1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اِمام حرم

'قراء' میں موضوعات آغاز کردہ از سدرہ منتہا, ‏مئی 02، 2012۔

  1. ‏مئی 02، 2012 #1
    سدرہ منتہا

    سدرہ منتہا رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 14، 2011
    پیغامات:
    114
    موصول شکریہ جات:
    576
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    ہمارے ہر دلعزیز اور پیارے شیخ صاحب کا سنایا ہوا یہ مختصر سا قصہ ہر ماں کیلئے ایک کھلا خط ہے۔
    شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ اے ماؤں، اپنے اولاد کے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہو۔ چاہے کتنا ہی غصہ کیوں نہ ہو اُن کیلئے منہ سے خیر کے کلمے ہی نکالا کرو۔ اولاد کو لعن طعن، سب و شتم اور بد دعائیں دینے والی مائیں سُن لیں کہ والدین کی ہر دُعا و بد دُعا قبول کی جاتی ہے۔
    یہ سب باتیں شیخ صاحب نے جمعہ کے خطبہ میں اپنے بچپن کی باتیں دہراتے ہوئے فرمائیں۔ شیخ صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک لڑکا ہوا کرتا تھا، اپنے ہم عُمر لڑکوں کی طرح شرارتی اور چھوٹی موٹی غلطیاں کرنے والا۔ مگر ایک دن شاید غلطی اور شرارت ایسی کر بیٹھا کہ اُسکی ماں کو طیش آگیا، غصے سے بھری ماں نے لڑکے کو کہا (غصے سے بپھر جانے والی مائیں الفاظ پر غور کریں) لڑکے کی ماں نے کہا؛ چل بھاگ اِدھر سے، اللہ تجھے حرم شریف کا اِمام بنائے۔ یہ بات بتاتے ہوئے شیخ صاحب پھوٹ پھوٹ کر رو دیئے، ذرا ڈھارس بندھی تو رُندھی ہوئی آواز میں بولے؛ اے اُمت اِسلام، دیکھ لو وہ شرارتی لڑکا میں کھڑا ہوا ہوں تمہارے سامنے اِمام حرم عبدالرحمٰن السدیس۔
     
  2. ‏مئی 02، 2012 #2
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,955
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ‏مئی 02، 2012 #3
    نسرین فاطمہ

    نسرین فاطمہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    حیدرآباد سندھ
    شمولیت:
    ‏فروری 21، 2012
    پیغامات:
    1,279
    موصول شکریہ جات:
    3,218
    تمغے کے پوائنٹ:
    396

    جزاک اللہ خیرا بہنا
     
  4. ‏مئی 03، 2012 #4
    محمد شاہد

    محمد شاہد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 18، 2011
    پیغامات:
    2,506
    موصول شکریہ جات:
    6,012
    تمغے کے پوائنٹ:
    447

    جزاک اللہ خیرا بہنا

     
  5. ‏مئی 03، 2012 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,268
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    جزاک اللہ خیرا ۔ کیا عمدہ بات شیئر کی ہے۔ اللہ ہم سب کو غصہ میں زبان کو کنٹرول کرنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین
     
  6. ‏مئی 03، 2012 #6
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    ما شاء اللہ! بہت خوب!

    انسان بھی کتنا جلد باز اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے والا ہے کہ جس طرح اپنے لئے اللہ سے خیر کی دُعا کرتا ہے، بالکل اسی طرح غصے اور ناراضگی میں اپنے یا دوسروں کیلئے بد دُعا بھی کر ڈالتا ہے اور اسے علم بھی نہیں ہوتا، اسی طرح ماں باپ بھی۔ اگر اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین اسے بھی لوگوں کی دیگر خیر کی دُعاؤں کی طرح فوری قبول کرنا شروع کر دیں تو کوئی شخص بھی زندہ نہ بچے۔

    ﴿ وَيَدْعُ الْإِنسَانُ بِالشَّرِّ‌ دُعَاءَهُ بِالْخَيْرِ‌ وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا ﴾ ۔۔۔ الإسراء: ١١
    کہ اور انسان شر کی دُعا کرنے لگتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح وہ (اپنے لئے) خیر کی دُعا کرتا ہے، اور انسان بہت جلد باز ہے۔

    ﴿ وَلَوْ يُعَجِّلُ اللَّـهُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ‌ اسْتِعْجَالَهُم بِالْخَيْرِ‌ لَقُضِيَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۔۔۔ ١١ ﴾ ۔۔۔ سورة يونس
    کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی بری (دُعائیں) جلد قبول کرنا شروع کردیں، جس طرح لوگ اپنی خیر کی دُعاؤں کی فوری قبولیت چاہتے ہیں تو یقیناً ان کی اجل (موت) تمام کر دی جائے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں