1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اولاد کے حصول کا مجرب نسخہ..... تحقیق

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏جولائی 30، 2016۔

  1. ‏جولائی 30، 2016 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,352
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام علیکم ورحمة الله وبركاته.

    ایک ویڈہو دیکھا جسمیں بتایا گیا تھا کہ رب لا تذرني فردا وانت خير الوارثين کو نفل نماز میں سجدے کی حالت میں چالیس مرتبہ پڑھیں تو اولاد ہوگی. اور اس ویڈیو میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کوئ امام کعبہ شیخ صالح نے یہ قرآن دعا تجویز کی ہے. اور بتایا گیا تھا کہ یہ ایک مجرب نسخہ ہے.

    براہ کرم بتائیں کہ یہ کہاں تک درست ہے. یہ قرآن دعا تو سمجھ میں آرہی ہے لیکن چالیس کی تعداد کا کیا مطلب؟؟؟؟
     
  2. ‏جولائی 30، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,352
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

  3. ‏جولائی 30، 2016 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دعاء طلب اولاد کیلئے مفید اور درست ہے ،
    لیکن اس کے پڑھنے کی کوئی خاص کیفیت یا عدد منقول نہیں ،
    اور چونکہ یہ قرآن کی ایک آیت ہے اسلئے یہ سجدہ و رکوع میں تو نہیں پڑھی جاسکتی ، کیونکہ رکوع و سجدہ میں قرآن پڑھنے سے نبی اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے :
    امام مسلم فرماتے ہیں :
    حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنُ حُنَيْنٍ، أَنَّ أَبَاهُ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: «نَهَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا»( صحیح مسلم (480)

    صحیح مسلم/الصلاة ۴۱ (۴۸۰)، واللباس ۴ (۲۰۷۸)، سنن ابی داود/ اللباس ۱۱ (۴۰۴۴)، سنن النسائی/التطبیق ۷ (۱۰۴۱)، و ۶۱ (۱۱۹، ۱۱۲۰)، الزینة ۴۳ (۵۱۷۲، ۵۱۷۶، ۵۱۷۸، ۵۱۸۳)، و۷۷ (۵۲۶۶-۵۲۷۲)، سنن ابن ماجہ/اللباس ۲۱ (۳۶۰۲)، و۴۰ (۳۶۴۲)، (تحفة الأشراف : ۱۰۷۹)، موطا امام مالک/الصلاة ۶ (۲۸)،
    ترجمہ :
    جناب علی بن ابی طالب رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رکوع اور سجدہ میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔
    امام ترمذی کہتے ہیں: اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اگر سجدہ میں ہی اولاد کیلئے دعاء کرنی ہو تو قرآن کریم کے علاوہ الفاظ سے دعاء کرلے ، مثلاً (هب لي ولدا صالحا )
    اور دعاء کیلئے کوئی بھی ایسا عدد جو منقول و ماثور نہ ہو اس کا التزام و پابندی غلط ہے ،
     
  4. ‏جولائی 30، 2016 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,352
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جزاک اللہ خیرا.
    اللہ آپکے علم وعمل میں برکت عطا فرماۓ. آمین
     
  5. ‏جولائی 31، 2016 #5
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم،
    شیخ @اسحاق سلفی ! حدیث میں سجدے میں کثرت سے دعا کرنے کی تاکید کی گئی ہے "فاکثروا الدعاء"۔ قرآن مجید میں جو الفاظ بطور دعا آئے ہیں انہیں دعا کی نیت سے سجدے میں پڑھنا بھی منع ہے؟ مثلًا ربنا آتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار وغیرہ۔
     
  6. ‏جولائی 31، 2016 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,369
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    اس بابت کچھ علماء کا کہنا ہے کہ سجدوں میں قرآنی دعاء محض دعاء کی نیت سے پڑھنا جائز ہے ، قرآنی آیت کی نیت سے جائز نہیں ،
    لیکن ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ کیونکہ قرآن جس نیت سے بھی پڑھا جائے اجر اسی نیت سے ملے گا ، لیکن اس کلام کی قرآنی حیثیت تبدیل نہیں ہوگی،

    جناب حافظ عبد المنان نور پوری رحمہ اللہ ایک فتوی میں فرماتے ہیں :
    رکوع و سجود میں قرآن مجید کی کوئی دعائیہ آیت پڑھی جاسکتی ہے؟

    شروع از بتاریخ : 25 June 2013 07:41 AM

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته​

    رکوع و سجود میں قرآن مجید کی کوئی دعائیہ آیت پڑھی جاسکتی ہے؟ (محمد یونس شاکر)

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!​

    نہیں1 کیونکہ رکوع و سجود میں قرآن پڑھنا منع ہے۔
    [رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: خبردار میں رکوع اور سجدے میں قرآن حکیم پڑھنے سے منع کیا گیا ہوں۔ پس تم رکوع میں اپنے رب کی عظمت بیان کرو اور سجدے میں خوب دعا مانگو۔ تمہاری دعا قبولیت کے لائق ہوگی۔
    ۶ ؍ ۱؍ ۱۴۲۴ھ

    قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

    جلد 02 ص 243

    محدث فتویٰ
     
    Last edited: ‏جولائی 31، 2016
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  7. ‏جولائی 31، 2016 #7
    ام حماد

    ام حماد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 09، 2014
    پیغامات:
    96
    موصول شکریہ جات:
    65
    تمغے کے پوائنٹ:
    42

    کیا ضروری ہے کہ یہ دعا نماز میں ہی پڑھی جایے کسی بھی وقت پڑھی جا سکتی ہے نہ عدد مقرر ہے اور نہ ہی وقت
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏جولائی 31، 2016 #8
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    جزاک اللہ خیرا شیخ۔ اسلام سوال جواب ویب سائٹ پر اس بارے میں یہ فتویٰ ملا ہے۔
    "ميں نے نيا نيا اسلام قبول كيا ہے، مجھے يہ تو علم ہے كہ سجدہ ميں تلاوت قرآن كرنا منع ہے، اور جيسا كہ آپ كو علم ہے كہ بندہ سب سے زيادہ قريب سجدہ كى حالت ميں ہوتا ہے، ميرا سوال قرآن ميں وارد شدہ دعاؤں كے بارہ ميں ہے كہ آيا سجدہ ميں قرآنى دعائيں مانگنى جائز ہيں، يا كہ اسے بھى تلاوت قرآن ميں شمار كيا جائے گا جس سے سجدہ ميں منع كيا گيا ہے ؟"
    الحمد للہ :
    اول:
    رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ركوع اور سجود ميں تلاوت قرآن سے منع فرمايا ہے.
    امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:
    " خبردار مجھے ركوع اور سجود ميں قرآن مجيد پڑھنے سے منع كيا گيا ہے ركوع ميں رب ذوالجلال كى تعظيم بيان كرو، اور سجدے ميں زيادہ دعا كرنے كى كوشش كرو كيونكہ زيادہ لائق ہے كہ تمہارى دعا قبول كر لى جائے"
    صحيح مسلم حديث نمبر ( 479 ).
    اور امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ہى على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے وہ كہتے ہيں:
    " مجھے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ركوع يا سجدہ كى حالت ميں قرآت كرنے سے منع فرمايا"
    صحيح مسلم حديث نمبر ( 480 ).
    ركوع اور سجدہ ميں قرآت كرنے كى كراہت پر علماء كرام كا اتفاق ہے.
    ديكھيں: المجموع ( 3 / 411 ) اور المغنى لابن قدامۃ المقدسى (2 / 181)
    اس ميں حكمت يہ ہے كہ:
    اس ليے كہ نماز كا افضل ترين ركن قيام ہے، اور افضل ترين ذكر قرآن ہے اس ليے افضل كو افضل كے ليے ركھا گيا، اور اس كے علاوہ كسى دوسرے ميں پڑھنے ميں منع كر ديا گيا تا كہ باقى اذكار كے ساتھ اس كى برابرى كا واہمہ نہ ہو.
    ماخوذ از: عون المعبود شرع سنن ابو داود
    اور ايك قول يہ بھى ہے:
    اس ليے كہ قرآن مجيد اشرف الكلام ہے، كيونكہ يہ كلام اللہ ہے، اور ركوع و سجود كى حالت بندے كى جانب سے عاجزى و ذل ہے، لہذا ادب يہ ہے كہ ان دونوں حالتوں ميں قرآن مجيد كى تلاوت نہ كى جائے.
    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 5 / 338 ).
    دوم:
    اگر سجدہ ميں قرآن كريم ميں وارد شدہ كوئى دعا پڑھى جائے، جيسا كہ فرمان بارى تعالى ہے:
    ﴿ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ البقرۃ ( 201 )
    اے ہمارے رب ہميں دنيا ميں بھلائى عطا فرما اور آخرت ميں بھى بھلائى عطا فرما، اور ہميں آگ كے عذاب سے محفوظ ركھ.
    اگر اس كا مقصد دعاء ہو نہ كہ تلاوت قرآن ميں تو اس ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:
    " اعمال كا دارومدار نيتوں پر ہے، اور ہر شخص كے ليے وہى ہے جو اس نے نيت كى "
    صحيح بخارى حديث نمبر ( 1 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1907 ).
    زركشى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:
    " كراہت اس وقت ہے جب اس سے قرآت كرنا مقصود ہو، اور اگر اس سے اس كا مقصد دعا اور ثناء ہو تو جائز ہے، جيسا كہ اگر كوئى قرآن مجيد كى آيت كے ساتھ قنوت كرے" انتہى
    اور قرآن كريم كى آيت كے ساتھ قنوت كرنا بغير كسى كراہت كے جائز ہے.
    ديكھيں: تحفۃ المحتاج ( 2 / 61 ).
    امام نووى رحمہ اللہ تعالى " الاذكار" ميں كہتے ہيں:
    " اور اگر وہ ايك يا زيادہ قرآنى آيات كے ساتھ قنوت كرے جو كہ دعاء پر مشتمل ہوں تو قنوت ہو جائے گى، ليكن افضل يہ ہے كہ سنت ميں وارد شدہ ہى دعا پڑھى جائے" انتہى.
    ديكھيں: الاذكار للنووى صفحہ نمبر ( 59 ).
    اور يہ اس وقت ہے جب اس سے دعا كرنا مقصود ہو.
    ديكھيں: الفتوحات الربانيۃ شرح الاذكار النوويۃ لابن علان ( 2 / 308 ).
    مستقل فتوى كميٹى كے علماء كرام سے دريافت كيا گيا:
    ہميں معلوم ہے كہ سجدہ ميں قرآن مجيد كى قرآت كرنا جائز نہيں، ليكن كچھ آيات دعا پر مشتمل ہيں مثلا فرمان بارى تعالى ہے:
    ﴿ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد إذ هديتنا ﴾
    اے ہمارے رب ہميں ہدايت نصيب كرنے كے بعد ہمارے دلوں كو ٹيڑھا نہ كر دينا.
    لہذا قرآن مجيد ميں وارد شدہ اس طرح كى دعائيں سجدہ ميں پڑھنے كا حكم كيا ہے ؟
    كميٹى كے علماء كرام كا جواب تھا:
    " اگر دعا سمجھ كر پڑھى جائيں تو اس ميں كوئى حرج نہيں، انہيں تلاوت قرآن سمجھ كر نہيں پڑھنا چاہيے" انتہى.
    ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 443 ).
    واللہ اعلم .
    https://islamqa.info/ur/46997
     
  9. ‏اگست 02، 2016 #9
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ،
    شیخ صالح المغامسی مسجد قبا مدینہ منورہ میں امام و خطیب ہیں۔ وہ حرمین میں امام نہیں ہیں۔ آپ نے جس ویڈیو کا ذکر کیا ہے وہ انہی کی ہے۔ شیخ کا کہنا ہے ان کے ہاں کئی سال تک اولاد نہ تھی، انہوں نے سجدے میں چالیس مرتبہ "رب لا تذرنی فردا و انت خیر الوارثین" پڑھا تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کو اولاد سے نوازا۔ پھر یہی عمل انہوں نے دوسرے لوگوں کو بتانا شروع کیا تو بائیس یا تئیس ایسے جوڑوں کو بھی اولاد ملی جنہیں اطباء نے مایوس کر دیا تھا۔ شیخ کا کہنا ہے چالیس کا عدد متعین کرنے کی کوئی دینی وجہ نہیں ہے بلکہ ذاتی تجربے کی وجہ سے وہ یہ عدد بتاتے ہیں۔
    ویڈیو کا لنک یہ ہے:
     
    Last edited: ‏اگست 02، 2016
  10. ‏اگست 02، 2016 #10
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,352
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    شکرا. جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں