافر کی روایت قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ وہ دین میں تہمت زدہ ہے ، ہاں اگر اس نے کفر کی حالت میں حدیث سنی اور اسلام کی حالت میں بیان کی تو وہ قابل قبول ہوگی جیسا کہ ابوسفیان کا ہرقل کے ساتھ قصہ ہے۔

    روایت بیان کرتے وقت شریعت کا مکلف ہونا: لہٰذا بچے کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔ البتہ جو کچھ اس نے چھوٹی عمر میں عقل وشعور کی حالت میں سنا اور اسے بالغ ہونے کے بعد بیان کیا تو وہ روایت قبول ہوگی۔ ایسا صحابہ ]کے صغار صحابہ مثلاً ابن عباس، ابن زیبر،محمود بن ربیع ، حسن ، حسین وغیرہ کی روایات قبول کرنے پر اجماع کی وجہ سے ہے ۔

    عادل ہونا: لہٰذا فاسق کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔ کہا گیا کہ اس فاسق کی قبول ہوسکتی ہے جو ایک تو تاویل کرنے والا ہو اور دوسرا اپنی بدعت کی طرف دعوت دینے والا نہ ہو۔

    اس کے اندر ضبط کا ہونا: چاہےوہ ضبط صدر ہو یا ضبط کتاب۔ کیونکہ جو شخص احادیث لیتے وقت جو اس نے یاد کی تھیں ، ان کو محفوظ نہ رکھ سکا کہ اس کواسی طریقہ سے بیان کردے جیسا اس نے سنی تھی تو اس کی روایت پر بھی اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا اگرچہ وہ فاسق نہ بھی ہو۔

    راوی کےلیے یہ شرطیں نہیں لگائی گئیں کہ وہ مرد ہو، آزاد ہو، بینا(دیکھنے والا) ہو یا فقیہ ہو۔

    ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
     
  2. ‏اکتوبر 02، 2011 #2
    ندیم محمدی

    ندیم محمدی مشہور رکن
    جگہ:
    Wah, Pakistan, Pakistan
    شمولیت:
    ‏جولائی 29، 2011
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,274
    تمغے کے پوائنٹ:
    140

    عادل ہونا: لہٰذا فاسق کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔ کہا گیا کہ اس فاسق کی قبول ہوسکتی ہے جو ایک تو تاویل کرنے والا ہو اور دوسرا اپنی بدعت کی طرف دعوت دینے والا نہ ہو۔
    فاسق کے بارے میں قرآن میں ارشاد ربانی ہے۔
    یاایھاالذین امنوا ان جا ءکم فاسق بنبا فتبییو
    ترجمہ:۔

    اے مسلمانو! اگر تمھارے پاس ایک فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کرلو۔
    سورہ الحجرات آیت نمبر 6
    لہذا راوی حدیث کا فسق سے پاک ہونا اشد ضروری ہے۔
     
  3. ‏اکتوبر 02، 2011 #3
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ ناصر بھائی
     
  4. ‏اکتوبر 02، 2011 #4
    ناصر رانا

    ناصر رانا رکن مکتبہ محدث
    جگہ:
    Cape Town, Western Cape, South Africa
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2011
    پیغامات:
    1,171
    موصول شکریہ جات:
    5,448
    تمغے کے پوائنٹ:
    306

    جزاک اللہ ند یم احمد یار خان بھائی
     
  5. ‏اکتوبر 02، 2011 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ‏اکتوبر 02، 2011 #6
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. lovelyalltime
    جوابات:
    13
    مناظر:
    1,366
  2. lovelyalltime
    جوابات:
    0
    مناظر:
    891
  3. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    1
    مناظر:
    19
  4. محمد طلحہ اہل حدیث
    جوابات:
    5
    مناظر:
    49
  5. ظفر اقبال
    جوابات:
    0
    مناظر:
    50

اس صفحے کو مشتہر کریں