1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

اولاد کو جنسی تعلیم دینے کا حکم

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏ستمبر 24، 2016۔

?

کیا اولاد کو جنسی تعلیم دینی چاہیے

  1. قبل از بلوغت دینی چاہیے

    75.0%
  2. بعد از بلوغت دینی چاہیے

    33.3%
  3. نہیں دینی چاہیے

    0 ووٹ
    0.0%
ایک سے زائد ووٹ ڈالے جا سکتے ہیں
  1. ‏ستمبر 24، 2016 #1
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,901
    موصول شکریہ جات:
    1,169
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    عصر حاضر میں انٹر نیٹ ، چینلز، لیپ ٹاپ اور موبایل فونز کی موجودگی کی وجہ سے بچے ذہنی طور پر قبل از وقت بالغ ہو جاتے ہیں تو کیا انہیں بلوغت کی سرحدوں پر پہنچنے سے قبل جنسی تعلیم دی جا سکتی ہے یا نہیں
    اگر نہیں تو کیا کبھی بھی نہیں
    اور اگر ہاں تو کس عمر میں دی جایے
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  2. ‏ستمبر 24، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,048
    موصول شکریہ جات:
    1,040
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    ان شاء اللہ معلوماتی تھریڈ ہوگا. جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏ستمبر 25، 2016 #3
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,649
    موصول شکریہ جات:
    5,233
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    پہلے آپ ”جنسی تعلیم “ کی وضاحت کیجئے کہ اس کی حدود و قیود کیا ہیں۔۔ ۔ ۔

    1۔ پہلا درجہ تو یہ ہے کہ بلوغت کے بعد بچے اور بچیوں میں جو جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، انہیں اس سے آگاہ کرکے اس سے متعلقہ مسائل کا حل بتلانا۔

    2۔ دوسرا درجہ یہ کہ بلوغت کے شرعی احکامات سے آگہی فراہم کرنا۔ پاکی ناپاکی، نماز روزے اور محرم نا محرم سے میل ملاقات کی حدود و قیود سے آگاہ کرنا۔

    3 تیسرا اور آخری درجہ ہے ازدواجی جنسی معاملات، مباشرت، مجامعت میں حلال حرام، اس کے طور طریقے، اس کی مشکلات وغیرہ وغیرہ۔

    پہلے اور دوسرے درجے کی ابتدفائی معلومات ماں اپنی بیٹی کو اور باپ اپنے بیٹے کو دےسکتا ہے۔ دوسرے درجہ کی معلومات کے لئے کوئی دینی کتاب بھی دی جاسکتی ہے۔ جبکہ تیسے درجہ کے لئے کسی مسلمان پابند شریعت طبیب کی اس موضوع پر کتاب دینا فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ آج کل اس قسم کے میڈیکل فورمز بھی آن لائن موجود ہیں، جہاں جنسی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ لیکن ”اوپن فورم“ ہونے کے سبب ان میں خرافات زیادہ اور کام کی باتیں کم ہوتی ہیں۔۔
     
    • علمی علمی x 4
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏ستمبر 25، 2016 #4
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,649
    موصول شکریہ جات:
    5,233
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    اسی ضمن میں ایک اور نکتہ بھی ہے اور وہ ہے اپنے کمسن یا بالغ ہوتے بچوں اور بچیوں کو کسی مخالف جنس یا ہم جنس کی طرف سے ”جنسی استحصال“ سے بچنے کی تربیت دینا۔ اس بارے میں بھارتی اداکار عامر خان کی ایک مفید ویڈیو سوشیل میڈیا پر گردش کرتی رہی ہے۔ اس قسم کے ویڈیوز بھی اپنے بچوں کو دکھلانا سود مند ثابت ہوسکتا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 25، 2016 #5
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,901
    موصول شکریہ جات:
    1,169
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    کون سی ویڈیو اگر لنک بھیج سکیں تو
     
  6. ‏ستمبر 25، 2016 #6
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,649
    موصول شکریہ جات:
    5,233
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    عامر خان کا شو کافی پسند کیا جا رہا ہے

    بالی وڈ اداکار عامر خان نے اپنے پروگرام ’ستيے میو جيتے‘ یعنی سچ کی جیت کے دوسرے شمارے میں بچوں کے جنسی استحصال کا معاملہ اٹھایا ہے۔

    اس شو میں بعض ایسے لوگ شامل ہوئے جن کا بچپن میں جنسی استحصال ہوا ہے۔ ان افراد نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا سب سے کے سامنے ذکر کیا اور اپنے تجربات بیان کیے۔

    عامر خان کا یہ ٹی وی شو گزشتہ ہفتے شروع ہوا ہے۔ پہلے شمارے میں انہوں نے ’فیمیل فیٹسائڈ‘ یعنی اسقاط حمل سے بچیوں کو مار دینے کا موضوع اٹھایا تھا۔

    عامر خان کے اس شو کے بارے میں سوشل نیٹورکنگ سائٹس پر کافی بحث و مباحث جاری ہیں۔ ایک طرف جہاں بیشتر افراد عامر خان کی اس پہل سے خوش ہیں وہیں بعض کا کہنا ہے کہ ان موضوعات پر بات کرنے کے پيچھے عامر خان کا مقصد صرف شہرت پانا ہے۔

    پروگرام کے دوسرے میں شمارے میں ایک لڑکی نے اپنے تجربات کا ذکر کیا اور بتایا کہ جب وہ بارہ سال کی تھی تب انکے جان پہچان کے ایک پچپن سالہ شخص نے انہیں گھر پر اکیلا دیکھ کر انکا جنسی استحصال کیا تھا۔

    شو کے دوران عامر خان نےذکر کیا کہ اس طرح کے واقعات کا شکار صرف لڑکیاں نہیں بلکہ لڑکے بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح کے ایک لڑکے ہریش کا معاملہ انہوں نے سب کے سامنے پیش کیا۔

    ہریش نے بتایا کہ کیسے ان کے خاندان کے ایک شخص نے ان کا جنسی استحصال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شخص بعد میں کچھ اور لوگوں کے ساتھ آ کر ان کا استحصال کرتے تھے۔

    ہریش نے اپنی ماں کو اس بارے میں بتانے کی کوشش کی لیکن خود ہریش کے مطابق ان کی ماں ان کی باتوں کی سنجیدگی کو سمجھ نہیں سکیں اور انکے اوپر یہ ظلم کافی طویل عرصے تک ہوتا رہا ہے۔

    شو میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بچوں سے ہی یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ اگر ان کا جنسی استحصال ہو تو وہ خود آ کر ماں باپ سے اس کا ذکر کریں گے۔

    ایک غیر سرکاری تنظیم راہی کی انجنا گپتا نے شو میں کہا کہ ماں باپ کو بچوں کے اشارات کو سمجھتے ہوئے ان پر اعتماد کرنا چاہیے۔

    پروگرام کے آخر میں عامر خان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انہیں خط لکھ کر بچوں کے جنسی استحصال روکنے کے لیے ایک مضبوط قانون لانے کی حمایت کریں۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 25، 2016 #7
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,649
    موصول شکریہ جات:
    5,233
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    یہ پروگرام 2012 میں چلتا تھا۔ اب پتہ نہیں جاری ہے کہ نہیں۔ مراسلہ نمبر۔6 بی بی سی کی ایک رپورٹ سے نقل شدہ ہے۔ مذکورہ ویڈیو کا لنک نہیں مل سکا جو دس بارہ سال تک کے بچوں کے لئے بنائی گئی تھی۔
     
  8. ‏ستمبر 25، 2016 #8
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,048
    موصول شکریہ جات:
    1,040
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    میرے خیال سے یہ شو بند ہو چکا ہے. ابھی حال ہی میں شروع ہوا ہو تو کہ نہیں سکتا. ورنہ سنا تھا کہ یہ بند ہو چکا ہے.
    واضح رہے کہ گھر پر ٹی وی وغیرہ نہیں ہے. اس لۓ معلومات پرانی ہیں.
    ویسے اگر آپ کہیں تو اپنے دوستوں سے معلومات حاصل کروں. شاید مذکورہ ویڈیو بھی کسی کے پاس مل جاۓ.
     
  9. ‏ستمبر 25، 2016 #9
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,649
    موصول شکریہ جات:
    5,233
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    ٹی وی میرے گھر بھی نہیں ہے ۔ میں نے بھی یہ ویڈیو نیٹ پر دیکھی تھی۔ اگر لنک مل جائے تو یہاں پوسٹ کردیجئے۔ پوسٹ کے موضوع سے ”متعلق“ ہے۔
     
  10. ‏ستمبر 25، 2016 #10
    Navid.shaikh9555

    Navid.shaikh9555 مبتدی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2016
    پیغامات:
    20
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    17

    Umar Bhai kaha ho aap??

    Sent from my SM-J700F using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں