1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اِختلاف قراء ت پر مبنی مصحف کی اِشاعت کے خلاف منفی پراپیگنڈہ … حقائق کیا ہیں؟

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مئی 30، 2012۔

  1. ‏مئی 30، 2012 #21
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    سوال:
    ’’ بعض مقامات میں سبعہ قراء ۃ کا چرچا حد سے تجاوز کر چلا ہے۔ بعض حفاظ لڑکوں اور جاہلوں کو مختلف روایتیں یاد کراکے پڑھاتے اور پڑھواتے ہیں اور اُس کو صریحاً بغرض ریا پڑھتے پڑھاتے ہیں۔ تراویح میں بھی ایسا ہوتا ہے جس سے سوا نمود کے کوئی نفع نہیں۔کیا اس طرح پڑھنے پڑھانے میں اس زمانۂ پرآشوب میں یہ خوف نہیں ہے کہ جہال ومخالفین اسلام ان اختلافات کو سن کر مشوش ہوں گے اور خوف فتنہ نہیں ہے؟ چنانچہ بعض حفاظ نے تو ایک رکعت میں روایت حفص پڑھی، دوسری رکعت میں روایت قالون، کسی نے ٹوکا تو کہہ دیا کہ تم نہیں جانتے۔ ایسی صورتیں اچھی معلوم نہیں ہوتیں۔ کیا یہ فعل قابل روکنے کے نہیں ہے۔براہ نواز ش اگر قابل ممانعت ہے تو اس کا جواب ذرا تفصیل سے الامداد میں طبع ہوجائے تو بہتر ہے میرا یہ خیال ہرگز نہیں کہ اس کی تعلیم بند ہو بلکہ زور دیا جائے کہ تجوید کانام قراء ت ہے اور عوام کو اسی کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی پڑھالکھا آدمی، حرف بھی اس کا اچھا ہو تو اس کو سبع پڑھائی جائے۔ سفہاء اور تنگ خیال لوگوں کو فقط تجوید پڑھائی جائے اور قراء ت جاننے والوں کو چاہئے کہ ہر کس و ناکس کو سوائے روایت حفص اور تجوید کے کچھ نہ پڑھایا کریں۔‘‘
     
  2. ‏مئی 30، 2012 #22
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    الجواب
    ’’قال اﷲ تعالیٰ: ’’ وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَسُبُّوا اللّٰہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ ‘‘ (الانعام:۱۰۸) في تفسیر بیان القرآن۔ اس سے قاعدہ شرعیہ ثابت ہواکہ مباح (بلکہ مستحب بھی ۱۲منہ) جب حرام کاسبب بن جائے وہ حرام ہوجاتا ہے۔…الخ (وھذالمبحث کلہ صالح لأن یلاحظ فیہ ۱۲) وروی البخاري عن عليّ قال: حدثوا الناس بما یعرفون أتحبون أن یُکذب اﷲ ورسولہ۔ في حقیقۃ الطریقۃ۔ (صحیح البخاری: ۱۲۷)
    بعضے بیباک عوام کے سامنے بے تکلف و قائق بیان کربیٹھتے ہیں بعضے عوام اُن کی تکذیب کرتے ہیں اوربعضے قواعد مشہورہ شرعیہ کے منکر ہوجاتے ہیں سو ہر حال میں اللہ و رسول کی تکذیب کا تحقق ہوا۔ والثاني أشد من الأوّل۔اس حدیث میں اس عادت کی ممانعت ہے۔
    وروی مسلم عن ابن مسعود أنہ قال: ’’ما أنت بمحدث قوما لا تبلغہ عقولھم إلا کان لبعضھم فتنۃ۔ فی حقیقۃ الطریقۃ۔‘‘ (صحیح مسلم: ۱۴)
    اس حدیث سے بھی وہی مضمون ثابت ہوتا ہے جو اس کے قبل کی حدیث سے ثابت ہوتا ہے ص۸۲
    وفي رد المحتار تحت مسألۃ کراھۃ تعیین السورۃ في الصلوٰۃ من الدر المختار ما نصہ: ’’حاصل کلام ھٰذین الشیخین بیان وجہ الکراھۃ في المداومۃ وھو أنہ إن رأی ذلک وحتما یکرہ من حیث تغییر المشروع وإلا یکرہ من حیث إیھام الجاھل۔‘‘ (ج۱ ص۵۶۸)
     
  3. ‏مئی 30، 2012 #23
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    آیت‘ حدیث اور فقہ سب سے یہ قاعدہ ثابت ہوا کہ جس عمل سے عوام و جُہلا میں مفسدہ و فتنہ اعتقادیہ یا عملیہ قالیہ یا حالیہ پیدا ہو اُس کا ترک خواص پر واجب ہے ۔باقی فتنہ کا حدوث یا عدم حدوث یہ مشاہدہ سے معلوم ہوسکتا ہے سوال میں بعض حالات میں جو فتنہ سبعہ پر مرتب ہوتا ہوا مذکور ہے وہ مشاہدہ ہے پس فتویٰ شرعی ہوگا۔ کہ خاص اُن احوال میں سبعہ کا استعمال ممنوع ہوگا اور اگر اس کے ساتھ قاری کی نیت بھی اظہار علم و دعوائے کمال و ریاء و تصنع و تفاخر ہو تو یہ فتنہ اس کے لیے مزید برآں ہے لہٰذا اس باب میں جو مشورہ سوال میں مذکور ہے۔ واجب الاتباع ہے۔ ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۳۵ھ (تتمہ خامسہ:۴۱)۔‘‘
    مفتی محمد طاہر صاحب نے مولانا اشرف علی تھانوی﷫ کا جوفتویٰ اپنے الجواب میں نقل کیا ہے وہ یہ ہے:
    ’’مصاحف کی شکل میں اختلاف قراء ت کو شائع کرناتو درکنار عوام کے سامنے اختلاف قراء ت تلاوت کرنے سے منع کرنا بھی واجب ہے۔‘‘
     
  4. ‏مئی 30، 2012 #24
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    علمی بد دیانتی
    نہیں معلوم وہ یہ الفاظ’مصاحف کی شکل میں اختلاف قراء ت کو شائع کرنا تو درکنار‘ کہاں سے ڈھونڈ لائے ہیں۔ یہ الفاظ ان کے اپنے ہیں۔ ان کا مولانا تھانوی﷫ کے فتویٰ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر آپ ملاحظہ کرچکے ہیں کہ مفتی صاحب نے ان الفاظ کو اپنی تحریر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ گویا یہ تھانوی صاحب نے ارشاد فرمائے ہیں۔ یہی بات ہے جسے بدترین تلبیس کوشی اور عقلی بددیانتی کا نام دیا جاتا ہے، کسی عالم دین کو یہ روا نہیں ہے کہ وہ اپنی بات کو کسی اور عالم دین کی بات بنا کر پیش کرے۔ اسے آپ روایت بالمعنی کے پردے میں بھی چھپا نہیں سکتے۔مفتی صاحب کے سامنے’امداد الفتاویٰ‘کی پہلی جلد تھی۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ روایت باللفظ کی رعایت رکھتے ہوئے حضرت تھانوی صاحب کے الفاظ کو ہی درج کردیتے۔
    مولانا تھانوی صاحب﷫ کے فتویٰ میں ایک اہم شرط یہ بھی موجود ہے کہ قاری کی نیت بھی اظہارِ علم و دعوی کمال و ریا و تصنع و تفاخر ہو، تو اس صورت میں قرآت سبعہ کا استعمال منع ہے۔ مولانا تھانوی﷫ کو جو سوال پیش کیا گیا اور اس میں جو مشاہداتی اَحوال بیان کئے گئے تھے وہ اس سائل اور بیان کردہ صورتِ حال سے خاص تھے۔ ہمارے مشاہدات اور احوال اگر سائل مذکورہ کے مشاہدات و احوال سے قطعی طور پر مختلف ہیں، تو پھر اس فتویٰ کی اطلاقی صورت بھی وہ قائم نہیں رہے گی۔ یہ ایک اُصولی بات ہے جس کی ہر سلیم الفطرت اور صاحب عقل شخص تائید کرے گا۔ مثلاً راقم الحروف بڑے و ثوق سے بیان کرسکتا ہے کہ گذشتہ چند برسوں میں نمازِ تراویح کے دوران اُسے ماہر قراء کی طرف سے مختلف قراء توں (ورش، حفص وغیرہ) میں قرآن مجید سننے کا موقع میسر آیا ہے۔ یہ سب کچھ نہایت سنجیدہ مذہبی ماحول اور خشوع اور خضوع کے ماحول میں کیاگیا۔ کسی بھی لمحے راقم کو یہ خیال نہ آیا کہ اس سے مقتدیوں میںکوئی فتنہ برپا ہوسکتا ہے۔اس کے علاوہ حاضرین میں سے بھی کسی نے اس بات کی نشاندہی نہیں کی۔قراء حضرات کی طرف سے دعوائے کمال اور اظہارِ تصنع کا معاملہ بھی قابل مشاہدہ نہ تھا۔ فتنہ کے عدم حدوث کے احوال مترتب تھے۔ عوام میں کوئی مفسدہ اور فتنہ اعتقادیہ رونما ہوا نہ کسی نے اس کا خدشہ محسوس کیا۔ مفتی صاحب اپنی مخصوص بنی بنائی ذ ہنی فضا سے باہر جھانک کر ذرا ارشاد تو فرمائیے کہ ایسی صورت حال میں مولانا تھانوی صاحب کا فتویٰ قراء ت سبعہ کا کیونکر مانع ہوا؟ ہمیں یقین ہے کہ ان حالات میں اگر حضرت تھانوی صاحب سے استفسار کیا جاتا تو وہ اس کی قطعاً ممانعت نہ فرماتے۔
     
  5. ‏مئی 30، 2012 #25
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ’مصاحف کی شکل میں اختلافِ قراء ت کو شائع کرنا‘ تو سبعہ کی تلاوت سے بھی زیادہ سہل ہوا۔ اگر یہ مصاحف کویت یاسعودی عرب میں شائع ہوجاتے ہیں تو پاکستان میں اس کے پڑھنے والے نہ ہونے کے برابرہوں گے۔ قراء تِ سبعہ کی تلاوت سننے والے پھر بھی لاکھوں نہیں تو ہزاروں تو ضرور ہوں گے، مگر شائع کردہ اختلاف قراء ت کو صرف وہی صاحبان دیکھنا چاہیں گے جو قراء ت کے فن کی باریکیوں اور سبعہ احرف کے دلائل اور تفصیلات سے واقف ہوں گے۔ اب بھی پاکستان میں کچھ لوگ ایسے موجود ہیں جن کے پاس سعودی عرب کی طرف سے شائع کردہ اختلاف قراء ت پر مبنی قرآن مجید موجود ہیں۔ مگر وہ فتنہ موہوم جو ہمارے ممدوح کے دماغ کو قلبلا رہا ہے اور قلب کو برمارہا ہے، اس کا وجود ابھی تک تو معدوم ہے۔ شاید مفتی صاحب کی کاوش اس کے ظہور کا باعث بن جائیں، اس کے متعلق حتمی پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ کیا مفتی صاحب اتنے بے توفیق ہوگئے ہیں کہ اس طرح کی معمولی باتیں بھی سمجھنے کے لیے انہیں دوسروں کی معاونت درکار ہے؟ اگر معاملہ یہی ہے تو ہمارا انہیں مخلصانہ مشورہ ذرا مبتذل آب ہی یہی ہے۔ بقول شاعر: ؎
    تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
    تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے​
     
  6. ‏مئی 30، 2012 #26
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    نادان دوستوں کی جرأت… ایں چہ بو العجبی است
    مفتی محمد طاہر مکی صاحب کے ’الجواب‘ کا وہ حصہ جس نے ہمیں شدید ذ ہنی اذیت اور روحانی کرب میں مبتلا کیا ہے اُسے ہم دوبارہ نقل کرتے ہیں،یہ الفاظ نہیں، کسی ننگی تلوار کی کاٹ ہے جواعضاء وجوارح میں پیوست ہوتی چلی جاتی ہے۔یہ ان کے قلم سے نکلے ہوئے محض چند جملے نہیں بلکہ انگارے ہیں جو کسی کے پیکر ایمان کو خاکستر بنا کے رکھ سکتے ہیں۔ ذرا دیکھئے تو سہی، ان مفتی صاحب نے کیا لکھا ہے:
    ’’حیرت ہے اب اسلام کے کچھ نادان دوست اس کام کی جرأت کریں جس کی جرأت غیر مسلم تک نہ کرسکے۔ ان نادان دوستوں کی پُشت پر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا دماغ کام کررہا ہے جو چاہتا ہے کہ خلافتِ راشدہ سے خلافت عثمانی (ترکی) تک کے اجماعِ امت کے خلاف ان سے اس بدعت کی جرأت کرائے جو درحقیقت قرآن دشمنی پر منتج ہوتی ہے کہ اس طرح دوسروں کو بھی اس کا موقع فراہم ہوجائے گا کہ وہ قرآن کریم کو متنازعہ بنانے، اور چار انجیلوں کی طرح قرار دینے کے اپنے مقاصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچا سکیں۔‘‘
    ہمیں حیرت ہے کہ کوئی مفتی شرع متین یہ تکفیری جملے بقائم ہوش و حواس کیونکر لکھ سکتا ہے؟ان جملوں کا سیدھے سبھاؤ مطلب یہی نکلتا ہے کہ اس ’ نئی بدعت‘ کے مرتکب ’نادان دوست‘ اب دائرۂ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں۔ اب انہیں اپنے اسلام کی تجدید کی ضرورت ہے۔
    کسی بھی ’بدعت‘ کا مرتکب جو ’دَرحقیقت قرآن دشمنی‘ پر منتج ہوتی ہو، دائرۂ اسلام میں شامل کیسے رہ سکتا ہے؟ ایسے شخص کا ’ارتداد‘ ثابت ہوگیا۔ (أستغفراﷲ!)
    اس ’ثبوت‘ کی تصدیق کا منقطی نتیجہ؟… ’شخص مذکور واجب القتل ہے؟‘
    لا حول ولا قوۃ إلا باﷲ۔ إنا ﷲ وإنا إلیہ راجعون۔
     
  7. ‏مئی 30، 2012 #27
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ہمیں حیرت ہے کہ اس نام نہاد مفتی ٔاسلام کا کلیجہ کیوں نہ پھٹ گیا اور اس کے دست و بازو شل کیوں نہ ہوگئے جب اس کے شیطانی قلم کی نوک سے ان جگر پاش جملوں کا ظہور ہوا۔ہمارے لیے یہ ناقابل تصور تھا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں محدث عبداللہ روپڑیؒ کی اولاد پر ’قرآن دشمنی‘ کا بے ہودہ اور اہانت آمیز الزام بھی لگ سکتا ہے؟ کیا ان مفتی صاحب کو احساس بھی ہے کہ ان کی اس حرکت سے اہل اسلام کے دل کتنے مجروح ہوئے ہیں؟ یہ کوئی فتویٰ نویسی نہیں ہے ۔یہ تو ایک خطرناک مہم جوئی اور سوچی سمجھی سازش ہے۔ یہ ایک رکیک تکفیری مہم اور قلمی دہشت گردی ہے جس کو کسی بھی طرح نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب پاکستان کے علماء کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کریں اور اس بارے میں ان کی توجہ مبذول کرائیں۔ ’قرآن دشمنی‘ کا گھٹیا الزام لگانے والے ان مفتی صاحب کے خلاف اِزالۂ حیثیت عرفی کا مقدمہ بھی ضرور درج کرایا جائے تاکہ اس قبیل کے مفتی صاحبان کی قلمی دہشت گردی کا بروقت اِزالہ کیا جاسکے۔
     
  8. ‏مئی 30، 2012 #28
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    کچھ تو خوفِ خدا سے کام لیا ہوتا
    ذاکر حسین کے نام پر کئے گئے سوال میں ماہنامہ ’رشد‘ نکالنے والوں کو ’اہل حدیثوں کا انتہا پسند اور غالی گروپ‘ کہا گیا تھا، مفتی صاحب نے انہیں ’اسلام کے کچھ نادان دوست‘ قرا ر دیا ہے۔ پھر حیرت ہے وہ ’ان نادان دوستوں‘ کو ’قرآن دشمنی‘ کا مرتکب بھی قرار دیتے ہیں۔انہیں یہ الزام تراشی کرتے ہوئے نہ تو قرآن و سنت کی تعلیمات کا خیال رہا، نہ انہوں نے اپنے منصب کا لحاظ کیا اور نہ ہی ان کے دل میں روزِمحشر کی جوابدہی کا احساس پیدا ہوا۔ ان کے جی میں جو کچھ نزول ہوا، اسے بے ساختہ قرطاس ابیض پر انڈیلتے چلے گئے۔ جسے پڑھ کر ہر نفیس الطبع شخض کی طبیعت منقبض ہوتی ہے۔ مفتی صاحب کو اندازہ نہیں ہے کہ یہ اسلام کے ’کچھ‘ ’نادان دوست‘ نہیں ہیں جن پر انہوں نے نادک افگنی کا شوق پورا کیا ہے اور جنہیں وہ اپنی فتویٰ بازی (فتویٰ نویسی اور فتویٰ بازی چیزے دیگر اند) کا تختہ ٔ مشق بناتے چلے گئے ہیں۔ یہ ’رُشد‘ نکالنے والے بھی کوئی معمولی درجہ کے لوگ نہیں ہیں۔ ان کا مختصر تعارف بھی کرائیں گے۔ مگر ان ’نادان دوستوں‘کی فہرست میں سعودی عرب اور کویت کے سینکڑوں کبار علماء و فضلاء بھی شامل ہیں جن کے علم و فضل کا ایک زمانہ معترف ہے اور جو عالم اسلام میں انتہائی قدرومنزلت کے مستحق سمجھے جاتے ہیں۔ مفتی صاحب جب مزعومہ بدعت اور مبینہ ’قرآن دشمنی‘ کو ان سے منسوب کررہے تھے، تو معلو م ہوتا ہے کہ وہ انتہائی مغلوب الغضب تھے اور ان کا عالی دماغ یکسر ماؤف ہوچکا تھا۔ انہیں شاید اندازہ ہی نہیں ہے کہ ان کے شرانگیز فتویٰ کی زد میں عالم اسلام کی کتنی عظیم ہستیاں آجائیں گی۔ ہمیں حیرت ہے کہ ایسے مغلوب الغضب، خداخوفی کے احساس سے یکسر عاری،پراپیگنڈہ باز، نہایت غیر ذمہ دار شخص کو دارالافتاء کی صدارت کا اہل کیسے سمجھا جاسکتا ہے۔وائے افسوس! کیسے کیسے مفتی صاحبان سے ہمارا پالا پڑا ہے۔ مفتی صاحب کے خیال میں ’’ان نادان دوستوں کی پشت پر کوئی ایسا دماغ کام کررہا ہے جو چاہتا ہے کہ اجماع اُمت کے خلاف ان سے اس بدعت کی جرأت کرائے جو درحقیقت قرآن دشمنی پر منتج ہوئی ہے۔‘‘ معلوم ہوتا ہے کہ ان مفتی صاحب کی ساری مہارت مخالفین کے خلاف الزامات گھڑنے تک محدود ہے۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ ’اس دماغ‘ کی نشاندہی کرتے جو اس ’قرآن دشمنی پر مبنی بدعت‘ کا حقیقی محرک ہے مگر پس پردہ کام کررہا ہے۔ آخر کون سی مصلحت عامہ تھی جس نے انہیں ’اس دماغ‘کی نشاندہی سے باز رکھا؟ تھوڑی سی ریاضت ہی درکار تھی وہ اس اہم راز کو طشت اَز بام کرسکتے تھے۔ مجاہدۂ نفس کے زور پر وہ اس عالم ناسعوت میں اپنے کشف کے گھوڑے دوڑاتے تو عین ممکن تھا کہ ویٹی کن سٹی کے کسی کونے کھدرے یا تل ابیب کے کسی سرکاری اصطبل میں وہ اس دماغ کو’معروف سازش‘ دیکھ سکتے تھے۔ ہمیں ان کے ’کشفی نتائج‘کی برآمدگی کے بارے میں تجسس رہے گا۔ اُمید ہے وہ اس عظیم ’دینی خدمت‘ سے سبکدوش ضرور ہوں گے۔
     
  9. ‏مئی 30، 2012 #29
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    نجانے یہ مفتی صاحب کے ذہن کا کوئی فتورہے یا پھران کے خاطر اقدس میں جاگزیں کوئی انہونا خدشہ۔ انہوں نے اختلاف قراء ت پر مبنی مصاحف کی اشاعت کو مستشرق آرتھرجیفری کی کوششوں سے تشبیہ دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جیفری کے مقاصد میں ایک مقصد یہ بھی تھا کہ آئندہ مسلمان مسیحیوں سے یہ سوال نہ کرسکیں کہ اگرانجیلیں چار ہیں تو پھر ان میں حضرت مسیح کی اصل انجیل کون سی ہے؟ جیفری اور اس کے اندھے مقلدین کی کوششیں اگر کامیاب ہوجائیں توپھر اس سوال پر مسیحی پلٹ کر خود مسلمانوں سے سوال کرسکیں گے کہ جناب آپ کے ۲۰ قرآنوں میں سے حضرت محمد رسول اللہ1 کا اصل قرآن کون سا ہے؟ مفتی صاحب کے خدشات درست نہیں ہیں۔ فرض کیجئے اگریہ درست بھی ہوں تب بھی مذکورہ مصاحف کی اشاعت کو ’جیفری کے اندھے مقلدین کی کوشش‘ قرار دینا قیاس مع الفارق کی افسوسناک مثال ہے۔ انہوں نے اپنے موہومہ خدشات کی بنا پر سوالات و جوابات کا جو تانا بانا تیار کیا ہے وہ تارِ عنکبوت کی طرح کمزور ہے۔یہ فقط ایک منتشر اور شکست خوردہ ذہن کے الجھاؤ ہیں۔مفتی صاحب نے مستشرق جیفری کا واقعہ تو بیان کردیا ہے مگر انہوں نے جیفرے کے دور اور آج کے دور کے استشراق کا صحیح تناظر پیش نہیں کیا۔دورِ حاضر کے مستشرقین کے یہ کلامی مسائل نہیں ہیں۔آج کے دور کے مستشرقی کو قرآن مجید کی قراء ت کی اشاعت سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔یہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے کلامی مسائل تھے۔ آج کے دور کا مستشرق بالخصوص ۱۱؍۹ کے بعد قرآن مجید کا وہ نسخہ تیار کرنے میں مصروف ہے جس میں جہاد کے بارے میں آیات نہ ہوں۔ وہ ان آیات کو ’دہشت گردی‘ سے جوڑنے کے منصوبوں کو روبہ عمل دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ اسلام کو انسانی حقوق، آزادئ نسواں، جمہوریت اور دہشت گردی کے معاملات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ امریکہ میں لاکھوں کی تعداد میں قرآن مجید کے ایسے نسخہ جات چھاپ کر تقسیم کئے گئے ہیں جن میں جہاد سے متعلق ۱۸ آیات شامل نہیں ہیں۔ پاکستان میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جن کے پاس یہ نسخے موجود ہیں۔ مفتی صاحب کو دورِ حاضر کے مستشرقین کی حکمت عملیوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔ وہ جس بات پر پریشان نظر آتے ہیں اگر اس میں کچھ بھی صداقت ہوتی تو اب تک عیسائیوں نے اختلاف قراء ت پر مبنی قرآن مجید دیکھ کر یہ واویلا ضرور مچایا ہوتا، کیونکہ یہ کام کئی برسوں سے بعض مسلم ممالک میں ہورہا ہے۔
     
  10. ‏مئی 30، 2012 #30
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    خواہ مخواہ کا واویلا
    یہ انیسویں صدی کا زمانہ نہیں ہے۔ وہ مغربی استعمار کا دور تھا۔ یورپی مستشرقین کو فوجی استعمار کی پشت پناہی حاصل تھی۔ عالم اسلام کا معتدبہ حصہ مغرب کی غلامی میں تھا۔ مسلمانوں کو انگریزی علوم و زبان پر قدرت نہیں تھی۔ اسی لیے وہ مستشرقین کی شرانگیزی کا مؤثر جواب نہیں دے پاتے تھے۔ آج کا زمانہ مختلف ہے۔ آج یورپ میں بسنے والے مسلمانون کی تعداد پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ وہ ان ممالک میں بے حد متحرک ہیں۔ ان کی تنظیمیں کام کررہی ہیں جو مستشرقین کے کاموں پر نہ صرف نگاہ رکھتی ہیں بلکہ اس کا مقدور بھر جواب بھی دیتی ہیں۔ اب کوئی ولیم میور یا جیفرے مسلمانوں کے ملک میں بیٹھ کر اسلام کے خلاف کتابیں شائع کرنے کی جرأت نہیںکرسکتا۔ ڈنمارک میں شائع ہونے والے توہین آمیز خاکوں کے بعد مسلمانوں نے عالمی سطح پر جس رد عمل کا مظاہرہ کیا اس کو پیش نظررہنا چاہئے۔ پھر یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اکیسویں صدی کے مغرب کو مذہب یا مذہبی معاملات میں وہ دلچسپی نہیں ہے۔ اہل مغرب کی اکثریت سیکولرازم کو اپنا ’مذہب‘ بنا چکی ہے۔
    ہمیں معلوم نہیں کہ مفتی طاہرمکی صاحب چار انجیلوں کے درمیان فرق سے کس حد تک باخبر ہیں، لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ جو شخص ان چار انجیلوں یعنی یوحنا، لوقا، متی اور برناباس سے ذرا بھی واقفیت رکھتا ہے وہ مفتی صاحب کے وضع کردہ سوالات کو طفلانہ اور مضحکہ خیز قرار دے گا۔ حسن اتفاق سے راقم الحروف نے اس موضوع پر اتنا کچھ دیکھ رکھا ہے کہ وہ اس موضوع پر اعتماد کے ساتھ بات کرسکتا ہے۔ راقم کی لائبریری میں انجیل برناباس کا نسخہ موجود ہے جسے اُس نے تھوڑا عرصہ پہلے صفحہ بہ صفحہ دیکھا ہے۔ اس نسخے کے شروع میں اس کا مفصل موازنہ دیگر انجیلوں سے کیا گیا ہے۔ ان تمام انجیلوں کا کم از کم ایک چوتھائی حصہ ایسا ہے جو دوسری انجیل سے مماثلت نہیں رکھتا۔ بہت سے واقعات ایسے ہیں جو مختلف انجیلوں میں مختلف انداز میں بیان کئے گئے ہیں۔ ان چاروں انجیلوں کا شاید ہی کوئی ایک صفحہ ایسا ہو جو دوسری انجیلوں کے الفاظ سے سو فیصد مماثلت رکھتا ہو۔ دراصل یہ تمام انجیلیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے مرتب کیں۔ یوحنا، لوقا، متی اور برناباس ان حواریوں کے اسمائے گرامی ہیں۔ یہ بالکل اس طرح ہیں جس طرح ہمارے ہاں امام مسلمa، امام بخاری﷫، اور دیگر ائمہ محدثین کے نام پر صحاح ستہ موجود ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں