1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

اوباما: امریکہ معاشی المیئے کے دھانے پر کھڑا ہے

'معاشی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از اعتصام, ‏دسمبر 31، 2012۔

  1. ‏دسمبر 31، 2012 #1
    اعتصام

    اعتصام رکن
    جگہ:
    sukkur sindh
    شمولیت:
    ‏فروری 09، 2012
    پیغامات:
    481
    موصول شکریہ جات:
    678
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    اوباما: امریکہ معاشی المیئے کے دھانے پر کھڑا ہے

    امريکا کے صدر باراک اوباما نے خبردار کيا ہے کہ اگر ايوان نمائندگان نے ملک کو مالياتي سقوط سے بچانے کے لئے فوري طور پر ضروري قدم نہ اٹھايا تو ملک کو معاشی الميئے کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

    ابنا: صدر باراک اوباما نے کہا ہے کہ قبل اس کے ملک مالياتي سقوط سے دوچار ہوجائے ، کانگرس اور سينٹ کو کسي اتفاق رائے تک پہنچ جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ انہيں اب بھي اميد ہے کہ ملک کو اس صورتحال سے بچانے کے لئے کوئي نہ کوئي درمياني راستہ نکل آئے گا ۔
    امريکي صدر باراک اوباما نے سنيچر کو وائٹ ہاؤس ميں ريپبليکن سياستدانوں سے ايک ملاقات ميں اس بات کي کوشش کي کہ کانگرس ان کے مجوزہ اقتصادي منصوبے کو منظوري ديدے ۔ باراک اوباما نے اس ملاقات کے بعد ايک پريس کانفرنس ميں کہا کہ وہ بہت احتياط کے ساتھ اس اميد کا اظہار کرسکتے ہيں کہ کانگرس وائٹ ہاؤس کے اقتصادي پروگرام کو منظوري دے دي گي ۔ انہوں نے کہا کہ ايسا منصوبہ پاس ہونا چاہئے جس سے يہ اطمينان حاصل کيا جاسکے کہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانوں پر ٹيکس نہيں بڑھے گا، بيس لاکھ بے روزگار افراد کا بے روزگاري بيمہ ختم نہيں ہوگا، اور بجٹ کا خسارہ کم کرنے نيز نئے سال ميں اقتصادي ترقي جاري رکھنے کے لئے حالات سازگار ہوں گے - انہوں نے کہا کہ ہميں موجودہ مہلت کے اندر ہي اس مسئلے کو حل کرنا چاہئے ۔
    امريکي سينٹ ميں ڈيموکريٹ رکن ہيري ريڈ نے کہا ہے کہ جو اتفاق رائے بھي ہوگا وہ مکمل اور بے عيب نہيں ہوگا بنابريں اس سے بہت سے لوگ خوش نہيں ہوں گے اور ممکن ہے کہ بہت سے لوگ اس کو قبول نہ کريں ۔
    دوسري جانب امريکا کے وزير خزانہ نے خبردار کيا ہے کہ رواں سال کے خاتمے کے ساتھ ہي واشنگٹن کے قرضوں کے لئے معينہ سطح پوري ہوجائے گي - انہوں نے کانگر س کے نام خط ارسال کرکے کہا ہے کہ ميں يہ خط صرف اطلاع کے لئے ارسال کررہا ہوں کہ ہم قرضوں کي معنيہ سطح کے نزديک پہنچ چکے ہيں اور اکتيس دسمبر کو يہ سطح پوري ہوجائے گي۔انہوں نے اس خط ميں يہ بھي لکھا ہے کہ وزارت خزانہ بہت جلد ہنگامي نوعيت کے اقدامات کرے گي تاکہ عارضي طور پر اقتصادي الميئے کو روکا جاسکے - انہوں نے موجودہ صورتحال کو مالياتي سقوط کے دہانے پر پہنچ جانے سے تعيبر کيا ہے۔
     
  2. ‏جنوری 22، 2013 #2
    کنعان

    کنعان سینئر رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,405
    موصول شکریہ جات:
    4,347
    تمغے کے پوائنٹ:
    483

    السلام علیکم

    اکثر میڈیا پر ایسی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں کہ یہ ممالک معاشی طور پر دھانے پر کھڑے ہیں، مگر اس پر خطرہ والی کوئی اہم بات نہیں ہوتی، مثال کے طور پر اگر ان ممالک میں آدھے لوگ کام کرتے ہیں تو ان کے ٹیکس دینے سے جو آدھے بےکار ہیں ان کو زندہ رہنے کے اخراجات حکومت فراہم کرتی ھے اور اس کا طریقہ کار بھی بہت آسان ھے، اس کے باوجود بھی کام نہ کرنے والوں کے فنڈز ملنے میں ایک گھنٹہ کی تاخیر نہیں ہوتی۔ سسٹم ہی ایسا ھے کہ ہر ادارہ آزاد ھے اور اپنا کام بڑی خوش اصلوبی اور ایمارنداری سے کرتا ھے۔ خبر کے مطابق ان کا شارٹ فال وقتی ہوتا ھے جس پر یہ حکومت کا معاملہ ھے جسے وہ آسانی سے مینج کر لیتے ہیں مگر عوام کو اس پر کبھی کوئی تکلیف کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

    والسلام
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں