1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اپریل فول منانے پر تنبیہ

'تہذیب' میں موضوعات آغاز کردہ از کلیم حیدر, ‏اپریل 02، 2012۔

  1. ‏اپریل 02، 2012 #1
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    اپریل فول منانے پر تنبیہ

    فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ
    ترجمہ:طارق علی بروہی
    سوال:
    جواب:
    جھوٹ کسی بھی صورت میں جائز نہیں چاہے مذاق میں ہو یا سنجیدگی میں۔ کیونکہ یہ تو ان مذموم اخلاق میں سے ہے جن سے سوائے منافق کے کوئی متصف نہیں ہوتا۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ ہم کچھ لوگوں کو اس جھوٹ جیسے گناہ کو بھی دو اقسام میں تقسیم کرتے ہوئے سنتے ہیں۔
    یعنی اگر جھوٹ بولنے سے کوئی نقصان ہو جیسے کسی کا ناجائز مال کھانا یا زیادتی کرنا وغیرہ تو اسے وہ سیاہ جھوٹ کا نام دیتے ہیں، اور اگر اس میں ایسی باتیں نہ ہوں تو اسے وہ سفید جھوٹ کا نام دیتے ہیں۔ جبکہ درحقیقت یہ تقسیم باطل ہے۔ کیونکہ جھوٹ کل کا کل سیاہ ہی ہے۔ البتہ جس قدر اس کے نتیجے میں نقصان وضرر بڑھتا ہو اسی قدر اس کی سیاہی میں اضافہ ہوگا۔ اس موقع مناسبت کے لحاظ سے میں اپنے بعض کم عقل مسلمان بھائیوں کو اپریل فول منانے سے خبردار کرنا چاہوں گا جو اسی جھوٹ کی قبیل سے ہے۔ کہ جسے انہوں نے یہود، نصاری، مجوس یا دیگر کفار سے مستعار لیا ہے۔
    اس میں مندرجہ ذیل برائیاں اور محظورات پائے جاتے ہیں:
    کبھی ایسا کرتے ہیں کہ گھر والوں کو فون کرکے کہتے ہیں کہ ہمارے یہاں کل پارٹی ہے بہت لوگ آرہے ہیں تو بہت سا کھانا گوشت وغیرہ پکالیتے ہیں۔ یا پھر ایسی خبردیتے ہیں کہ جس سے کوئی خوفزدہ ہوجائے یا گھبرا جائے جیسے کہتے ہیں کہ آپ کے سرپرست کا کار حادثہ ہوگیا ہے یا اس جیسی دوسری باتیں جواس حالت کے علاوہ بھی جائز نہیں ہیں ۔ اس لئے ایک مسلمان کو چاہیےکہ وہ اللہ تعالی سے ڈرے اور اپنے دین کے ذریعہ عزت دار، غالب، فخر کرنے والا اور اسے پسند کرنے والا بنے تاکہ یہ کافروں کے دلوں میں ہیبت کا باعث بنے اور وہ اس کا احترام کریں۔
    کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ اگر ابھی کوئی آپ کے افعال میں آپ کی پیروی شروع کردے تو آپ اپنے آپ میں فخر محسوس کریں گے اور یہ محسوس کریں گے کہ آپ کا پیروکار آپ کے آگے کمتری وذلت اختیار کررہا ہے کہ وہ آپ کا مقلد بن گیا۔ اور یہ بات تو بالکل بشری فطرت کے اعتبار سے ایک حقیقت ہے۔ اس لئے جب بھی ہمارے دشمن ہمیں دیکھیں گے کہ ہم اپنے دین کے ذریعہ قوی، عزت دار وغالب ہیں اور ہمیں ان کی کوئی پرواہ نہیں اور ان سے ہم کوئی معاملہ نہیں کرتے سوائے جس کا شریعت الہی تقاضہ کرتی ہے۔ و ہ شریعت جو بعثت نبویﷺ کے بعد سے تمام عالم کے لئے شریعت ہے۔
    اور نبی اکرمﷺسے یہ حدیث ثابت ہے کہ آپﷺنے فرمایا:
    جب یہ اہل کتاب کا معاملہ ہے جو کتاب کا علم رکھنے والے ہیں تو پھر دوسرے کافروں کے بارے میں آپ کا یہ مقلدانہ رویہ کیا شمار ہوگا۔ جو کوئی بھی محمﷺ کے بارے میں سنے مگر آپﷺ کی اتباع اختیار نہ کرے تو وہ جہنمی ہے، جب معاملہ ایسا ہے تو ہم مسلمانوں کا کیا حال ہوگا کہ اپنے آپ کو ذلیل کرتے ہیں اور غیروں کی نقالی کرتے ہیں۔ جبکہ ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ جو مکالمہ ہرقل روم کے بادشاہ جو کافر تھا اور ابوسفیانؓ کے درمیان ہوا تھا اورابوسفیان چاہتے تھے کہ نبی اکرمﷺ کے بارے میں کوئی جھوٹ بات کہیں اور خود بادشاہ کو بھی خوشی ہوتی اگر وہ اس صالح نبیﷺ کے بارے میں کوئی کذب بیانی کرجاتا مگر اس ڈر سے کہ انہیں پکڑ لیا جائے گا نہ بول سکے۔ جب ایک کافر کو جھوٹ بولنے میں اتنا خوف ہے تو پھر اے مومن تمہارا کیا حال ہے کہ جھوٹ بولتے ہو! اللہ تعالی ہی نیکی کی توفیق دینے والا ہے۔

    (فتاوی نور علی الدرب: متفرقہ، شیخ کی آفیشل ویب سائٹ آرٹیکل 9039 سے لیا گیا)​


    حوالہ جات:
    [1] صحیح سنن ابی داود 4031، صحیح الجامع 2831
    [2] صحیح مسلم 155 اور مسند احمد 27420 میں ان الفاظ کے ساتھ روایت ہے
    [video=youtube;ClZsqAYAgA0]http://www.youtube.com/watch?v=ClZsqAYAgA0&feature=youtu.be[/video]​
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں