1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اپنے لیے اور غیروں کیلئے اور فتویٰ ۔۔تقلید کے کرشمے

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏جون 02، 2011۔

  1. ‏جون 07، 2011 #11
    عمرمعاویہ

    عمرمعاویہ مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 03، 2011
    پیغامات:
    50
    موصول شکریہ جات:
    206
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    جزاک اللہ شاکر بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے بہت خوشی ہوئی آپ کی تحریر سے سوائے ایک جملے کہ آپ نے لکھا کہ ہمارے اپنے بھائی ہم سے ناراض ہیں۔۔۔۔۔۔۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانان عالم کا دو تہائی حصے کو آپ اپنے بھائیوں میں شمار نہیں کرتے۔

    بہرحال آپ کا مشورہ صائب اور بات نہایت معقول ہے سو میں آپ کی اجازت سے ایک نیا دھاگہ شروع کرتا ہوں۔
     
  2. ‏جون 07، 2011 #12
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    بھائی جان، میرا اشارہ فورم پر پہلے سے موجود بھائیوں کی طرف تھا۔ جن میں آپ کے مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے بھی موجود ہیں۔ پھر بھی ممکن ہے کہ میرا الفاظ کا چناؤ درست نہ رہا ہو۔ اس کے لئے معذرت خواہ ہوں۔
     
  3. ‏جون 09، 2011 #13
    محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2011
    پیغامات:
    1,951
    موصول شکریہ جات:
    5,774
    تمغے کے پوائنٹ:
    354

    جزاک اللہ خیرا انس بھائی
    اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین
     
  4. ‏جون 09، 2011 #14
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    وایاکم اجمعین! آمین!
     
  5. ‏جون 25، 2011 #15
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    جزاک اللہ زاہد بھائی اللہ تعالی حلالہ جیسے برے اور لعنتی کام سے امت مسلمہ کو بچائے رکھے۔آمین
    اب میں عمرمعاویہ بھائی سے ایک سوال کرتا ہوں،جو عمر بھائی موضوع کو خلط ملط کرتے ہوئے بحث و مباحثہ کو ایسی سمت کی طرف لے گئے تھے تاکہ اس سوال کا جواب انہیں نہ دینا پڑے۔
    عمرمعاویہ بھائی جان یہ بات تو اچھی نہیں ہوتی۔ذرا اب کھل کر بتا سکتے ہیں کہ
    1۔مولانا صاحب نے پہلے حلالہ کا کیوں مشورہ دیا۔کیا حلالہ کرنا جائز ہے۔؟؟
    2۔حلالہ کا فتوی دینے کے بعد پھر حلالہ سے بیزاری کیوں کی۔کیا کسی وقت حلالہ جائز اور کسی وقت ناجائز بھی ہوجاتا ہے؟؟
    3۔مولانا صاحب نے اہل حدیث کے پاس کیوں بھیجا۔؟ کسی اور مسلک کی طرف کیوں نہیں۔؟ کیا مولانا صاحب اس مسئلہ پر اہل حدیث کو حق پر سمجھتے تھے یا نہیں ؟
    4۔کیا حنفی مذہب میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ اپنوں کےلیے فتوی اور اور غیروں کےلیے فتوی اور؟؟ یعنی رشتہ داروں اور غیر رشتہ داروں کےلیے فتوے تبدیل ہوتے رہتے ہیں ؟؟
    5۔اللہ نہ کرے ، اللہ نہ کرے ، اللہ نہ کرے۔کیونکہ میں کبھی برداشت نہیں کرتا کہ اس طرح کا معاملہ آپ کے ساتھ پیش ہو۔(اللہ آپ کو محفوظ رکھے۔آمین) لیکن اگر خدانخواستہ اس طرح کا واقعہ آپ کےساتھ پیش آجاتا ہے تو آپ اس پر کیا کریں گے؟؟ اس کی بھی وضاحت فرمادیں
    6۔اگر ہوسکے تواس ویڈیو پر بھی کومنٹس دے دیں تاکہ ہم جیسے جاہلوں کو بھی کچھ حقیقت کا تو پتہ چلے
     
  6. ‏جون 27، 2011 #16
    کلیم حیدر

    کلیم حیدر رکن
    جگہ:
    لیہ
    شمولیت:
    ‏فروری 14، 2011
    پیغامات:
    9,403
    موصول شکریہ جات:
    25,973
    تمغے کے پوائنٹ:
    995

    گڈ مسلم بھائی نے عام فہم سوالات کے جوابات طلب کیے ہیں ابھی تک نہیں دیئے گئے۔امید ہے ہمارے بھائی ضرور توجہ کریں گے۔ان شاءاللہ
     
  7. ‏اکتوبر 14، 2011 #17
    صوفی صاحب

    صوفی صاحب مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 14، 2011
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    50
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    اسلام علیکم دوستو بہت عجیب واقعہ سنایا ہے موصوف نے ۔ اب آپ صوفی صاحب کی بات سنیں ۔ناقل نے جو سب سے سے پہلی بات لکھی اس میں لکھا ہے کہ جھوٹ کیا ہے اور سچ کیا ہے ۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ یہ جھوٹ ہے بلکہ الزام ہے میں نےآج تک کسی مقلد عالم کوایسا فتؤٰی دیتے نہ سنا اور نہ دیکھا کہ تم حلالہ کر والو ۔ مسئلہ طلاق میں اختلاف تو ہے لیکن حلالہ کے اس طریقہ کو سب لعنتی فعل کہتے ہیں ، اس لیے ایسے من گھڑت واقعات سے گریز کرنا چاہیے

    والسلام علیکم محمد صوفی صاحب
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏اکتوبر 14، 2011 #18
    صوفی صاحب

    صوفی صاحب مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 14، 2011
    پیغامات:
    7
    موصول شکریہ جات:
    50
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    میں حیران ہوں مسلم صاحب آپ اس افسانے کو حقیقت کا رنگ کیوں پہنا رہے ہیں ۔ صوفی صاحب نے پہلے بھی لکھا تھا اب پھر صوفی صاحب رقمطراز ہیں کہ: ناقل نے لکھا تھا کہ سچ یا جھوٹ کو اللہ بہتر جانتا ہے : تو آپ کیوں ایک من گھڑت واقعہ کو حقیقت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ صوفی صاحب سمجھتے ہیں کہ یہ الزام
    ہے ۔کیونکہ علماء احناف کو اللہ کریم نے علم و بصیرت سے نوازا ہے وہ ایسے کام نہیں کرتے کہ غیر کے لیے اور مسئلہ اور اپنوں کے لیے اور مسئلہ اس لیے ایسے افسانوں پہ وقت ضائع نہ کریں باقی آپ بھائیوں کی مرضی صوفی صاحب نے اتنا ہی کہنا تھا
    ا
    والسلام علیکم
    محمد صوفی صاحب
     
  9. ‏نومبر 22، 2012 #19
    ماں کی دعا

    ماں کی دعا رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 08، 2012
    پیغامات:
    74
    موصول شکریہ جات:
    131
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    موضوع اور مضمون پر بات ہونی چاہئے۔
    میں اس ڈرامے کا عینی گواہ ہوں، ضروری نہیں کہ ہر ڈرامہ بزنس دے، اکثر ڈرامے فلاپ بھی ہوجاتے ہیں، قصور کس کا ہے، ڑائٹر کا ؟ ڈائریکٹر کا؟ پرودیوسر کا؟ یا ایکٹنگ کرنے والے ایکٹر کا؟ کون پوچھتا ہے بعد میں، جو سڑک پر آگیا وہی اپنا حال جانتا ہے۔
    میرے خیال میں اس ڈرامے کا ٹائٹل نام یہ رکھا جاتا۔۔۔
    تقیہ بردار غیر مقلدین کا اصلی چہرہ

    تو زیادہ حقیقت کے قریب تھا اور امید تھی یہ ڈرامہ اچھا بزنس دیتا۔
    حقیقت یہ ہے کہ یہاں جس مولانا کا ذکر ہوا ہے وہ اور طلاق سے متاثرہ خاندان غیر مقلد مذہب سے وابستہ تھا۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ اصلی کسی مدرسہ کا فارغ التحصیل مولانا نہیں تھا بلکہ اس علاقے میں ڈرامے کا ایک ایکٹر معروف " مولانا" تھا۔
    جب اس کے پاس اجنبی بندہ مسئلہ معلوم کرنے آیا تو ظاہر ہے علاقہ حنفی مسلک کا تھا اس نے غیر شرعی لعنتی حلالہ ( شرعی نہیں) کا مشورہ دیا، یعنی ایک تیر دو شکار کے مصداق لعنتی حلالہ سے جاہلوں میں اپنا بھرم بھی قائم رہے اور معاشرے میں ایسے فتوی کو رواج دے کر حنفیوں کو بدنام بھی کیا جاسکے۔
    لیکن کیونکہ وہ خاندان غیر مقلدین کا تھا اور تین کو ایک مانتا تھا تو حلالہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، جب اس نے دیکھا کہ مولانا حلالہ کا مشورہ دے رہا ہے فورا انہیں اطلاع دی گئی کہ مولانا صاحب یہ تو اپنے ہیں، حنفی نہیں، تو پھر مولانا صاحب نے انہیں اپنوں ہی کا ایڈریس دیا کہ جائیں ، جب تین طلاق ہوئی ہی نہیں تو حلالہ کس بات پر؟
    یہ ہے اس ڈرامے کا اصل افسانہ۔
    جہالت کی انتہا ہے، جن دوستوں نے اس ڈرامے پر اپنی پسند یدگی کا بٹن پریس کیا ہے ذرا انہیں تو سوچنا چاہئے تھا، کہ جب اس مولانا کو پتہ ہے کہ
    تین طلاق ایک ہوتی ہے وہ حلالہ کا مشورہ کیوں دے رہا ہے؟
    کیا ایک طلاق کے بعد بھی حلالہ کی ضرورت پڑتی ہے؟
    مولانا نے پہلے غیر مقلدین کے مدرسہ کا ایڈریس کیوں نہیں دیا؟
    مولانا کے پاس اجنبی کو کیوں بھیجا گیا؟
    اگر مولانا حنفی مسلک سے تھا تو کیا اپنوں کو غیر مقلدین کے حوالے کردیا؟
    آخر میں غیر مقلدین کے مدرسہ کا ایڈریس دینے والا، کیا تین طلاق کا قائل ہوسکتا ہے؟
    اور جو مولانا تین طلاق کا قائل نہ ہو بلکہ تین کو ایک مانتا ہو وہ حنفی ہوسکتا ہے؟

    اصل حقیقت یہی ہے کہ تقیہ بردار غیر مقلدین ہی ہیں جو حنفیوں کا روپ دھار کر حنفیوں کو بدنام کررہے ہیں۔

    تقلید کرنے والا تو ایک روپ میں قائم رہتا ہے، ہاں یہ عدم تقلید کا کرشمہ ضرور معلوم ہوتا ہے جس کا قدم قدم پر روپ بدلتا رہتا ہے،
    ہائے بیچارہ ڈرامہ۔۔۔۔۔۔ جس نے بہت کچھ ڈبودیا (ابتسامہ)

    گڈ مسلم صاحب میں ایک کوالٹی ہے، نتیجہ فورا نکال لیتے ہیں (ابتسامہ)
    (العیاذ باللہ) حلالہ لعنتی کام ہے؟ یا غیر شرعی حلالہ لعنتی کام ہے؟ اللہ تعالی قرآن و حدیث میں اپنی بات تھوپنے والوں کے شر سے امت مسلمہ کو محفوظ فرمائے۔ آمین
    إِن طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىَ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِن طَلَّقَهَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللّهِ.(البقره٢: ٢٣٠)
    ''پھر اگر اسے طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے بعد، اس کے لیے جائز نہیں، یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے، پھر اگر وہ اسے طلاق دے دے تو پھر ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ مراجعت کر لیں، اگر وہ توقع رکھتے ہوں کہ اللہ کے حدود پر قائم رہ سکتے ہیں۔''

    محترم آپ نے پانچ سوال کئے ہیں، کوئی بات نہیں،اس عمر میں ایسا ہوجاتا ہے۔( ابتسامہ)
    سوال بے تکے ہوں اور سوال میں بحث در بحث کی بو آرہی ہو توشریف النفس انسان کی خاموشی کو ایسا ہی طعنہ ملتا ہے۔
    ہم ڈرامہ یا افسانہ نگار نہیں زیادہ وہ لوگ کھلتے ہیں، ہاں آپ کے سوال کی حد تک جواب دیتا ہوں۔
    مولانا حنفی روپ میں تھا اور ایک تیر سے دوشکار کرنا چاہتا تھا،
    حلالہ جائز ہے، ہاں حلالہ کروانا اور حلالہ وانے والے کا فعل لعنتی عمل ہے۔
    جب مولانا کے سامنے آئنہ رکھ دیا گیا تو اس غیر مقلد مولانا کو شرمندگی ہوئی کہ یہ تو اپنی ہی برادری کا معاملہ ہے،
    کس وقت جائز ہوتا ہے اور کس وقت ناجائز ؟ یہ سوال تو تقیہ بردار اس مولانا سے پوچھا جائے، جس نے اس ڈرامہ میں دو روپ اختیار کئے ہیں۔
    بھائی جب مولانا نے آئنہ میں اپنی شکل دیکھ لی تو اپنوں کے پاس ہی بھیجے گا، غیروں کے حوالے کیوں کرے گا،غیر مقلد ہی خود کو اور اپنی برادری کو حق پر سمجھتا ہے اسی لئے اپنے مدرسہ میں بھیجا گیا۔
    حنفیوں کا ایسا فتوی ہمارے علم میں نہیں،لیکن تقیہ بردار غیر مقلدین کا اصلی چہرہ اس ڈرامہ میں صاف نظر آرہا ہے،
    ہماری بھی یہی دعا ہے کہ اللہ نہ کرے ، اللہ نہ کرے ، اللہ نہ کرے کہیں آپ اپنے ہی آئنہ سےدھوکہ نہ کھا بیٹھیں۔
    فورا ایف ۔آئی ۔ آر درج کرائیں گے اور اور اچھی خاصی دھلائی کروائیں گے۔ (ابتسامہ)

    اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه ولا تجعله ملتبسا علينا فنضل واجعلنا للمتقين إماما
     
  10. ‏نومبر 22، 2012 #20
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    ماں کی دعا۔۔۔آپ کو وارننگ دی جا رہی ہے۔ گفتگو میں حسن اخلاق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں