1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اچھی بیوی بننے کا نسخہ ...!

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏جون 09، 2014۔

  1. ‏جون 09، 2014 #11
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,094
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    اس معاملے کو کسی اور نے نہیں ہم ہی نے ” بہت نازک “ بنایا ہے۔ اس سے کسی کو استثناء حاصل نہیں۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جون 10، 2014 #12
    ماریہ انعام

    ماریہ انعام مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2013
    پیغامات:
    498
    موصول شکریہ جات:
    369
    تمغے کے پوائنٹ:
    164

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    اسلام کا مزاج یہ ہے کہ یہ حقوق مانگنے کی بجائے فرائض کی بجاآوری کی تلقین کرتا ہے۔۔۔۔بیوی اپنے فرائض ادا کرے اور شوہر اپنے تو کسی کو بھی اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی

    عموما یہ ہوتا ہے کہ مرد بیویوں کے فرائض بتا رہے ہوتے ہیں جواباُ عورتیں اپنے حقوق بیان کرنا شروع کر دیتی ہیں حالانکہ معاملہ اس کے برعکس ہونا چاہیے
     
    • متفق متفق x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جون 10، 2014 #13
    مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ سینئر رکن
    جگہ:
    اللہ کی رحمتوں کے زیر سائے ان شاء اللہ
    شمولیت:
    ‏ستمبر 23، 2013
    پیغامات:
    1,466
    موصول شکریہ جات:
    926
    تمغے کے پوائنٹ:
    237

    آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن اس طرح کی گفتگو کےبعدجو بات سامنے آئی تھی وہ یہ کہ "مجھے مشرقی لڑکی رہنے دو "
    یعنی یہ مشرقی لڑکیوں کی خاصیت ہے کہ وہ مردوں کے آگے بولنا یا عرف عام میں ’’برابری‘‘ کو پسند نہیں کرتیں ۔۔
    معاشرتی حقائق سے منہ پھیرنا بھی ناممکن ہے ۔ویسے بھی بعد کی توتکار اور منفی رویوں سے بہتر ہے کہ پہلے ہی مثبت انداز میں سوچ لیا جائے ۔۔اسلام میں دونوں کو حقوق حاصل ہیں۔
    اگراسلام میں لڑکی کی صفت" الْوَدُود " ہے تو مرد کے لئے بھی حسنِ اخلاق کا درس ہے ۔۔
    اب اگر کوئی بھی فریق حق تلفی کرتاہے یا اپنے رعب میں رہتا ہے تو اسے بدلہ دینا پڑے گا ۔۔ہم بجائے دوسروں کی دیکھا دیکھی( کہ وہ نہیں کرتی ،کرتا ) حقوق سے نظریں چرانے کے کم ازکم اپنے فرائض تو انجام دیں۔۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 11، 2014 #14
    T.K.H

    T.K.H مشہور رکن
    جگہ:
    یہی دنیا اور بھلا کہاں سے ؟
    شمولیت:
    ‏مارچ 05، 2013
    پیغامات:
    1,094
    موصول شکریہ جات:
    318
    تمغے کے پوائنٹ:
    156

    ہم ” نکاح “ کو محض ایک ” معاشرتی رسم “ کے طور پہ لیتے ہیں۔ ” نکاح “ کے بعد ہم خود غیر اسلامی طریقے پر زندگی گزارتے ہیں اور جب کوئی مسئلہ اٹھتا ہے تو اس کو ” اسلامی منہج “ پر حل کرنے کے در پہ ہو جاتے ہیں۔ مرد و عورت دونوں اپنے ” فرائض “ سے تو جان بوجھ کر آنکھیں بند کر کے دستبردار ہونے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب اپنے ” حقوق “ کی باری آتی ہے تو آسمان سر پہ اٹھا لیتے ہیں اور اسکو ہر حال میں حاصل کرنے لے لیے ایڑھی چوٹی کا زور لگانے سے بھی نہیں چوکتے۔ میں سمجھتا ہوں یہی اصل ” فساد “ کی جڑ ہے۔ جب ہم دوہرے معیار کو اپنائے ہوئے ہوں تو کس بناء پر ہم اللہ تعالٰی سے یہ توقع رکھیں کہ وہ ہماری مدد کرے ؟
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں