1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اولاد کی تربیت و اصلاح میں خواتین کی مسؤلیت

'بچوں کی تربیت' میں موضوعات آغاز کردہ از اسحاق سلفی, ‏جولائی 21، 2018۔

  1. ‏جولائی 21، 2018 #1
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,233
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ذاتی پیغام (ان باکس ) میں ایک بھائی نے درج ذیل سوال کیا ہے ؛
    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    خواتین کی مسؤلیت


    شادی شدہ خواتین کی مسؤلیت دو پہلو سے ہے ،

    ایک پہلو سے عمومی ،جس میں تمام اہل خانہ اور کے متعلقات آتے ہیں ،
    " بحالت استطاعت عورتوں پر مردوں کی مانند امربالمعروف اور نہی عن المنکر واجب ہے۔ )
    حدیثِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ :
    (( والمرأة راعية على أهل بيت زوجها.)) الحديث ، عورت اپنے خاوند کے گھر والوں کی نگہبان ہے
    امام بخاری اور امام مسلم اللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر اللہ سے روایت نقل کی ہے کہ یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    عن عبد الله رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «كلكم راع فمسئول عن رعيته، فالأمير الذي على الناس راع وهو مسئول عنهم، والرجل راع على أهل بيته وهو مسئول عنهم، والمرأة راعية على بيت بعلها وولده وهي مسئولة عنهم، والعبد راع على مال سيده وهو مسئول عنه، ألا فكلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته»
    ترجمہ :
    آگاہ رہو! تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا، پس امام جو کہ لوگوں پرنگہبان ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے
    میں پوچھا جائے گا ، مرداپنے گھر والوں کا نگہبان ہے، اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے، اور اس سے ان کے بارے میں
    سوال ہوگا ۔ کسی شخص کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے، اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا ،آگاہ رہو کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان و نگران ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا ))
    متفق عليه : ملاحظہ ہو: صحیح بخاری ، کتاب الأحكام ، بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى وَ {أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأَمْرِ مِنْكُمْ} رقم الحديث ۷۱۳۷، ۱۱۱/ ۱۳ ؛ وصحيح مسلم كتاب الإمارة، باب فضيلة الإمام العادل ، رقم الحديث
    . متن میں درج کردہ الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مشہور محدث امام خطابی ؒنے تحریر کیا ہے ((مغني الراعى ههنا : محافظ المؤتمن على ما يليه ، يامهم بالنصيحة فيما لونه ، ويحدهم أن يخونوا فيما وكل إليهم منه أو يضيعوا .))
    الراعی کا یہاں معنی یہ ہے کہ جن لوگوں کا وہ سر پرست بنا ہے ان کی حفاظت کرے، ان کے معاملے میں امانت دار ہو، انہیں اپنے پر د۔ شدہ کاموں کو خیر خواہی اور اخلاص سے سرانجام دینے کا حکم دے، ان میں خیانت کرنے اور انہیں ضائع کرنے سے ڈرائے "
    عورت کے [راعية] [ نگہبان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ جن کی نگہداشت کی ذمہ داری اس کو سونپی گئی ہے، وہ انہیں بھلائی کا کام چھوڑنے پر اس کے کرنے کا حکم دے، اور برائی کا ارتکاب کرنے پر اس سے منع کرے "
    معالم السنن ۲ / ۳ ؛
    نیز ملاحظہ ہو: شرح النووي ۲۱۳ / ۱۲ . اس میں ہے : ((قال العلماء : الراعي : هو الحافظ المؤتي الملتزم صلاح ما قام عليه ، وما هو تحت نظره. فيه أثر كل من كان تحت نظره شيء فهو مطالب بالذل فيه ، والقيام بمصالحه في دينه ودنياه ومتعلقاه .»
    علماء نے بیان کیا ہے کہ الراعي ] اپنی سرپرستی میں شامل لوگوں کی حفاظت کرنے والا ، ان کے بارے میں امانت دار ، اور ان کی خیر خواہی کا پابند ہوتا ہے (لفظ الراعی کے معنی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اپنے زیرسرپرستی لوگوں میں عدل کرے، اور ان کے دینی اور دنیوی مصاغ کی نگہداشت کرے۔

    دیگر نگہبانوں کی طرح عورت سے بھی اس بارے میں روز قیامت باز پرس ہوگی، جیسا کہ حدیث شریف میں ہے:
    (( وهي مسئولة عنهم))
    اس عورت سے ان اپنے زیر سرپرستی افرادکے متعلق پوچھا جائے
    حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے: ((إن الله سائل كل راع عما استرعاه حفظ ذلك أوضيعه.) یقینا الله تعالی ہر راعی سے پوچھے گا کہ اس نے اپنی رعیت کی حفاظت کی،یا اس کو ضائع کردیا،
    منقول از فتح الباري ۱۱۳ / ۱۳ . حافظ ابن حجر نے اس سے متعلق لکھا ہے: ابن عدی نے صحیح سند کے ساتھ اسے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔
    اورحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے:
    ((ما من راع إلا يسأل يوم القيامة أقام أمر الله أم أضاعة.))
    ہر ایک راعی سے روز قیامت سوال کیا جائے گا کہ اس نے اللہ تعالی کے حکم کو قائم کیا، یا اس کو ضائع کر دیا ۔
    پس مسلمان خاتون کو چاہیے کہ وہ دیگر نگہبانوں کی طرح اس دن کے سوال کے جواب کی دنیانی میں خوب اچھی طرح تیاری کر لے، کہ تب حرت وندامت سے کچھ فائدہ نہ ہوگا، اور اس سوال کے جواب کی تیاری میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اپنے زیر سرپرست افراد کو نیکی کے کاموں کا حکم دیتے رہے، اور انہیں برے کاموں سے تاحد استطاعت روکتا رہے۔
    المرجع السابق ۱۳/ ۱۱۳. حافظ ابن حجر نے اس کے متعلق تحریر کیا ہے کہ اس کو طبرانی نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت کیا ہے۔
    خواتین کی مسؤلیت کا دوسرا پہلو اپنی اولاد کے حوالہ سے ہے ،
    بحیثیت ماں اس پر اولاد کی تربیت و پرورش کے متعلق اہم ذمہ داریاں اور بڑی مسؤلیت ہے،
    قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے :
    ": يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۔۔۔۔۔{التحريم:6}
    اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ،جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں "

    امام مجاہد رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
    قَالَ مُجَاهِدٌ: {قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا} قَالَ: اتَّقُوا اللَّهَ، وَأَوْصُوا أَهْلِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ "
    یعنی تم خود بھی اللہ سے ڈرتے رہو اور اپنے گھر والوں کو بھی تقویٰ شعار بناؤ "(تفسیر ابن کثیر )
    اس سے واضح ہے کہ ایک انسان جیسے اپنی اصلاح کا حکم ہے اسی طرح اس پر اپنےگھر والوں کی اصلاح کی ذمہ داری بھی ہے ،
    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
    لیکن والدین کی مسؤلیت اولاد کے بالغ ہونے تک ہے
    کیونکہ :
    فالأصل في الشرع أن لا يحمل أحد ذنب أحد، قال تعالى: وَلا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ إِلا عَلَيْهَا وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى {الأنعام:164},
    شرع اسلام کا اصول ہے کہ کسی کے گناہ کا بوجھ کسی دوسرے پر نہیں، قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے کہ
    "اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے ،تو اس عمل کا ذمہ دار وہ خود ہی ہے ،اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا "
    وعن سليمان بن عمرو بن الأحوص عن أبيه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في حجة الوداع: ألا لا يجني جان إلا على نفسه، لا يجني والد على ولده، ولا مولود على والده. رواه ابن ماجه (2669) وصححه الألباني. سیدنا عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حجۃ الوداع میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ’’سنو! کوئی جرم کرنے والا اپنے سوا کسی پر جرم نہیں کرتا۔ نہ باپ کے جرم کی ذمے داری اس کے بیٹے پر ہے، نہ بیٹے کے جرم کی ذمے داری اس کے باپ پر ہے۔‘‘

    لكن الواجب على الوالدين أن يحسنوا تربية أولادهم، قال تعالى: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ عَلَيْهَا مَلائِكَةٌ غِلاظٌ شِدَادٌ لا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ. {التحريم:6}
    لیکن والدین پر یہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت واجب ہے ، کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ ،جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں "

    فإن قصَّروا في التربية فهم مسؤولون؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: كُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْأَمِيرُ رَاعٍ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ، فَكُلُّكُمْ رَاعٍ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ. متفق عليه.
    اور اگر والدین نے اولاد کی تربیت و اصلاح کی ذمہ داری ادا کرنے میں کوتاہی کی تو اس قصور کی جوابدہی ان کو کرنا پڑے گی ، کیونکہ حدیث نبوی ہے کہ(( تم میں ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے متعلق سوال کیا جائے گا، پس امام جو کہ لوگوں پرنگہبان ہے، اس سے اس کی رعایا کے بارے
    میں پوچھا جائے گا ، مرداپنے گھر والوں کا نگہبان ہے، اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہوگا، اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے، اور اس سے ان کے بارے میں
    سوال ہوگا ۔ کسی شخص کا غلام اپنے آقا کے مال کا نگہبان ہے، اور اس سے اس کے متعلق پوچھا جائے گا ،آگاہ رہو کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان و نگران ہے اس سے اس کی رعایا کے متعلق پوچھا جائے گا ))

    كما أن الوالدين يأثمان إذا أعانا ولدهما على المعصية, أو يسَّرا له أسبابها, أو أقرَّاه عليها.
    اور اگر والدین کسی نافرمانی کے کام میں اولاد کے معاون و مددگار بنے تو ان پر بھی اس معصیت کا وبال ہوگا ،
     
    Last edited: ‏دسمبر 02، 2018
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏دسمبر 02، 2018 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,233
    موصول شکریہ جات:
    2,369
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    عن مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزنِيَّ رضي الله عنه قال سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " .
    سیدنا معقل بن یسارمزنی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :
    ( اللہ تعالی نے جسے بھی کچھ لوگوں پر حاکم ،نگران بنایا اوراس نے اپنی رعایا کودھوکہ دیا اوراسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالی نے اس پر جنت حرام کردی )
    صحیح بخاری کتاب الامارۃ حدیث نمبر ( 7151 ) صحیح مسلم کتاب الامارۃ حديث نمبر ( 142 )
    اور ہر آدمی اپنے اہل و عیال کا نگران و حاکم ہے اس پر اپنے گھروالوں کے بارہ میں عظیم مسؤلیت اورذمہ داری ہے اس پر ضروری ہے کہ ان کے بارہ میں اللہ تعالی کا تقوی اورڈر اختیار کرے اوراسے صحیح طریقہ پر سرانجام دے جس طرح کہ اس کا حق ہے اوراس کے ساتھ ساتھ اسے اپنےاوراہل وعیال کے لیے دعا بھی کرتے رہنے چاہیے کہ اللہ تعالی انہیں ھدایت اورتوفیق سے نواز ے ۔
     
  3. ‏دسمبر 02، 2018 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,330
    موصول شکریہ جات:
    712
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جزاک اللہ خیرا محترم شیخ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں