1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اپنے لیے اور غیروں کیلئے اور فتویٰ ۔۔تقلید کے کرشمے

'طلاق' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد زاہد بن فیض, ‏جون 02، 2011۔

  1. ‏نومبر 22، 2012 #21
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    حلالہ کا فتویٰ دینے والے تمام حنفی مفتیوں کو تقیہ بردار غیر مقلدین قرار دینا بہت زیادتی ہے۔ جبکہ خود دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ نکاح حلالہ میں حلالہ کی شرط عائد نہ کی جائے، چاہے حلالہ کی نیت موجود بھی ہو، تو یہ حلالہ مذموم نہیں ۔ بلکہ ایسا شخص اجر کا حق دار ہے، جو دل میں حلالہ کی نیت چھپا کر رکھے اور اپنے بھائی کے لئے اُس کی مطلقہ بیوی کو حلال کر دے۔
    اگر آپ کو اس سے اختلاف ہو تو جمشید صاحب سے پوچھیں شاید ہماری اس بات کی توثیق کر دیں۔ کیونکہ ایک اور دھاگے میں اس سے ملتی جلتی بات کر چکے ہیں۔
     
  2. ‏نومبر 22، 2012 #22
    ماں کی دعا

    ماں کی دعا رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 08، 2012
    پیغامات:
    74
    موصول شکریہ جات:
    131
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    یہ بہت بڑا الزام ہے، یا کھلا تعصب ہے۔ میں نے غیر مقلدین کو اس مضمون نگاری کی بنیاد پر تقیہ بردار کہا ہے، اگر غلط بات ہے تو اصول یہ ہے کہ میرے موقف کو رد کیا جاتا،
    میں نے اپنے موقف پر جو سوال اٹھائے ہیں ان کو سمجھنا تھا اور اسے من گھڑت افسانہ تسلیم کرنا تھا، لیکن آپ کے لئے مشکل یہ تھا کہ آپ اپنی پسندیدگی کا اظہار کرچکے تھے۔
    مجھے اختلاف لفظ " حلالہ" کو ایک قبیح اور مردود فعل کے طور پر پیش کرنے والوں سے ہے، اور میں نے صاف اور واضح اپنا موقف اپنے الفاظ میں بیان کیا ہے، میں بھی ایسے حلالہ کو لعنتی فعل مانتا ہوں، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ یہاں بحث سرے سے یہ ہے ہی نہیں، جس کی آپ تشریح کررہے ہیں۔
    محترم شاکر صاحب میں آپ کو اعتدال پسند وں میں سمجھتا ہوں، لیکن آپ یقین سے بتائیں کیا دارالعلوم دیوبند نے ایسا فتوی دیا ہے ، یا آپ کے پاس ہمارے اکابرین کا ایسا فتوی موجود ہے جو مرکزی خیال اس افسانہ میں بیان ہوا ہے؟
    اللہ تعالی جمشید صاحب کی سعی کو قبول فرمائے، وہ بار بار یہی بات فرماتے ہیں کہ جس اختلافی مسئلہ پر بات کرنی ہو وہ پہلے ذہن بناکر ایک جگہ اس مسئلے پر تفصیل سے بحث کرلیں، لیکن جب دلائل کے آگے زبانیں بند ہوجاتی ہیں تو پھر ، کچھ دنوں کے بعد وہ مسئلہ دوبارہ نئے چہرہ کے ساتھ فورم پر جاری کردیا جاتا ہے،
    کس کس کو جواب دیا جائے اور کےنی بار جواب دیا جائے؟
    یہ انتظامیہ کو دیکھنا چاہئے کہ جو ٹھریڈ پہلے سے موجود ہو دوبارہ الگ سے جاری کرنے کی اجازت نہ دے،
    بہر حال ، میں نے اپنی پوسٹ میں اس افسانہ کو من گھڑت ثابت کرنے کے لئے جو سوال کئے ہیں، یا الفاظ کا استعمال کیا ہے، یا انداز اختیار کیا ہے، اس ٹھریڈ کے حساب سے مجھے کوئی ندامت نہیں لیکن کسی کو تکلیف پہنچی ہو، دل آزاری ہوئی ہو تو مجھے نعاف کردیں، اگر معاف کرنا چاہے، ورنہ میرا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے،
    میں ٹھریڈ کی شکل و صورت دیک کر اپنا انداز اختیار کرتا ہوں،
    شکریہ
     
  3. ‏نومبر 22، 2012 #23
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    مجھ سے پھر سمجھنے میں غلطی ہوئی اور میں اس کے لئے آپ سے معذرت خواہ ہوں۔
    لیکن اس مضمون کی حد تک بھی انہیں تقیہ بردار کہنا غلط ہے۔ کیونکہ یہاں پوسٹ کرنے والے صاحب نے تو واضح طور پر اس واقعہ کی صحت سے لاعلمی ظاہر کی ہے:
    جس فعل کو آپ شرعی حلالہ کہتے ہیں، ہم اسے حلالہ کے نام سے یاد ہی نہیں کرتے۔ اس وجہ سے یہ الجھن ہے۔ اہلحدیث کی تحریر میں حلالہ کو قبیح و مردود جہاں کہا جاتا ہے وہاں عموماً وہی حلالہ مراد ہوتا ہے جسے آپ غیرشرعی حلالہ قرار دیتے ہیں۔
    ہاں ہمارے آپ کے نزدیک غیر شرعی حلالہ میں کچھ فرق ہے۔
    ہم کہتے ہیں کہ حلالہ کی نیت سے نکاح کرنا بھی لعنت کا مستحق بننا ہے۔
    اور احناف کہتے ہیں کہ حلالہ کی شرط نہیں ہونی چاہئے، نیت ہو تو لعنت کا مستحق نہیں بنتا، بلکہ اس پر اجر و ثواب کی امید ہے۔
    اور یہی اصل وجہ اختلاف ہے۔

    حسن ظن کے لئے شکریہ۔ اس افسانے میں مرکزی خیال میرے نزدیک یہ ہے کہ احناف تین طلاق ہو جانے کے بعد طلاق شدہ جوڑوں کو حلالہ کا مشورہ دیتے ہیں۔
    اب یہ حلالہ کون سا ہوگا؟ شرعی یا غیر شرعی؟
    مثلاً یہ دیکھئے کہ کوئی حنفی مفتی اگر کسی طلاق شدہ جوڑے کی داستان سن کر کہتا ہے کہ حلالہ کروا لو۔ تو یہ ایک روز کی شادی ہی ہوتی ہے جس میں اگرچہ دوران نکاح حلالہ کی شرط عائد نہیں کی جاتی، لیکن فریقین کی نیت بہرحال حلالہ ہی کی ہوتی ہے۔ اب اگر آپ فقط اتنا بتا دیں کہ آپ اس حلالہ کو شرعی حلالہ مانتے ہیں یا قبیح فعل گردانتے ہیں؟ تو ہمیں ایک دوسرے کا موقف درست سمجھ آ جائے گا۔ہم تو بہرحال اس حلالے کو غیر شرعی مانتے ہیں۔
    بدقسمتی سے ایسا تکنیکی طور پر بھی ممکن نہیں۔ اور نہ ہی اردو، انگریزی کا کوئی فورم ، جتنے میں جانتا ہوں، اس قابل ہوا ہے کہ اس طرح سے موضوعات کے حساب سے پابندی عائد کر سکے۔ یہ کم و بیش ناممکنات میں سے ہے۔ بہرحال ایسا نیا دھاگا بن بھی جائے تو پرانی مشارکت کا حوالہ ہمیشہ دیا جا سکتا ہے۔

    آپ بجائے تھریڈ کے حساب سے اپنا انداز اختیار کرنے کے، اپنے اچھے انداز سے تھریڈ کا غلط رخ درست سمت موڑنے کی کوشش کیا کریں۔ ان شاء اللہ، دنیا و آخرت میں فائدہ ہی ہوگا۔ غلط کے ساتھ خود غلط ہو جانا، درست رویہ نہیں۔
    ہمیں افسانے سے زیادہ نفس مسئلہ پر گفتگو کرنے کی خواہش ہے۔ لہٰذا میری گفتگو کو افسانے کی تائید و توثیق مت سمجھئے۔
     
  4. ‏نومبر 23، 2012 #24
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    یہ رہاہماراموقف حلالہ کے سلسلہ میں ۔
    آپ کا اعتراض کیاہے وضاحت کے ساتھ دوہرائیں۔
    میں جوکچھ سمجھاہوں عرض کردیتاہوں۔
    اگرمیں نے درست سمجھاہے تواس کی تصدیق کردیں۔پھراس کے بعد اپنے موقف کی مزید وضاحت کرتاہوں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 28، 2013 #25
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    جی! اس صورت میں اختلاف نہیں ہے۔

    البتہ ایک گزارش ہے کہ یہ کیا بات ہوئی آپ ’حنفی‘ اور ہم غیر مقلد؟؟ کوئی تک نہیں بنا۔

    یا تو ’مقلد‘ اور ’غیر مقلد‘ کہیں، تو کچھ بات بنتی ہے، (آپ لوگوں کو تو ببانگِ دہل، فخر ومباہات کے ساتھ اپنے آپ کو مقلد کہنا چاہئے لیکن محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو اپنے آپ کو مقلد کہلوانے میں شرم محسوس ہوتی ہے۔ ابتسامہ) اگرچہ مقلد کے بالمقابل غیر مقلد نہیں بلکہ محقق یا متبع سنت ہوتا ہے، جیسے ’رات‘ کے مقابلے میں ’غیر رات‘ نہیں بلکہ ’دن‘ اور ’جاہل‘ کے مقابلے میں ’غیر جاہل‘ نہیں بلکہ ’عالم‘ ہوتا ہے۔

    یا پھر ’حنفی‘ اور ’اہل حدیث‘ کہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏مئی 28، 2013 #26
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    اگر مسئلہ کی نوعیت یہ ہو کہ میاں بیوی طلاقِ مغلظہ کے بعد نادم ہوں اور دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو چونکہ شریعت میں یہ جائز نہیں لہٰذا وہ یہ حیلہ اختیار کریں کہ عورت کا نکاح کسی شخص سے اس شرط پر پڑھوا دیں کہ وہ صبح کو طلاق دے دے گا، اور وہ اس شرط کے مطابق طلاق دے دے۔

    تو آپ کے درج بالا اقتباس سے یہ بات واضح طور مترشح ہے کہ حنفیہ اور اہل الحدیث کا ان باتوں پر اتفاق ہے کہ
    1. اسی صورت کا نام حلالہ یا نكاح المحلل ہے۔ (کیونکہ بعض حنفی بھائی بحث ومباحثہ کے دوران جب ہلکے پڑتے ہیں تو اس صورت کو حلالہ ماننے سے ہی انکار کر دیتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نکاح کے بعد بغیر شرط اور نیت کے اپنی مرضی کے ساتھ طلاق دی جائے تو اس متفق علیہ جائز نکاح کا نام حلالہ ہے)
    2. شریعت کی رو سے چونکہ تیسری طلاق کے بعد رجوع نہیں اور دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے حتیٰ کہ اس عورت کا نکاح (شرعی) کسی اور مرد سے ہو اور وہ طلاق (شرعی) دے دے، اب اتنا انتظار کون ’بے وقوف‘ کرے تو در اصل ایک حرام عمل کو حلال بنانے کیلئے یہ مشروط ومؤقت نکاح وطلاق والا حیلہ اختیار کیا جاتا ہے۔
    3. یہ ایک انتہائی گناہ کا کام اور ایک ملعون عمل ہے جس کے کرنے اور کرانے والے دونوں پر اللہ اور رسولﷺ لعنت ہے۔
    4. جو شخص یہ غلیظ عمل سر انجام دیتا ہے وہ کرائے کا سانڈ ہے، نبی کریمﷺ نے اس کو یہی لقب دیا ہے۔
    آپ کی بات درست ہے کہ واقعی ہی حنفیہ اور اہل الحدیث میں اختلاف اسی بات پر ہے کہ کیا ایسا لعنتی اور گھناؤنے عمل کرنے والے اور ایسا نکاح کرنے والے کو کرائے کا سانڈ قرار دئیے جانے کے باوجود یہ نکاح واقع ہوگا یا نہیں؟؟؟

    سلف صالحین ومحدثین وغیرہ کا موقف یہی ہے کہ ایک حرام کو حلال کرنے کیلئے جو شیطانی حیلہ اختیار کیا جاتا ہے اسی کا نام حلالہ ہے اور اسی نکاح کرنے والے کو لعنتی وکرائے کا سانڈ اور اور کرانے والے کو لعنتی قرار دیا گیا ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ایسا نکاح کیسے واقع ہو سکتا ہے؟؟؟ یہ سراسر باطل ہے!

    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا غلیظ کام کرنے والوں کو رجم کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بیوی کو پہلے شوہر کیلئے حلال کرنے کی نیت سے نکاح کرنے کو زنا قرار دیتے ہیں خواہ پہلے شوہر کو اس کا علم بھی نہ ہو اور نہ ہی اس نے خود یہ نکاح کرایا ہو، خواہ ایسا باطل نکاح دس سال ہی برقرار کیوں نہ رہے:

    عن عمرَ بنَ الخطَّابِ أنَّهُ قال : لا أوتَى بمحلِّلٍ ولا مُحَلَّلٍ له إلا رجمتُهُما . ولفظُ عبدِ الرزَّاقِ وابن المنذِرِ : لا أوتى بمحلِّلٍ ولا محلِّلَةٍ إلا رجمتُهُما
    الراوي: [جابر بن عبدالله] المحدث:ابن القيم - المصدر: إغاثة اللهفان - الصفحة أو الرقم: 1/411
    خلاصة حكم المحدث: صحيح عنه

    أنَّ ابنَ عمرَ سُئلَ عن تحليلِ المرأةِ لزوجِها فقال ذلك السَّفَّاحُ لو أدرككَم عمرُ لنَكَّلكُم
    الراوي: عبدالملك بن المغيرة بن نوفل المحدث:الألباني - المصدر: إرواء الغليل - الصفحة أو الرقم: 6/311
    خلاصة حكم المحدث: إسناده صحيح

    عنِ ابنِ عمرَ أنَّ رجلًا قال له : تزوَّجتُها أُحلُّها لزوجِها لم يأمرْني ولم يعلمْ قال : لا إلا نكاحَ رغْبةٍ إن أعجبَتْك أمسكْتَها وإن كرهتَها فارقْتَها ، قال : وإن كنا نعدُّه على عهدِ رسولِ اللهِ سِفاحًا وقال لا يزالا زانِيَينِ وإن مكثا عشرين سنةً إذا علم أنه يُريدُ أن يُحلَّها
    الراوي: عبدالله بن عمر المحدث:الألباني - المصدر: إرواء الغليل - الصفحة أو الرقم: 1898
    خلاصة حكم المحدث: صحيح


    اب آپ ہی بتا سکتے ہیں کہ اس حیلے اور اصحاب السبت کے حیلے - جس پر انہیں بندر اور سور بنا دیا گیا تھا - میں کیا جوہری فرق ہے؟؟؟
     
    • زبردست زبردست x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 28، 2013 #27
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    نہیں جمشید صاحب! یہ آپ کا مغالطہ ہے، اس کی نظیر یہ نہیں، اس کی یہ نظیر تب ہوتی جب قرآن وسنت میں حلالہ کی طرح ہو بہو یہ صورت بھی بعینہٖ حرام کر دی جاتی۔

    بلکہ اس کی صحیح نظیر نکاحِ متعہ ہے۔

    اس بات میں حنفیہ اور اہل الحدیث کا اتفاق ہے کہ متعہ کی حلت منسوخ ہونے کے بعد نکاحِ متعہ کرنے والا نہایت گنہگار اور زانی ہے۔

    اہل الحدیث کے نزدیک نکاح المحلل (حلالہ) کی طرح نکاحِ متعہ بھی واقع نہیں ہوتا بلکہ باطل ہوتا ہے۔

    اب آپ بتائیے کہ کیا آپ کے نزدیک نکاحِ متعہ گناہ کے باوجود واقع ہوجاتا ہے؟ یا طلاقِ مغلظہ کے بعد بیوی پہلے شوہر کیلئےنکاحِ متعہ کے ذریعے حلال ہو جائے گی؟؟ اگر نہیں تو کیوں؟؟ اس بارے میں حلالہ اور نکاحِ متعہ میں کیا فرق ہے؟؟؟
     
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏مئی 28، 2013 #28
    کیلانی

    کیلانی مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 24، 2013
    پیغامات:
    347
    موصول شکریہ جات:
    1,101
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    بات کیاتھی اور کیاہوگئی؟میرخیال میں حلالہ کاجواز کسی صورت میں بھی نہیں ہےاور جولوگ اسے جائزقراردیتےہیں وہ شرعی،اخلاقی ،انسانی اور عقلی اصولوں کی خلاف ورزی کرتےہیں۔کیاخیال ہے؟
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏مئی 28، 2013 #29
    جمشید

    جمشید مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 09، 2011
    پیغامات:
    873
    موصول شکریہ جات:
    2,325
    تمغے کے پوائنٹ:
    180

    ابومالک صاحب!آپ کی جماعت اورآپ حضرات سلف صالحین کے استعمال میں محتاط نہیں ہیں۔ جب چاہا جہاں چاہا اپنے مسلک کو سلف صالحین کا متفقہ مسلک قراردے دیتے ہیں۔ یہ دیکھنے کی زحمت گوارانہیں کرتے کہ آیا واقعتا یہ سلف صالحین کا متفقہ مسلک ہے یاسلف صالحین کی ایک معتدبہ جماعت نے اس سے اختلاف بھی کیاہے۔اس پرتومیں بعد میں بحث کروں گاکہ سلف صالحین میں سے کون حضرات نکاح حلالہ کے قائل ہیں
    فی الحال زیر بحث مسئلہ یہ ہے کہ میں نے جو صورت بیان کی تھی اس کے تعلق سے آپ حضرات کا موقف کیاہے۔
    زیر بحث صورت کو متعدد سلف صالحین نے درست بتایاہے بلکہ ایساکرنے والے کو اجروثواب کی بشارت سنائی ہے۔اگراس صورت کے آپ بھی قائل ہیں توبتائین اورنہیں قائل ہیں تواس کو بھی واضح کریں۔ اس کے بعد انشاء اللہ ہم اس پر بحث کریں گے۔
     
  10. ‏مئی 29، 2013 #30
    ابو مالک

    ابو مالک رکن
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2012
    پیغامات:
    115
    موصول شکریہ جات:
    453
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    محترم بھائی! میں نے عرض کیا تھا کہ سلف صالحین اور محدثین کے نزدیک نکاح المحلل باطل ہے، یہ واقع نہیں ہوتا۔ آپ کا اعتراض بجا ہوتا کہ اگر میں نے یہ دعویٰ کیا ہوتا کہ یہ سلف صالحین کا متفقہ موقف ہے، ان میں سے کوئی بھی اس کے مخالف نہیں اور میں نے اس بات کو دلیل بنایا ہوتا۔ جب میں نے اسے دلیل نہیں بنایا اور ان کے متفقہ موقف ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تو آپ کا یہ اعتراض ’غیر متعلّق‘ ہے۔

    محترم بھائی! مقلدین کے نزدیک قلت وکثرت یا اشخاص دلیل ہو سکتے ہیں، ہمارے نزدیک دلیل کتاب وسنت ہے۔ لہٰذا کسی مسئلے کو دلیل کی روشنی میں حل کرنا چاہئے نہ کہ اس طور پر کہ فلاں فلاں اہل علم کا یہ قول ہے۔

    درج بالا مثال حلالہ کی اصل صورت سے کچھ ہٹ کر ہے جس میں کچھ زائد حدود وقیود شامل ہیں جو ضروری نہیں کہ حلالہ کے ہر مسئلے میں ہوں۔ اس مثال پر بھی بات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے بشرطیکہ اصل بنیاد پر ہم متفق ہوجائیں۔ آپ نے اپنی پچھلی پوسٹ میں حلالہ کی اصل صورت بھی ذکر کی ہے پہلے اسے ہی طے کر لیا جائے تو مناسب ہے، آپ کے الفاظ میں وہ صورت یہ ہے:
    حلالہ کی اصل صورت میں قرآن وسنت کے مطابق اتفاق کی کوشش کرنی چاہئے: ﴿ واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا ﴾
    اگر حلالہ کی اصل صورت میں ہی اختلاف ہوگا تو پھر اس کی فروعات پر تو کبھی اتفاق نہیں ہو سکتا!!
     
    • زبردست زبردست x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں