1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

*اِس کی کیا حقیقت ہے؟

'مکالمہ' میں موضوعات آغاز کردہ از shan84537, ‏نومبر 08، 2018۔

  1. ‏نومبر 08، 2018 #1
    shan84537

    shan84537 مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    کُچھ لوگ اسے اہل توحید پر فٹ کرتے ہیں۔* وضاحت فرما دیں تفسیر ابن کثیر سورة الأعراف 175[​IMG]

    Sent from my SM-G355H using Tapatalk
     
  2. ‏نومبر 08، 2018 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,357
    موصول شکریہ جات:
    1,079
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

  3. ‏نومبر 08، 2018 #3
    shan84537

    shan84537 مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

  4. ‏نومبر 08، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    اہل شرک کی طرف سے اپنے مشرکانہ افعال کے دفاع میں ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ:
    « إن ما أتخوف عليكم رجل قرأ القرآن حتى إذا رئيت بهجته عليه وكان ردئا للإسلام غيره إلى ما شاء الله فانسلخ منه ونبذه وراء ظهره وسعى على جاره بالسيف ورماه بالشرك قال قلت يا نبي الله أيهما أولى بالشرك المرمي أم الرامي قال بل الرامي" »
    سیدنا حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہرسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
    ''بلا شبہ میں تم پر ایسے آدمی سے خوف زدہ ہوں جس نے قرآن پڑھا، یہاں تک کہ جب اس پر اس کی رونق نظر آنے لگی اور وہ اسلام کا مددگار تھا تو اللہ تعالیٰ نے جس طرف چاہا اس کوپھیر دیا، پس وہ اس سے نکل گیا اور اس نے اُس کو پس پشت پھینک دیا اور اپنے پڑوسی پر تلوار سے حملہ کردیا اور اس پر شرک کی تہمت لگا دی، تو میں نے پوچھا کہ اے اللہ کے نبی ﷺ!ان دونوں میں سے شرک کے زیادہ لائق کون ہے جس پر تہمت لگائی گئی یا کہ تہمت لگانے والا؟ تو آپﷺ نے فرمایا: بلکہ تہمت لگانے والا۔''
    (صحیح ابن حبان، کتاب العلم ح81، مسند البزار 2783 ، شرح مشکل الآثار 865 ، معرفۃالصحابہ لابی نعیم ) وحسنه الألباني في "الصحيحة" (3201)
    محترم قارئین! اس حدیث کو بار بار پڑھیں اور غور کریں کہ اس میں کہیں بھی اس بات کی طرف اشارہ تک نہیں ہے کہ اس اُمت میں شرک نہیں پایا جاسکتا۔ البتہ یہاں تو ایسے بےگناہ انسان جو شرک میں مبتلا نہیں ہے، پر شرک کی تہمت لگانے اور اس بنا پر اس پر حملہ کرنے والے کی مذمت ہے اور ظاہر ہے کہ کسی بے گناہ پر تہمت لگانا اور بہتان بازی غلط ہے اور اس کے حق میں کوئی بھی نہیں ہے بلکہ تہمت لگانے والا خود مجرم ہے لیکن یہاں یہ کہاں سے نکلا کہ اس اُمت میں شرک پایا ہی نہیں جاسکتااورجس میں واقعتاً شرک پایا جاتا ہو، وہ بھی مشرک نہیں ہے۔
    بلکہ ان حضرات کے دعویٰ کے برخلاف یہ حدیث تولوگوں میں شرک کے پائے جانے اور ایسے لوگوں کے مشرک ہونے کی دلیل ہے
    کیونکہ اس حدیث کے مطابق تو جس پر تہمت لگائی گئی یا پھر تہمت لگانے والا،ان دونوں میں سے ایک مشرک ہے لہٰذا ان لوگوں کا یہ دعویٰ کہ اس امت کے لوگوں میں شرک نہیں پایا جاسکتا ان کی اپنی اس پیش کردہ دلیل سے ہی باطل ٹھہرا۔

    اور پھر سیدنا حذیفہؓ سے مروی یہ حدیث حافظ قوام السنۃ ابوالقاسم اسماعیل بن محمد بن الفضل تیمی اصبہانی (المتوفی 535ھ) کی کتاب الحجة في بیان المحجة وشرح عقیدة أهل السنة49 میں بھی موجود ہے اور اس میں شرک کے بجائے کفر کے الفاظ ہیں: «رمیٰ جاره بالکفر وخرج علیه بالسیف» ''اس نے اپنے پڑوسی پر کفر کی تہمت لگائی اور اس پر تلوار کے ساتھ حملہ کردیا۔''
    تو میں نے پوچھا:اللہ کے رسولﷺ! "أیهما أولىٰ بالکفر: الرامي أو المرمي؟" ان دونوں میں سے کفر کے زیادہ لائق کون ہے تہمت لگانے والا یا جس پر تہمت لگا ئی گئی؟ تو آپﷺ نے فرمایا:«بل الرامي» بلکہ تہمت لگانے والا (کفر کے زیادہ لائق ہے)۔

    اور اس مضمون کی اور بھی احادیث مروی ہیں، ایک میں سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «أَيُّمَا امْرِئٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا إِنْ كَانَ كَمَا قَالَ وَإِلَّا رَجَعَتْ عَلَيْهِ»
    (صحیح بخاری 6104 )
    ''جو شخص اپنے (مسلمان ) بھائی کو کافر کہے، تو ان دونوں میں سے ایک کفر کے ساتھ لوٹے گا ۔اگر وہ واقعتاً ایسا ہےتو (کفر اسی پر رہےگا) ورنہ یہ کافرکہنے والے پر لوٹ آئے گا۔''
    یہ بات محتاج بیان نہیں کہ :
    اس امت کے بے شمار لوگوں نے آج تک کفر کا ارتکاب کیا ہے اور علماء نے ان کے کفر کو کفر کہا ہے ، حالانکہ اہل علم سے یہ حدیث مخفی نہیں ،
    ـــــــــــــــــــــــــ
    اسی طرح اوپر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کا معنی بھی یہ ہے کہ
    "کسی کو مشرک کہا اور وہ مشرک نہیں بلکہ موحد ہے توکہنے والا خود گمراہ قرار پائے گا "
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 09، 2018 #5
    shan84537

    shan84537 مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2018
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    2

    شکریہ بھائی جان

    Sent from my SM-G355H using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں