1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

اکٹھی تین طلاق دینے پر نبی مکرم ﷺ کے غصہ کی روایت ضعیف قرار دینے کا سبب کیا ہے؟؟؟

'فہم حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از بھائی جان, ‏ستمبر 23، 2019۔

  1. ‏ستمبر 23، 2019 #1
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    اس حدیث کے ضعیف ہونے کی وجہ دلائل کی روشنی میں بتائی جائے

    سنن النسائي (6 / 142):
    أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ، قَالَ: أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانًا ثُمَّ قَالَ: «أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟» حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقْتُلُهُ؟
    [حكم الألباني] ضعيف
     
  2. ‏ستمبر 23، 2019 #2
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

  3. ‏ستمبر 24، 2019 #3
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    مذکورہ افراد مصروف ہیں تو محدث فورم پر موجود کوئی دیگر صاحب علم ہی بتا دے۔
     
  4. ‏ستمبر 24، 2019 #4
    2 difa-e- hadis

    2 difa-e- hadis مبتدی
    شمولیت:
    ‏اگست 05، 2019
    پیغامات:
    9
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    محترم،
    میری معلومات کی حد تک یہ روایت مرسل ہے محمود بن لبید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں پیدا ضرور ہوئے ہیں مگر ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنا ثابت نہیں ہے حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اس کی یہی وجہ بیان کی ہے کتاب التفسیر
    باب من أجاز طلاق الثلاث لقول الله تعالى الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان
    الحديث أخرجه النسائي ورجاله ثقات ، لكن محمود بن لبيد ولد في عهد النبي صلى الله عليه وسلم ولم يثبت له منه سماع ، وإن ذكره بعضهم في الصحابة فلأجل الرؤية ، وقد ترجم له أحمد في مسنده وأخرج له عدة أحاديث ليس فيها شيء صرح فيه بالسماع
     
  5. ‏ستمبر 25، 2019 #5
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    لیکن مرسلِ صحابی حجت ہوتی ہے بالاتفاق۔
    اس کی تضعیف کی اصل وجہ مخرمۃ بن بکیر راوی معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو حافظے میں کلام ہے، دوسرا تدلیس کا الزام ہے، اور یہاں روایت بھی عن سے ہے۔ خود اس کے باپ سے بھی اس کی روایت میں بعض اہل علم نے کلام کیا ہے۔
     
    Last edited: ‏ستمبر 25، 2019
  6. ‏ستمبر 25، 2019 #6
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    ایسی صورت میں کہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع ثابت نہ ہو، اور روایت میں سماع کی تصریح آجائے، یا کوئی ایسا کوئی صحابی رضی اللہ عنہ، ایسا واقعہ سماع و مشاہدہ کی تصریح سے بیان کر رہا ہو، جبکہ اس کا اس روایت کا سماع یا مشاہدہ محال ہو، مثلاً واقعہ کا قبل از ہجرت کا ہو، اور صحابی مدینی انصاری وغیرہ ہو، تو ایسی روایت ثقہ رواۃ کی صورت میں بھی معلول قرار پاتی ہیں!
    دیگر طرق سے اگر متن حدیث ثابت ہو، تو علت کا محل تصریح سماع و مشاہدہ تک ہی رہتا ہے!
    اس میں علت بوجہ صحابی نہیں، بلکہ بوجہ دیگر رواة ہوگی!
     
    Last edited: ‏ستمبر 25، 2019
  7. ‏ستمبر 25، 2019 #7
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    جامع التحصيل:
    مخرمة بن بكير بن الأشج قال أحمد بن حنبل هو ثقة إلا أنه لم يسمع من أبيه شيئا إنما روى من كتاب أبيه
    وكذلك قال بن معين نحوا منه
    وقال أبو داود لم يسمع من أبيه إلا حديث الوتر
    وقال موسى بن سلمة أتيت مخرمة فقال لم أدرك أبي ولكن هذه كتبه
    قلت أخرج له مسلم عن أبيه عدة أحاديث وكأنه رأى الوجادة سببا للإتصال وقد انتقد ذلك عليه

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔
    الاسم : مخرمة بن سليمان الأسدى الوالبى ، المدنى ( و والبة حى من بنى أسد بن خزيمة )
    المولد : 60 هـ
    الطبقة : 5 : من صغار التابعين
    الوفاة : 130 هـ بـ قديد
    روى له : خ م د ت س ق ( البخاري - مسلم - أبو داود - الترمذي - النسائي - ابن ماجه )
    رتبته عند ابن حجر : ثقة
    رتبته عند الذهبي : ثقة

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مَخْرَمَةُ سے کوئی 35 سے زیادہ روایات اور عَنْ أَبِيهِ والی کوئی آٹھ روایات صحیح مسلم میں ہیں۔
     
  8. ‏ستمبر 25، 2019 #8
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    ہوگی سے کیا مراد؟
    کس راوی کی وجہ سے اور کیوں یہ بتائیں؟
     
  9. ‏ستمبر 25، 2019 #9
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اردو سیکھئے!
    اردو سیکھئے!
    اور ''پرائمری ماسٹر'' کی طرح بتائیں، بتائیں کر کے سوال کرنا بند کیجیئے!
     
    Last edited: ‏ستمبر 26، 2019
    • پسند پسند x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 25، 2019 #10
    بھائی جان

    بھائی جان مبتدی
    شمولیت:
    ‏جولائی 22، 2018
    پیغامات:
    231
    موصول شکریہ جات:
    7
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    اگر بات سمجھ آگئی تو جواب لکھئے اور بدتہذیہبی سے گریز کیجئے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں