1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

اولاد کو جنسی تعلیم دینے کا حکم

'معاشرت' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد فیض الابرار, ‏ستمبر 24، 2016۔

?

کیا اولاد کو جنسی تعلیم دینی چاہیے

  1. قبل از بلوغت دینی چاہیے

    75.0%
  2. بعد از بلوغت دینی چاہیے

    33.3%
  3. نہیں دینی چاہیے

    0 ووٹ
    0.0%
ایک سے زائد ووٹ ڈالے جا سکتے ہیں
  1. ‏ستمبر 26، 2016 #21
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    25,642
    موصول شکریہ جات:
    6,529
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,143

    ماشاء اللہ!!
    زبردست!!
    جزاک اللہ خیرا یا اخی الکریم
     
  2. ‏ستمبر 26، 2016 #22
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,649
    موصول شکریہ جات:
    5,233
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    احباب ووٹنگ میں بھی حصہ لیں۔ ابھی تک صرف دو ووٹ ڈالے گئے ہیں۔
     
  3. ‏ستمبر 26، 2016 #23
    ام حماد

    ام حماد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 09، 2014
    پیغامات:
    96
    موصول شکریہ جات:
    65
    تمغے کے پوائنٹ:
    42

    اصل سوال تو یہی ہے کہ کس عمر میں کیا بتایا جایے اور کس حد تک بتایا جایے
    محض علم سے موضوع کا حق ادا نہیں ہو سکتا جب تک اس کے ساتھ تجربہ نہ ہو
     
  4. ‏ستمبر 26، 2016 #24
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,649
    موصول شکریہ جات:
    5,233
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    بچوں کو کس عمر میں کیا بتایا جائے، اس کا کوئی کلیہ قانون نہیں بنایا جاسکتا۔ یہ تو والدین کی اپنی ججمنٹ ہوتی ہے جو انہیں یہ بتلاتی ہے کہ اب میرے فلاں بچے کو فلاں ”علم“ کی ضرورت ہے۔ جیسے سات آٹھ بچوں کی ماں بھی نانی بننے پر اپنی بیٹی کو ایسا کوئی ”فارمولہ“ نہیں بتلا سکتی کہ تمہارا نومولود جب اتنے بجے روئے تو اسے دودھ پلانا، اتنے بجے روئے تو اس کے کپرے تبدیل کرنا وغیرہ وغیرہ۔ البتہ وہ یہ ضرور بتلاسکتی ہے کہ کہ ایک نومولود کی یہ یہ ضروریات ہوتی ہیں، جن کی ”طلب“ پر وہ رو کر ماں کو متوجہ کرتا ہے۔ تجربہ سے تمہیں از خود معلوم ہوتا جائے گا کہ ”اس مرتبہ رونے“ کا کیا مطلب ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ یہی حال گھر سے باہر نکلنے، اسکول جانے والے بچوں کی حرکات و سکنات سے اندازہ لگایا جائے گا کہ اسے ”جنسی تعلیم“ کا کب اور کتنا ”ڈوز“ دیا جائے ۔ جن والدین کے پاس اس علم کا ”وسیع ذخیرہ“ موجود ہوگا، وہ اپنے بچوں کی اٹھان، بات چیت، ملنے جلنے والے دوست احباب، کزنز، انکل آنٹیز سے روابط کو دیکھتے ہوئے اسے بتلاسکتے ہیں کہ بیٹا فلان فلاں سے دور دور سے ملا کرو۔ بیٹی فلاں فلاں سے محتاط رہو ۔ بچو اگر کوئی تم سے فلاں فلاں قسم کی بات کرے تو فوراً ہمیں اس سے آگاہ کرو۔ تمہارے دوست اور خیرخواہ ہم ہی ہیں، کوئی اور نہیں۔ نہ استاد، نہ اسکول کے دوست سہیلی، نہ کزنز اور نہ انکل آنٹیز ۔۔۔ ان سب کی ہر بات ہمیں ضرور بتلایا کرو ۔ پھر جب بچے از خود اردو روانی سے پڑھنے کے قابل ہوجائیں تو انہیں ایسی معلومات تحریری طور پر پڑھنے کو دی جائیں۔ انہیں پڑھنے کے بعد ان کے تاثرات نوٹ کئے جائیں۔ اور ان کے انہیں تاثرات کی بنیاد پر اندازہ لگایا جائے کہ کتنا مزید علم فراہم کرنا ہے۔ مثلاً میں چلتے پھرتے اپنی ڈاکٹر بیٹی کو بھی خواتین کے مخصوص ایام کے دینی مسائل بتلانے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اس سے اسے مزید پوچھنے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ اصل میں جب تک ہم والدین اپنے بچوں سے کمیونی کیشن لنکس نہیں بڑھائیں گے، بچے بہت سی باتیں پوچھنے سے ہچکچائیں گے۔ انہیں حوصلہ دیں گے تو وہ اپنی ضرورت کی ہر بات دائریکٹ یا ان ڈائریکٹ ضرور پوچھیں گے۔
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  5. ‏ستمبر 26، 2016 #25
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,744
    موصول شکریہ جات:
    1,258
    تمغے کے پوائنٹ:
    312

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    تربیت اولاد کے لیے مفید دھاگہ ہے۔سب سے اہم بات والدین کی بچوں سے ہم ذہنیت اور بے تکلفانہ انداز ہے۔ہمارے یہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ماں بیٹی کو تو کچھ نہ کچھ سمجھا دیتی ہے(لیکن کچھ اس بد احتیاطی سے کہ بات گھر کے چھوٹے بچوں میں بھی پھیل جاتی ہے۔برائے مہربانی اس سے احتیاط برتیے) لیکن بیٹے کے لیے باپ میسر نہیں۔باپ اسے ضروری نہیں سمجھتا۔باپ بسلسلہ روزگار ملک سے باہر ہے وغیرہ وغیرہ۔اولاد سے تعلقات بے تکلف رکھیے تا کہ وہ کھل کر آپ سے ہر مسئلہ میں بات کر سکیں۔اگر جھجھک محسوس کریں تو بہن بھائیوں سے ڈسکس کر لیں یعنی گھر کی بات گھر میں رہے۔جو تربیت والدین کر سکتے ہیں وہ کوئی دوسرا نہیں اور جو تربیت گھر میں ہو سکتی ہے وہ باہر کبھی نہیں۔
    1)یوسف بھائی نے عمدگی سے درجہ بندی کی ہے۔پہلے درجے کے لیے والدین یا بڑے بہن بھائیوں کا سمجھانا ضروری ہے۔دوسرے درجے کے لیے کتب بہت بہترین ذریعہ ہیں۔کیونکہ اس عمر میں بچہ یا بچی بغاوت کی طرف بھی جھکاؤ رکھتے ہیں تو یہ باتیں انہیں نصیحت نہیں محسوس ہوں گی بلکہ وہ آہستہ آہستہ انہیں اپنے اندر جذب کر لیں گے۔اس کے لیے بچپن سے مطالعہ کی عادت پختہ کرنا ضروری ہے۔
    2)آج کل انٹرنیٹ پر فحاشی جس قدر عروج پر ہے اسی قدر تسلی سے ہم بچوں کو انٹرنیٹ کے استعمال کی کھلی چھوٹ دیتے ہیں۔انٹرنیت یا کمپیوٹر ہمیشہ گھر کی گزرگاہ میں رکھیں۔سوشل سائٹس کو استعمال کرتے وقت ماں یا باپ اپنی خود ساختہ مصروفیات چھوڑ کر خود پاس بیٹھ کر دیکھیں اور ہوش و حواس سے کام لیں۔بسا اوقات والدین کو انٹرنیٹ سے واقفیت نہیں ہوتی یا صرف شغل میلے یا بچے کی خوشی کی خاطر بہت کچھ برداشت کرتے رہتے ہیں۔
    3)خصوصا خواتین ایک بہت بڑی غلطی کرتی ہیں کہ بچوں کی موجودگی میں ہر قسم کا مسئلہ کھلے عام ذکر کرتی ہیں اور بچے لا شعور میں ان باتوں کو دہراتے رہتے ہیں۔خصوصا کھیلتے وقت یا مہمانوں سے بات چیت کرتے وقت انہیں معلومات کو دہرا کر آپ کو شرمندہ کرتے ہیں۔کبھی بھی کسی حساس مسئلے پر بات کرنے کے لیے بچوں کو نہ اٹھائیے کیونکہ وہ تجسس میں منتلا ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی بات کررہا ہے تو اسے منع کر دیں کہ وہ ابھی بات نہ کریں۔
    ذیل میں چند تحاریر کے ربط ہیں اور بہت مفید ہیں۔

    http://daleel.pk/2016/08/11/4300
    http://daleel.pk/2016/07/22/2100
    http://daleel.pk/2016/07/21/2028
    http://daleel.pk/2016/09/26/8645
     
    • زبردست زبردست x 3
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏ستمبر 27، 2016 #26
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,901
    موصول شکریہ جات:
    1,169
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    آخر میں جو لنک دیے گئے ہیں کمال کی فکر ایک پیغام کی صورت میں دی گئی ہے
    جہاں تک میں سمجھا ہوں ماں اور باپ کو اپنی اولاد کا بہترین دوست ہونا چاہیے
    اس میں کل ایک کتاب بہت عرصہ بعد ایک مرتبہ پھر پڑھنے کا اتفاق ہوا پہلی مرتبہ جب پڑھی تھی تو میٹرک میں تھا لہذا صرف پڑھ لی تھی لیکن اب دوبارہ پڑھی تو بہت فائدہ ہوا
    کتاب کا نام سننے کے بعد ہو سکتا ہے کچھ احباب اسے ناپسند بھی کریں لیکن کچھ باتیں اس کتاب میں بہت مفید پیرائے میں بیان کی گئی ہیں
    ممتاز مفتی کی تلاش
    اس میں ایک پیغام یہ ہے کہ عمومی طور پر ہمارے معاشرے کی ماں اپنے بچوں کو ان کی شرارتوں پر ڈراتی ہے کہ آنے دو تمہارے باپ کو بتاتی ہوں
    ممتاز مفتی نے تو اس سے بہت سے نتائج برآمد کیے ہیں لیکن ایک بہت اہم ہے
    بچے یہ سمجھتے ہیں کہ اس شرارت کے کرنے میں کوئی حرج نہیں بس ابا جی کے علم میں نہ آئے
    یہ پہلا ظلم ہوتا ہے
    نمبر دو باپ گھر میں آتا ہے تو اس کے خود ساختہ رعب و دبدبہ کی وجہ سے بچے اس سے دور ہی رہتے ہیں باپ اپنی حکومت پر خوش لیکن سب سے بڑا نقصان بچوں سے دوری کا ہے جس میں بچوں کا نقصان فوری طور پر ہوتا ہے کہ جو کچھ باپ نے دینا ہوتا ہے وہ ماں کبھی بھی نہیں دے سکتی اور باپ کا نقصان تو بہت زیادہ ہوتا ہے کہ جب باپ کو بچوں کی ضرورت ہوتی ہے اس وقت تک بچوں اور اس کے درمیان ایک بہت بڑی خلیج پیدا ہو چکی ہوتی ہے ۔ تجربات کی روشنی میں کمی و بیشی ممکن ہے لیکن ہوتا ایسا ہی ہے
    تو اب تک مجھے جو سمجھ میں آئی ہے وہ یہ کہ والدین اپنی اولاد کو روزانہ کی بنیاد پر وقت دیں
    میں نے اپنے ابی جی رحمہ اللہ سے ایک مرتبہ پوچھا تھا کہ اچھا باپ کو ہوتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جو اپنی اولاد کو بہترین دوست ہو
    ہم نے اورنگی ٹاؤن میں ہوش اس وقت سنبھالا تھا جب ایم کیو ایم کا طوفان اٹھ رہا تھا اور میرے زیادہ تر دوست ایم کیو ایم کے کارکنان ہی تھے جن میں سے اکثر بعد میں
    انا للہ و انا الیہ راجعون
    تو جو کچھ میرے والد صاحب نے میرے ساتھ اس وقت کیا نتیجہ میں اس وقت کی معاشرتی برائیوں سے عمومی طور پر محفوظ رہا الحمدللہ
    تو اخت ولید اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اچھا نکتہ کی طرف توجہ دلائی
     
    • مفید مفید x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏ستمبر 27، 2016 #27
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,901
    موصول شکریہ جات:
    1,169
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    ووٹنگ سے ہی احباب اپنی رایے بیان کر سکتے ہیں
     
  8. ‏ستمبر 27، 2016 #28
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,048
    موصول شکریہ جات:
    1,040
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    محترم شیخ!
    بندے نے اپنی راۓ دے تو دی ہے لیکن بندہ تجربہ بالکل نہیں رکھتا.
     
  9. ‏ستمبر 27، 2016 #29
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,744
    موصول شکریہ جات:
    1,258
    تمغے کے پوائنٹ:
    312

    فیض بھائی!پہلی تحریر سمجھ لیجیے کہ ہمارے گھر کی کہانی اور والدہ محترمہ کا کردار ہے۔ان کی بے تکلفی کی بنا پر آج تک ہم اپنے تمام مسائل انہیں سے ذکر کرتے ہیں حتی کہ وہ مسائل بھی جنہیں عموما بہت عام سمجھا جاتا ہے۔بالخصوص زندگی کے بڑے فیصلے کرتے وقت کبھی نہتا نہیں کیا بلکہ ہر ایک کی رائے اہمیت رکھتی جس کی وجہ سے والدین پر اعتماد از خود بڑھتا چلا گیا۔والدہ محترمہ نے اس سلسلے میں کبھی بھی اپنے آپ کو گھر داری میں بے جا مگن نہیں کیا کہ ہمیں دیکھ نہ سکیں یا اپ ٹو دیٹ نہ رہ سکیں حالانکہ ہمارے گھر میں مہمان داری بھی بہت تھی۔مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ کس طرح امی جان اپنے ہی بچوں کی "جاسوسی" کرتی تھیں کہ وہ گھر سے نکل کر کہاں گئے اور کہاں ہیں؟ایک پردہ دار خاتون کے لیے گھر میں رہتے ہوئے اکیلے سب سنبھالنا بہت مشکل تھا۔لیکن انہوں نے ماں اور باپ کا بیک وقت کردار نبھایا۔آج جب نئی نسل کی تربیت کی بات آتی ہے تو امی جان کی ہمت حوصلہ بہت یاد آتا ہے اور حیرانی ہوتی ہے کہ کس طرح اکیلے سب کچھ اس بہترین انداز میں سنبھالا اور اپنی ان کوتاہیوں پر ندامت ہوتی ہے جو نئی نسل کے ضمن میں ہم سے سرزد ہو رہی ہیں۔آج ماں بیٹی میں بات چیت تو نہ ہونے کے برابر ہے۔جب کبھی کوئی ماں گلہ اپنی نو عمر بیٹی کی بد تمیزی کا گلہ کرتی ہے تو سب سے پہلے ماں اپنے رویے پر نظر ثانی کرے۔اسے خود بخود سبب معلوم ہو جائے گا۔بہرحال معاملہ کوئی بھی ہو،والدین اولاد کی بے تکلفی(ادب کے دائرے میں) از حد ضروری ہے۔
     
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 30، 2016 #30
    ام حماد

    ام حماد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 09، 2014
    پیغامات:
    96
    موصول شکریہ جات:
    65
    تمغے کے پوائنٹ:
    42

    بہت خوش نصیب ہیں آپ کو ایسی ماں ملی
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں