1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

آل تکفیر کی گمراہی ، جب خود انکو گھیر لائی (حقیقی اور دلچسپ واقعات پر مبنی تحریر)

'خوارج' میں موضوعات آغاز کردہ از عبداللہ عبدل, ‏اگست 13، 2012۔

?

کیا آپ کے ساتھ بھی ایسے دلخراش پیش آچکے ہیں؟

  1. جی ہاں! اور ایسے واقعات سنتے بھی رہتے ہیں۔

    100.0%
  2. جی نہیں! اور ،پہلی بار اس بارے پڑھا ہے۔

    0 ووٹ
    0.0%
  3. میں نے کبھی ان باتوں کو اہمیت ہی نہیں دی۔

    0 ووٹ
    0.0%
ایک سے زائد ووٹ ڈالے جا سکتے ہیں
  1. ‏اگست 14، 2012 #21
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    السلام علیکم
    مجھے اس سے کوئی مسئلہ نہیں ، ، ، جب دل کرے گلے شکوے کیجئے گا، میرے دل میں جو تھا ، میں بتا چکا اور اللہ سے بہتر دلوں کے حال کوئی نہیں جا نتا بھائی!!!

    اور لکھا:
    میں تمام باتوں کی وضاحت کر چکا ، مزید میں ضروری نہیں سمجھتا، جسے اللہ کی قسم پر اعتبار نہ ہو، مجھے اس کے سامنے کسی قسم کی مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔شکریہ

    مزید::

    میرے حامی بھرنے یا نہ بھرنے سے فرق پڑنا ہے جناب، آپ پوچھ لیں ، اللہ کی توفیق ہوئی تو میں حسب استطاعت جوابات دوں گا ، تاکہ معاملات واضح ہو سکیں!!
    اللہ کا فضل ہے ابھی مجھے یاداشت کی کمزوری والا معاملہ نہیں ، صرف اس لئے خاموش رہا کہ پہلے زرا اپنے جوابات بارے وضاحت پیش کر لوں ، پھر اس طرف توجہ دوں۔ شکریہ
     
  2. ‏اگست 14، 2012 #22
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    ارسلان بھائی نے لکھا::
    جزاک اللہ خیرا بھائی کہ آپ نے اس بارے مجھے اپنا موقف واضح کرنے کا موقع دیا!!

    بھائی ، ان کے جوابات سے ایک بات یا ایک غلط فہی کا ازالہ میں ضروری سمجھتا ہوں::

    میں نے الحمد اللہ آج تک جتنی بھی بحثیں یا گفتگو کی ہیں ، وہ کسی کے دفاع یا مخالفت میں بلکہ ’’مسئلہ نفس‘‘ کو واضح کرنے کے لئے کی ہیں ، مجھ نہیں یقین تو میری تمام پوسٹس اسی فورم پر موجود ہیں تسلی کر سکتے ہیں۔۔۔
    میں نہ کسی کا حمایتی ہوں نہ مخالف بلکہ حد درجہ کوشش کرتا ہو جس بھی مسئلے پر بات ہو، صرف اس مسئلہ کی وضاحت کے لئے۔۔۔ لہذا میرے بارے کسی کا حامی اور مخالف ہونے کا نظریہ قائم کرنے سے اجتناب کیا جائے۔
    جزاک اللہ خیرا


    بھائی نے لکھا::
    بحمد اللہ میں ان لوگوں میں نہیں ،،،،،، جو سیاہ کرتا ہے اسے سیاہ ہی کہتا ہوں۔
    حکمرانوں ظلم کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ، ان کے شر سے مجھ سمیت کوئی عام مسلمان بھی محفوظ نہیں ، مگر میں انکے بارے وہی رویہ رکھتا ہوں جس کا اوپر آپ نے تذکرہ کیا۔۔۔۔۔۔۔تکفیر سے نیچے جو بھی مرتبہ ہے۔۔


    پھر بھائی نے لکھا::


    میں صرف ان لوگوں سے ان فتووں کی دلیل طلب کرتا ہوں یا اس بارے علمی بحث کرتا ہوں ، تاکہ ان کو اعتدال کی طرف راغب کیا جا سکے۔۔ اور مسئلہ نفس کو واضح کیا جاسکے۔۔۔ مگر افسوس باوجود کھلی وضاحتوں کے میرے بارے لوگ یہ رویہ رکھتا ہیں کہ میں ظالم حکمرانوں کی حمایت کر رہا ہوں ۔لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اللہ کی قسم ، اللہ کی قسم، اللہ کی قسم میں کسی بد کردار ، ظالم کا حمایت نہیں چاہے وہ حکمران یا کوئی اور۔
    ۔

    اور لکھا::
    آپ نے بالکل درست کہا، یہ دونوں گروہ افراط و تفریط کا شکار ہیں ۔ ۔ ۔ اور ان دونوں کی شدتو ں کا ہی آج ہم نقصان اٹھا رہے ہیں۔۔
    بھائی بحمد اللہ ، میں نہ کسی کے برے اعمال کی تاویل کرتا ہوں نہ کسی کی برائی کا دفاع۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو کھلی اجازت ہے کہ جب آپ میرا ایسا رویہ دیکھیں تو مجھے ضرور کان سے پکڑ کر سیدھا کر دیں میں اعتراض نہیں کروں گا انشاء اللہ


    اور لکھا::
    بھائی یہ سب حرام ہے، چاہے مجاہدین اسلام کو بیچنا ہو، کفار سے پینگیں بڑھانا ہو، مسلمانوں کی مظلومیت پر چھپ سادھنا ہو یا دین، قرآن و رسول کریمﷺ کا استہزا کرنے والوں سے تعلقات قائم رکھنا ہوں۔۔۔
    ان سب کاموں پر تنبیہ اور نصیحت اشد ضوری ہے اور عام مسلمانوں کو انکی حساسیت اور اثرات سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔۔۔۔۔

    باقی ان حرام کاموں کا مرتکب کبھی تو کفر اصغر (کبیرہ گناہ) کا مرتکب ہوتا اور کبھی کفر بواح (ارتداد) کا ، جس کا فیصلہ وہی کریں گے جو اس کے مکلف ہیں اور جن کے شعبہ ہے، یعنی متبحر فی العلم علماء کرام اور سب کام باقاعدہ اصولوں ظوابط کا محتاج ہے، ۔۔

    میں اس بارے التجاء کروں گا کہ اس رسالے سے ضرور استفادہ کریں مسلئہ الولاء والبراء اور عصر حاضر میں انتہا پسندی
    اس میں اعتدال کو ترک کرنے والے دونوں گروہوں کا تذکرہ ہے اس بارے یہی میرا بھی موقف ہے۔

    ارسلان بھائی ، مجھے یوں لگتا ہے ہم ایک دوسرے بارے غلط فہمی کا شکار ہو گئے ہیں جس وجہ سے ہی تلخیاں بھی ہوئی ہیں ۔اللہ ہماری اصلاح فرمائے۔اللہ کی توفیق سے میں نے اپنا موقف ایمانداری سے واضح کر دیا ہے۔۔
    اللہ مجھے اور آپ سمیت تمام مسلمانوں کو اس قرب ناک اور تکلیف دہ صورتحال سے نجات اور نیک صالح حکمران عطا کرے۔۔ آمین۔۔۔


    اخوکم فی الدین
    عبدل!
    جزاک اللہ خیرا​
     
  3. ‏اگست 14، 2012 #23
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    عبداللہ عبدل بھائی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو خوب جزائے خیر عطا فرمائیں۔
     
  4. ‏اگست 15، 2012 #24
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    جزاک اللہ خیرا
    جی بھائی آپ نے صحیح کہا۔اور مجھے یہ پڑھ کر بھی خوشی ہوئی کے افراط و تفریط کے شکار دونوں گروہوں سے آپ کا تعلق نہیں ہے۔میرا خدشہ یہ تھا کہ آپ کا تعلق دوسرے گروہ کے ساتھ ہے لیکن آپ کی اس وضاحت سے میرا خدشہ دور ہو گیا۔بس اتنی سی بات تھی،جس سے آپ ناراض ہو کر جا رہے تھے۔

    آمین ثم آمین
     
  5. ‏اگست 15، 2012 #25
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    آپ کی وضاحت کے بعد میں نے آپ کی اس پوسٹ کا جواب دینے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔
     
  6. ‏اگست 15، 2012 #26
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    نبی کریمﷺ کے دور کے مسلمان (صحابہ کرام﷢) اپنے اسلام میں اعلیٰ ترین معیار پر تھے، امت میں ان سے افضل کوئی نہیں ہو سکتا۔

    اسی طرح نبی کریمﷺ کے دور کے منافقین وکفار بھی اپنے نفاق وکفر میں شديد ترين تھے، فرمانِ باری ہے:
    ﴿ وَكَذٰلِكَ جَعَلنا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوًّا شَيـٰطينَ الإِنسِ وَالجِنِّ يوحى بَعضُهُم إِلىٰ بَعضٍ زُخرُ‌فَ القَولِ غُر‌ورً‌ا ۚ وَلَو شاءَ رَ‌بُّكَ ما فَعَلوهُ ۖ فَذَر‌هُم وَما يَفتَر‌ونَ ١١٢ ﴾ ۔۔۔ سورة الأنعام

    آج کے منافقین یا کفار کو ان سے کم تر قرار دے کر حکم میں تفریق ..... نہایت عجب استدلال ہے جس کا مشاہدہ پہلی مرتبہ ہی دیکھنے میں آیا ہے!!
     
  7. ‏اگست 16، 2012 #27
    ھارون عبداللہ

    ھارون عبداللہ رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    514
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    محترم عبداللہ عبدل نے ، میرے مضمون ، جو منافقین پر لکھا گیا تھا ، کچھ اعتراض کیے ہین ، ان کا جواب درج ذیل ہے -

    ایک قول کے مطابق "واقعہ افک " مین ملوث ہونے کیوجہ سے عبداللہ بن ابئ پر بھی حد نافذ کی گئ تھی- مگر اس قول کی کوی دلیل نہین ہے- صحیح یہی ہے کہ صرف صحابہ پر حد نافذ کی گئ تھی-( تفسیر فتح القدیر سورہ نور )


    یہ بات باکل درست ہے کہ منافقین، اسلامی قانون کے نیچے تھے - اسکی دلیل یہ ہے کہ واقعہ افک کے بعد ، حدود کے نفاذ کے بعد ، کسی منافق نے ، دوبارہ حضرت عائشہ پر تہمت نہین لگائ-
    اسکی وجہ اسلامی حدود کا ڈر تھا-

    حدود کے نفاذ کے بعد ، کسی منافق کا ، دوبارہ تہمت کی ہمت نہ کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ منافقین کھلم کھلا حضرت عائشہ کی گستاخی نہین کرتے تھے- جیسا کہ عبداللہ عبدل نے کہا ہے-

    مسجد ضرار کو ڈھانا ، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ، منافقین اسلامی حکومت کے نیچے تھے-

    منافقین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرتے تھے ، مگر یہ گستاخی ، تاویلون ، بہانون ، قسمون اور جھوٹ کے ساتھ تھی-وجہ اپنے کفر کو چھپانا تھا- ان کے یہ عذر بظاھر قبول کیے جاتے-
    یہی وجہ تھی کہ انکی تکفیر نہ کی گئ-

    منافقین کی یہ گستاخی ، اس درجہ کی ، یا اتنی واضح ، صریح یا ظاھر نہ تھی ، جتنی کفار، مشرکین، یہودیون کی تھی- مثلا کھلم کھلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام تبدیل کرنا، سام علیکم کہنا ، آپ کی گستاخی مین اشعارکہنا، کھلم کھلا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی نکالنا-

    منافقین، مذکورہ بالا واضح ، صریح اور ظاھر گستاخی ، جو انھین کفار ، مشرکین ،اور یہود کے ساتھ ملا سکتی تھی ، اپنے آپ کو بہانون اور تاویلون کے ذریعے ، مسلمانون مین رکھنے پر مجبور تھے-


    محترم عبداللہ ، منافقین کی کوئ ایسی گستاخی ، جیسے یہود ، کفار اور مشرکین کی تھی ، کوئ ایک مثال پیش کرین ؟؟ کیونکہ یہی ایسی گستاخی تھی ، جو انھین منافقین سے نکال کر ، یہود ، مشرکین اور کفار کے ساتھ ملادیتی؟؟؟


    محترم عبداللہ جو آیات ، منافقین کے واضح ، صریح ، ظاھر کفر پر پیش کی ہین ، وہ ملاحظہ ہون-

    (( لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم))
    " تم بہانے نہ بناو، یقینا تم اپنے ایمان کے بعد بےایمان ہوگے"

    اس آیت مین منافقین کے بہانون کا تذکرہ بھی موجود ہے -

    معلوم ہوا کہ منافقین، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کے بعد ، بہانے اور عذر اور تاویلون کا سہارا لیتے تھے - اسی لیے فرمایا کہ " تم بہانے نہ بناؤ" -

    معلوم ہوا کہ کفار، مشرکین، اور یہود بغیر کسی بہانے ، تاویل ، اور عذر کے ، یعنی کھلم کھلا کفر کرتے تھے- جبکہ منافقین چھپ کر، یعنی بہانون سے-

    عبداللہ صاحب نے جو دوسری آیت بیان کی ہے وہ یہ ہے- سورہ توبہ آیت#٧٤-

    اس آیت مین بھی ، منافقین کی قسمون کا تذکرہ ہے- قارئین ملاحظہ فرما سکتے ہین-
    معلوم ہوا کہ منافقین کے کفر مین ، اور کفار کے کفر مین فرق ہے-

    منافقین کا کفر باطنی تھا، جس پر اللہ نے خبر دےدی- اور کفار کا کفر باطنی بھی تھا ، اور ظاھری بھی- جس پر اللہ نے بھی خبر دی،اور مسلمان انکے کفر کو دیکھتے بھی تھے-
    معلوم ہوا کہ مسئلہ تکفیر مین،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کے ، منافقین کی دلیل ، اتنی قوی نہین ہے -
    واللہ اعلم
     
  8. ‏اگست 29، 2012 #28
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    اللہ اکبر !!!

    سب باتیں اور اعتراضات کا جواب بعد میں دوں گا پہلے ایک وضاحت فرما دیں::
    ان تینوں نشان زندہ چیزوں کے موانع تکفیر ہونے کی کیا دلیل ہے جناب؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    اور کیا یہ تینوں چیزیں آپ کےنزدیک "موانع تکفیر " ہیں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟


    صرف ان دو ننھے منے سوالات کا جواب دیجئے گا، کوئی ہینکی پھینکی نہیں کرنے جناب!!!!!!
     
  9. ‏اگست 29، 2012 #29
    ھارون عبداللہ

    ھارون عبداللہ رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 08، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    514
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    علماء کے مطابق ایسا عمل ، جس پر سو دلیلیں کفر کی ہوں ، مگر اس عمل میں ایک دلیل اسکے مسلمان ہونے کی ہو یعن٩٩:١ ، تو علماء تکفیر سے رک جاتے ہیں ۔

    تکفیر اسکی کی جاتی ہے ، جسکے عمل پر ساری دلیلیں کفر کی ہوں اور مسلمان ہونے کی کوی دلیل نہ ہو یعنی ١٠٠:٠ ہو ۔

    منافقین کی تکفیر نہ کرنے کی سب سے بڑی دلیل ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکی تکفیر نہ کرنا ہے ۔

    عبدل بھائ سے گزارش ہے ، کہ یہ مسلہ ہم ( میں بھی شامل ہوں) لوگوں کے علم سے باھر ہے ۔ ہمیں اس پر گفتگو نہیں کرنی چاہیے ۔

    اس مسئلہ کو جید علماء کرام کے لیے چھوڑ دینا چاھیے ۔
     
  10. ‏اگست 30، 2012 #30
    عبداللہ عبدل

    عبداللہ عبدل مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 23، 2011
    پیغامات:
    493
    موصول شکریہ جات:
    2,196
    تمغے کے پوائنٹ:
    26

    بے فکر رہیئے ، میں بھی یہی موقف رکھتا ہوں۔ آپکی وضاحت کا شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ خیرا
     
لوڈ کرتے ہوئے...
متعلقہ مضامین
  1. عبداللہ عبدل
    جوابات:
    3
    مناظر:
    759
  2. محمد عامر یونس
    جوابات:
    0
    مناظر:
    1,927
  3. مرکزی جمعیت اہلحدیث
    جوابات:
    2
    مناظر:
    779
  4. مرکزی جمعیت اہلحدیث
    جوابات:
    0
    مناظر:
    589
  5. حسن شبیر
    جوابات:
    0
    مناظر:
    317

اس صفحے کو مشتہر کریں